199 lines
24 KiB
JSON
199 lines
24 KiB
JSON
{
|
||
"Id": 3939,
|
||
"CatId": 353,
|
||
"Title": "کھول دو",
|
||
"FullTitle": "سعادت حسن منٹو » کھول دو",
|
||
"FullUrl": "/p136/sh3939",
|
||
"RhymeLetters": null,
|
||
"SourceName": "ویکی ماخذ",
|
||
"SourceUrlSlug": "wikisource",
|
||
"SourceUrl": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D9%88%D9%84_%D8%AF%D9%88",
|
||
"Language": "ur",
|
||
"PoemSummary": null,
|
||
"Metre": null,
|
||
"Sections": [
|
||
{
|
||
"Index": 0,
|
||
"Number": 1,
|
||
"SectionType": "WholePoem",
|
||
"VerseType": "First",
|
||
"RhymeLetters": null,
|
||
"PlainText": "امرتسر سے اسپیشل ٹرین دوپہر دو بجے کو چلی اور آٹھ گھنٹوں کے بعد مغل پورہ پہنچی۔ راستے میں کئی آدمی مارے گیے۔ متعدد زخمی ہوئے اور کچھ ادھر ادھر بھٹک گیے۔\r\nصبح دس بجے۔۔۔ کیمپ کی ٹھنڈی زمین پر جب سراج الدین نے آنکھیں کھولیں اور اپنے چاروں طرف مردوں، عورتوں اور بچوں کا ایک متلاطم سمندر دیکھا تو اس کی سوچنے سمجھنے کی قوتیں اور بھی ضعیف ہوگئیں۔ وہ دیر تک گدلے آسمان کو ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا۔ یوں تو کیمپ میں ہر طرف شور برپا تھا۔ لیکن بوڑھے سراج الدین کے کان جیسے بند تھے۔ اسے کچھ سنائی نہیں دیتا تھا۔ کوئی اسے دیکھتا تو یہ خیال کرتا کہ وہ کسی گہری فکر میں غرق ہے مگر ایسا نہیں تھا۔ اس کے ہوش و حواس شل تھے۔ اس کا سارا وجود خلا میں معلق تھا۔\r\nگدلے آسمان کی طرف بغیر کسی ارادے کے دیکھتے دیکھتے سراج الدین کی نگاہیں سورج سے ٹکرائیں۔ تیز روشنی اس کے وجود کے رگ و ریشے میں اتر گئی اور وہ جاگ اٹھا۔ اوپر تلے اس کے دماغ پر کئی تصویریں دوڑ گئیں۔ لوٹ۔۔۔ آگ۔۔۔ بھاگم بھاگ۔۔۔ اسٹیشن۔۔۔ گولیاں۔۔۔ رات اور سکینہ۔۔۔ سراج الدین ایک دم اٹھ کھڑا ہوا اور پاگلوں کی طرح اس نے اپنے چاروں طرف پھیلے ہوئے انسانوں کے سمندر کو کھنگالنا شروع کیا۔\r\nپورے تین گھنٹے وہ’’سکینہ، سکینہ‘‘ پکارتا کیمپ میں خاک چھانتا رہا۔ مگر اسے اپنی جوان اکلوتی بیٹی کا کوئی پتا نہ ملا۔ چاروں طرف ایک دھاندلی سی مچی تھی۔ کوئی اپنا بچہ ڈھونڈ رہا تھا، کوئی ماں، کوئی بیوی اور کوئی بیٹی۔ سراج الدین تھک ہار کر ایک طرف بیٹھ گیا اور حافظے پر زور دے کر سوچنے لگا کہ سکینہ اس سے کب اور کہاں جدا ہوئی۔ لیکن سوچتے سوچتے اس کا دماغ سکینہ کی ماں کی لاش پر جم جاتا۔ جس کی ساری انتڑیاں باہر نکلی ہوئی تھیں۔ اس سے آگے وہ اور کچھ نہ سوچ سکتا۔\r\nسکینہ کی ماں مر چکی تھی۔ اس نے سراج الدین کی آنکھوں کے سامنے دم توڑا تھا۔ لیکن سکینہ کہاں تھی جس کے متعلق اس کی ماں نے مرتے ہوئے کہا تھا، ’’مجھے چھوڑو اور سکینہ کو لے کر جلدی یہاں سے بھاگ جاؤ۔‘‘\r\nسکینہ اس کے ساتھ ہی تھی۔ دونوں ننگے پاؤں بھاگ رہے تھے۔ سکینہ کا دوپٹہ گر پڑا تھا۔ اسے اٹھانے کے لیے اس نے رکنا چاہا تھا مگر سکینہ نے چلا کر کہا تھا، ’’ابا جی۔۔۔ چھوڑیے۔‘‘ لیکن اس نے دوپٹہ اٹھا لیا تھا۔۔۔ یہ سوچتے سوچتے اس نے اپنے کوٹ کی ابھری ہوئی جیب کی طرف دیکھا اور اس میں ہاتھ ڈال کر ایک کپڑا نکالا۔۔۔ سکینہ کا وہی دوپٹہ تھا۔۔۔ لیکن سکینہ کہاں تھی؟\r\nسراج الدین نے اپنے تھکے ہوئے دماغ پر بہت زور دیا مگر وہ کسی نتیجہ پر نہ پہنچ سکا۔ کیا وہ سکینہ کو اپنے ساتھ اسٹیشن تک لے آیا تھا۔۔۔؟ کیا وہ اس کے ساتھ ہی گاڑی میں سوار تھی۔۔۔؟ راستہ میں جب گاڑی روکی گئی تھی اور بلوائی اندر گھس آئے تھے تو کیا وہ بے ہوش ہوگیا تھا جو وہ سکینہ کو اٹھا کرلے گیے؟\r\nسراج الدین کے دماغ میں سوال ہی سوال تھے، جواب کوئی بھی نہیں تھا۔ اس کو ہمدردی کی ضرورت تھی لیکن چاروں طرف جتنے بھی انسان پھیلے ہوئے تھے سب کو ہمدردی کی ضرورت تھی۔ سراج الدین نے رونا چاہا مگر آنکھوں نے اس کی مدد نہ کی۔ آنسو جانے کہاں غائب ہوگیے تھے۔چھ روز کے بعد جب ہوش و حواس کسی قدر درست ہوئے تو سراج الدین ان لوگوں سے ملا جو اس کی مدد کرنے کے لیے تیار تھے۔ آٹھ نوجوان تھے۔ جن کے پاس لاری تھی، بندوقیں تھیں۔ سراج الدین نے ان کو لاکھ لاکھ دعائیں دیں اور سکینہ کا حلیہ بتایا، ’’گورارنگ ہے اور بہت ہی خوبصورت ہے۔۔۔ مجھ پر نہیں اپنی ماں پر تھی۔۔۔ عمر سترہ برس کے قریب ہے۔۔۔ آنکھیں بڑی بڑی۔۔۔ بال سیاہ، داہنے گال پر موٹا سا تل۔۔۔ میری اکلوتی لڑکی ہے۔ ڈھونڈ لاؤ۔ تمہارا خدا بھلا کرے گا۔‘‘\r\nرضا کار نوجوانوں نے بڑے جذبے کے ساتھ بوڑھے سراج الدین کو یقین دلایا کہ اگر اس کی بیٹی زندہ ہوئی تو چند ہی دنوں میں اس کے پاس ہوگی۔\r\nآٹھوں نوجوانوں نے کوشش کی۔ جان ہتھیلیوں پر رکھ کر وہ امرتسر گیے۔ کئی عورتوں، کئی مردوں اور کئی بچوں کو نکال نکال کر انھوں نے محفوظ مقاموں پر پہنچایا۔ دس روز گزر گیے مگر انھیں سکینہ کہیں نہ ملی۔\r\nایک روز وہ اسی خدمت کے لیے لاری پر امرتسر جارہے تھے کہ چھ ہرٹہ کے پاس سڑک پر انھیں ایک لڑکی دکھائی دی۔ لاری کی آواز سن کروہ بدکی اور بھاگنا شروع کردیا۔ رضا کاروں نے موٹر روکی اور سب کے سب اس کے پیچھے بھاگے۔ ایک کھیت میں انھوں نے لڑکی کو پکڑ لیا۔ دیکھا تو بہت خوبصورت تھی۔ داہنے گال پر موٹا تل تھا۔ ایک لڑکے نے اس سے کہا، ’’گھبراؤ نہیں۔۔۔ کیا تمہارا نام سکینہ ہے؟‘‘\r\nلڑکی کا رنگ اور بھی زرد ہوگیا۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ لیکن جب تمام لڑکوں نے اسے دم دلاسا دیا تو اس کی وحشت دور ہوئی اور اس نے مان لیا کہ وہ سراج الدین کی بیٹی سکینہ ہے۔\r\nآٹھ رضا کار نوجوانوں نے ہر طرح سکینہ کی دلجوئی کی۔ اسے کھانا کھلایا۔ دودھ پلایا اور لاری میں بٹھا دیا۔ ایک نے اپنا کو ٹ اتار کر اسے دے دیا۔ کیونکہ دوپٹہ نہ ہونے کے باعث وہ بہت الجھن محسوس کررہی تھی۔ اور بار بار بانھوں سے اپنے سینے کو ڈھانکنے کی ناکام کوشش میں مصروف تھی۔\r\nکئی دن گزر گیے۔۔۔ سراج الدین کو سکینہ کی کوئی خبر نہ ملی۔ وہ دن بھر مختلف کیمپوں اور دفتروں کے چکر کاٹتا رہتا۔ لیکن کہیں سے بھی اس کی بیٹی کا پتہ نہ چلا۔ رات کو وہ بہت دیر تک ان رضا کار نوجوانوں کی کامیابی کے لیے دعائیں مانگتا رہتا۔ جنہوں نے اس کو یقین دلایا تھا کہ اگر سکینہ زندہ ہوئی تو چند دنوں ہی میں وہ اسے ڈھونڈ نکالیں گے۔\r\nایک روز سراج الدین نے کیمپ میں ان نوجوان رضا کاروں کو دیکھا۔ لاری میں بیٹھے تھے۔ سراج الدین بھاگا بھاگا ان کے پاس گیا۔ لاری چلنے ہی والی تھی کہ اس نے پوچھا، ’’بیٹا، میری سکینہ کا پتہ چلا؟‘‘\r\nسب نے یک زبان ہو کر کہا، ’’چل جائے گا، چل جائے گا۔‘‘ اور لاری چلا دی۔سراج الدین نے ایک بار پھر ان نوجوانوں کی کامیابی کے لیے دعا مانگی اور اس کا جی کسی قدر ہلکا ہوگیا۔\r\nشام کے قریب کیمپ میں جہاں سراج الدین بیٹھا تھا، اس کے پاس ہی کچھ گڑبڑسی ہوئی۔ چار آدمی کچھ اٹھا کر لارہے تھے۔ اس نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ ایک لڑکی ریلوے لائن کے پاس بےہوش پڑی تھی۔ لوگ اسے اٹھا کر لائے ہیں۔ سراج الدین ان کے پیچھے پیچھے ہولیا۔ لوگوں نے لڑکی کو ہسپتال والوں کے سپرد کیا اور چلے گیے۔ کچھ دیر وہ ایسے ہی ہسپتال کے باہر گڑے ہوئے لکڑی کے کھمبے کے ساتھ لگ کر کھڑا رہا۔ پھر آہستہ آہستہ اندر چلا گیا۔ کمرے میں کوئی بھی نہیں تھا۔ ایک اسٹریچر تھا جس پر ایک لاش پڑی تھی۔ سراج الدین چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کی طرف بڑھا۔ کمرے میں دفعتاً روشنی ہوئی۔ سراج الدین نے لاش کے زرد چہرے پر چمکتا ہوا تل دیکھا اور چلایا۔\r\n’’سکینہ!‘‘\r\nڈاکٹر نے جس نے کمرے میں روشنی کی تھی سراج الدین سے پوچھا، ’’کیا ہے؟‘‘\r\nسراج الدین کے حلق سے صرف اس قدر نکل سکا، ’’جی میں۔۔۔ جی میں۔۔۔ اس کا باپ ہوں!‘‘\r\nڈاکٹر نے اسٹریچر پر پڑی ہوئی لاش کی طرف دیکھا۔ اس کی نبض ٹٹولی اور سراج الدین سے کہا، ’’کھڑکی کھول دو۔‘‘\r\nسکینہ کے مردہ جسم میں جنبش پیدا ہوئی۔ بے جان ہاتھوں سے اس نے ازار بند کھولا اور شلوار نیچے سرکا دی۔\r\nبوڑھا سراج الدین خوشی سے چلایا، ’’زندہ ہے۔۔۔ میری بیٹی زندہ ہے۔۔۔‘‘\r\nڈاکٹر سر سے پیر تک پسینے میں غرق ہوگیا۔۔۔",
|
||
"HtmlText": null,
|
||
"PoemFormat": null,
|
||
"Language": "ur",
|
||
"CoupletsCount": 24
|
||
}
|
||
],
|
||
"Verses": [
|
||
{
|
||
"VOrder": 1,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "امرتسر سے اسپیشل ٹرین دوپہر دو بجے کو چلی اور آٹھ گھنٹوں کے بعد مغل پورہ پہنچی۔ راستے میں کئی آدمی مارے گیے۔ متعدد زخمی ہوئے اور کچھ ادھر ادھر بھٹک گیے۔",
|
||
"CoupletIndex": 0,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 2,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "صبح دس بجے۔۔۔ کیمپ کی ٹھنڈی زمین پر جب سراج الدین نے آنکھیں کھولیں اور اپنے چاروں طرف مردوں، عورتوں اور بچوں کا ایک متلاطم سمندر دیکھا تو اس کی سوچنے سمجھنے کی قوتیں اور بھی ضعیف ہوگئیں۔ وہ دیر تک گدلے آسمان کو ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا۔ یوں تو کیمپ میں ہر طرف شور برپا تھا۔ لیکن بوڑھے سراج الدین کے کان جیسے بند تھے۔ اسے کچھ سنائی نہیں دیتا تھا۔ کوئی اسے دیکھتا تو یہ خیال کرتا کہ وہ کسی گہری فکر میں غرق ہے مگر ایسا نہیں تھا۔ اس کے ہوش و حواس شل تھے۔ اس کا سارا وجود خلا میں معلق تھا۔",
|
||
"CoupletIndex": 1,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 3,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "گدلے آسمان کی طرف بغیر کسی ارادے کے دیکھتے دیکھتے سراج الدین کی نگاہیں سورج سے ٹکرائیں۔ تیز روشنی اس کے وجود کے رگ و ریشے میں اتر گئی اور وہ جاگ اٹھا۔ اوپر تلے اس کے دماغ پر کئی تصویریں دوڑ گئیں۔ لوٹ۔۔۔ آگ۔۔۔ بھاگم بھاگ۔۔۔ اسٹیشن۔۔۔ گولیاں۔۔۔ رات اور سکینہ۔۔۔ سراج الدین ایک دم اٹھ کھڑا ہوا اور پاگلوں کی طرح اس نے اپنے چاروں طرف پھیلے ہوئے انسانوں کے سمندر کو کھنگالنا شروع کیا۔",
|
||
"CoupletIndex": 2,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 4,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "پورے تین گھنٹے وہ’’سکینہ، سکینہ‘‘ پکارتا کیمپ میں خاک چھانتا رہا۔ مگر اسے اپنی جوان اکلوتی بیٹی کا کوئی پتا نہ ملا۔ چاروں طرف ایک دھاندلی سی مچی تھی۔ کوئی اپنا بچہ ڈھونڈ رہا تھا، کوئی ماں، کوئی بیوی اور کوئی بیٹی۔ سراج الدین تھک ہار کر ایک طرف بیٹھ گیا اور حافظے پر زور دے کر سوچنے لگا کہ سکینہ اس سے کب اور کہاں جدا ہوئی۔ لیکن سوچتے سوچتے اس کا دماغ سکینہ کی ماں کی لاش پر جم جاتا۔ جس کی ساری انتڑیاں باہر نکلی ہوئی تھیں۔ اس سے آگے وہ اور کچھ نہ سوچ سکتا۔",
|
||
"CoupletIndex": 3,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 5,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "سکینہ کی ماں مر چکی تھی۔ اس نے سراج الدین کی آنکھوں کے سامنے دم توڑا تھا۔ لیکن سکینہ کہاں تھی جس کے متعلق اس کی ماں نے مرتے ہوئے کہا تھا، ’’مجھے چھوڑو اور سکینہ کو لے کر جلدی یہاں سے بھاگ جاؤ۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 4,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 6,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "سکینہ اس کے ساتھ ہی تھی۔ دونوں ننگے پاؤں بھاگ رہے تھے۔ سکینہ کا دوپٹہ گر پڑا تھا۔ اسے اٹھانے کے لیے اس نے رکنا چاہا تھا مگر سکینہ نے چلا کر کہا تھا، ’’ابا جی۔۔۔ چھوڑیے۔‘‘ لیکن اس نے دوپٹہ اٹھا لیا تھا۔۔۔ یہ سوچتے سوچتے اس نے اپنے کوٹ کی ابھری ہوئی جیب کی طرف دیکھا اور اس میں ہاتھ ڈال کر ایک کپڑا نکالا۔۔۔ سکینہ کا وہی دوپٹہ تھا۔۔۔ لیکن سکینہ کہاں تھی؟",
|
||
"CoupletIndex": 5,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 7,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "سراج الدین نے اپنے تھکے ہوئے دماغ پر بہت زور دیا مگر وہ کسی نتیجہ پر نہ پہنچ سکا۔ کیا وہ سکینہ کو اپنے ساتھ اسٹیشن تک لے آیا تھا۔۔۔؟ کیا وہ اس کے ساتھ ہی گاڑی میں سوار تھی۔۔۔؟ راستہ میں جب گاڑی روکی گئی تھی اور بلوائی اندر گھس آئے تھے تو کیا وہ بے ہوش ہوگیا تھا جو وہ سکینہ کو اٹھا کرلے گیے؟",
|
||
"CoupletIndex": 6,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 8,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "سراج الدین کے دماغ میں سوال ہی سوال تھے، جواب کوئی بھی نہیں تھا۔ اس کو ہمدردی کی ضرورت تھی لیکن چاروں طرف جتنے بھی انسان پھیلے ہوئے تھے سب کو ہمدردی کی ضرورت تھی۔ سراج الدین نے رونا چاہا مگر آنکھوں نے اس کی مدد نہ کی۔ آنسو جانے کہاں غائب ہوگیے تھے۔چھ روز کے بعد جب ہوش و حواس کسی قدر درست ہوئے تو سراج الدین ان لوگوں سے ملا جو اس کی مدد کرنے کے لیے تیار تھے۔ آٹھ نوجوان تھے۔ جن کے پاس لاری تھی، بندوقیں تھیں۔ سراج الدین نے ان کو لاکھ لاکھ دعائیں دیں اور سکینہ کا حلیہ بتایا، ’’گورارنگ ہے اور بہت ہی خوبصورت ہے۔۔۔ مجھ پر نہیں اپنی ماں پر تھی۔۔۔ عمر سترہ برس کے قریب ہے۔۔۔ آنکھیں بڑی بڑی۔۔۔ بال سیاہ، داہنے گال پر موٹا سا تل۔۔۔ میری اکلوتی لڑکی ہے۔ ڈھونڈ لاؤ۔ تمہارا خدا بھلا کرے گا۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 7,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 9,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "رضا کار نوجوانوں نے بڑے جذبے کے ساتھ بوڑھے سراج الدین کو یقین دلایا کہ اگر اس کی بیٹی زندہ ہوئی تو چند ہی دنوں میں اس کے پاس ہوگی۔",
|
||
"CoupletIndex": 8,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 10,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "آٹھوں نوجوانوں نے کوشش کی۔ جان ہتھیلیوں پر رکھ کر وہ امرتسر گیے۔ کئی عورتوں، کئی مردوں اور کئی بچوں کو نکال نکال کر انھوں نے محفوظ مقاموں پر پہنچایا۔ دس روز گزر گیے مگر انھیں سکینہ کہیں نہ ملی۔",
|
||
"CoupletIndex": 9,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 11,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "ایک روز وہ اسی خدمت کے لیے لاری پر امرتسر جارہے تھے کہ چھ ہرٹہ کے پاس سڑک پر انھیں ایک لڑکی دکھائی دی۔ لاری کی آواز سن کروہ بدکی اور بھاگنا شروع کردیا۔ رضا کاروں نے موٹر روکی اور سب کے سب اس کے پیچھے بھاگے۔ ایک کھیت میں انھوں نے لڑکی کو پکڑ لیا۔ دیکھا تو بہت خوبصورت تھی۔ داہنے گال پر موٹا تل تھا۔ ایک لڑکے نے اس سے کہا، ’’گھبراؤ نہیں۔۔۔ کیا تمہارا نام سکینہ ہے؟‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 10,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 12,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "لڑکی کا رنگ اور بھی زرد ہوگیا۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ لیکن جب تمام لڑکوں نے اسے دم دلاسا دیا تو اس کی وحشت دور ہوئی اور اس نے مان لیا کہ وہ سراج الدین کی بیٹی سکینہ ہے۔",
|
||
"CoupletIndex": 11,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 13,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "آٹھ رضا کار نوجوانوں نے ہر طرح سکینہ کی دلجوئی کی۔ اسے کھانا کھلایا۔ دودھ پلایا اور لاری میں بٹھا دیا۔ ایک نے اپنا کو ٹ اتار کر اسے دے دیا۔ کیونکہ دوپٹہ نہ ہونے کے باعث وہ بہت الجھن محسوس کررہی تھی۔ اور بار بار بانھوں سے اپنے سینے کو ڈھانکنے کی ناکام کوشش میں مصروف تھی۔",
|
||
"CoupletIndex": 12,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 14,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "کئی دن گزر گیے۔۔۔ سراج الدین کو سکینہ کی کوئی خبر نہ ملی۔ وہ دن بھر مختلف کیمپوں اور دفتروں کے چکر کاٹتا رہتا۔ لیکن کہیں سے بھی اس کی بیٹی کا پتہ نہ چلا۔ رات کو وہ بہت دیر تک ان رضا کار نوجوانوں کی کامیابی کے لیے دعائیں مانگتا رہتا۔ جنہوں نے اس کو یقین دلایا تھا کہ اگر سکینہ زندہ ہوئی تو چند دنوں ہی میں وہ اسے ڈھونڈ نکالیں گے۔",
|
||
"CoupletIndex": 13,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 15,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "ایک روز سراج الدین نے کیمپ میں ان نوجوان رضا کاروں کو دیکھا۔ لاری میں بیٹھے تھے۔ سراج الدین بھاگا بھاگا ان کے پاس گیا۔ لاری چلنے ہی والی تھی کہ اس نے پوچھا، ’’بیٹا، میری سکینہ کا پتہ چلا؟‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 14,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 16,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "سب نے یک زبان ہو کر کہا، ’’چل جائے گا، چل جائے گا۔‘‘ اور لاری چلا دی۔سراج الدین نے ایک بار پھر ان نوجوانوں کی کامیابی کے لیے دعا مانگی اور اس کا جی کسی قدر ہلکا ہوگیا۔",
|
||
"CoupletIndex": 15,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 17,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "شام کے قریب کیمپ میں جہاں سراج الدین بیٹھا تھا، اس کے پاس ہی کچھ گڑبڑسی ہوئی۔ چار آدمی کچھ اٹھا کر لارہے تھے۔ اس نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ ایک لڑکی ریلوے لائن کے پاس بےہوش پڑی تھی۔ لوگ اسے اٹھا کر لائے ہیں۔ سراج الدین ان کے پیچھے پیچھے ہولیا۔ لوگوں نے لڑکی کو ہسپتال والوں کے سپرد کیا اور چلے گیے۔ کچھ دیر وہ ایسے ہی ہسپتال کے باہر گڑے ہوئے لکڑی کے کھمبے کے ساتھ لگ کر کھڑا رہا۔ پھر آہستہ آہستہ اندر چلا گیا۔ کمرے میں کوئی بھی نہیں تھا۔ ایک اسٹریچر تھا جس پر ایک لاش پڑی تھی۔ سراج الدین چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کی طرف بڑھا۔ کمرے میں دفعتاً روشنی ہوئی۔ سراج الدین نے لاش کے زرد چہرے پر چمکتا ہوا تل دیکھا اور چلایا۔",
|
||
"CoupletIndex": 16,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 18,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "’’سکینہ!‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 17,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 19,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "ڈاکٹر نے جس نے کمرے میں روشنی کی تھی سراج الدین سے پوچھا، ’’کیا ہے؟‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 18,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 20,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "سراج الدین کے حلق سے صرف اس قدر نکل سکا، ’’جی میں۔۔۔ جی میں۔۔۔ اس کا باپ ہوں!‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 19,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 21,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "ڈاکٹر نے اسٹریچر پر پڑی ہوئی لاش کی طرف دیکھا۔ اس کی نبض ٹٹولی اور سراج الدین سے کہا، ’’کھڑکی کھول دو۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 20,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 22,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "سکینہ کے مردہ جسم میں جنبش پیدا ہوئی۔ بے جان ہاتھوں سے اس نے ازار بند کھولا اور شلوار نیچے سرکا دی۔",
|
||
"CoupletIndex": 21,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 23,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "بوڑھا سراج الدین خوشی سے چلایا، ’’زندہ ہے۔۔۔ میری بیٹی زندہ ہے۔۔۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 22,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 24,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "ڈاکٹر سر سے پیر تک پسینے میں غرق ہوگیا۔۔۔",
|
||
"CoupletIndex": 23,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
}
|
||
]
|
||
}
|