465 lines
62 KiB
JSON
465 lines
62 KiB
JSON
{
|
||
"Id": 7532,
|
||
"CatId": 712,
|
||
"Title": "مصری کورٹ شپ",
|
||
"FullTitle": "مرزا عظیم بیگ چغتائی » افسانہ » مصری کورٹ شپ",
|
||
"FullUrl": "/p264/c712/sh7532",
|
||
"RhymeLetters": null,
|
||
"SourceName": "ویکی ماخذ",
|
||
"SourceUrlSlug": "wikisource",
|
||
"SourceUrl": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B5%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%B1%D9%B9_%D8%B4%D9%BE",
|
||
"Language": "ur",
|
||
"PoemSummary": null,
|
||
"Metre": null,
|
||
"Sections": [
|
||
{
|
||
"Index": 0,
|
||
"Number": 1,
|
||
"SectionType": "WholePoem",
|
||
"VerseType": "First",
|
||
"RhymeLetters": null,
|
||
"PlainText": "میں نے جو پیرس سے لکھا تھا وہی اب کہتا ہوں کہ میں ہرگز ہرگز اس بات کے لئے تیار نہیں کہ بغیر دیکھے بھالے شادی کر لوں، سو اگر آپ میری شادی کرنا چاہتی ہیں تو مجھ کو اپنی منسوبہ بیوی کو نہ صرف دیکھ لینے دیجئے بلکہ اس سے دو چار منٹ باتیں کر لینے دیجئے۔ یہ الفاظ تھے جو نوری نے اپنی بہن سے پر زور لہجے میں کہے۔\r\nمگر یہ تو بتاؤ کہ آخر اس سے کیا فائدہ، تمہارا یہ خیال ہے کہ اگر لڑکی کی صورت شکل اچھی نہ ہوئی تو تم انکار کر دو گے؟ ہرگز ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا، جب سب معاملات طے ہو چکے ہیں اور شادی کرنا ہی ہے تو پھر تم کو دیکھنے سے کیا فائدہ؟ بہن نے یہ تقریر ختم ہی کی تھی کہ ماں صاحبہ بھی آ گئیں اور اب نوری کو بجائے ایک کے دو سے بحث کرنی پڑی۔\r\nمعلوم ہوتا ہے کہ تین سال فرانس میں رہ کر تم نے اپنی قومیت اور مذہب کو بھی خیر باد کہہ دیا۔ یہ الفاظ ماں نے اسی سلسلہ گفتگو میں کہے۔\r\nجی نہیں یہ ناممکن ہے، میں پکا مسلمان ہوں اور مصری ہوں۔ نہ میں نے مذہب کو چھوڑا ہے اور نہ قومیت کو، میں تو اپنے حق پہ لڑتا ہوں کہ جس سے میری شادی ہونے والی ہے اس کو میں دیکھ لو۔\r\nاور اگر ناپسند ہو تو شادی نہ کروں۔ ماں نے گویا جملہ پورا کیا۔\r\nتم کو بھی معلوم ہے کہ تمہاری منسوبہ بیوی کس کی لڑکی ہے ؟ وہ جامعہ ازہر کے نائب الشیخ کی لڑکی ہے اور شرافت اور امارت اور تمول میں وہ لوگ ہم سے کہیں زیادہ ہیں۔ ذرا ان لوگوں کو دیکھو اور اپنے کو دیکھو، گورنمنٹ کے روپے پر یورپ جا کر تعلیم حاصل کر کے آئے ہیں اور انجنیئر بن گیے ہیں تو ہم کو کسی شمار ہی میں نہیں لاتے۔\r\nیہ سب کچھ آپ صحیح کہتی ہیں جو مجھ کو لفظ بلفظ تسلیم ہے مگر اس کے تو یہ معنی نہیں ہو سکتے کہ ان وجوہ کی بناء پر اپنا پیدائشی حق کھو بیٹھوں۔\r\nمگر میں شادی پختہ کر چکی ہوں اور شادی کے تمام ابتدائی مراحل بھی طے ہو چکے ہیں اور اب میں یہ نسبت نہیں توڑ سکتی۔ماں نے نوری سے یہ الفاظ ایک مجبوری کا لہجہ لیے ہوئے کہے۔\r\nمیں کب کہتا ہوں کہ آپ یہ نسبت توڑ دیں، مجھ کو تو یہ رشتہ خود بسر و چشم منظور ہے۔یہ الفاظ سنتے ہی بہن چمک کر بولی، پھر آخر کیوں الٹی سیدھی باتیں کرتے ہو؟ یہی تم نے پیرس سے لکھا تھا ورنہ ہم لوگ کیوں یہ غلطی کرتے؟\r\nغرض اسی قسم کی بحث بہت دیر تک ہوتی رہی مگر نتیجہ کچھ نہ نکلا۔ ماں نے بہت کوشش کی کہ نوری اپنی ضد سے باز آئے مگر بے سود اور ادھر نوری نے بے حد کوشش کی کہ ماں اس کی منسوبہ بیوی کے گھر کہلا بھیجے کہ لڑکا لڑکی سے ملنا چاہتا ہے مگر بیکار، ماں کو اپنی بات کا پاس تھا ،وہ اپنے ہم چشموں میں ذلیل ہونا گوارا نہ کر سکتی تھی، وہ پرانی رسموں کی قیود کو توڑنا نہیں چاہتی تھی اور یہ ناممکن تھا کہ ایسا ناشائستہ پیغام لڑکی والوں کے یہاں کہلوا بھیجے کہ جس کو وہ ان لوگوں کی کھلی ہوئی توہین خیال کرتی ہو۔\r\nنتیجہ ماں بیٹے کی ضد کا یہ ہوا کہ ماں خفا ہو گئی، گھنٹوں بیٹھ کر روئی، نوری نے بہت خوشامد کی مگر بیکار، نوری کو ماں کو رنجیدہ کرنے کا بہت افسوس تھا مگر مجبور تھا۔ کھانے کا وقت آیا اور ماں نے کھانا نہ کھایا مگر مصالحت کی کوئی صورت نہ بن پڑی۔بحث کا سلسلہ چھڑ گیا ،نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ ماں خوب روئی پیٹی مگر سنگدل بیٹے نے اپنے اصول سے جنبش نہ کی۔ اب گھر گویا غم کدہ بنا ہوا تھا، ماں نے کھانا نہ کھایا اور بیٹی اور بیٹے نے بھی کھانا نہ کھایا، یہی صورت دوسری شام تک رہی اور ۲۴ گھنٹے سے زیادہ گزر گیے۔\r\nنوری اپنے کمرے میں بیٹھا تھا، ماں کی تکلیف کا خیال تھا، ماں کی ستیہ گرہ آخر کار کامیاب ہو گئی اور نوری نے ماں کی شرائط منظور کر لیں تاکہ ماں کھانا کھا لے۔\r\n(۲)\r\nیہ بھی دراصل نوری کی چال تھی تاکہ ماں کھانا کھا لے۔ چنانچہ ماں کو اس نے راضی کر لیا لیکن وہ اب سوچ میں تھا کہ کرنا کیا چاہیے۔ صبح کا وقت تھا اور اس واقعے کو دو روز گزر چکے تھے۔ نوری اپنے کمرے میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا کہ اس نے اخبار رکھ دیا اور اٹھ کر الماری سے احادیث کی دو کتابیں اٹھا لایا۔ ان کتابوں کا مطالعہ وہ پیشتر بھی کر چکا تھا اور اکثر کرتا رہتا تھا۔وہ اسی سوچ میں تھا کہ اب کیا کرنا چاہیے کہ معاً اس نے دل میں نئی بات ٹھان لی، نوکر کو حکم دیا کہ گاڑی لاؤ کپڑے پہن کر تیار ہوا اور کہا کہ نائب الشیخ کے ہاں چلو۔گاڑی ایک عالیشان مکان پر رکی۔ مکان کا ظاہری ٹھاٹھ کہہ رہا تھا کہ کسی امیر کبیر کا مکان ہے۔ ایک نوکر دوڑ کر گاڑی کے قریب آیا، نوری نے اپنا کارڈ دیا اور اطلاع کی گئی۔نائب الشیخ اپنے منسوبہ داماد کی آمد کی خبر سن کر باہر استقبال کے لئے آئے۔ نوری نے بڑھ کر مصافحہ کیا اور قابل احترام شیخ کے ہاتھوں کو بوسہ دیا، شیخ نے نوری کی پیشانی پر بوسہ دیا اور ہاتھ پکڑ کر کمرے میں لا بٹھایا۔\r\nکمرہ مغربی سامان آرائش سے سجا ہوا تھا۔ جگہ جگہ خوبصورت کام ہو رہا تھا اور تمام فرنیچر اور دیگر سامان اعلیٰ قسم کا تھا۔ اس ہال کے ایک حصہ میں بہترین رومی غالیچوں کا فرش بھی تھا اور مشرقی فیشن کا بہترین سامان سجا ہوا تھا۔ نیچے نیچے زمین سے ملے ہوئے خوبصورت صوفے پڑے ہوئے تھے جن پر لوگ اطمینان سے پالتی مارے تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔ نائب الشیخ نے نوری کا اپنے ملنے والوں سے تعارف کرایا اور ملنے والوں نے شیخ کو داماد کے انتخاب پر مبارک باد دی۔ تھوڑی دیر بعد قہوہ کا دور چلنے لگا اور شیخ نوری سے بسلسلہ گفتگو فرانس کی باتیں پوچھتے رہے۔ قہوہ کا دور ختم ہوا اور تھوڑی دیر بعد شیخ صاحب کے دوست اٹھ کر چلے اور نوری اور شیخ رہ گیے۔ بڑی مشکل سے اور بڑی دیر کے سوچ کے بعد نوری نے شیخ سے نہایت مودبانہ طریقہ سے کہا،میں جناب کی خدمت میں ایک خاص مقصد سے آیا تھا۔\r\nوہ کیا؟\r\nاگر جناب اجازت دیں تو کچھ عرض کرنے کی جرأت کروں؟\r\nبسر و چشم، بسم اللہ کہو کیا کہتے ہو۔\r\nنوری نے کچھ تامل کیا اور شاید وہ الفاظ ڈھونڈ رہا تھا کہ اپنا مدعا کن مناسب الفاظ میں ادا کرے کہ شیخ نے پھر کہا، تم ضرور اپنے دل کی بات کہو کوئی وجہ نہیں کہ تامل کرو۔ نوری نے ہمت کر کے نیچی نظریں کر کے دبی زبان سے کہا، جناب سے اپنا حق مانگتا ہوں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ میں اپنی منسوبہ سے پانچ منٹ کے لئے مل لوں؟\r\nنوری نے نظر اٹھا کر جو دیکھا تو نائب الشیخ کو ہکا بکا پایا، وہ بالکل تیار نہ تھے اور ان کی خود داری کو کچھ اس سے ٹھیس سی لگی تھی۔ شیخ نے اپنے کو عجیب شش و پنچ میں پایا۔ وہ نوری کو بے حد پسند کرتے تھے مگر اس بات سے وہ اس وقت حواس باختہ تھے۔ اپنے کو سنبھال کر شیخ نے کہا، میں اس کی اہمیت سمجھنے سے قاصر ہوں۔\r\nکیا جناب کو اس بارے میں کسی خاص قسم کا اعتراض ہے ؟\r\nبے شک مجھ کو اعتراض ہے۔\r\nمذہبی نقطہ نظر سے یا دنیاوی نقطہ نظر سے ؟\r\nشیخ چونکہ پھر شیخ تھے وہ بولے، مذہبی نقطہ نظر سے اور نیز دنیاوی نقطہ نظر سے کیونکہ ہمارا دین اور دنیا الگ الگ نہیں۔ نوری نے بھی خوش ہو کر کہا،مگر دین کو دنیا پر سبقت ہے، سب سے پہلے ہمارا مذہب ہے اور پھر دنیا۔ شیخ نے بھی خوش ہو کر کہا، بے شک، بے شک تم صحیح کہتے ہو۔\r\nپھر جب خداوند تعالیٰ نے مسلمانوں کو مخاطب کر کے قرآن پاک میں کہہ دیا کہ ان عورتوں سے نکاح کرو جو کہ تم کو بھلی معلوم ہوتی ہوں تو پھر کون سا اعتراض رہ گیا۔ یہ کہتے ہوئے نوری نے آیت نکاح پڑھ کر سنائی۔\r\nشیخ صاحب اس رنگ میں بحث کرنے کو خصوصاً نوری کی سی نئی تہذیب کے دلدادہ نوجوان سے قطعی تیار نہ تھے اور نہ اس کی امید تھی، ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کہیں مگر جواب دینے کے لئے کہا ہاں یہ مذہباً جائز تو ہو سکتا ہے مگر میں اس کو پسند نہیں کرتا اور خصوصاً آج کل کے زمانے میں۔\r\nنوری نے فوراً شیخ کی کمزوری کو محسوس کیا اور کہا، آپ کا کیا خیال ہے اگر آج کل ہم لوگ سنت رسول اللہ کی پیروی کریں؟ کیا یہ مستحسن نہیں ہے ؟\r\nشیخ نے فوراً کہا، خدا ہم کو رسول اللہؐ کی پیروی کی توفیق دے۔ نوری نے فوراً جیب میں سے ایک پرچہ نکال کر شیخ کے ہاتھ میں دے دیا، شیخ کی آنکھوں کے سامنے حسب ذیل عبارت تھی:\r\n(۱) جابر سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے نکاح کا پیغام کسی عورت کی طرف بھیجنا چاہے تو ہو سکے کہ اس کو دیکھ لے، جس سے نکاح کا ارادہ ہو تو پھر نکاح کرے۔ (ابی داؤد)\r\n(۲) مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے، پیغام دیا میں نے نکاح کا ایک عورت کے ساتھ زمانے میں رسول اللہﷺ کے۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے دیکھ بھی لیا ہے اس کو؟ میں نے کہا نہیں، فرمایا کہ دیکھ لے اس کو، اس سے الفت زیادہ ہو گی تم دونوں میں (نسائی)\r\n(۳) ابو ہریرہ سے روایت ہے پیغام بھیجا ایک آدمی نے لڑکی والوں کے یہاں، فرمایا اس کو رسول اللہؐ نے تو نے اس کو دیکھ بھی لیا ہے یا نہیں۔ اس نے کہا نہیں،، آپؐ نے فرمایا اس عورت کو دیکھ لے یعنی بغیر دیکھے نکاح کرنا اچھا نہیں۔ (نسائی)\r\nشیخ نے ان احادیث کو پڑھا۔ وہ ان احادیث کو پہلے بھی پڑھ چکے ہوں گے مگر ان کے لئے گویا اس وقت یہ بالکل نئی تھیں۔ وہ خاموش تھے اور کچھ بولنے میں ان کو تامل تھا کہ نوری نے ان سے کہا کہ کیا آپ مجھے ان احادیث پر عمل نہ کرنے دیں گے؟ کیا واقعی ہم اس زمانے میں رسول اللہ ص کی نصیحتوں سے بے نیاز ہیں اور وہ ہمارے لئے بے کار ہیں؟\r\nشیخ نے کہا، ہر گز نہیں ہر گز نہیں گفتہ رسول اللہ سر آنکھوں پر مگر میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ آخر تمہارا اس درخواست سے مطلب کیا ہے ؟ اگر فرض کرو تمہاری منسوبہ تم کو ناپسند ہوئی تو کیا تم اس نسبت کو توڑ دو گے اور نکاح نہ کرو گے؟ نوری نے جواب دیا، اس سے شاید آپ بھی اتفاق کریں گے اس صورت میں مجبوری ہو گی کیونکہ قرآن کریم کے حکم کے خلاف ہو گا۔\r\nتو اس شرط پر تو تمہاری شادی صرف یورپ ہی میں ہو سکتی ہے شیخ نے کچھ ترش رو ہو کر کہا، مجھ کو ہر گز گوارا نہیں ہے کہ میری لڑکی سے نسبت کرنے کے لئے لوگ گاہک بن کر آئیں اور ناپسند کر کے چلے جائیں۔ کیا تم نے میری عزت و آبرو کا اندازہ غلط لگایا ہے ؟ کیا تم نہیں خیال کرتے کہ نائب الشیخ کی توہین ہو گی، معاف کیجئے گا میں اس قسم کی گفتگو پسند نہیں کرتا جس میں میری عزت و آبرو کا سوال ہو۔\r\nنوری بھی پختہ ارادہ کر کے آیا تھا اور اس نے بھی تیز ہو کر کہا، بے شک آپ مصر میں وہ عزت و مقام رکھتے ہیں جو دوسروں کو نہیں مگر مجھ کو اجازت دیجئے کہ عرض کروں کہ پھر بھی آپ کو وہ عزت حاصل نہیں ہے جو امیر المومنین عمر بن خطاب رض کو مدینے میں حاصل تھی اور آج ساری دنیا میں حاصل ہے۔ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ حضرت عمر نے اپنی بیٹی ام المومنین حفصہ کو حضرت عثمان کے سامنے پیش کیا اور نکاح کی خواہش ظاہر کی اور جب حسب خواپش جواب نہیں ملا تو پھر ان کو حضرت ابو بکر صدیق کے سامنے پیش کیا اور وہاں بھی ناکامی ہوئی۔ کیا ان سے ان کی عزت و آبرو میں خدانخواستہ بٹا لگ گیا؟ شیخ کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور وہ لاجواب ہو کر بولے کہ دونوں حضرات تو ان کے دوست تھے۔\r\nمگر میں بھی آپ کے عزیز ترین دوست مرحوم کی نشانی ہوں۔ شیخ نے نظریں نیچی کر لیں اور کچھ تامل کے بعد کہا، مجھ کو کوئی انکار نہیں ہے۔ یہ کہتے ہوئے شیخ گھر میں چلے گیے۔\r\n(۳)\r\nنوری کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا، اس نے کانپتے ہاتھوں سے ریشمی سیاہ پردہ اٹھایا اور اندر داخل ہوا حالانکہ دن تھا مگر کمرے میں اندھیرا ہونے کی وجہ سے بجلی کا لیمپ روشن تھا، سامنے کرسی پر سیاہ گاؤن پہنے ایک سولہ یا سترہ سال کی نہایت حسین و جمیل لڑکی بیٹھی تھی!\r\nنوری کو دیکھ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی نوری نے سلام کیا کچھ جواب نہ ملا۔ اس نے دوبارہ سلام کیا تو لڑکی نے آہستہ سے جواب دیا، لڑکی کی نظریں نیچی تھیں صرف داخل ہوتے وقت اس نے ایک لمحہ کے لئے نظر اٹھا کر نوری کو ضرور دیکھا تھا۔ وہ ساکت کھڑا تھا اور لڑکی نے نوری سے بیٹھنے تک کو نہ کہا۔ نوری اجازت طلب کرتے ہوئے بیٹھ گیا مگر لڑکی نے کچھ جواب نہ دیا اور کھڑی رہی۔ نوری پھر کھڑا ہو گیا تو کہا کہ بیٹھ جائے۔ نوری نے اپنی کرسی قریب کر لی اور کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میں اس وقت اپنی منسوبہ نازلی خانم کے سامنے بیٹھا ہوں اور ان سے کچھ گفتگو کرنے کا مجھ کو موقع ملا ہے کیا مجھ کو اجازت ہے ؟\r\nنازلی نے دبی زبان سے کہا، فرمائیے۔\r\nآپ میرے نام سے تو واقف ہیں کیا میں دریافت کر سکتا ہوں کہ آپ کو مجوزہ یہ رشتہ پسند ہے۔؟ اس کا نازلی نے کوئی جواب نہ دیا اس کے چہرے پر ایک خفیف سا رنگ آیا اور چلا گیا وہ زمین کی طرف دیکھ رہی تھی اور اپنے بائیں ہاتھ کی انگلی سے داہنا ہاتھ کرید رہی تھی۔انداز سے نوری نے معلوم کر کے کہا میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اسی سلسلے میں نوری نے پوچھا،کیا آپ میری اس ملاقات کو ناپسند کرتی ہیں؟\r\nجی نہیں۔\r\nتو پھر آپ نے اپنے والد صاحب سے اس بارے میں غیر آمادگی کا اظہار کیوں کیا تھا؟\r\nنازلی کے لبوں پر ایک مسکراہٹ آئی لیکن شرم کی وجہ سے شاید کچھ نہ کہہ سکی، نوری نے فوراً کہا، آپ کو اس بات کا جواب ضرور دینا پڑے گا اور میں بے پوچھے نہ مانوں گا۔ نازلی نے کچھ تامل سے کہا، میں نے یونہی کہہ دیا تھا۔ نوری نے برجستہ کہا، تو اس سے یہ مطلب میں نکال سکتا ہوں کہ آپ مجھ سے ملنا چاہتی ہیں۔ نوری نے یہ کہتے ہوئے نازلی کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور پھر کہا، سچ سچ بتائیے کہ کیا آپ مجھ سے ملنا چاہتی تھیں؛ میں آپ کے دل کی بات معلوم کرنا چاہتا ہوں۔\r\nنازلی کی نظریں نیچی تھیں، اس کے سرخ اونی شال پر بجلی کی روشنی چمک رہی تھی جس کا عکس اس کے چہرے پر پڑ کر سیاہ گاؤن کے ساتھ ایک عجیب کیفیت پیدا کر رہا تھا۔ اس نے ذرا تامل سے کہا ،میں آپ کو دیکھنا چاہتی تھی، ملنے کا تو مجھ کو خیال بھی نہ آ سکتا تھا۔\r\nکیا آپ مجھ کو بتا سکتی ہیں کہ آپ مجھ کو کیوں دیکھنا چاہتی تھیں؟ یہ سوال کرنے سے نوری کو خود ہنسی آ گئی۔نازلی نے بھی اب ہمت کر کے کہا ،پہلے آپ ہی بتائیے کہ آپ آخر کیوں مجھ سے ملنا چاہتے تھے، جس لیے آپ مجھ سے ملنا چاہتے تھے اس لئے میں بھی چاہتی تھی کہ آپ کو دیکھ لوں۔ نوری نے کہا، میں تو آپ کو اس لیےدیکھنا چاہتا تھا کہ جو کچھ بھی میں نے اپنی بہن اور ماں سے آپ کے بارے میں سنا ہے اس کی تصدیق کر لوں مگر یہ تو بتائیے کہ آپ کیوں مجھ کو دیکھنا چاہتی تھیں؟\r\nنازلی نے اب نظریں اوپر کر لی تجیں اور اب روبرو ہو کر باتیں سن رہی تھی، اس کو ان سوالات پر کچھ ہنسی بھی آ رہی تھی اور اس نے جواب دیا کہ میں تو یونہی آپ کو دیکھنا چاہتی تھی۔\r\nمگر میں آپ سے بغیر اس کی وجہ پوچھے نہ مانوں گا۔ نازلی نے کہا، مجھ کو معلوم ہی نہیں تو پھر بھلا آپ کو کیا بتاؤں۔ نوری کو اس جواب سے اطمینان ہو گیا لیکن اس نے اب دوسرا سوال پیش کر دیا،میں جب پیرس میں بیمار پڑ گیا تھا تو آپ کو یاد ہو گا آپ نے دو مرتبہ اپنے خطوط میں میری بہن کو لکھا تھا کہ تمہارے بھائی اب کیسے ہیں؟ یہ آخر کیوں لکھا تھا؟ نازلی کو اس بات پر ہنسی آ گئی اور وہ کہنے لگی، معاف کیجئے گا آپ کیسے سوالات کر رہے ہیں کیا کسی کی خیریت دریافت کرنا گناہ ہے؟\r\nنوری نے کہا، اچھا آپ صرف یہ بتائیے کہ کیا آپ میری بیماری کا سن کر کچھ متفکر ہوئی تھیں اور کیا آپ کو میرا خیال آیا تھا۔ نازلی نے سمجھ لیا تھا کہ ایسے سوالوں سے نوری کا مطلب کیا ہے اور اس کو بھی ان سوالات میں دلچسپی آ رہی تھی۔ اس نے بجائے جواب دینے کے ہنستے ہوئے کہا،اچھا پہلے آپ بتائیے کہ اگر اسی زمانہ میں میں بیمار پڑتی اور آپ کو اس کا علم ہوتا تو آپ میری خیریت دریافت کراتے یا کچھ متفکر ہوتے یا آپ کو میرا کچھ خیال آتا؟\r\nنوری کچھ لاجواب ہو کر، میرا خیال ہے کہ ضرور مجھ کو بہت خیال آتا اور فکر بھی ہوتی اور میں خیریت بھی دریافت کراتا۔ نازلی کامیابی کی خوشی کے لہجے میں تیزی سے بولی، آخر کیوں، آخر کیوں، نہ میں نے کبھی آپ کو دیکھا اور نہ آپ نے ہی مجھ کو دیکھا تھا۔\r\nنوری اس مسئلہ پر غور کر رہا تھا۔ نازلی کا ہاتھ بدستور اس کے ہاتھوں میں تھا اس نے اس کے ہاتھ کو نرمی سے دباتے ہوئے عجیب پیرایہ میں کہا، میری جو باتیں خود سمجھ میں نہیں آتی تھی انہیں دریافت کرنا چاہتا تھا لیکن دراصل میں یہ معلوم کرنا چاہتا تھا کہ آپ کی طرف سے جو خیالات میرے دل میں تھے، کیا ویسے ہی میری طرف سے آپ کے دل میں بھی ہیں۔\r\nپھر آپ نے کیا پایا؟\r\nآپ کی اور اپنی حالت کو یکساں پایا۔ یہ ایک بات ہے کہ یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم دونوں میں محبت کی بنیاد دراصل اس وقت سے استوار ہو گئی جب ہم دونوں کو اس کا علم ہوا کہ یہ رشتہ قائم ہو گا۔\r\nاس کا جواب نازلی نے کچھ نہ دیا صرف اس کے نرم ہاتھ کو جنبش سی ہوئی جو نوری کے ہاتھ میں تھا اور یہی جواب تھا جو اس کے جذبات کی صحیح ترجمانی کر رہا تھا۔نوری نے متاثر ہو کر کہا، ایک سوال اور کروں گا اور اس کا جواب خدا کے واسطے ضرور دینا وہ یہ کہ آپ نے جو اپنے ہاتھ سے ایک جنگل کے سین کی رنگ برنگی تصویر بنا کر میری بہن کو بھیجی تھی، وہ کیوں بھیجی تھی؟\r\nوہ میں نے اس لیے بھیجی تھی کہ انہوں نے مجھ کو تصویروں کا ایک البم بھیجا تھا، تبادلہ تحفہ جات تو ایک پرانی رسم ہے۔\r\nنوری نے بے تاب ہو کر کہا، خدا کے واسطے ذرا اپنے دل کو ٹٹولئے اور اچھی طرح ٹٹولئے ہر معاملہ میں میرا اور آپ کا حال ایک سا نکلتا ہے بخدا مجھ کو ایسا معلوم ہوا کہ تصویر آپ نے میری بہن کے لیے نہیں بلکہ میرے لئے بھیجی تھی تاکہ میں دیکھوں اور خوش ہوں، اس وقت جس وقت تصویر آئی تو میرے دل میں یہی خیال تھا اور اب بھی یہی خیال ہے، سچ مچ کہئے گا کہ آپ جس وقت تصویر بھیج رہی تھیں کیا آپ کے دل میں کچھ میرا خیال آیا تھا۔ نازلی کچھ حیران سی رہ گئی کیونکہ اس وقت نوری نے اس کے دل کی گہرائی کا اس طرح پتہ لگا لیا کہ اس کو وہم و گمان بھی ہونا ناممکن تھا۔ وہ کچھ جواب نہ دے سکی اور حیرت میں تھی، ساتھ میں حقیقی شرم بھی اس کو بولنے نہ دیتی تھی۔\r\nنوری نے اصل حقیقت کو سمجھ لیا اور اصرار کے ساتھ کہا، اس بات کا میں آپ سے ضرور جواب لوں گا یہ میرا آخری سوال ہے اور میں اس وقت آپ کے صحیح جواب کا بے تابانہ انتظار کر رہا ہوں بتائیے تو سہی کہ وہ تصویر آپ نے کس کے لیے بھیجی تھی۔\r\nآپ کے لئے یہ کہہ کر نازلی نے آنکھیں نیچی کر لیں۔\r\nنوری کی آنکھیں چمکنے لگیں اس کا دل جواب سن کر دھڑکنے لگا ۔اس نے زور سے نازلی کا ہاتھ گویا لاعلمی میں دبایا اور خوش ہو کر اس کے منہ سے نکلا،بخدا؟\r\nبخدا نازلی کی زبان سے بھی نکلا۔\r\nدونوں تھوڑی دیر تک خاموش رہے ۔نازلی نیچی نظریں کئے ہوئے بیٹھی تھی، نوری نے گھڑی دیکھی اور چاروں طرف دیکھ کر نازلی کا ہاتھ آہستہ سے چھوڑ دیا، اپنی جیب سے اس نے ہیرے کی ایک انگوٹھی نکالی جس کی دمک سے بجلی کی روشنی میں آنکھیں خیرہ ہوتی تھیں، نازلی نے آنکھ کے گوشہ سے انگوٹھی کو دیکھا تو اس نے مسکرا کر کہا، یہ آپ کے لیے ہے ہاتھ پکڑ کر کہا، کیا آپ اجازت دیتی ہیں اور یہ کہتے ہوئے نازلی کی انگلی میں انگوٹھی پہنا کر اس کے ہاتھوں کو لبوں سے لگا کر آہستہ آہستہ سے چھوڑ دیا۔\r\nخدا حافظ۔ خدا حافظ۔ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا، ایک طویل مصافحہ کیا اور پھر خدا حافظ کہہ کر اجازت چاہی۔ خدا حافظ نازلی نے آہستہ سے کہا۔ چلتے چلتے دروازے سے مڑ کر اس نے نازلی کی طرف دیکھا جو خود اس کو جاتا ہوا دیکھ رہی تھی۔",
|
||
"HtmlText": null,
|
||
"PoemFormat": null,
|
||
"Language": "ur",
|
||
"CoupletsCount": 62
|
||
}
|
||
],
|
||
"Verses": [
|
||
{
|
||
"VOrder": 1,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "میں نے جو پیرس سے لکھا تھا وہی اب کہتا ہوں کہ میں ہرگز ہرگز اس بات کے لئے تیار نہیں کہ بغیر دیکھے بھالے شادی کر لوں، سو اگر آپ میری شادی کرنا چاہتی ہیں تو مجھ کو اپنی منسوبہ بیوی کو نہ صرف دیکھ لینے دیجئے بلکہ اس سے دو چار منٹ باتیں کر لینے دیجئے۔ یہ الفاظ تھے جو نوری نے اپنی بہن سے پر زور لہجے میں کہے۔",
|
||
"CoupletIndex": 0,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 2,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "مگر یہ تو بتاؤ کہ آخر اس سے کیا فائدہ، تمہارا یہ خیال ہے کہ اگر لڑکی کی صورت شکل اچھی نہ ہوئی تو تم انکار کر دو گے؟ ہرگز ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا، جب سب معاملات طے ہو چکے ہیں اور شادی کرنا ہی ہے تو پھر تم کو دیکھنے سے کیا فائدہ؟ بہن نے یہ تقریر ختم ہی کی تھی کہ ماں صاحبہ بھی آ گئیں اور اب نوری کو بجائے ایک کے دو سے بحث کرنی پڑی۔",
|
||
"CoupletIndex": 1,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 3,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "معلوم ہوتا ہے کہ تین سال فرانس میں رہ کر تم نے اپنی قومیت اور مذہب کو بھی خیر باد کہہ دیا۔ یہ الفاظ ماں نے اسی سلسلہ گفتگو میں کہے۔",
|
||
"CoupletIndex": 2,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 4,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "جی نہیں یہ ناممکن ہے، میں پکا مسلمان ہوں اور مصری ہوں۔ نہ میں نے مذہب کو چھوڑا ہے اور نہ قومیت کو، میں تو اپنے حق پہ لڑتا ہوں کہ جس سے میری شادی ہونے والی ہے اس کو میں دیکھ لو۔",
|
||
"CoupletIndex": 3,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 5,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "اور اگر ناپسند ہو تو شادی نہ کروں۔ ماں نے گویا جملہ پورا کیا۔",
|
||
"CoupletIndex": 4,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 6,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "تم کو بھی معلوم ہے کہ تمہاری منسوبہ بیوی کس کی لڑکی ہے ؟ وہ جامعہ ازہر کے نائب الشیخ کی لڑکی ہے اور شرافت اور امارت اور تمول میں وہ لوگ ہم سے کہیں زیادہ ہیں۔ ذرا ان لوگوں کو دیکھو اور اپنے کو دیکھو، گورنمنٹ کے روپے پر یورپ جا کر تعلیم حاصل کر کے آئے ہیں اور انجنیئر بن گیے ہیں تو ہم کو کسی شمار ہی میں نہیں لاتے۔",
|
||
"CoupletIndex": 5,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 7,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "یہ سب کچھ آپ صحیح کہتی ہیں جو مجھ کو لفظ بلفظ تسلیم ہے مگر اس کے تو یہ معنی نہیں ہو سکتے کہ ان وجوہ کی بناء پر اپنا پیدائشی حق کھو بیٹھوں۔",
|
||
"CoupletIndex": 6,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 8,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "مگر میں شادی پختہ کر چکی ہوں اور شادی کے تمام ابتدائی مراحل بھی طے ہو چکے ہیں اور اب میں یہ نسبت نہیں توڑ سکتی۔ماں نے نوری سے یہ الفاظ ایک مجبوری کا لہجہ لیے ہوئے کہے۔",
|
||
"CoupletIndex": 7,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 9,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "میں کب کہتا ہوں کہ آپ یہ نسبت توڑ دیں، مجھ کو تو یہ رشتہ خود بسر و چشم منظور ہے۔یہ الفاظ سنتے ہی بہن چمک کر بولی، پھر آخر کیوں الٹی سیدھی باتیں کرتے ہو؟ یہی تم نے پیرس سے لکھا تھا ورنہ ہم لوگ کیوں یہ غلطی کرتے؟",
|
||
"CoupletIndex": 8,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 10,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "غرض اسی قسم کی بحث بہت دیر تک ہوتی رہی مگر نتیجہ کچھ نہ نکلا۔ ماں نے بہت کوشش کی کہ نوری اپنی ضد سے باز آئے مگر بے سود اور ادھر نوری نے بے حد کوشش کی کہ ماں اس کی منسوبہ بیوی کے گھر کہلا بھیجے کہ لڑکا لڑکی سے ملنا چاہتا ہے مگر بیکار، ماں کو اپنی بات کا پاس تھا ،وہ اپنے ہم چشموں میں ذلیل ہونا گوارا نہ کر سکتی تھی، وہ پرانی رسموں کی قیود کو توڑنا نہیں چاہتی تھی اور یہ ناممکن تھا کہ ایسا ناشائستہ پیغام لڑکی والوں کے یہاں کہلوا بھیجے کہ جس کو وہ ان لوگوں کی کھلی ہوئی توہین خیال کرتی ہو۔",
|
||
"CoupletIndex": 9,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 11,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نتیجہ ماں بیٹے کی ضد کا یہ ہوا کہ ماں خفا ہو گئی، گھنٹوں بیٹھ کر روئی، نوری نے بہت خوشامد کی مگر بیکار، نوری کو ماں کو رنجیدہ کرنے کا بہت افسوس تھا مگر مجبور تھا۔ کھانے کا وقت آیا اور ماں نے کھانا نہ کھایا مگر مصالحت کی کوئی صورت نہ بن پڑی۔بحث کا سلسلہ چھڑ گیا ،نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ ماں خوب روئی پیٹی مگر سنگدل بیٹے نے اپنے اصول سے جنبش نہ کی۔ اب گھر گویا غم کدہ بنا ہوا تھا، ماں نے کھانا نہ کھایا اور بیٹی اور بیٹے نے بھی کھانا نہ کھایا، یہی صورت دوسری شام تک رہی اور ۲۴ گھنٹے سے زیادہ گزر گیے۔",
|
||
"CoupletIndex": 10,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 12,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نوری اپنے کمرے میں بیٹھا تھا، ماں کی تکلیف کا خیال تھا، ماں کی ستیہ گرہ آخر کار کامیاب ہو گئی اور نوری نے ماں کی شرائط منظور کر لیں تاکہ ماں کھانا کھا لے۔",
|
||
"CoupletIndex": 11,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 13,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "(۲)",
|
||
"CoupletIndex": 12,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 14,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "یہ بھی دراصل نوری کی چال تھی تاکہ ماں کھانا کھا لے۔ چنانچہ ماں کو اس نے راضی کر لیا لیکن وہ اب سوچ میں تھا کہ کرنا کیا چاہیے۔ صبح کا وقت تھا اور اس واقعے کو دو روز گزر چکے تھے۔ نوری اپنے کمرے میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا کہ اس نے اخبار رکھ دیا اور اٹھ کر الماری سے احادیث کی دو کتابیں اٹھا لایا۔ ان کتابوں کا مطالعہ وہ پیشتر بھی کر چکا تھا اور اکثر کرتا رہتا تھا۔وہ اسی سوچ میں تھا کہ اب کیا کرنا چاہیے کہ معاً اس نے دل میں نئی بات ٹھان لی، نوکر کو حکم دیا کہ گاڑی لاؤ کپڑے پہن کر تیار ہوا اور کہا کہ نائب الشیخ کے ہاں چلو۔گاڑی ایک عالیشان مکان پر رکی۔ مکان کا ظاہری ٹھاٹھ کہہ رہا تھا کہ کسی امیر کبیر کا مکان ہے۔ ایک نوکر دوڑ کر گاڑی کے قریب آیا، نوری نے اپنا کارڈ دیا اور اطلاع کی گئی۔نائب الشیخ اپنے منسوبہ داماد کی آمد کی خبر سن کر باہر استقبال کے لئے آئے۔ نوری نے بڑھ کر مصافحہ کیا اور قابل احترام شیخ کے ہاتھوں کو بوسہ دیا، شیخ نے نوری کی پیشانی پر بوسہ دیا اور ہاتھ پکڑ کر کمرے میں لا بٹھایا۔",
|
||
"CoupletIndex": 13,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 15,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "کمرہ مغربی سامان آرائش سے سجا ہوا تھا۔ جگہ جگہ خوبصورت کام ہو رہا تھا اور تمام فرنیچر اور دیگر سامان اعلیٰ قسم کا تھا۔ اس ہال کے ایک حصہ میں بہترین رومی غالیچوں کا فرش بھی تھا اور مشرقی فیشن کا بہترین سامان سجا ہوا تھا۔ نیچے نیچے زمین سے ملے ہوئے خوبصورت صوفے پڑے ہوئے تھے جن پر لوگ اطمینان سے پالتی مارے تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔ نائب الشیخ نے نوری کا اپنے ملنے والوں سے تعارف کرایا اور ملنے والوں نے شیخ کو داماد کے انتخاب پر مبارک باد دی۔ تھوڑی دیر بعد قہوہ کا دور چلنے لگا اور شیخ نوری سے بسلسلہ گفتگو فرانس کی باتیں پوچھتے رہے۔ قہوہ کا دور ختم ہوا اور تھوڑی دیر بعد شیخ صاحب کے دوست اٹھ کر چلے اور نوری اور شیخ رہ گیے۔ بڑی مشکل سے اور بڑی دیر کے سوچ کے بعد نوری نے شیخ سے نہایت مودبانہ طریقہ سے کہا،میں جناب کی خدمت میں ایک خاص مقصد سے آیا تھا۔",
|
||
"CoupletIndex": 14,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 16,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "وہ کیا؟",
|
||
"CoupletIndex": 15,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 17,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "اگر جناب اجازت دیں تو کچھ عرض کرنے کی جرأت کروں؟",
|
||
"CoupletIndex": 16,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 18,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "بسر و چشم، بسم اللہ کہو کیا کہتے ہو۔",
|
||
"CoupletIndex": 17,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 19,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نوری نے کچھ تامل کیا اور شاید وہ الفاظ ڈھونڈ رہا تھا کہ اپنا مدعا کن مناسب الفاظ میں ادا کرے کہ شیخ نے پھر کہا، تم ضرور اپنے دل کی بات کہو کوئی وجہ نہیں کہ تامل کرو۔ نوری نے ہمت کر کے نیچی نظریں کر کے دبی زبان سے کہا، جناب سے اپنا حق مانگتا ہوں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ میں اپنی منسوبہ سے پانچ منٹ کے لئے مل لوں؟",
|
||
"CoupletIndex": 18,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 20,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نوری نے نظر اٹھا کر جو دیکھا تو نائب الشیخ کو ہکا بکا پایا، وہ بالکل تیار نہ تھے اور ان کی خود داری کو کچھ اس سے ٹھیس سی لگی تھی۔ شیخ نے اپنے کو عجیب شش و پنچ میں پایا۔ وہ نوری کو بے حد پسند کرتے تھے مگر اس بات سے وہ اس وقت حواس باختہ تھے۔ اپنے کو سنبھال کر شیخ نے کہا، میں اس کی اہمیت سمجھنے سے قاصر ہوں۔",
|
||
"CoupletIndex": 19,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 21,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "کیا جناب کو اس بارے میں کسی خاص قسم کا اعتراض ہے ؟",
|
||
"CoupletIndex": 20,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 22,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "بے شک مجھ کو اعتراض ہے۔",
|
||
"CoupletIndex": 21,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 23,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "مذہبی نقطہ نظر سے یا دنیاوی نقطہ نظر سے ؟",
|
||
"CoupletIndex": 22,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 24,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "شیخ چونکہ پھر شیخ تھے وہ بولے، مذہبی نقطہ نظر سے اور نیز دنیاوی نقطہ نظر سے کیونکہ ہمارا دین اور دنیا الگ الگ نہیں۔ نوری نے بھی خوش ہو کر کہا،مگر دین کو دنیا پر سبقت ہے، سب سے پہلے ہمارا مذہب ہے اور پھر دنیا۔ شیخ نے بھی خوش ہو کر کہا، بے شک، بے شک تم صحیح کہتے ہو۔",
|
||
"CoupletIndex": 23,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 25,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "پھر جب خداوند تعالیٰ نے مسلمانوں کو مخاطب کر کے قرآن پاک میں کہہ دیا کہ ان عورتوں سے نکاح کرو جو کہ تم کو بھلی معلوم ہوتی ہوں تو پھر کون سا اعتراض رہ گیا۔ یہ کہتے ہوئے نوری نے آیت نکاح پڑھ کر سنائی۔",
|
||
"CoupletIndex": 24,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 26,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "شیخ صاحب اس رنگ میں بحث کرنے کو خصوصاً نوری کی سی نئی تہذیب کے دلدادہ نوجوان سے قطعی تیار نہ تھے اور نہ اس کی امید تھی، ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کہیں مگر جواب دینے کے لئے کہا ہاں یہ مذہباً جائز تو ہو سکتا ہے مگر میں اس کو پسند نہیں کرتا اور خصوصاً آج کل کے زمانے میں۔",
|
||
"CoupletIndex": 25,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 27,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نوری نے فوراً شیخ کی کمزوری کو محسوس کیا اور کہا، آپ کا کیا خیال ہے اگر آج کل ہم لوگ سنت رسول اللہ کی پیروی کریں؟ کیا یہ مستحسن نہیں ہے ؟",
|
||
"CoupletIndex": 26,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 28,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "شیخ نے فوراً کہا، خدا ہم کو رسول اللہؐ کی پیروی کی توفیق دے۔ نوری نے فوراً جیب میں سے ایک پرچہ نکال کر شیخ کے ہاتھ میں دے دیا، شیخ کی آنکھوں کے سامنے حسب ذیل عبارت تھی:",
|
||
"CoupletIndex": 27,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 29,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "(۱) جابر سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے نکاح کا پیغام کسی عورت کی طرف بھیجنا چاہے تو ہو سکے کہ اس کو دیکھ لے، جس سے نکاح کا ارادہ ہو تو پھر نکاح کرے۔ (ابی داؤد)",
|
||
"CoupletIndex": 28,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 30,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "(۲) مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے، پیغام دیا میں نے نکاح کا ایک عورت کے ساتھ زمانے میں رسول اللہﷺ کے۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے دیکھ بھی لیا ہے اس کو؟ میں نے کہا نہیں، فرمایا کہ دیکھ لے اس کو، اس سے الفت زیادہ ہو گی تم دونوں میں (نسائی)",
|
||
"CoupletIndex": 29,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 31,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "(۳) ابو ہریرہ سے روایت ہے پیغام بھیجا ایک آدمی نے لڑکی والوں کے یہاں، فرمایا اس کو رسول اللہؐ نے تو نے اس کو دیکھ بھی لیا ہے یا نہیں۔ اس نے کہا نہیں،، آپؐ نے فرمایا اس عورت کو دیکھ لے یعنی بغیر دیکھے نکاح کرنا اچھا نہیں۔ (نسائی)",
|
||
"CoupletIndex": 30,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 32,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "شیخ نے ان احادیث کو پڑھا۔ وہ ان احادیث کو پہلے بھی پڑھ چکے ہوں گے مگر ان کے لئے گویا اس وقت یہ بالکل نئی تھیں۔ وہ خاموش تھے اور کچھ بولنے میں ان کو تامل تھا کہ نوری نے ان سے کہا کہ کیا آپ مجھے ان احادیث پر عمل نہ کرنے دیں گے؟ کیا واقعی ہم اس زمانے میں رسول اللہ ص کی نصیحتوں سے بے نیاز ہیں اور وہ ہمارے لئے بے کار ہیں؟",
|
||
"CoupletIndex": 31,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 33,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "شیخ نے کہا، ہر گز نہیں ہر گز نہیں گفتہ رسول اللہ سر آنکھوں پر مگر میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ آخر تمہارا اس درخواست سے مطلب کیا ہے ؟ اگر فرض کرو تمہاری منسوبہ تم کو ناپسند ہوئی تو کیا تم اس نسبت کو توڑ دو گے اور نکاح نہ کرو گے؟ نوری نے جواب دیا، اس سے شاید آپ بھی اتفاق کریں گے اس صورت میں مجبوری ہو گی کیونکہ قرآن کریم کے حکم کے خلاف ہو گا۔",
|
||
"CoupletIndex": 32,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 34,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "تو اس شرط پر تو تمہاری شادی صرف یورپ ہی میں ہو سکتی ہے شیخ نے کچھ ترش رو ہو کر کہا، مجھ کو ہر گز گوارا نہیں ہے کہ میری لڑکی سے نسبت کرنے کے لئے لوگ گاہک بن کر آئیں اور ناپسند کر کے چلے جائیں۔ کیا تم نے میری عزت و آبرو کا اندازہ غلط لگایا ہے ؟ کیا تم نہیں خیال کرتے کہ نائب الشیخ کی توہین ہو گی، معاف کیجئے گا میں اس قسم کی گفتگو پسند نہیں کرتا جس میں میری عزت و آبرو کا سوال ہو۔",
|
||
"CoupletIndex": 33,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 35,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نوری بھی پختہ ارادہ کر کے آیا تھا اور اس نے بھی تیز ہو کر کہا، بے شک آپ مصر میں وہ عزت و مقام رکھتے ہیں جو دوسروں کو نہیں مگر مجھ کو اجازت دیجئے کہ عرض کروں کہ پھر بھی آپ کو وہ عزت حاصل نہیں ہے جو امیر المومنین عمر بن خطاب رض کو مدینے میں حاصل تھی اور آج ساری دنیا میں حاصل ہے۔ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ حضرت عمر نے اپنی بیٹی ام المومنین حفصہ کو حضرت عثمان کے سامنے پیش کیا اور نکاح کی خواہش ظاہر کی اور جب حسب خواپش جواب نہیں ملا تو پھر ان کو حضرت ابو بکر صدیق کے سامنے پیش کیا اور وہاں بھی ناکامی ہوئی۔ کیا ان سے ان کی عزت و آبرو میں خدانخواستہ بٹا لگ گیا؟ شیخ کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور وہ لاجواب ہو کر بولے کہ دونوں حضرات تو ان کے دوست تھے۔",
|
||
"CoupletIndex": 34,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 36,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "مگر میں بھی آپ کے عزیز ترین دوست مرحوم کی نشانی ہوں۔ شیخ نے نظریں نیچی کر لیں اور کچھ تامل کے بعد کہا، مجھ کو کوئی انکار نہیں ہے۔ یہ کہتے ہوئے شیخ گھر میں چلے گیے۔",
|
||
"CoupletIndex": 35,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 37,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "(۳)",
|
||
"CoupletIndex": 36,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 38,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نوری کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا، اس نے کانپتے ہاتھوں سے ریشمی سیاہ پردہ اٹھایا اور اندر داخل ہوا حالانکہ دن تھا مگر کمرے میں اندھیرا ہونے کی وجہ سے بجلی کا لیمپ روشن تھا، سامنے کرسی پر سیاہ گاؤن پہنے ایک سولہ یا سترہ سال کی نہایت حسین و جمیل لڑکی بیٹھی تھی!",
|
||
"CoupletIndex": 37,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 39,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نوری کو دیکھ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی نوری نے سلام کیا کچھ جواب نہ ملا۔ اس نے دوبارہ سلام کیا تو لڑکی نے آہستہ سے جواب دیا، لڑکی کی نظریں نیچی تھیں صرف داخل ہوتے وقت اس نے ایک لمحہ کے لئے نظر اٹھا کر نوری کو ضرور دیکھا تھا۔ وہ ساکت کھڑا تھا اور لڑکی نے نوری سے بیٹھنے تک کو نہ کہا۔ نوری اجازت طلب کرتے ہوئے بیٹھ گیا مگر لڑکی نے کچھ جواب نہ دیا اور کھڑی رہی۔ نوری پھر کھڑا ہو گیا تو کہا کہ بیٹھ جائے۔ نوری نے اپنی کرسی قریب کر لی اور کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میں اس وقت اپنی منسوبہ نازلی خانم کے سامنے بیٹھا ہوں اور ان سے کچھ گفتگو کرنے کا مجھ کو موقع ملا ہے کیا مجھ کو اجازت ہے ؟",
|
||
"CoupletIndex": 38,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 40,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نازلی نے دبی زبان سے کہا، فرمائیے۔",
|
||
"CoupletIndex": 39,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 41,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "آپ میرے نام سے تو واقف ہیں کیا میں دریافت کر سکتا ہوں کہ آپ کو مجوزہ یہ رشتہ پسند ہے۔؟ اس کا نازلی نے کوئی جواب نہ دیا اس کے چہرے پر ایک خفیف سا رنگ آیا اور چلا گیا وہ زمین کی طرف دیکھ رہی تھی اور اپنے بائیں ہاتھ کی انگلی سے داہنا ہاتھ کرید رہی تھی۔انداز سے نوری نے معلوم کر کے کہا میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اسی سلسلے میں نوری نے پوچھا،کیا آپ میری اس ملاقات کو ناپسند کرتی ہیں؟",
|
||
"CoupletIndex": 40,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 42,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "جی نہیں۔",
|
||
"CoupletIndex": 41,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 43,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "تو پھر آپ نے اپنے والد صاحب سے اس بارے میں غیر آمادگی کا اظہار کیوں کیا تھا؟",
|
||
"CoupletIndex": 42,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 44,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نازلی کے لبوں پر ایک مسکراہٹ آئی لیکن شرم کی وجہ سے شاید کچھ نہ کہہ سکی، نوری نے فوراً کہا، آپ کو اس بات کا جواب ضرور دینا پڑے گا اور میں بے پوچھے نہ مانوں گا۔ نازلی نے کچھ تامل سے کہا، میں نے یونہی کہہ دیا تھا۔ نوری نے برجستہ کہا، تو اس سے یہ مطلب میں نکال سکتا ہوں کہ آپ مجھ سے ملنا چاہتی ہیں۔ نوری نے یہ کہتے ہوئے نازلی کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور پھر کہا، سچ سچ بتائیے کہ کیا آپ مجھ سے ملنا چاہتی تھیں؛ میں آپ کے دل کی بات معلوم کرنا چاہتا ہوں۔",
|
||
"CoupletIndex": 43,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 45,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نازلی کی نظریں نیچی تھیں، اس کے سرخ اونی شال پر بجلی کی روشنی چمک رہی تھی جس کا عکس اس کے چہرے پر پڑ کر سیاہ گاؤن کے ساتھ ایک عجیب کیفیت پیدا کر رہا تھا۔ اس نے ذرا تامل سے کہا ،میں آپ کو دیکھنا چاہتی تھی، ملنے کا تو مجھ کو خیال بھی نہ آ سکتا تھا۔",
|
||
"CoupletIndex": 44,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 46,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "کیا آپ مجھ کو بتا سکتی ہیں کہ آپ مجھ کو کیوں دیکھنا چاہتی تھیں؟ یہ سوال کرنے سے نوری کو خود ہنسی آ گئی۔نازلی نے بھی اب ہمت کر کے کہا ،پہلے آپ ہی بتائیے کہ آپ آخر کیوں مجھ سے ملنا چاہتے تھے، جس لیے آپ مجھ سے ملنا چاہتے تھے اس لئے میں بھی چاہتی تھی کہ آپ کو دیکھ لوں۔ نوری نے کہا، میں تو آپ کو اس لیےدیکھنا چاہتا تھا کہ جو کچھ بھی میں نے اپنی بہن اور ماں سے آپ کے بارے میں سنا ہے اس کی تصدیق کر لوں مگر یہ تو بتائیے کہ آپ کیوں مجھ کو دیکھنا چاہتی تھیں؟",
|
||
"CoupletIndex": 45,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 47,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نازلی نے اب نظریں اوپر کر لی تجیں اور اب روبرو ہو کر باتیں سن رہی تھی، اس کو ان سوالات پر کچھ ہنسی بھی آ رہی تھی اور اس نے جواب دیا کہ میں تو یونہی آپ کو دیکھنا چاہتی تھی۔",
|
||
"CoupletIndex": 46,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 48,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "مگر میں آپ سے بغیر اس کی وجہ پوچھے نہ مانوں گا۔ نازلی نے کہا، مجھ کو معلوم ہی نہیں تو پھر بھلا آپ کو کیا بتاؤں۔ نوری کو اس جواب سے اطمینان ہو گیا لیکن اس نے اب دوسرا سوال پیش کر دیا،میں جب پیرس میں بیمار پڑ گیا تھا تو آپ کو یاد ہو گا آپ نے دو مرتبہ اپنے خطوط میں میری بہن کو لکھا تھا کہ تمہارے بھائی اب کیسے ہیں؟ یہ آخر کیوں لکھا تھا؟ نازلی کو اس بات پر ہنسی آ گئی اور وہ کہنے لگی، معاف کیجئے گا آپ کیسے سوالات کر رہے ہیں کیا کسی کی خیریت دریافت کرنا گناہ ہے؟",
|
||
"CoupletIndex": 47,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 49,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نوری نے کہا، اچھا آپ صرف یہ بتائیے کہ کیا آپ میری بیماری کا سن کر کچھ متفکر ہوئی تھیں اور کیا آپ کو میرا خیال آیا تھا۔ نازلی نے سمجھ لیا تھا کہ ایسے سوالوں سے نوری کا مطلب کیا ہے اور اس کو بھی ان سوالات میں دلچسپی آ رہی تھی۔ اس نے بجائے جواب دینے کے ہنستے ہوئے کہا،اچھا پہلے آپ بتائیے کہ اگر اسی زمانہ میں میں بیمار پڑتی اور آپ کو اس کا علم ہوتا تو آپ میری خیریت دریافت کراتے یا کچھ متفکر ہوتے یا آپ کو میرا کچھ خیال آتا؟",
|
||
"CoupletIndex": 48,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 50,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نوری کچھ لاجواب ہو کر، میرا خیال ہے کہ ضرور مجھ کو بہت خیال آتا اور فکر بھی ہوتی اور میں خیریت بھی دریافت کراتا۔ نازلی کامیابی کی خوشی کے لہجے میں تیزی سے بولی، آخر کیوں، آخر کیوں، نہ میں نے کبھی آپ کو دیکھا اور نہ آپ نے ہی مجھ کو دیکھا تھا۔",
|
||
"CoupletIndex": 49,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 51,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نوری اس مسئلہ پر غور کر رہا تھا۔ نازلی کا ہاتھ بدستور اس کے ہاتھوں میں تھا اس نے اس کے ہاتھ کو نرمی سے دباتے ہوئے عجیب پیرایہ میں کہا، میری جو باتیں خود سمجھ میں نہیں آتی تھی انہیں دریافت کرنا چاہتا تھا لیکن دراصل میں یہ معلوم کرنا چاہتا تھا کہ آپ کی طرف سے جو خیالات میرے دل میں تھے، کیا ویسے ہی میری طرف سے آپ کے دل میں بھی ہیں۔",
|
||
"CoupletIndex": 50,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 52,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "پھر آپ نے کیا پایا؟",
|
||
"CoupletIndex": 51,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 53,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "آپ کی اور اپنی حالت کو یکساں پایا۔ یہ ایک بات ہے کہ یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم دونوں میں محبت کی بنیاد دراصل اس وقت سے استوار ہو گئی جب ہم دونوں کو اس کا علم ہوا کہ یہ رشتہ قائم ہو گا۔",
|
||
"CoupletIndex": 52,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 54,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "اس کا جواب نازلی نے کچھ نہ دیا صرف اس کے نرم ہاتھ کو جنبش سی ہوئی جو نوری کے ہاتھ میں تھا اور یہی جواب تھا جو اس کے جذبات کی صحیح ترجمانی کر رہا تھا۔نوری نے متاثر ہو کر کہا، ایک سوال اور کروں گا اور اس کا جواب خدا کے واسطے ضرور دینا وہ یہ کہ آپ نے جو اپنے ہاتھ سے ایک جنگل کے سین کی رنگ برنگی تصویر بنا کر میری بہن کو بھیجی تھی، وہ کیوں بھیجی تھی؟",
|
||
"CoupletIndex": 53,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 55,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "وہ میں نے اس لیے بھیجی تھی کہ انہوں نے مجھ کو تصویروں کا ایک البم بھیجا تھا، تبادلہ تحفہ جات تو ایک پرانی رسم ہے۔",
|
||
"CoupletIndex": 54,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 56,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نوری نے بے تاب ہو کر کہا، خدا کے واسطے ذرا اپنے دل کو ٹٹولئے اور اچھی طرح ٹٹولئے ہر معاملہ میں میرا اور آپ کا حال ایک سا نکلتا ہے بخدا مجھ کو ایسا معلوم ہوا کہ تصویر آپ نے میری بہن کے لیے نہیں بلکہ میرے لئے بھیجی تھی تاکہ میں دیکھوں اور خوش ہوں، اس وقت جس وقت تصویر آئی تو میرے دل میں یہی خیال تھا اور اب بھی یہی خیال ہے، سچ مچ کہئے گا کہ آپ جس وقت تصویر بھیج رہی تھیں کیا آپ کے دل میں کچھ میرا خیال آیا تھا۔ نازلی کچھ حیران سی رہ گئی کیونکہ اس وقت نوری نے اس کے دل کی گہرائی کا اس طرح پتہ لگا لیا کہ اس کو وہم و گمان بھی ہونا ناممکن تھا۔ وہ کچھ جواب نہ دے سکی اور حیرت میں تھی، ساتھ میں حقیقی شرم بھی اس کو بولنے نہ دیتی تھی۔",
|
||
"CoupletIndex": 55,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 57,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نوری نے اصل حقیقت کو سمجھ لیا اور اصرار کے ساتھ کہا، اس بات کا میں آپ سے ضرور جواب لوں گا یہ میرا آخری سوال ہے اور میں اس وقت آپ کے صحیح جواب کا بے تابانہ انتظار کر رہا ہوں بتائیے تو سہی کہ وہ تصویر آپ نے کس کے لیے بھیجی تھی۔",
|
||
"CoupletIndex": 56,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 58,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "آپ کے لئے یہ کہہ کر نازلی نے آنکھیں نیچی کر لیں۔",
|
||
"CoupletIndex": 57,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 59,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نوری کی آنکھیں چمکنے لگیں اس کا دل جواب سن کر دھڑکنے لگا ۔اس نے زور سے نازلی کا ہاتھ گویا لاعلمی میں دبایا اور خوش ہو کر اس کے منہ سے نکلا،بخدا؟",
|
||
"CoupletIndex": 58,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 60,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "بخدا نازلی کی زبان سے بھی نکلا۔",
|
||
"CoupletIndex": 59,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 61,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "دونوں تھوڑی دیر تک خاموش رہے ۔نازلی نیچی نظریں کئے ہوئے بیٹھی تھی، نوری نے گھڑی دیکھی اور چاروں طرف دیکھ کر نازلی کا ہاتھ آہستہ سے چھوڑ دیا، اپنی جیب سے اس نے ہیرے کی ایک انگوٹھی نکالی جس کی دمک سے بجلی کی روشنی میں آنکھیں خیرہ ہوتی تھیں، نازلی نے آنکھ کے گوشہ سے انگوٹھی کو دیکھا تو اس نے مسکرا کر کہا، یہ آپ کے لیے ہے ہاتھ پکڑ کر کہا، کیا آپ اجازت دیتی ہیں اور یہ کہتے ہوئے نازلی کی انگلی میں انگوٹھی پہنا کر اس کے ہاتھوں کو لبوں سے لگا کر آہستہ آہستہ سے چھوڑ دیا۔",
|
||
"CoupletIndex": 60,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 62,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "خدا حافظ۔ خدا حافظ۔ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا، ایک طویل مصافحہ کیا اور پھر خدا حافظ کہہ کر اجازت چاہی۔ خدا حافظ نازلی نے آہستہ سے کہا۔ چلتے چلتے دروازے سے مڑ کر اس نے نازلی کی طرف دیکھا جو خود اس کو جاتا ہوا دیکھ رہی تھی۔",
|
||
"CoupletIndex": 61,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
}
|
||
]
|
||
}
|