1627 lines
60 KiB
JSON
1627 lines
60 KiB
JSON
{
|
||
"Id": 10431,
|
||
"CatId": 946,
|
||
"Title": "اردو شاعری کا مطالعہ",
|
||
"FullTitle": "وحید الدین سلیم » مضمون » اردو شاعری کا مطالعہ",
|
||
"FullUrl": "/p351/mazmoon/sh10431",
|
||
"RhymeLetters": null,
|
||
"SourceName": "ویکی ماخذ",
|
||
"SourceUrlSlug": "wikisource",
|
||
"SourceUrl": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88_%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%B9%DB%81",
|
||
"Language": "ur-PK",
|
||
"PoemSummary": null,
|
||
"Metre": null,
|
||
"Sections": [
|
||
{
|
||
"Index": 0,
|
||
"Number": 1,
|
||
"SectionType": "WholePoem",
|
||
"VerseType": "First",
|
||
"RhymeLetters": null,
|
||
"PlainText": "وہ نظریں جو کبھی اک بے وفا سے لڑکے نازاں تھیں\r\nاب ان کو اپنی بدبختی کا قائل دیکھتے جاؤ\r\nوہ آنکھیں جو کبھی پروانۂ رخسار جاناں تھیں\r\nاب ان کو گریۂ حسرت میں شاغل دیکھتے جاؤ\r\nوہ الفت جس کے استحکام پر دنیا کو حیرت تھی\r\nاب اس کو مثل رنگ خام زائل دیکھتے جاؤ\r\nوہ بدبخت محبت جس کی فطرت ہی محبت تھی\r\nاب اس کو صبر کر لینے کے قابل دیکھتے جاؤ\r\nانہیں سوال پہ زعم جنوں ہے کیوں لڑئیے\r\nہمیں جواب سے قطع نظر ہے کیا کہئے\r\nحسد سزائے کمال سخن ہے کیا کیجیے\r\nستم بہائے متاع ہنر ہے کیا کہئے\r\nنزع میں پھرتی ہوئی آنکھوں کو\r\nترا افسوں نظر یاد آیا\r\nستم ہے لاش پر اس بے وفا کا یہ کہنا\r\nکہ آنے کا بھی کسی کے نہ انتظار کیا\r\nکسی نے نزع کی یوں گتھیوں کو سلجھایا\r\nسرہانے بیٹھ کے ہر سانس کا شمار کیا\r\nاب تک ہیں یاد روح کو آثار نزع کے\r\nماتھے پر اک شکن تھی کلیجے میں درد تھا\r\nآکے دیکھے نزع میں کھنچتے جو میرے ہاتھ پاؤں\r\nاف ری شوخی ایک انگڑائی سی لے کر رہ گیا\r\nمری میت پہ کس دعوے سے وہ کہتے ہوئے آئے\r\nہٹا دینا ذرا ان رونے والوں کو ہٹا دینا\r\nیہ کہہ کر قبر پر پھر یاد اپنی کر گئے تازہ\r\nارے اے مرنے والے اب مجھے دل سے بھلا دینا\r\nہجوم عام ہے بالیں پہ سب غم خوار بیٹھے ہیں\r\nوہ خود جب سے قریب بستر بیمار بیٹھے ہیں\r\nہر اک ہچکی میں کیوں کر کھل رہے ہیں موت کے عقدے\r\nفقط وہ دیکھنے یہ حالت بیمار بیٹھے ہیں\r\nاسی کی شام غم پہ صدقے ہو مری صبح حیات\r\nجس کے ماتم میں تری زلفیں پریشاں ہو گئیں\r\nنہ پوچھو دم کے رکنے کا سبب تم نزع میں مجھ سے\r\nکیا ہو زندگی بھر ضبط جس نے رائگاں کیوں ہو\r\nدم آخر مریض غم کی بالیں تک چلے آؤ\r\nکسی کی عمر بھر کی جانفشانی رائگاں کیوں ہو\r\nکھڑے بالیں پہ وہ ہنستے ہیں اپنا دم نکلتا ہے\r\nبرے وقت اے فلک کوئی کسی کا کم نکلتا ہے\r\nشب غم نزع کی بھی سختیوں کا کر لیں اندازہ\r\nنکل اے آہ یوں سینے سے جیسے دم نکلتا ہے\r\nوداع دل ہجوم آرزو میں کیا کہوں تجھ سے\r\nبھرے گھر سے جنازہ جیسے اے ہم دم نکلتا ہے\r\nوہ وقت آیا کہ اب سینے میں ہر دم ہوک اٹھتی ہے\r\nنفس کہتے ہیں جس کو وہ بہت ہی کم نکلتا ہے\r\nبنا ہے مرکز تاثیر غم بیمار کا چہرہ\r\nیہ عالم ہے کہ منہ پھیرے ہوئے عالم نکلتا ہے\r\nہماری بیکسی کی موت تھی عبرت کا افسانہ\r\nجسے دیکھو شریک مجلس ماتم نکلتا ہے\r\nرگیں کھنچنے سے جذب عشق کا اندازہ کرتے ہیں\r\nوہ کیا جانیں ابھی کن مشکلوں سے دم نکلتا ہے\r\nدیکھوں تو جذب حسرت دیدار وقت نزع\r\nاے روح یوں نکل کہ تماشا کہیں جسے\r\nکیا کہوں کیا نہ کہوں ہستی موہوم کا راز\r\nنزع میں پوچھتے ہیں کیا ہے حقیقت تیری\r\nنزع میں پر تو رخ ڈال کہ روشن ہو نگاہ\r\nاب دکھائی نہیں دیتی مجھے صورت تیری\r\nجب کفن لائے ہیں بیمار محبت کے لیے\r\nصبح اس وقت ہوئی ہے شب فرقت تیری\r\nدم اکھڑتا ہے کسی کا اور وہ بیٹھے ہیں خموش\r\nدیکھ لے یہ منظر عبرت کسے اب ہوش ہے\r\nآئیے نزع کا ہنگام ہے اب\r\nمشورہ آپ سے کچھ کرنا ہے\r\nبالیں پہ میرے کہہ کے کسی نے یہ کھولے بال\r\nدیکھیں تو امتیاز اسے شام و سحر میں ہے؟\r\nگھبرائیے نہ ختم ہے بیمار شام عمر\r\nبس تھوڑی دیر اور طلوع سحر میں ہے\r\nکہتی ہے روح نزع میں رستہ دکھا چکے\r\nجاتے ہیں ہم خود آپ وہاں وہ تو آ چکے\r\nیہ وصیت آخری ہے اسے سن لیں سب احباب\r\nکوئی دل کا ذکر کرتا نہ سر مزار آئے\r\nرگیں کھنچنے لگیں اب نزع کا ہنگام آتا ہے\r\nوہ جائیں ورنہ ان کے سر پہ سب الزام آتا ہے\r\nیہ سناٹا یہ تاریکی یہ گورستاں یہ ویرانی\r\nتمہیں اے سونے والو کس طرح آرام آتا ہے\r\nیہ کیا تھا یوں تو وہ دیکھا کیے دم توڑنا میرا\r\nمگر انگڑائی لی اک روح نکلی جب مرے دل سے\r\nکہتے ہیں وقت نزع وہ بیمار ہجر سے\r\nختم اک نفس میں شرح تمنا کرے کوئی\r\nمیت بیمار ہجراں دیکھنے سے فائدہ\r\nنقش کچھ دھندلے سے ہیں بگڑی ہوئی تصویر سے\r\nدیکھئے تو چہرۂ بیمار سرکا کر کفن\r\nآج ہیں دشمن بھی شاکی آپ کی تاخیر کے\r\nنزع میں کس کو بھلا تاب شکیبائی ہے\r\nجب وہ آئے ہیں تو کچھ جان میں جان آئی ہے\r\nتھی صبح اور ستارے کچھ جھلملا رہے تھے\r\nبیمار شام فرقت دنیا سے جا رہے تھے\r\nدم توڑتا نہیں کوئی بیمار اس طرح\r\nشاید شریک موت کسی کی ادا بھی ہے\r\nہستی کے رخ کو پھیر دیا روزگار نے\r\nکروٹ جولی مریض شب انتظار نے\r\nانگڑائی لے کے کسی نے چٹکائیں انگلیاں\r\nدو ہچکیوں میں ختم جو بیمار ہو گئے\r\nیہ کہہ کر سرہانے مرے آ کے بیٹھے\r\nہٹو چارہ سازو کہ اب وقت کم ہے\r\nاگر کہیں وہ دم واپسیں چلے آتے\r\nہم ایک سانس میں تفصیل آرزو کرتے\r\nکہتی ہے روح آئی ہیں جتنی کہ ہچکیاں\r\nاتنی ہی میں نے ٹھوکریں کھائی ہیں راہ کی\r\nہاں ساقی مہر و کوئی جام آج پلا پھر\r\nمیں جس کا ہوں مشتاق وہ مے شیشے سے لا پھر\r\nدے آئینہ طبع مصفّا کو جلا پھر\r\nہونٹوں سے چھلکتے ہوئے ساغر کو ملا پھر\r\nلکھتا ہوں دغا ساقی کوثر کے خلف کی\r\nجھوٹی بھی اگر می ہو تو رندان نجف کی\r\nاس ہال کے اندر حوض جو تھا فوارے اس میں اچھلتے گئے\r\nدھاریں جو ہوئیں پانی کی رواں دھاروں سے راگ نکلتے گئے\r\nپھر گھنگروؤں کی چھم چھم کی صدا اس ہال کے فرش سے آنے لگی\r\nیہ ناچ کی دھن کچھ سازوں کو بجنے کے لیے اکسانے لگی\r\nتارے سے ہیں چمکتے ہوئے یاسمین کے پھول\r\nحیراں ہیں جن کو دیکھ کے سارے چمن کے پھول\r\nہیں لمبی لمبی ڈالیاں چھائی زمین پر\r\nچھتری سی ہے جنھوں نے بچھائی زمین پر\r\nبعض اودے ہیں مگر بعض ہیں پیلے شہتوت\r\nکیا ہی قدرت نے بنائے یہ رسیلے شہتوت\r\nلذت بادۂ کوثر ہے تو شہتوت میں ہے\r\nشہد جنت کامزہ گر ہے تو شہتوت میں ہے\r\nپیپل کے ہر درخت پہ طوطوں کے ہیں پرے\r\nچونچیں ہیں لال لال بدن ہیں ہرے ہرے\r\nچھوٹے پھلوں کو پھینکتے ہیں وہ کتر کتر\r\nمینہ سا برس رہا ہے زمیں پر پٹر پٹر\r\nیاں ہوا آزاد ہے موجیں یہاں آزاد ہیں\r\nسب پرند آزاد ہیں سب مچھلیاں آزاد ہیں\r\nحسن لیتا ہے یہاں لہریں پڑا چاروں طرف\r\nہے خوشی چاروں طرف اور ہے ضیا چاروں طرف\r\nمیں ہوں شمع محفل زندگی میرا نام عہد شباب ہے\r\nمرا سانس باد بہار ہے مری چال موجِ شراب ہے\r\nمری عمر کی ہیں جو ساعتیں ہوئی عشرتوں میں تمام ہیں\r\nیہی قہقہے یہی چہچہے مری زندگی کے پیام ہیں\r\nہے مرے دل میں بھی یہ تمنا یوں ہی رہوں بے نام و نشاں\r\nاہل جہاں سے دور رہوں اور دور ہوں مجھ سے اہل جہاں\r\nکشمکش جذبات سے میرا دامن عصمت چاک نہ ہو\r\nپاک رہوں اور پاک ہی جاؤں گھر میں مرے گوخاک نہ ہو\r\nاے شیکسپیئر اے دل انساں کے مصور\r\nفطرت کے مظاہر ترے دل پر ہوئے ظاہر\r\nوسعت میں تری روح سمندر سے بڑی ہے\r\nرفعت میں نظر تیری ستاروں سے لڑی ہے\r\nملک کا سرمایۂ بقا ہے انہیں سے\r\nقوم کا سامان ارتقا ہے انہیں سے\r\nگرثمر شاخ آرزو ہیں تو یہ ہیں\r\nجو ہر شمشیر آبرو ہیں تو یہ ہیں\r\nاے آریو آؤ قدم رکھو ان حسن بھرے گلزاروں میں\r\nجنت کے مزے لوٹوگے سدا اس پاک زمین کی بہاروں میں\r\nتم گنگ و جمن کے کناروں پر شہر اپنے نئے آباد کرو\r\nگاگاکے بھجن کر کر کے ہون ہو جاؤ مگن دل شاد کرو\r\nوہ راگ جسے ہنگام سحر گانی ہے ہوا گلزاروں میں\r\nوہ راگ جسے چشموں کی زباں کرتی ہے ادا کہساروں میں\r\nوہ راگ جو ہے موجوں کو رواں اس وحشت خیز سمندر میں\r\nوہ راگ شراب تند بھری ہے جس کے بھنور کے ساغر میں\r\nوہ راگ جسے گاگاکے سداآتے ہیں پرندے مستی میں\r\nوہ راگ چھپی ہے جس کی صدا ہر رینگنے والی ہستی میں\r\nاس راگ نے اپنی الاپوں سے لبریز کیے ہیں کان مرے\r\nپھر جاگ اٹھے ہیں مرے جذبے پھر زندہ ہوئے ارمان مرے\r\nخون اس کی نگاہوں سے ہر لحظہ ٹپکتا ہے\r\nہے ہاتھ میں جو چاقو بجلی سا چمکتا ہے\r\nہے کاٹتا اک دم وہ سرسبز نہالوں کو\r\nرحم ان پہ نہ کیوں آئے سب دیکھنے والوں کو\r\nجب نیم کی شاخیں ٹھنڈی ہوا کھا کھا کے تھرکنے لگتی ہیں\r\nپھر زریں کرنیں سورج کی پتوں پہ چمکنے لگتی ہیں\r\nپتوں کی رگوں میں نیم کا رس ہے دوڑتا پوری سرعت سے\r\nیہ ریشہ دوانی دیکھ کے میں تصویر بنا ہوں حیرت سے\r\nمرے دل میں اٹھتے ہیں ولولے کہ ہوں کاش بادِبہار میں\r\nکبھی غنچے پر ہو مرا گزر کبھی پھول سے ہوں دوچار میں\r\nکبھی گلشنوں کو بتاؤں میں وہ جو ضابطے ہیں سنگار کے\r\nکبھی بلبلوں کو سکھاؤں میں وہ جو زمزمے ہیں بہار کے\r\nہے طبع رواں دب کر جمگھٹ میں کچل جاتی\r\nبرگوں کے تلے آ کر ہے گھاس بھی جل جاتی\r\nجو ذہن کہ خلوت میں کر سکتے تھے ایجادیں\r\nجلوت میں وہ جب پہنچے سب گر گئیں بنیادیں\r\nلطف ہوا سے بو پہ بو پھیل رہی فضا میں ہے\r\nمعجزہ نوبہار کا جلوہ گر اس ہوا میں ہے\r\nعکس مشام پر مگر جب نہ پڑے شمیم کا\r\nکیجیے کس سے تذکرہ تازگی نسیم کا\r\nسرہانے اک مریض مرے ہے شمع زرد جل رہی\r\nبرنگ مورنا تواں ہے نبض اس کی چل رہی\r\nیکایک اس کے چہرے پر جھلک سی آکے رہ گئی\r\nجو زندگی کی موج تھی وہ تلملا کے رہ گئی\r\nوہ گلوں کی روشنی سے نظروں کا دنگ ہونا\r\nوہ برنگ باغِ رضواں چمنوں کا رنگ ہونا\r\nوہ شمیم عطر گل کا سر رہ گزر مہکنا\r\nوہ نسیم مشک چین کالب غنچہ سے لپکنا\r\nکس قدر بلندی پر تھا کبھی مکان میرا\r\nشاخ سبز طوبیٰ پر تھا اک آشیاں میرا\r\nحوریں کس مسرت سے گود میں بٹھاتی تھیں\r\nزمزمے مرے سن کر خود بھی سرہلاتی تھیں\r\nیہ زمین پر چمنستان وہ بلندی پہ ستارے\r\nمرے دل سے کوئی پوچھے تو یہ جلوے ہیں تمہارے\r\nکبھی خوشبو کی اگر لہر سی پاتا ہوں فضا میں\r\nتو سمجھتا ہوں کہ تم بال سکھاتے ہو ہوا میں\r\nصبح یوں ہی آئےگی شام یوں ہی آئےگی\r\nگردش دور زماں رنگ یوں ہی لائےگی\r\nزمزمے مرغ چمن یوں ہی سدا گائیں گے\r\nپھول یوں ہی باغ میں رنگ نیا لائیں گے\r\nہے حادثوں میں پنہاں حکمت کا ایک اشارا\r\nجرا حیاں ہیں گویا قدرت کی آشکارا\r\nنشتر سے حادثوں کے چیرے نہ گروہ پھوڑے\r\nفاسد مواد ان کو زندہ کبھی نہ چھوڑے\r\nسمندر اے دل خالق کے اضطراب سمندر\r\nچھپے تو رکھتا ہے کیا انقلاب سینے کے اندر\r\nغرور عقل عشر کے ڈبو چکا ہے تو لاشے\r\nاب اور دیکھیے کیا کیا دکھائے گا تو تماشے\r\nجولاں گہ اظہار لیاقت اسے کہیے\r\nگہوارۂ تعلیم فصاحت اسے کہیے\r\nذہنوں کی ترقی کا جو میداں ہے تو یہ ہے\r\nآداب تمدن کا دبستاں ہے تو یہ ہے\r\nایک ہنگامہ تھا برپا مرے ارمانوں میں\r\nبرق مضطر کی تڑپ تھی مری شریانوں میں\r\nصرصر رنج کے جھوکے جو گذر جاتے تھے\r\nدفتر قلب کے اوراق بکھر جاتے تھے\r\nکیا برق و باد کا طوفاں تھا، تھی جس سے فضا میں پڑی ہل چل\r\nاب تو ہی نشانی ہے باقی طوفاں کی اے تنہا بادل\r\nدل تیری گرج سے دہلتے تھے لرزہ تھا پڑا جانداروں میں\r\nگویا تھا سمندر ٹوٹ پڑا پانی کی لپکتی دھاروں میں\r\nاس بہشت زندگی سے نوجواں غافل نہ ہوں\r\nعیش کے مشتاق ہیں تو طیش پر مایل نہ ہوں\r\nلذت اخلاق شیریں ان کو چکھنی چاہیے\r\nمن و سلوا کی حفاظت ان کو رکھنی چاہیے\r\nلہجۂ بلبل کو فریاد زغن ہونے نہ دیں\r\nنغمۂ وحدت کو شور ماومن ہونے نہ دیں\r\nمیل کی کھیتی پہ پانی سیل کا پھرنے نہ دیں\r\nمہر کے خرمن پہ بجلی قہر کی گرنے نہ دیں\r\nجس کو دیکھا تھا کبھی گلشن وہ گلخن ہو نہ جائے\r\nجس کو سمجھے تھے کبھی مسکن وہ مدفن ہو نہ جائے\r\nصر صر دوزخ کو اس فردوس میں چلنے نہ دیں\r\nنخلِ طوبیٰ کی جگہ زقوم کو پھلنے نہ دیں\r\nنوح کی کشتی پہ طوفاں کا اثر ہونے نہ دیں\r\nجنت آدم میں شیطاں کا گزر ہونے نہ دیں\r\nتیوروں پر لطف کے غصے کے بل آنے نہ دیں\r\nعہد میں الفت کے کلفت کا خلل آنے نہ دیں",
|
||
"HtmlText": null,
|
||
"PoemFormat": null,
|
||
"Language": "ur-PK",
|
||
"CoupletsCount": 114
|
||
}
|
||
],
|
||
"Verses": [
|
||
{
|
||
"VOrder": 1,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "وہ نظریں جو کبھی اک بے وفا سے لڑکے نازاں تھیں",
|
||
"CoupletIndex": 0,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 2,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اب ان کو اپنی بدبختی کا قائل دیکھتے جاؤ",
|
||
"CoupletIndex": 0,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 3,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "وہ آنکھیں جو کبھی پروانۂ رخسار جاناں تھیں",
|
||
"CoupletIndex": 1,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 4,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اب ان کو گریۂ حسرت میں شاغل دیکھتے جاؤ",
|
||
"CoupletIndex": 1,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 5,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "وہ الفت جس کے استحکام پر دنیا کو حیرت تھی",
|
||
"CoupletIndex": 2,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 6,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اب اس کو مثل رنگ خام زائل دیکھتے جاؤ",
|
||
"CoupletIndex": 2,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 7,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "وہ بدبخت محبت جس کی فطرت ہی محبت تھی",
|
||
"CoupletIndex": 3,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 8,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اب اس کو صبر کر لینے کے قابل دیکھتے جاؤ",
|
||
"CoupletIndex": 3,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 9,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "انہیں سوال پہ زعم جنوں ہے کیوں لڑئیے",
|
||
"CoupletIndex": 4,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 10,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہمیں جواب سے قطع نظر ہے کیا کہئے",
|
||
"CoupletIndex": 4,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 11,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "حسد سزائے کمال سخن ہے کیا کیجیے",
|
||
"CoupletIndex": 5,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 12,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ستم بہائے متاع ہنر ہے کیا کہئے",
|
||
"CoupletIndex": 5,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 13,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "نزع میں پھرتی ہوئی آنکھوں کو",
|
||
"CoupletIndex": 6,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 14,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ترا افسوں نظر یاد آیا",
|
||
"CoupletIndex": 6,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 15,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ستم ہے لاش پر اس بے وفا کا یہ کہنا",
|
||
"CoupletIndex": 7,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 16,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کہ آنے کا بھی کسی کے نہ انتظار کیا",
|
||
"CoupletIndex": 7,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 17,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کسی نے نزع کی یوں گتھیوں کو سلجھایا",
|
||
"CoupletIndex": 8,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 18,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سرہانے بیٹھ کے ہر سانس کا شمار کیا",
|
||
"CoupletIndex": 8,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 19,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اب تک ہیں یاد روح کو آثار نزع کے",
|
||
"CoupletIndex": 9,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 20,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ماتھے پر اک شکن تھی کلیجے میں درد تھا",
|
||
"CoupletIndex": 9,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 21,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آکے دیکھے نزع میں کھنچتے جو میرے ہاتھ پاؤں",
|
||
"CoupletIndex": 10,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 22,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اف ری شوخی ایک انگڑائی سی لے کر رہ گیا",
|
||
"CoupletIndex": 10,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 23,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "مری میت پہ کس دعوے سے وہ کہتے ہوئے آئے",
|
||
"CoupletIndex": 11,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 24,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہٹا دینا ذرا ان رونے والوں کو ہٹا دینا",
|
||
"CoupletIndex": 11,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 25,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یہ کہہ کر قبر پر پھر یاد اپنی کر گئے تازہ",
|
||
"CoupletIndex": 12,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 26,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ارے اے مرنے والے اب مجھے دل سے بھلا دینا",
|
||
"CoupletIndex": 12,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 27,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہجوم عام ہے بالیں پہ سب غم خوار بیٹھے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 13,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 28,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "وہ خود جب سے قریب بستر بیمار بیٹھے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 13,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 29,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہر اک ہچکی میں کیوں کر کھل رہے ہیں موت کے عقدے",
|
||
"CoupletIndex": 14,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 30,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "فقط وہ دیکھنے یہ حالت بیمار بیٹھے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 14,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 31,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اسی کی شام غم پہ صدقے ہو مری صبح حیات",
|
||
"CoupletIndex": 15,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 32,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جس کے ماتم میں تری زلفیں پریشاں ہو گئیں",
|
||
"CoupletIndex": 15,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 33,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "نہ پوچھو دم کے رکنے کا سبب تم نزع میں مجھ سے",
|
||
"CoupletIndex": 16,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 34,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کیا ہو زندگی بھر ضبط جس نے رائگاں کیوں ہو",
|
||
"CoupletIndex": 16,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 35,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دم آخر مریض غم کی بالیں تک چلے آؤ",
|
||
"CoupletIndex": 17,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 36,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کسی کی عمر بھر کی جانفشانی رائگاں کیوں ہو",
|
||
"CoupletIndex": 17,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 37,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کھڑے بالیں پہ وہ ہنستے ہیں اپنا دم نکلتا ہے",
|
||
"CoupletIndex": 18,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 38,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "برے وقت اے فلک کوئی کسی کا کم نکلتا ہے",
|
||
"CoupletIndex": 18,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 39,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "شب غم نزع کی بھی سختیوں کا کر لیں اندازہ",
|
||
"CoupletIndex": 19,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 40,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "نکل اے آہ یوں سینے سے جیسے دم نکلتا ہے",
|
||
"CoupletIndex": 19,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 41,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "وداع دل ہجوم آرزو میں کیا کہوں تجھ سے",
|
||
"CoupletIndex": 20,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 42,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بھرے گھر سے جنازہ جیسے اے ہم دم نکلتا ہے",
|
||
"CoupletIndex": 20,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 43,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "وہ وقت آیا کہ اب سینے میں ہر دم ہوک اٹھتی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 21,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 44,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "نفس کہتے ہیں جس کو وہ بہت ہی کم نکلتا ہے",
|
||
"CoupletIndex": 21,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 45,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بنا ہے مرکز تاثیر غم بیمار کا چہرہ",
|
||
"CoupletIndex": 22,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 46,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "یہ عالم ہے کہ منہ پھیرے ہوئے عالم نکلتا ہے",
|
||
"CoupletIndex": 22,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 47,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہماری بیکسی کی موت تھی عبرت کا افسانہ",
|
||
"CoupletIndex": 23,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 48,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جسے دیکھو شریک مجلس ماتم نکلتا ہے",
|
||
"CoupletIndex": 23,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 49,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "رگیں کھنچنے سے جذب عشق کا اندازہ کرتے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 24,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 50,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "وہ کیا جانیں ابھی کن مشکلوں سے دم نکلتا ہے",
|
||
"CoupletIndex": 24,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 51,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دیکھوں تو جذب حسرت دیدار وقت نزع",
|
||
"CoupletIndex": 25,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 52,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اے روح یوں نکل کہ تماشا کہیں جسے",
|
||
"CoupletIndex": 25,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 53,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کیا کہوں کیا نہ کہوں ہستی موہوم کا راز",
|
||
"CoupletIndex": 26,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 54,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "نزع میں پوچھتے ہیں کیا ہے حقیقت تیری",
|
||
"CoupletIndex": 26,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 55,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "نزع میں پر تو رخ ڈال کہ روشن ہو نگاہ",
|
||
"CoupletIndex": 27,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 56,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اب دکھائی نہیں دیتی مجھے صورت تیری",
|
||
"CoupletIndex": 27,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 57,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جب کفن لائے ہیں بیمار محبت کے لیے",
|
||
"CoupletIndex": 28,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 58,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "صبح اس وقت ہوئی ہے شب فرقت تیری",
|
||
"CoupletIndex": 28,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 59,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دم اکھڑتا ہے کسی کا اور وہ بیٹھے ہیں خموش",
|
||
"CoupletIndex": 29,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 60,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دیکھ لے یہ منظر عبرت کسے اب ہوش ہے",
|
||
"CoupletIndex": 29,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 61,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آئیے نزع کا ہنگام ہے اب",
|
||
"CoupletIndex": 30,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 62,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "مشورہ آپ سے کچھ کرنا ہے",
|
||
"CoupletIndex": 30,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 63,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بالیں پہ میرے کہہ کے کسی نے یہ کھولے بال",
|
||
"CoupletIndex": 31,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 64,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دیکھیں تو امتیاز اسے شام و سحر میں ہے؟",
|
||
"CoupletIndex": 31,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 65,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "گھبرائیے نہ ختم ہے بیمار شام عمر",
|
||
"CoupletIndex": 32,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 66,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بس تھوڑی دیر اور طلوع سحر میں ہے",
|
||
"CoupletIndex": 32,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 67,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کہتی ہے روح نزع میں رستہ دکھا چکے",
|
||
"CoupletIndex": 33,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 68,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جاتے ہیں ہم خود آپ وہاں وہ تو آ چکے",
|
||
"CoupletIndex": 33,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 69,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یہ وصیت آخری ہے اسے سن لیں سب احباب",
|
||
"CoupletIndex": 34,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 70,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کوئی دل کا ذکر کرتا نہ سر مزار آئے",
|
||
"CoupletIndex": 34,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 71,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "رگیں کھنچنے لگیں اب نزع کا ہنگام آتا ہے",
|
||
"CoupletIndex": 35,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 72,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "وہ جائیں ورنہ ان کے سر پہ سب الزام آتا ہے",
|
||
"CoupletIndex": 35,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 73,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یہ سناٹا یہ تاریکی یہ گورستاں یہ ویرانی",
|
||
"CoupletIndex": 36,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 74,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تمہیں اے سونے والو کس طرح آرام آتا ہے",
|
||
"CoupletIndex": 36,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 75,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یہ کیا تھا یوں تو وہ دیکھا کیے دم توڑنا میرا",
|
||
"CoupletIndex": 37,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 76,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "مگر انگڑائی لی اک روح نکلی جب مرے دل سے",
|
||
"CoupletIndex": 37,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 77,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کہتے ہیں وقت نزع وہ بیمار ہجر سے",
|
||
"CoupletIndex": 38,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 78,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ختم اک نفس میں شرح تمنا کرے کوئی",
|
||
"CoupletIndex": 38,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 79,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "میت بیمار ہجراں دیکھنے سے فائدہ",
|
||
"CoupletIndex": 39,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 80,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "نقش کچھ دھندلے سے ہیں بگڑی ہوئی تصویر سے",
|
||
"CoupletIndex": 39,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 81,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دیکھئے تو چہرۂ بیمار سرکا کر کفن",
|
||
"CoupletIndex": 40,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 82,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آج ہیں دشمن بھی شاکی آپ کی تاخیر کے",
|
||
"CoupletIndex": 40,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 83,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "نزع میں کس کو بھلا تاب شکیبائی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 41,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 84,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جب وہ آئے ہیں تو کچھ جان میں جان آئی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 41,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 85,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تھی صبح اور ستارے کچھ جھلملا رہے تھے",
|
||
"CoupletIndex": 42,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 86,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بیمار شام فرقت دنیا سے جا رہے تھے",
|
||
"CoupletIndex": 42,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 87,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دم توڑتا نہیں کوئی بیمار اس طرح",
|
||
"CoupletIndex": 43,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 88,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "شاید شریک موت کسی کی ادا بھی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 43,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 89,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہستی کے رخ کو پھیر دیا روزگار نے",
|
||
"CoupletIndex": 44,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 90,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کروٹ جولی مریض شب انتظار نے",
|
||
"CoupletIndex": 44,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 91,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "انگڑائی لے کے کسی نے چٹکائیں انگلیاں",
|
||
"CoupletIndex": 45,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 92,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دو ہچکیوں میں ختم جو بیمار ہو گئے",
|
||
"CoupletIndex": 45,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 93,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یہ کہہ کر سرہانے مرے آ کے بیٹھے",
|
||
"CoupletIndex": 46,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 94,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہٹو چارہ سازو کہ اب وقت کم ہے",
|
||
"CoupletIndex": 46,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 95,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اگر کہیں وہ دم واپسیں چلے آتے",
|
||
"CoupletIndex": 47,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 96,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہم ایک سانس میں تفصیل آرزو کرتے",
|
||
"CoupletIndex": 47,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 97,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کہتی ہے روح آئی ہیں جتنی کہ ہچکیاں",
|
||
"CoupletIndex": 48,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 98,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اتنی ہی میں نے ٹھوکریں کھائی ہیں راہ کی",
|
||
"CoupletIndex": 48,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 99,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہاں ساقی مہر و کوئی جام آج پلا پھر",
|
||
"CoupletIndex": 49,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 100,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "میں جس کا ہوں مشتاق وہ مے شیشے سے لا پھر",
|
||
"CoupletIndex": 49,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 101,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دے آئینہ طبع مصفّا کو جلا پھر",
|
||
"CoupletIndex": 50,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 102,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہونٹوں سے چھلکتے ہوئے ساغر کو ملا پھر",
|
||
"CoupletIndex": 50,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 103,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "لکھتا ہوں دغا ساقی کوثر کے خلف کی",
|
||
"CoupletIndex": 51,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 104,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جھوٹی بھی اگر می ہو تو رندان نجف کی",
|
||
"CoupletIndex": 51,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 105,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اس ہال کے اندر حوض جو تھا فوارے اس میں اچھلتے گئے",
|
||
"CoupletIndex": 52,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 106,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دھاریں جو ہوئیں پانی کی رواں دھاروں سے راگ نکلتے گئے",
|
||
"CoupletIndex": 52,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 107,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پھر گھنگروؤں کی چھم چھم کی صدا اس ہال کے فرش سے آنے لگی",
|
||
"CoupletIndex": 53,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 108,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "یہ ناچ کی دھن کچھ سازوں کو بجنے کے لیے اکسانے لگی",
|
||
"CoupletIndex": 53,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 109,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تارے سے ہیں چمکتے ہوئے یاسمین کے پھول",
|
||
"CoupletIndex": 54,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 110,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "حیراں ہیں جن کو دیکھ کے سارے چمن کے پھول",
|
||
"CoupletIndex": 54,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 111,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہیں لمبی لمبی ڈالیاں چھائی زمین پر",
|
||
"CoupletIndex": 55,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 112,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "چھتری سی ہے جنھوں نے بچھائی زمین پر",
|
||
"CoupletIndex": 55,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 113,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بعض اودے ہیں مگر بعض ہیں پیلے شہتوت",
|
||
"CoupletIndex": 56,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 114,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کیا ہی قدرت نے بنائے یہ رسیلے شہتوت",
|
||
"CoupletIndex": 56,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 115,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "لذت بادۂ کوثر ہے تو شہتوت میں ہے",
|
||
"CoupletIndex": 57,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 116,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "شہد جنت کامزہ گر ہے تو شہتوت میں ہے",
|
||
"CoupletIndex": 57,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 117,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پیپل کے ہر درخت پہ طوطوں کے ہیں پرے",
|
||
"CoupletIndex": 58,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 118,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "چونچیں ہیں لال لال بدن ہیں ہرے ہرے",
|
||
"CoupletIndex": 58,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 119,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چھوٹے پھلوں کو پھینکتے ہیں وہ کتر کتر",
|
||
"CoupletIndex": 59,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 120,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "مینہ سا برس رہا ہے زمیں پر پٹر پٹر",
|
||
"CoupletIndex": 59,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 121,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یاں ہوا آزاد ہے موجیں یہاں آزاد ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 60,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 122,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سب پرند آزاد ہیں سب مچھلیاں آزاد ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 60,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 123,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "حسن لیتا ہے یہاں لہریں پڑا چاروں طرف",
|
||
"CoupletIndex": 61,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 124,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہے خوشی چاروں طرف اور ہے ضیا چاروں طرف",
|
||
"CoupletIndex": 61,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 125,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "میں ہوں شمع محفل زندگی میرا نام عہد شباب ہے",
|
||
"CoupletIndex": 62,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 126,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "مرا سانس باد بہار ہے مری چال موجِ شراب ہے",
|
||
"CoupletIndex": 62,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 127,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "مری عمر کی ہیں جو ساعتیں ہوئی عشرتوں میں تمام ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 63,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 128,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "یہی قہقہے یہی چہچہے مری زندگی کے پیام ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 63,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 129,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہے مرے دل میں بھی یہ تمنا یوں ہی رہوں بے نام و نشاں",
|
||
"CoupletIndex": 64,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 130,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اہل جہاں سے دور رہوں اور دور ہوں مجھ سے اہل جہاں",
|
||
"CoupletIndex": 64,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 131,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کشمکش جذبات سے میرا دامن عصمت چاک نہ ہو",
|
||
"CoupletIndex": 65,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 132,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پاک رہوں اور پاک ہی جاؤں گھر میں مرے گوخاک نہ ہو",
|
||
"CoupletIndex": 65,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 133,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اے شیکسپیئر اے دل انساں کے مصور",
|
||
"CoupletIndex": 66,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 134,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "فطرت کے مظاہر ترے دل پر ہوئے ظاہر",
|
||
"CoupletIndex": 66,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 135,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "وسعت میں تری روح سمندر سے بڑی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 67,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 136,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "رفعت میں نظر تیری ستاروں سے لڑی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 67,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 137,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ملک کا سرمایۂ بقا ہے انہیں سے",
|
||
"CoupletIndex": 68,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 138,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "قوم کا سامان ارتقا ہے انہیں سے",
|
||
"CoupletIndex": 68,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 139,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "گرثمر شاخ آرزو ہیں تو یہ ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 69,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 140,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جو ہر شمشیر آبرو ہیں تو یہ ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 69,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 141,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اے آریو آؤ قدم رکھو ان حسن بھرے گلزاروں میں",
|
||
"CoupletIndex": 70,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 142,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جنت کے مزے لوٹوگے سدا اس پاک زمین کی بہاروں میں",
|
||
"CoupletIndex": 70,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 143,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تم گنگ و جمن کے کناروں پر شہر اپنے نئے آباد کرو",
|
||
"CoupletIndex": 71,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 144,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "گاگاکے بھجن کر کر کے ہون ہو جاؤ مگن دل شاد کرو",
|
||
"CoupletIndex": 71,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 145,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "وہ راگ جسے ہنگام سحر گانی ہے ہوا گلزاروں میں",
|
||
"CoupletIndex": 72,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 146,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "وہ راگ جسے چشموں کی زباں کرتی ہے ادا کہساروں میں",
|
||
"CoupletIndex": 72,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 147,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "وہ راگ جو ہے موجوں کو رواں اس وحشت خیز سمندر میں",
|
||
"CoupletIndex": 73,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 148,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "وہ راگ شراب تند بھری ہے جس کے بھنور کے ساغر میں",
|
||
"CoupletIndex": 73,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 149,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "وہ راگ جسے گاگاکے سداآتے ہیں پرندے مستی میں",
|
||
"CoupletIndex": 74,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 150,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "وہ راگ چھپی ہے جس کی صدا ہر رینگنے والی ہستی میں",
|
||
"CoupletIndex": 74,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 151,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اس راگ نے اپنی الاپوں سے لبریز کیے ہیں کان مرے",
|
||
"CoupletIndex": 75,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 152,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پھر جاگ اٹھے ہیں مرے جذبے پھر زندہ ہوئے ارمان مرے",
|
||
"CoupletIndex": 75,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 153,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "خون اس کی نگاہوں سے ہر لحظہ ٹپکتا ہے",
|
||
"CoupletIndex": 76,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 154,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہے ہاتھ میں جو چاقو بجلی سا چمکتا ہے",
|
||
"CoupletIndex": 76,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 155,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہے کاٹتا اک دم وہ سرسبز نہالوں کو",
|
||
"CoupletIndex": 77,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 156,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "رحم ان پہ نہ کیوں آئے سب دیکھنے والوں کو",
|
||
"CoupletIndex": 77,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 157,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جب نیم کی شاخیں ٹھنڈی ہوا کھا کھا کے تھرکنے لگتی ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 78,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 158,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پھر زریں کرنیں سورج کی پتوں پہ چمکنے لگتی ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 78,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 159,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پتوں کی رگوں میں نیم کا رس ہے دوڑتا پوری سرعت سے",
|
||
"CoupletIndex": 79,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 160,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "یہ ریشہ دوانی دیکھ کے میں تصویر بنا ہوں حیرت سے",
|
||
"CoupletIndex": 79,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 161,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "مرے دل میں اٹھتے ہیں ولولے کہ ہوں کاش بادِبہار میں",
|
||
"CoupletIndex": 80,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 162,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کبھی غنچے پر ہو مرا گزر کبھی پھول سے ہوں دوچار میں",
|
||
"CoupletIndex": 80,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 163,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کبھی گلشنوں کو بتاؤں میں وہ جو ضابطے ہیں سنگار کے",
|
||
"CoupletIndex": 81,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 164,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کبھی بلبلوں کو سکھاؤں میں وہ جو زمزمے ہیں بہار کے",
|
||
"CoupletIndex": 81,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 165,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہے طبع رواں دب کر جمگھٹ میں کچل جاتی",
|
||
"CoupletIndex": 82,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 166,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "برگوں کے تلے آ کر ہے گھاس بھی جل جاتی",
|
||
"CoupletIndex": 82,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 167,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جو ذہن کہ خلوت میں کر سکتے تھے ایجادیں",
|
||
"CoupletIndex": 83,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 168,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جلوت میں وہ جب پہنچے سب گر گئیں بنیادیں",
|
||
"CoupletIndex": 83,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 169,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "لطف ہوا سے بو پہ بو پھیل رہی فضا میں ہے",
|
||
"CoupletIndex": 84,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 170,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "معجزہ نوبہار کا جلوہ گر اس ہوا میں ہے",
|
||
"CoupletIndex": 84,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 171,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "عکس مشام پر مگر جب نہ پڑے شمیم کا",
|
||
"CoupletIndex": 85,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 172,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کیجیے کس سے تذکرہ تازگی نسیم کا",
|
||
"CoupletIndex": 85,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 173,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سرہانے اک مریض مرے ہے شمع زرد جل رہی",
|
||
"CoupletIndex": 86,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 174,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "برنگ مورنا تواں ہے نبض اس کی چل رہی",
|
||
"CoupletIndex": 86,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 175,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یکایک اس کے چہرے پر جھلک سی آکے رہ گئی",
|
||
"CoupletIndex": 87,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 176,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جو زندگی کی موج تھی وہ تلملا کے رہ گئی",
|
||
"CoupletIndex": 87,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 177,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "وہ گلوں کی روشنی سے نظروں کا دنگ ہونا",
|
||
"CoupletIndex": 88,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 178,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "وہ برنگ باغِ رضواں چمنوں کا رنگ ہونا",
|
||
"CoupletIndex": 88,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 179,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "وہ شمیم عطر گل کا سر رہ گزر مہکنا",
|
||
"CoupletIndex": 89,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 180,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "وہ نسیم مشک چین کالب غنچہ سے لپکنا",
|
||
"CoupletIndex": 89,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 181,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کس قدر بلندی پر تھا کبھی مکان میرا",
|
||
"CoupletIndex": 90,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 182,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "شاخ سبز طوبیٰ پر تھا اک آشیاں میرا",
|
||
"CoupletIndex": 90,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 183,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "حوریں کس مسرت سے گود میں بٹھاتی تھیں",
|
||
"CoupletIndex": 91,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 184,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "زمزمے مرے سن کر خود بھی سرہلاتی تھیں",
|
||
"CoupletIndex": 91,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 185,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یہ زمین پر چمنستان وہ بلندی پہ ستارے",
|
||
"CoupletIndex": 92,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 186,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "مرے دل سے کوئی پوچھے تو یہ جلوے ہیں تمہارے",
|
||
"CoupletIndex": 92,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 187,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کبھی خوشبو کی اگر لہر سی پاتا ہوں فضا میں",
|
||
"CoupletIndex": 93,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 188,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تو سمجھتا ہوں کہ تم بال سکھاتے ہو ہوا میں",
|
||
"CoupletIndex": 93,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 189,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "صبح یوں ہی آئےگی شام یوں ہی آئےگی",
|
||
"CoupletIndex": 94,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 190,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "گردش دور زماں رنگ یوں ہی لائےگی",
|
||
"CoupletIndex": 94,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 191,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "زمزمے مرغ چمن یوں ہی سدا گائیں گے",
|
||
"CoupletIndex": 95,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 192,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پھول یوں ہی باغ میں رنگ نیا لائیں گے",
|
||
"CoupletIndex": 95,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 193,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہے حادثوں میں پنہاں حکمت کا ایک اشارا",
|
||
"CoupletIndex": 96,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 194,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جرا حیاں ہیں گویا قدرت کی آشکارا",
|
||
"CoupletIndex": 96,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 195,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "نشتر سے حادثوں کے چیرے نہ گروہ پھوڑے",
|
||
"CoupletIndex": 97,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 196,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "فاسد مواد ان کو زندہ کبھی نہ چھوڑے",
|
||
"CoupletIndex": 97,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 197,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سمندر اے دل خالق کے اضطراب سمندر",
|
||
"CoupletIndex": 98,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 198,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "چھپے تو رکھتا ہے کیا انقلاب سینے کے اندر",
|
||
"CoupletIndex": 98,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 199,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "غرور عقل عشر کے ڈبو چکا ہے تو لاشے",
|
||
"CoupletIndex": 99,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 200,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اب اور دیکھیے کیا کیا دکھائے گا تو تماشے",
|
||
"CoupletIndex": 99,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 201,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جولاں گہ اظہار لیاقت اسے کہیے",
|
||
"CoupletIndex": 100,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 202,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "گہوارۂ تعلیم فصاحت اسے کہیے",
|
||
"CoupletIndex": 100,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 203,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ذہنوں کی ترقی کا جو میداں ہے تو یہ ہے",
|
||
"CoupletIndex": 101,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 204,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آداب تمدن کا دبستاں ہے تو یہ ہے",
|
||
"CoupletIndex": 101,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 205,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ایک ہنگامہ تھا برپا مرے ارمانوں میں",
|
||
"CoupletIndex": 102,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 206,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "برق مضطر کی تڑپ تھی مری شریانوں میں",
|
||
"CoupletIndex": 102,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 207,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "صرصر رنج کے جھوکے جو گذر جاتے تھے",
|
||
"CoupletIndex": 103,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 208,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دفتر قلب کے اوراق بکھر جاتے تھے",
|
||
"CoupletIndex": 103,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 209,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کیا برق و باد کا طوفاں تھا، تھی جس سے فضا میں پڑی ہل چل",
|
||
"CoupletIndex": 104,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 210,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اب تو ہی نشانی ہے باقی طوفاں کی اے تنہا بادل",
|
||
"CoupletIndex": 104,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 211,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دل تیری گرج سے دہلتے تھے لرزہ تھا پڑا جانداروں میں",
|
||
"CoupletIndex": 105,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 212,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "گویا تھا سمندر ٹوٹ پڑا پانی کی لپکتی دھاروں میں",
|
||
"CoupletIndex": 105,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 213,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اس بہشت زندگی سے نوجواں غافل نہ ہوں",
|
||
"CoupletIndex": 106,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 214,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "عیش کے مشتاق ہیں تو طیش پر مایل نہ ہوں",
|
||
"CoupletIndex": 106,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 215,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "لذت اخلاق شیریں ان کو چکھنی چاہیے",
|
||
"CoupletIndex": 107,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 216,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "من و سلوا کی حفاظت ان کو رکھنی چاہیے",
|
||
"CoupletIndex": 107,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 217,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "لہجۂ بلبل کو فریاد زغن ہونے نہ دیں",
|
||
"CoupletIndex": 108,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 218,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "نغمۂ وحدت کو شور ماومن ہونے نہ دیں",
|
||
"CoupletIndex": 108,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 219,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "میل کی کھیتی پہ پانی سیل کا پھرنے نہ دیں",
|
||
"CoupletIndex": 109,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 220,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "مہر کے خرمن پہ بجلی قہر کی گرنے نہ دیں",
|
||
"CoupletIndex": 109,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 221,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جس کو دیکھا تھا کبھی گلشن وہ گلخن ہو نہ جائے",
|
||
"CoupletIndex": 110,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 222,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جس کو سمجھے تھے کبھی مسکن وہ مدفن ہو نہ جائے",
|
||
"CoupletIndex": 110,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 223,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "صر صر دوزخ کو اس فردوس میں چلنے نہ دیں",
|
||
"CoupletIndex": 111,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 224,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "نخلِ طوبیٰ کی جگہ زقوم کو پھلنے نہ دیں",
|
||
"CoupletIndex": 111,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 225,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "نوح کی کشتی پہ طوفاں کا اثر ہونے نہ دیں",
|
||
"CoupletIndex": 112,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 226,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جنت آدم میں شیطاں کا گزر ہونے نہ دیں",
|
||
"CoupletIndex": 112,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 227,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تیوروں پر لطف کے غصے کے بل آنے نہ دیں",
|
||
"CoupletIndex": 113,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 228,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "عہد میں الفت کے کلفت کا خلل آنے نہ دیں",
|
||
"CoupletIndex": 113,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
}
|
||
]
|
||
}
|