divan-data/poets/p345/ghazal/sh10318.json
Anas Rashid b46fdb5ca9
Some checks are pending
Wikisource sync / sync (push) Waiting to run
Ghazal marks: radif, matla, maqta (takhallus sign) and radif letter for divan contents
Grouping and order now read the radif from the first couplet's second line, which carries it
even when the source lacks the matla.

Co-Authored-By: Claude Opus 5.5 <noreply@anthropic.com>
2026-10-08 21:27:22 +02:00

272 lines
12 KiB
JSON
Raw Blame History

This file contains ambiguous Unicode characters

This file contains Unicode characters that might be confused with other characters. If you think that this is intentional, you can safely ignore this warning. Use the Escape button to reveal them.

{
"Id": 10318,
"CatId": 932,
"Title": "کوئی اس ستم گر کو آگاہ کر دے کہ باز آئے آزار دینے سے جھٹ پٹ",
"FullTitle": "نوح ناروی » غزل » کوئی اس ستم گر کو آگاہ کر دے کہ باز آئے آزار دینے سے جھٹ پٹ",
"FullUrl": "/p345/ghazal/sh10318",
"RhymeLetters": null,
"SourceName": "ویکی ماخذ",
"SourceUrlSlug": "wikisource",
"SourceUrl": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%DA%AF%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%B2_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%DA%BE%D9%B9_%D9%BE%D9%B9",
"Language": "ur-PK",
"PoemSummary": null,
"Metre": null,
"Sections": [
{
"Index": 0,
"Number": 1,
"SectionType": "WholePoem",
"VerseType": "First",
"RhymeLetters": null,
"PlainText": "کوئی اس ستم گر کو آگاہ کر دے کہ باز آئے آزار دینے سے جھٹ پٹ\r\nادھر کی ادھر آج ہوتی ہے دنیا مریض محبت بدلتا ہے کروٹ\r\nکبھی پردہ داری کبھی خود نمائی کبھی کچھ رکاوٹ کبھی کچھ لگاوٹ\r\nتمہاری یہ چاروں ادائیں غضب ہیں یہ چاروں کریں گی ہزاروں کو چوپٹ\r\nقیامت نہ اٹھے کہ اٹھے جہاں میں مگر بالیقیں میں تو اٹھوں گا جھٹ پٹ\r\nتہ قبر جس وقت مجھ کو ملے گی سر قبر کچھ ان کے قدموں کی آہٹ\r\nکوئی کس طرح اس کو تسلیم کر لے کہ دونوں اکیلے بسر کر رہے ہیں\r\nترے گرد تیری اداؤں کا مجمع مری حسرتوں کا مرے پاس جمگھٹ\r\nخدا جانے آپس میں کیا پیش آئے یہ تاخیر و تعجیل کیا رنگ لائے\r\nہمارا ارادہ کہ فوراً نہ دیں دل تمہاری تمنا کہ مل جائے جھٹ پٹ\r\nکہاں لطف بزم مسرت اٹھایا کہاں دور پر کیف گزرے نظر سے\r\nمئے ناب اوروں کے حصے میں آئی ہمارے مقدر میں تھی صرف تلچھٹ\r\nادھر وہ بھی سرگرم ظلم و جفا ہے ادھر ہم بھی مصروف آہ و بکا ہیں\r\nکہیں بڑھتے بڑھتے نہ بڑھ جائے جھگڑا کہیں ہوتے ہوتے نہ ہو جائے کھٹ پٹ\r\nیہ کیوں ہے تأمل یہ کیوں ہے توقف یہ انکار کیا ہے یہ اغماض کیا ہے\r\nلڑاؤ بھی آنکھیں ملاؤ بھی نظریں دکھاؤ بھی مکھڑا اٹھاؤ بھی گھونگھٹ\r\nبہت کچھ چھپایا بہت کچھ بچایا مگر پیش بندی نہ کچھ کام آئی\r\nکئے خنجر ناز نے چار ٹکڑے بالآخر ہوا دل محبت میں چوپٹ\r\nمحبت میں یہ جھڑکیاں بھی عبث ہیں یہ ہر وقت کی دھمکیاں بھی عبث ہیں\r\nکرم ہو کہ مجھ پر ستم ہو تمہارا نہ اٹھوں گا در سے نہ چھوڑوں گا چوکھٹ\r\nبیان تمنا سنا اور سن کر بڑی دیر سے غور فرما رہے ہیں\r\nنہ آئیں گے یا میرے گھر آ گئے وہ جو ہونا ہو ارشاد ہو جائے جھٹ پٹ\r\nستم بھی اٹھائے ہزاروں طرح کے بلائیں بھی جھیلیں ہزاروں طرح کی\r\nہوا تجربہ ہم کو یہ دل لگا کر حسینوں سے دل کا لگانا ہے جھنجھٹ\r\nترے عشق میں کیوں نہ میں دل کو روؤں جگر کے لئے کیوں نہ میں آہ کھینچوں\r\nشب و روز کی مختلف آفتوں نے اسے کر دیا چت اسے کر دیا پٹ\r\nبنا غیرت آئینۂ دل ہمارا غبار آئے کیوں کر کدورت رہے کیا\r\nمثل ہے وہ خس کم جہاں پاک والی نہ اس گھر میں کوڑا نہ اس گھر میں کرکٹ\r\nمحبت کے رستے میں اے شوق منزل ملے گا عجب لطف پائے طلب کو\r\nادھر خار ہیں اور ادھر آبلے ہیں اگر نذر ہاں وہ ہیں تو یہ ہیں منہ پھٹ\r\nترے عشق میں چین سے کیا رہوں میں ترے عشق میں جب نہ دے چین مجھ کو\r\nنظر کا پلٹنا زباں کا بدلنا مقدر کی گردش زمانے کی کروٹ\r\nیہ اے نوحؔ کس نے تمہیں رائے دی تھی کہ طوفاں اٹھاؤ زمیں دار ہو کر\r\nاب اچھا تماشا نظر آ رہا ہے تہہ آب کھاتا سر آب کھیوٹ",
"HtmlText": null,
"PoemFormat": "Ghazal",
"Language": "ur-PK",
"CoupletsCount": 17
}
],
"Maqta": 16,
"Radif": "",
"Matla": 0,
"Verses": [
{
"VOrder": 1,
"Position": "Right",
"Text": "کوئی اس ستم گر کو آگاہ کر دے کہ باز آئے آزار دینے سے جھٹ پٹ",
"CoupletIndex": 0,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 2,
"Position": "Left",
"Text": "ادھر کی ادھر آج ہوتی ہے دنیا مریض محبت بدلتا ہے کروٹ",
"CoupletIndex": 0,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 3,
"Position": "Right",
"Text": "کبھی پردہ داری کبھی خود نمائی کبھی کچھ رکاوٹ کبھی کچھ لگاوٹ",
"CoupletIndex": 1,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 4,
"Position": "Left",
"Text": "تمہاری یہ چاروں ادائیں غضب ہیں یہ چاروں کریں گی ہزاروں کو چوپٹ",
"CoupletIndex": 1,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 5,
"Position": "Right",
"Text": "قیامت نہ اٹھے کہ اٹھے جہاں میں مگر بالیقیں میں تو اٹھوں گا جھٹ پٹ",
"CoupletIndex": 2,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 6,
"Position": "Left",
"Text": "تہ قبر جس وقت مجھ کو ملے گی سر قبر کچھ ان کے قدموں کی آہٹ",
"CoupletIndex": 2,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 7,
"Position": "Right",
"Text": "کوئی کس طرح اس کو تسلیم کر لے کہ دونوں اکیلے بسر کر رہے ہیں",
"CoupletIndex": 3,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 8,
"Position": "Left",
"Text": "ترے گرد تیری اداؤں کا مجمع مری حسرتوں کا مرے پاس جمگھٹ",
"CoupletIndex": 3,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 9,
"Position": "Right",
"Text": "خدا جانے آپس میں کیا پیش آئے یہ تاخیر و تعجیل کیا رنگ لائے",
"CoupletIndex": 4,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 10,
"Position": "Left",
"Text": "ہمارا ارادہ کہ فوراً نہ دیں دل تمہاری تمنا کہ مل جائے جھٹ پٹ",
"CoupletIndex": 4,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 11,
"Position": "Right",
"Text": "کہاں لطف بزم مسرت اٹھایا کہاں دور پر کیف گزرے نظر سے",
"CoupletIndex": 5,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 12,
"Position": "Left",
"Text": "مئے ناب اوروں کے حصے میں آئی ہمارے مقدر میں تھی صرف تلچھٹ",
"CoupletIndex": 5,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 13,
"Position": "Right",
"Text": "ادھر وہ بھی سرگرم ظلم و جفا ہے ادھر ہم بھی مصروف آہ و بکا ہیں",
"CoupletIndex": 6,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 14,
"Position": "Left",
"Text": "کہیں بڑھتے بڑھتے نہ بڑھ جائے جھگڑا کہیں ہوتے ہوتے نہ ہو جائے کھٹ پٹ",
"CoupletIndex": 6,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 15,
"Position": "Right",
"Text": "یہ کیوں ہے تأمل یہ کیوں ہے توقف یہ انکار کیا ہے یہ اغماض کیا ہے",
"CoupletIndex": 7,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 16,
"Position": "Left",
"Text": "لڑاؤ بھی آنکھیں ملاؤ بھی نظریں دکھاؤ بھی مکھڑا اٹھاؤ بھی گھونگھٹ",
"CoupletIndex": 7,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 17,
"Position": "Right",
"Text": "بہت کچھ چھپایا بہت کچھ بچایا مگر پیش بندی نہ کچھ کام آئی",
"CoupletIndex": 8,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 18,
"Position": "Left",
"Text": "کئے خنجر ناز نے چار ٹکڑے بالآخر ہوا دل محبت میں چوپٹ",
"CoupletIndex": 8,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 19,
"Position": "Right",
"Text": "محبت میں یہ جھڑکیاں بھی عبث ہیں یہ ہر وقت کی دھمکیاں بھی عبث ہیں",
"CoupletIndex": 9,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 20,
"Position": "Left",
"Text": "کرم ہو کہ مجھ پر ستم ہو تمہارا نہ اٹھوں گا در سے نہ چھوڑوں گا چوکھٹ",
"CoupletIndex": 9,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 21,
"Position": "Right",
"Text": "بیان تمنا سنا اور سن کر بڑی دیر سے غور فرما رہے ہیں",
"CoupletIndex": 10,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 22,
"Position": "Left",
"Text": "نہ آئیں گے یا میرے گھر آ گئے وہ جو ہونا ہو ارشاد ہو جائے جھٹ پٹ",
"CoupletIndex": 10,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 23,
"Position": "Right",
"Text": "ستم بھی اٹھائے ہزاروں طرح کے بلائیں بھی جھیلیں ہزاروں طرح کی",
"CoupletIndex": 11,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 24,
"Position": "Left",
"Text": "ہوا تجربہ ہم کو یہ دل لگا کر حسینوں سے دل کا لگانا ہے جھنجھٹ",
"CoupletIndex": 11,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 25,
"Position": "Right",
"Text": "ترے عشق میں کیوں نہ میں دل کو روؤں جگر کے لئے کیوں نہ میں آہ کھینچوں",
"CoupletIndex": 12,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 26,
"Position": "Left",
"Text": "شب و روز کی مختلف آفتوں نے اسے کر دیا چت اسے کر دیا پٹ",
"CoupletIndex": 12,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 27,
"Position": "Right",
"Text": "بنا غیرت آئینۂ دل ہمارا غبار آئے کیوں کر کدورت رہے کیا",
"CoupletIndex": 13,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 28,
"Position": "Left",
"Text": "مثل ہے وہ خس کم جہاں پاک والی نہ اس گھر میں کوڑا نہ اس گھر میں کرکٹ",
"CoupletIndex": 13,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 29,
"Position": "Right",
"Text": "محبت کے رستے میں اے شوق منزل ملے گا عجب لطف پائے طلب کو",
"CoupletIndex": 14,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 30,
"Position": "Left",
"Text": "ادھر خار ہیں اور ادھر آبلے ہیں اگر نذر ہاں وہ ہیں تو یہ ہیں منہ پھٹ",
"CoupletIndex": 14,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 31,
"Position": "Right",
"Text": "ترے عشق میں چین سے کیا رہوں میں ترے عشق میں جب نہ دے چین مجھ کو",
"CoupletIndex": 15,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 32,
"Position": "Left",
"Text": "نظر کا پلٹنا زباں کا بدلنا مقدر کی گردش زمانے کی کروٹ",
"CoupletIndex": 15,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 33,
"Position": "Right",
"Text": "یہ اے نوحؔ کس نے تمہیں رائے دی تھی کہ طوفاں اٹھاؤ زمیں دار ہو کر",
"CoupletIndex": 16,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 34,
"Position": "Left",
"Text": "اب اچھا تماشا نظر آ رہا ہے تہہ آب کھاتا سر آب کھیوٹ",
"CoupletIndex": 16,
"SectionIndex1": 0
}
]
}