591 lines
21 KiB
JSON
591 lines
21 KiB
JSON
{
|
||
"Id": 10093,
|
||
"CatId": 918,
|
||
"Title": "روٹیاں",
|
||
"FullTitle": "نظیر اکبر آبادی » نظم » روٹیاں",
|
||
"FullUrl": "/p338/nazm/sh10093",
|
||
"RhymeLetters": null,
|
||
"SourceName": "ویکی ماخذ",
|
||
"SourceUrlSlug": "wikisource",
|
||
"SourceUrl": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D9%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA",
|
||
"Language": "ur-PK",
|
||
"PoemSummary": null,
|
||
"Metre": null,
|
||
"Sections": [
|
||
{
|
||
"Index": 0,
|
||
"Number": 1,
|
||
"SectionType": "WholePoem",
|
||
"VerseType": "First",
|
||
"RhymeLetters": null,
|
||
"PlainText": "جب آدمی کے پیٹ میں آتی ہیں روٹیاں\r\nپھولی نہیں بدن میں سماتی ہیں روٹیاں\r\nآنکھیں پری رخوں سے لڑاتی ہیں روٹیاں\r\nسینے اپر بھی ہاتھ چلاتی ہیں روٹیاں\r\nجتنے مزے ہیں سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاں\r\nروٹی سے جس کا ناک تلک پیٹ ہے بھرا\r\nکرتا پرے ہے کیا وہ اچھل کود جا بہ جا\r\nدیوار پھاند کر کوئی کوٹھا اچھل گیا\r\nٹھٹھا ہنسی شراب صنم ساقی اس سوا\r\nسو سو طرح کی دھوم مچاتی ہیں روٹیاں\r\nجس جا پہ ہانڈی چولہا توا اور تنور ہے\r\nخالق کی قدرتوں کا اسی جا ظہور ہے\r\nچولھے کے آگے آنچ جو چلتی حضور ہے\r\nجتنے ہیں نور سب میں یہی خاص نور ہے\r\nاس نور کے سبب نظر آتی ہیں روٹیاں\r\nآوے توے تنور کا جس جا زباں پہ نام\r\nیا چکی چولھے کے جہاں گل زار ہوں تمام\r\nواں سر جھکا کے کیجے ڈنڈوت اور سلام\r\nاس واسطے کہ خاص یہ روٹی کے ہیں مقام\r\nپہلے انہیں مکانوں میں آتی ہیں روٹیاں\r\nان روٹیوں کے نور سے سب دل ہیں بور بور\r\nآٹا نہیں ہے چھلنی سے چھن چھن گرے ہے نور\r\nپیڑا ہر ایک اس کا ہے برفی و موتی چور\r\nہرگز کسی طرح نہ بجھے پیٹ کا تنور\r\nاس آگ کو مگر یہ بجھاتی ہیں روٹیاں\r\nپوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سے\r\nیہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کاہے کے\r\nوہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دے\r\nہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج ہیں جانتے\r\nبابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں\r\nپھر پوچھا اس نے کہیے یہ ہے دل کا طور کیا\r\nاس کے مشاہدے میں ہے کھلتا ظہور کیا\r\nوہ بولا سن کے تیرا گیا ہے شعور کیا\r\nکشف القلوب اور یہ کشف القبور کیا\r\nجتنے ہیں کشف سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاں\r\nروٹی جب آئی پیٹ میں سو قند گھل گئے\r\nگلزار پھولے آنکھوں میں اور عیش تل گئے\r\nدو تر نوالے پیٹ میں جب آ کے ڈھل گئے\r\nچودہ طبق کے جتنے تھے سب بھید کھل گئے\r\nیہ کشف یہ کمال دکھاتی ہیں روٹیاں\r\nروٹی نہ پیٹ میں ہو تو پھر کچھ جتن نہ ہو\r\nمیلے کی سیر خواہش باغ و چمن نہ ہو\r\nبھوکے غریب دل کی خدا سے لگن نہ ہو\r\nسچ ہے کہا کسی نے کہ بھوکے بھجن نہ ہو\r\nاللہ کی بھی یاد دلاتی ہیں روٹیاں\r\nاب آگے جس کے مال پوے بھر کے تھال ہیں\r\nپورے بھگت انہیں کہو صاحب کے لال ہیں\r\nاور جن کے آگے روغنی اور شیرمال ہیں\r\nعارف وہی ہیں اور وہی صاحب کمال ہیں\r\nپکی پکائی اب جنہیں آتی ہیں روٹیاں\r\nکپڑے کسی کے لال ہیں روٹی کے واسطے\r\nلمبے کسی کے بال ہیں روٹی کے واسطے\r\nباندھے کوئی رومال ہیں روٹی کے واسطے\r\nسب کشف اور کمال ہیں روٹی کے واسطے\r\nجتنے ہیں روپ سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاں\r\nروٹی سے ناچے پیادہ قواعد دکھا دکھا\r\nاسوار ناچے گھوڑے کو کاوہ لگا لگا\r\nگھنگھرو کو باندھے پیک بھی پھرتا ہے ناچتا\r\nاور اس سوا جو غور سے دیکھا تو جا بہ جا\r\nسو سو طرح کے ناچ دکھاتی ہیں روٹیاں\r\nروٹی کے ناچ تو ہیں سبھی خلق میں پڑے\r\nکچھ بھانڈ بھیگتے یہ نہیں پھرتے ناچتے\r\nیہ رنڈیاں جو ناچے ہیں گھونگھٹ کو منہ پہ لے\r\nگھونگھٹ نہ جانو دوستو تم زینہار اسے\r\nاس پردے میں یہ اپنے کماتی ہیں روٹیاں\r\nاشرافوں نے جو اپنی یہ ذاتیں چھپائی ہیں\r\nسچ پوچھئے تو اپنی یہ شانیں بڑھائی ہیں\r\nکہئے انہوں کی روٹیاں کس کس نے کھائی ہیں\r\nاشراف سب میں کہئے تو اب نان بائی ہیں\r\nجن کی دکاں سے ہر کہیں جاتی ہیں روٹیاں\r\nدنیا میں اب بدی نہ کہیں اور نکوئی ہے\r\nیا دشمنی و دوستی یا تند خوئی ہے\r\nکوئی کسی کا اور کسی کا نہ کوئی ہے\r\nسب کوئی ہے اسی کا کہ جس ہاتھ ڈوئی ہے\r\nنوکر نفر غلام بناتی ہیں روٹیاں\r\nروٹی کا اب ازل سے ہمارا تو ہے خمیر\r\nروکھی ہی روٹی حق میں ہمارے ہے شہد و شیر\r\nیا پتلی ہووے موٹی خمیری ہو یا فطیر\r\nگیہوں جوار باجرے کی جیسی ہو نظیرؔ\r\nہم کو تو سب طرح کی خوش آتی ہیں روٹیاں",
|
||
"HtmlText": null,
|
||
"PoemFormat": null,
|
||
"Language": "ur-PK",
|
||
"CoupletsCount": 40
|
||
}
|
||
],
|
||
"Verses": [
|
||
{
|
||
"VOrder": 1,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جب آدمی کے پیٹ میں آتی ہیں روٹیاں",
|
||
"CoupletIndex": 0,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 2,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پھولی نہیں بدن میں سماتی ہیں روٹیاں",
|
||
"CoupletIndex": 0,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 3,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آنکھیں پری رخوں سے لڑاتی ہیں روٹیاں",
|
||
"CoupletIndex": 1,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 4,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سینے اپر بھی ہاتھ چلاتی ہیں روٹیاں",
|
||
"CoupletIndex": 1,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 5,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جتنے مزے ہیں سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاں",
|
||
"CoupletIndex": 2,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 6,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "روٹی سے جس کا ناک تلک پیٹ ہے بھرا",
|
||
"CoupletIndex": 2,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 7,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کرتا پرے ہے کیا وہ اچھل کود جا بہ جا",
|
||
"CoupletIndex": 3,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 8,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دیوار پھاند کر کوئی کوٹھا اچھل گیا",
|
||
"CoupletIndex": 3,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 9,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ٹھٹھا ہنسی شراب صنم ساقی اس سوا",
|
||
"CoupletIndex": 4,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 10,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سو سو طرح کی دھوم مچاتی ہیں روٹیاں",
|
||
"CoupletIndex": 4,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 11,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جس جا پہ ہانڈی چولہا توا اور تنور ہے",
|
||
"CoupletIndex": 5,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 12,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "خالق کی قدرتوں کا اسی جا ظہور ہے",
|
||
"CoupletIndex": 5,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 13,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چولھے کے آگے آنچ جو چلتی حضور ہے",
|
||
"CoupletIndex": 6,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 14,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جتنے ہیں نور سب میں یہی خاص نور ہے",
|
||
"CoupletIndex": 6,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 15,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اس نور کے سبب نظر آتی ہیں روٹیاں",
|
||
"CoupletIndex": 7,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 16,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آوے توے تنور کا جس جا زباں پہ نام",
|
||
"CoupletIndex": 7,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 17,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یا چکی چولھے کے جہاں گل زار ہوں تمام",
|
||
"CoupletIndex": 8,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 18,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "واں سر جھکا کے کیجے ڈنڈوت اور سلام",
|
||
"CoupletIndex": 8,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 19,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اس واسطے کہ خاص یہ روٹی کے ہیں مقام",
|
||
"CoupletIndex": 9,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 20,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پہلے انہیں مکانوں میں آتی ہیں روٹیاں",
|
||
"CoupletIndex": 9,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 21,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ان روٹیوں کے نور سے سب دل ہیں بور بور",
|
||
"CoupletIndex": 10,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 22,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آٹا نہیں ہے چھلنی سے چھن چھن گرے ہے نور",
|
||
"CoupletIndex": 10,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 23,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پیڑا ہر ایک اس کا ہے برفی و موتی چور",
|
||
"CoupletIndex": 11,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 24,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہرگز کسی طرح نہ بجھے پیٹ کا تنور",
|
||
"CoupletIndex": 11,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 25,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اس آگ کو مگر یہ بجھاتی ہیں روٹیاں",
|
||
"CoupletIndex": 12,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 26,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سے",
|
||
"CoupletIndex": 12,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 27,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کاہے کے",
|
||
"CoupletIndex": 13,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 28,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "وہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دے",
|
||
"CoupletIndex": 13,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 29,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج ہیں جانتے",
|
||
"CoupletIndex": 14,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 30,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں",
|
||
"CoupletIndex": 14,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 31,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پھر پوچھا اس نے کہیے یہ ہے دل کا طور کیا",
|
||
"CoupletIndex": 15,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 32,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اس کے مشاہدے میں ہے کھلتا ظہور کیا",
|
||
"CoupletIndex": 15,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 33,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "وہ بولا سن کے تیرا گیا ہے شعور کیا",
|
||
"CoupletIndex": 16,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 34,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کشف القلوب اور یہ کشف القبور کیا",
|
||
"CoupletIndex": 16,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 35,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جتنے ہیں کشف سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاں",
|
||
"CoupletIndex": 17,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 36,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "روٹی جب آئی پیٹ میں سو قند گھل گئے",
|
||
"CoupletIndex": 17,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 37,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "گلزار پھولے آنکھوں میں اور عیش تل گئے",
|
||
"CoupletIndex": 18,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 38,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دو تر نوالے پیٹ میں جب آ کے ڈھل گئے",
|
||
"CoupletIndex": 18,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 39,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چودہ طبق کے جتنے تھے سب بھید کھل گئے",
|
||
"CoupletIndex": 19,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 40,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "یہ کشف یہ کمال دکھاتی ہیں روٹیاں",
|
||
"CoupletIndex": 19,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 41,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "روٹی نہ پیٹ میں ہو تو پھر کچھ جتن نہ ہو",
|
||
"CoupletIndex": 20,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 42,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "میلے کی سیر خواہش باغ و چمن نہ ہو",
|
||
"CoupletIndex": 20,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 43,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بھوکے غریب دل کی خدا سے لگن نہ ہو",
|
||
"CoupletIndex": 21,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 44,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سچ ہے کہا کسی نے کہ بھوکے بھجن نہ ہو",
|
||
"CoupletIndex": 21,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 45,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اللہ کی بھی یاد دلاتی ہیں روٹیاں",
|
||
"CoupletIndex": 22,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 46,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اب آگے جس کے مال پوے بھر کے تھال ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 22,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 47,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پورے بھگت انہیں کہو صاحب کے لال ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 23,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 48,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اور جن کے آگے روغنی اور شیرمال ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 23,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 49,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "عارف وہی ہیں اور وہی صاحب کمال ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 24,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 50,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پکی پکائی اب جنہیں آتی ہیں روٹیاں",
|
||
"CoupletIndex": 24,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 51,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کپڑے کسی کے لال ہیں روٹی کے واسطے",
|
||
"CoupletIndex": 25,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 52,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "لمبے کسی کے بال ہیں روٹی کے واسطے",
|
||
"CoupletIndex": 25,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 53,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "باندھے کوئی رومال ہیں روٹی کے واسطے",
|
||
"CoupletIndex": 26,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 54,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سب کشف اور کمال ہیں روٹی کے واسطے",
|
||
"CoupletIndex": 26,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 55,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جتنے ہیں روپ سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاں",
|
||
"CoupletIndex": 27,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 56,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "روٹی سے ناچے پیادہ قواعد دکھا دکھا",
|
||
"CoupletIndex": 27,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 57,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اسوار ناچے گھوڑے کو کاوہ لگا لگا",
|
||
"CoupletIndex": 28,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 58,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "گھنگھرو کو باندھے پیک بھی پھرتا ہے ناچتا",
|
||
"CoupletIndex": 28,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 59,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اور اس سوا جو غور سے دیکھا تو جا بہ جا",
|
||
"CoupletIndex": 29,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 60,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سو سو طرح کے ناچ دکھاتی ہیں روٹیاں",
|
||
"CoupletIndex": 29,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 61,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "روٹی کے ناچ تو ہیں سبھی خلق میں پڑے",
|
||
"CoupletIndex": 30,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 62,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کچھ بھانڈ بھیگتے یہ نہیں پھرتے ناچتے",
|
||
"CoupletIndex": 30,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 63,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یہ رنڈیاں جو ناچے ہیں گھونگھٹ کو منہ پہ لے",
|
||
"CoupletIndex": 31,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 64,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "گھونگھٹ نہ جانو دوستو تم زینہار اسے",
|
||
"CoupletIndex": 31,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 65,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اس پردے میں یہ اپنے کماتی ہیں روٹیاں",
|
||
"CoupletIndex": 32,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 66,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اشرافوں نے جو اپنی یہ ذاتیں چھپائی ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 32,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 67,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سچ پوچھئے تو اپنی یہ شانیں بڑھائی ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 33,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 68,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کہئے انہوں کی روٹیاں کس کس نے کھائی ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 33,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 69,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اشراف سب میں کہئے تو اب نان بائی ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 34,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 70,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جن کی دکاں سے ہر کہیں جاتی ہیں روٹیاں",
|
||
"CoupletIndex": 34,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 71,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دنیا میں اب بدی نہ کہیں اور نکوئی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 35,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 72,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "یا دشمنی و دوستی یا تند خوئی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 35,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 73,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کوئی کسی کا اور کسی کا نہ کوئی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 36,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 74,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سب کوئی ہے اسی کا کہ جس ہاتھ ڈوئی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 36,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 75,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "نوکر نفر غلام بناتی ہیں روٹیاں",
|
||
"CoupletIndex": 37,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 76,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "روٹی کا اب ازل سے ہمارا تو ہے خمیر",
|
||
"CoupletIndex": 37,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 77,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "روکھی ہی روٹی حق میں ہمارے ہے شہد و شیر",
|
||
"CoupletIndex": 38,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 78,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "یا پتلی ہووے موٹی خمیری ہو یا فطیر",
|
||
"CoupletIndex": 38,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 79,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "گیہوں جوار باجرے کی جیسی ہو نظیرؔ",
|
||
"CoupletIndex": 39,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 80,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہم کو تو سب طرح کی خوش آتی ہیں روٹیاں",
|
||
"CoupletIndex": 39,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
}
|
||
]
|
||
}
|