Some checks are pending
Wikisource sync / sync (push) Waiting to run
- wikisource.py: record each work's position in the author page list (ord), refreshed on every sync; children of index pages keep their parent's position - export: walk works by ord; books in order of first appearance (Iqbal: Bang-e-Dra, Bal-e-Jibril, Zarb-e-Kalim, Armaghan-e-Hijaz) - ghazal sections in divan order: last letter of the radif (opening line), alif..ye; ties keep source order; Iqbal keeps his books' published order Co-Authored-By: Claude Opus 5.5 <noreply@anthropic.com>
24 lines
3.3 KiB
JSON
24 lines
3.3 KiB
JSON
{
|
||
"Id": 115,
|
||
"PoetId": 42,
|
||
"ParentId": null,
|
||
"Title": "انشاء اللہ خان انشا",
|
||
"FullUrl": "/p42",
|
||
"Description": "سید انشاء اللہ خان انشاء (پیدائش: دسمبر ۱۷۵۲ء— وفات: ۱۹ مئی ۱۸۱۷ء) میر ماشااللہ خان کے بیٹے تھے۔ جو ایک ماہر طبیب تھے۔ ان کے بزرگ نجف اشرف کے رہنے والے تھے۔\nانشاءکے دادا سید نوراللہ خاں نجف میں طبابت کرتے تھے کہ بادشاہ دہلی فرخ سیئر نے انھیں اپنے علاج کے لیے ہندوستان کا بُلاوا بھیجا۔ وہ اپنے فرزند میر ماشاء اللہ خاں کے ہم راہ ہندوستان آئے اور بادشاہ کا علاج کیا۔ صحت یابی کے بعد بادشاہ نے انھیں خوب نوازا۔ چناں چہ وہ یہیں کے ہو رہے۔ ان کے فرزند میر ماشاء اللہ خاں جوانی میں مرشد آباد چلے گئے تھے وہیں انھوں نے دو شادیاں کیں، انشاء اللہ خاں ان کی دوسری بیوی کے بطن سے تھے۔\nمغلیہ عہد میں ہندوستان تشریف لائے۔ کئی پشتیں بادشاہوں کی رکاب میں گزارنے کے بعد جب مغل حکومت کو زوال آیا تو ماشاء اللہ خان دہلی چھوڑ کر مرشد آباد چلے گئے۔ جہاں ۱۷۵۶ء انشاء پیدا ہوئے۔\nانشاء کی ذہانت اور جدت پسندی انھیں اپنے ہم عصروں میں منفرد نہیں بلکہ تاریخ ادب میں بھی ممتاز مقام دلاتی ہے۔ غزل،ریختی، قصیدہ اور بے نقط مثنوی اوراردو میں بے نقط دیوان رانی کیتکی کی کہانی جس میں عربی فارسی کا ایک لفظ نہ آنے دیا۔ یہی نہیں بلکہ انشاء پہلے ہندوستانی ہیں جنھوں نے دریائے لطافت کے نام سے زبان و بیان کے قواعد پرروشنی ڈالی۔ انشاء نے ۱۸۱۷ء میں لکھنؤ میں وفات پائی۔\nانشاء نے غزل میں الفاظ کے متنوع استعمال سے تازگی پیدا کرنے کی کوشش کی اور اس میں بڑی حد تک کامیاب بھی رہے۔ تاہم بعض اوقات محض قافیہ پیمائی اور ابتذال کا احساس بھی ہوتا ہے۔ انشاء کی غزل کا عاشق لکھنوی تمدن کا نمائندہ بانکا ہے۔ جس نے بعد ازاں روایتی حیثیت اختیار کر لی جس حاضر جوابی اور بذلہ سنجی نے انھیں نواب سعادت علی خاں کا چہیتا بنا دیا تھا۔ اس نے غزل میں مزاح کی ایک نئی طرح بھی ڈالی۔ زبان میں دہلی کی گھلاوٹ برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ اس لیے اشعار میں زبان کے ساتھ ساتھ جو چیز دگر ہے اسے محض انشائیت ہی سے موسوم کیا جا سکتا ہے۔",
|
||
"DescriptionHtml": null,
|
||
"BookName": null,
|
||
"ChildCats": [
|
||
{
|
||
"Id": 118,
|
||
"Title": "نثر",
|
||
"FullUrl": "/p42/nasr"
|
||
},
|
||
{
|
||
"Id": 116,
|
||
"Title": "شاعری",
|
||
"FullUrl": "/p42/shaeri"
|
||
}
|
||
],
|
||
"Poems": []
|
||
}
|