927 lines
32 KiB
JSON
927 lines
32 KiB
JSON
{
|
||
"Id": 9165,
|
||
"CatId": 820,
|
||
"Title": "نکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہوا",
|
||
"FullTitle": "میر تقی میر » مرثیہ » نکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہوا",
|
||
"FullUrl": "/p303/marsiya/sh9165",
|
||
"RhymeLetters": null,
|
||
"SourceName": "ویکی ماخذ",
|
||
"SourceUrlSlug": "wikisource",
|
||
"SourceUrl": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AE%DB%8C%D9%85%DB%81_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%B4%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7",
|
||
"Language": "ur-PK",
|
||
"PoemSummary": null,
|
||
"Metre": null,
|
||
"Sections": [
|
||
{
|
||
"Index": 0,
|
||
"Number": 1,
|
||
"SectionType": "WholePoem",
|
||
"VerseType": "First",
|
||
"RhymeLetters": null,
|
||
"PlainText": "نکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہوا\r\nلاشہ ہے آفتاب میں اس کا پڑا ہوا\r\nعابد اسیر ہو کے چلا ہے بندھا ہوا\r\nناموس ساتھ قافلہ جیسے لٹا ہوا\r\nبیمار و زار پاؤں میں طاقت تنک نہیں\r\nمرگ پدر کے غم سے فراغت تنک نہیں\r\nپھر جور اہل شام سے فرصت تنک نہیں\r\nجاتا ہے جی قدم قدم اوپر چلا ہوا\r\nناموس کو جو دیکھے ہے حال خراب سے\r\nآنکھیں نہیں کسو سے ملاتا حجاب سے\r\nجس وقت گر پڑے ہے کہیں اضطراب سے\r\nرہ جا ہے دیر دیر تلک پھر گرا ہوا\r\nجاتا ہے سوے شام دن اپنا سیاہ کر\r\nگرتا ہے گام گام پر اک دل سے آہ کر\r\nمانند آفتاب قیامت نگاہ کر\r\nسر کو پدر کے راہ میں نیزے چڑھا ہوا\r\nاس لشکر شکستہ و خستہ کا ایک بار\r\nمیداں میں کارزار کے ہوکر ہوا گذار\r\nدیکھا جو خاک و خوں میں کٹا سر وہ تاجدار\r\nکہنے لگا ہر ایک کہ اے شہ یہ کیا ہوا\r\nکل تک تو بزم ناز کا مسندنشیں تھا تو\r\nاسلامیوں کی رونق ایمان و دیں تھا تو\r\nمسجود خلق و قبلۂ اہل یقیں تھا تو\r\nہنگامہ تیرے سر پہ یہ کیسا بپا ہوا\r\nامت نے کیوں نبیؐ کی کیا تجھ کو یوں ہلاک\r\nتھا کیا سبب کہ بستر راحت ہوئی ہے خاک\r\nکچھ وجہ بھی کہ دھوپ میں جلتا ہے جسم پاک\r\nرویت علیؓ کی جاتی رہی کیا بلا ہوا\r\nاکبر جو تھا شبیہ محمدؐ سو ووں گیا\r\nاصغر تڑپ کے تشنہ دہانی سے یوں گیا\r\nجانے کو اپنے آپ تو جانے ہے جوں گیا\r\nگھر کا ترے گئے پہ عجب ماجرا ہوا\r\nخیموں پہ تیرے دوڑ پڑے ناگہاں کئی\r\nاسباب میں ردا نہ ہمارے کنے رہی\r\nبے پردہ ہوکے ہم نے ہر اک کی جفا سہی\r\nعابد ضعیف در تئیں آیا کھنچا ہوا\r\nارمان کیسے کیسے گئے ساتھ لے جواں\r\nہر لحظہ ایک ماتم تازہ رہا ہے یاں\r\nشادی اگر رچی تھی تو اس طرح اپنے ہاں\r\nقاسم شہید آن کے جوں کدخدا ہوا\r\nاعوان یوں تلف ہوئے کٹتی ہے جیسے گھاس\r\nانصار اس طرح کٹے وحشی ہوں جوں اداس\r\nاسباب ظاہری نہ رہا کچھ کسو کے پاس\r\nوابستہ تھا جو کوئی ترا سو گدا ہوا\r\nکیوں غرق خون ہوکے ہمیں تو ڈبو گیا\r\nکیوں ہم سے بے علاقہ و فارغ سا ہوگیا\r\nمیداں میں کارزار کے کیا آکے سوگیا\r\nآیا نہ پھر جو گھر کی طرف تو گیا ہوا\r\nآتے بھی ہیں جو اٹھتے ہیں اپنے مکان سے\r\nدل تنگ ہوکے جاتے بھی ہیں پر نہ جان سے\r\nتو اٹھ کے جو گیا سو گیا پھر جہان سے\r\nکیا جانے تو کہ گھر پہ ترے پیچھے کیا ہوا\r\nفرزند و زن اسیر ہوئے ٹک تو آنکھ کھول\r\nخیمے گرے پڑے ہیں کھڑے غول کے ہیں غول\r\nحیرت سے ہم تو چپ ہیں بھلا تو تنک تو بول\r\nاک شور ہے جو منھ مندے تو ہے پڑا ہوا\r\nغارت علی العموم تھی تھا حکم قتل عام\r\nمارے گئے چنانچہ ترے اقربا تمام\r\nواماندگاں چلے ہیں اسیرانہ سوے شام\r\nہے اک چراغ خانہ سو جاوے بجھا ہوا\r\nیعنی وہ سخت سست ہے بیمار عابدیں\r\nتس پر بندھا ہے جیسے گنہگار عابدیں\r\nناموس کو جو دیکھے ہے یوں خوار عابدیں\r\nگریاں برنگ ابر ہے آگے کھڑا ہوا\r\nروتی ہے جب سکینہ تو روتا ہے زار زار\r\nآخر کو گر پڑے ہے وہ بے تاب ڈاڑھ مار\r\nجاتی ہے چھوٹ ہاتھ سے اونٹوں کی گر مہار\r\nکیا کیا سنے ہے غیروں سے چھاتی جلا ہوا\r\nکیا کہیے تیرے غم سے جگر ہو گیا گداز\r\nتجھ پیشوا کی لاش کو ہے خاک و خوں سے ساز\r\nکر ذبح تجھ کو دوڑے ہیں شامی پئے نماز\r\nخوب ان سے تیرا حق امامت ادا ہوا\r\nسینے تمام داغ ہیں دل میں ہیں آبلے\r\nہرگز نہ اس چمن میں گل آرزو کھلے\r\nجی چاہتا تھا مسند عزت تجھے ملے\r\nسو ہم نے تجھ کو خاک میں دیکھا ملا ہوا\r\nبیگانگی نہ طبع میں تھی تیرے اس قدر\r\nسو بار تجھ سے ہوتے تھے آپس میں حرف سر\r\nکیا ہوگیا کہ تجھ کو ادھر اب نہیں نظر\r\nیا وہ تپاک تھا کہ یہ ناآشنا ہوا\r\nآزردہ ہم میں کس سے ہے تو کیا ملال ہے\r\nوہ کون تیرا باعث رنج و نکال ہے\r\nرنجش ہی کا دماغ میں اب تک خیال ہے\r\nجاتا ہے ہم سبھوں سے ترا سر جدا ہوا\r\nکچھ گرم رو نہیں ہے سناں پر ترا ہی سر\r\nہم پر بھی تیرے پیچھے ہے درپیش اک سفر\r\nکیا بے مروتی ہے بھلا منھ تو کر ادھر\r\nیہ قافلہ بھی سر سے ہے تیرے لگا ہوا\r\nاس واقعے کے بعد بھی تھا دل میں یہ خیال\r\nماتم رکھیں گے دیر بہت کھینچیں گے ملال\r\nگاڑیں گے تیری لاش بصد عزت و جلال\r\nسو خاک میں بھی تجھ کو نہ دیکھا چھپا ہوا\r\nچاہا ترے محبوں کا ہرگز ہوا نہ آہ\r\nبے آب یہ جہاز ہوا دشت میں تباہ\r\nدریا بہے لہو کے جہاں تک گئی نگاہ\r\nدشمن کے حسب خواہش دل مدعا ہوا\r\nکیا نقل کریے حالت دشوار بعد جنگ\r\nدم بھی لیا گیا نہ ہوا کام ایسا تنگ\r\nالقصہ زندگانی ہوئی ہم سبھوں کو ننگ\r\nتو کوئی دم جو آگے گیا تھا بھلا ہوا\r\nخیمے جلے اسیر ہوئے دیر تک گھرے\r\nلوٹے گئے ردائیں گئیں مضطرب پھرے\r\nکیا کیا نہ پیش آیا ہمیں جاتے ہی ترے\r\nپوشیدہ کیا ہے یہ جو ستم برملا ہوا\r\nبرباد اس طرح سے نہیں جاتے گھر کہیں\r\nملتے نہیں ہیں خاک میں یوں در تر کہیں\r\nچلتی نہیں ہے تیغ جفا اس قدر کہیں\r\nجو تن نظر پڑے ہے تو ہے سر کٹا ہوا\r\nکیا ظلم ہے کہ ابن علی تشنہ لب مرے\r\nاور اس کی لاش کو نہ کوئی قبر میں دھرے\r\nآب حیات پانی جنھوں کا بھرا کرے\r\nسو نام اس گروہ کا وارث موا ہوا\r\nعمر دراز جان کی اپنی ہوئی وبال\r\nاتنا نہ جیتے ہم تو نہ یہ کھینچتے ملال\r\nدیکھا علی کے بیٹے کو اس طرح پائمال\r\nجس کا نہ نام لیں وہ سنا بادشا ہوا\r\nکہتے تھے ہم حسین کو دیکھیں گے بادشاہ\r\nگرد اس کی رہ کی جائے گی تا چرخ رو سیاہ\r\nسو اس کو خاک و خون میں دیکھا طپیدہ آہ\r\nتڑپے بہت ولے نہ ہمارا کہا ہوا\r\nتھے لاش سے یہ حرف جگرسوز درمیاں\r\nجو مانع درنگ ہوئے جورپیشگاں\r\nناچار واں سے گریہ کناں سب ہوئے رواں\r\nاس کارواں کا عابد نالاں درا ہوا\r\nہرچند شاعری میں نہیں ہے تری نظیر\r\nاس فن کے پہلوانوں نے مانا تجھی کو میرؔ\r\nپر ان دنوں ہوا ہے بہت تو ضعیف و پیر\r\nکہنے لگا جو مرثیہ اکثر بجا ہوا",
|
||
"HtmlText": null,
|
||
"PoemFormat": null,
|
||
"Language": "ur-PK",
|
||
"CoupletsCount": 64
|
||
}
|
||
],
|
||
"Verses": [
|
||
{
|
||
"VOrder": 1,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "نکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 0,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 2,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "لاشہ ہے آفتاب میں اس کا پڑا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 0,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 3,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "عابد اسیر ہو کے چلا ہے بندھا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 1,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 4,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ناموس ساتھ قافلہ جیسے لٹا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 1,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 5,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بیمار و زار پاؤں میں طاقت تنک نہیں",
|
||
"CoupletIndex": 2,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 6,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "مرگ پدر کے غم سے فراغت تنک نہیں",
|
||
"CoupletIndex": 2,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 7,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پھر جور اہل شام سے فرصت تنک نہیں",
|
||
"CoupletIndex": 3,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 8,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جاتا ہے جی قدم قدم اوپر چلا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 3,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 9,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ناموس کو جو دیکھے ہے حال خراب سے",
|
||
"CoupletIndex": 4,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 10,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آنکھیں نہیں کسو سے ملاتا حجاب سے",
|
||
"CoupletIndex": 4,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 11,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جس وقت گر پڑے ہے کہیں اضطراب سے",
|
||
"CoupletIndex": 5,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 12,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "رہ جا ہے دیر دیر تلک پھر گرا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 5,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 13,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جاتا ہے سوے شام دن اپنا سیاہ کر",
|
||
"CoupletIndex": 6,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 14,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "گرتا ہے گام گام پر اک دل سے آہ کر",
|
||
"CoupletIndex": 6,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 15,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "مانند آفتاب قیامت نگاہ کر",
|
||
"CoupletIndex": 7,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 16,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سر کو پدر کے راہ میں نیزے چڑھا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 7,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 17,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اس لشکر شکستہ و خستہ کا ایک بار",
|
||
"CoupletIndex": 8,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 18,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "میداں میں کارزار کے ہوکر ہوا گذار",
|
||
"CoupletIndex": 8,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 19,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دیکھا جو خاک و خوں میں کٹا سر وہ تاجدار",
|
||
"CoupletIndex": 9,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 20,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کہنے لگا ہر ایک کہ اے شہ یہ کیا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 9,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 21,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کل تک تو بزم ناز کا مسندنشیں تھا تو",
|
||
"CoupletIndex": 10,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 22,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اسلامیوں کی رونق ایمان و دیں تھا تو",
|
||
"CoupletIndex": 10,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 23,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "مسجود خلق و قبلۂ اہل یقیں تھا تو",
|
||
"CoupletIndex": 11,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 24,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہنگامہ تیرے سر پہ یہ کیسا بپا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 11,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 25,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "امت نے کیوں نبیؐ کی کیا تجھ کو یوں ہلاک",
|
||
"CoupletIndex": 12,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 26,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تھا کیا سبب کہ بستر راحت ہوئی ہے خاک",
|
||
"CoupletIndex": 12,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 27,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کچھ وجہ بھی کہ دھوپ میں جلتا ہے جسم پاک",
|
||
"CoupletIndex": 13,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 28,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "رویت علیؓ کی جاتی رہی کیا بلا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 13,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 29,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اکبر جو تھا شبیہ محمدؐ سو ووں گیا",
|
||
"CoupletIndex": 14,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 30,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اصغر تڑپ کے تشنہ دہانی سے یوں گیا",
|
||
"CoupletIndex": 14,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 31,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جانے کو اپنے آپ تو جانے ہے جوں گیا",
|
||
"CoupletIndex": 15,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 32,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "گھر کا ترے گئے پہ عجب ماجرا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 15,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 33,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "خیموں پہ تیرے دوڑ پڑے ناگہاں کئی",
|
||
"CoupletIndex": 16,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 34,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اسباب میں ردا نہ ہمارے کنے رہی",
|
||
"CoupletIndex": 16,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 35,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بے پردہ ہوکے ہم نے ہر اک کی جفا سہی",
|
||
"CoupletIndex": 17,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 36,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "عابد ضعیف در تئیں آیا کھنچا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 17,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 37,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ارمان کیسے کیسے گئے ساتھ لے جواں",
|
||
"CoupletIndex": 18,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 38,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہر لحظہ ایک ماتم تازہ رہا ہے یاں",
|
||
"CoupletIndex": 18,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 39,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "شادی اگر رچی تھی تو اس طرح اپنے ہاں",
|
||
"CoupletIndex": 19,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 40,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "قاسم شہید آن کے جوں کدخدا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 19,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 41,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اعوان یوں تلف ہوئے کٹتی ہے جیسے گھاس",
|
||
"CoupletIndex": 20,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 42,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "انصار اس طرح کٹے وحشی ہوں جوں اداس",
|
||
"CoupletIndex": 20,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 43,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اسباب ظاہری نہ رہا کچھ کسو کے پاس",
|
||
"CoupletIndex": 21,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 44,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "وابستہ تھا جو کوئی ترا سو گدا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 21,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 45,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کیوں غرق خون ہوکے ہمیں تو ڈبو گیا",
|
||
"CoupletIndex": 22,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 46,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کیوں ہم سے بے علاقہ و فارغ سا ہوگیا",
|
||
"CoupletIndex": 22,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 47,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "میداں میں کارزار کے کیا آکے سوگیا",
|
||
"CoupletIndex": 23,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 48,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آیا نہ پھر جو گھر کی طرف تو گیا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 23,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 49,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آتے بھی ہیں جو اٹھتے ہیں اپنے مکان سے",
|
||
"CoupletIndex": 24,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 50,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دل تنگ ہوکے جاتے بھی ہیں پر نہ جان سے",
|
||
"CoupletIndex": 24,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 51,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تو اٹھ کے جو گیا سو گیا پھر جہان سے",
|
||
"CoupletIndex": 25,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 52,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کیا جانے تو کہ گھر پہ ترے پیچھے کیا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 25,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 53,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "فرزند و زن اسیر ہوئے ٹک تو آنکھ کھول",
|
||
"CoupletIndex": 26,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 54,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "خیمے گرے پڑے ہیں کھڑے غول کے ہیں غول",
|
||
"CoupletIndex": 26,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 55,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "حیرت سے ہم تو چپ ہیں بھلا تو تنک تو بول",
|
||
"CoupletIndex": 27,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 56,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اک شور ہے جو منھ مندے تو ہے پڑا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 27,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 57,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "غارت علی العموم تھی تھا حکم قتل عام",
|
||
"CoupletIndex": 28,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 58,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "مارے گئے چنانچہ ترے اقربا تمام",
|
||
"CoupletIndex": 28,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 59,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "واماندگاں چلے ہیں اسیرانہ سوے شام",
|
||
"CoupletIndex": 29,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 60,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہے اک چراغ خانہ سو جاوے بجھا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 29,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 61,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یعنی وہ سخت سست ہے بیمار عابدیں",
|
||
"CoupletIndex": 30,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 62,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تس پر بندھا ہے جیسے گنہگار عابدیں",
|
||
"CoupletIndex": 30,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 63,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ناموس کو جو دیکھے ہے یوں خوار عابدیں",
|
||
"CoupletIndex": 31,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 64,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "گریاں برنگ ابر ہے آگے کھڑا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 31,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 65,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "روتی ہے جب سکینہ تو روتا ہے زار زار",
|
||
"CoupletIndex": 32,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 66,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آخر کو گر پڑے ہے وہ بے تاب ڈاڑھ مار",
|
||
"CoupletIndex": 32,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 67,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جاتی ہے چھوٹ ہاتھ سے اونٹوں کی گر مہار",
|
||
"CoupletIndex": 33,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 68,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کیا کیا سنے ہے غیروں سے چھاتی جلا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 33,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 69,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کیا کہیے تیرے غم سے جگر ہو گیا گداز",
|
||
"CoupletIndex": 34,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 70,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تجھ پیشوا کی لاش کو ہے خاک و خوں سے ساز",
|
||
"CoupletIndex": 34,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 71,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کر ذبح تجھ کو دوڑے ہیں شامی پئے نماز",
|
||
"CoupletIndex": 35,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 72,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "خوب ان سے تیرا حق امامت ادا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 35,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 73,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سینے تمام داغ ہیں دل میں ہیں آبلے",
|
||
"CoupletIndex": 36,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 74,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہرگز نہ اس چمن میں گل آرزو کھلے",
|
||
"CoupletIndex": 36,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 75,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جی چاہتا تھا مسند عزت تجھے ملے",
|
||
"CoupletIndex": 37,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 76,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سو ہم نے تجھ کو خاک میں دیکھا ملا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 37,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 77,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بیگانگی نہ طبع میں تھی تیرے اس قدر",
|
||
"CoupletIndex": 38,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 78,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سو بار تجھ سے ہوتے تھے آپس میں حرف سر",
|
||
"CoupletIndex": 38,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 79,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کیا ہوگیا کہ تجھ کو ادھر اب نہیں نظر",
|
||
"CoupletIndex": 39,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 80,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "یا وہ تپاک تھا کہ یہ ناآشنا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 39,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 81,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آزردہ ہم میں کس سے ہے تو کیا ملال ہے",
|
||
"CoupletIndex": 40,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 82,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "وہ کون تیرا باعث رنج و نکال ہے",
|
||
"CoupletIndex": 40,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 83,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "رنجش ہی کا دماغ میں اب تک خیال ہے",
|
||
"CoupletIndex": 41,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 84,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جاتا ہے ہم سبھوں سے ترا سر جدا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 41,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 85,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کچھ گرم رو نہیں ہے سناں پر ترا ہی سر",
|
||
"CoupletIndex": 42,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 86,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہم پر بھی تیرے پیچھے ہے درپیش اک سفر",
|
||
"CoupletIndex": 42,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 87,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کیا بے مروتی ہے بھلا منھ تو کر ادھر",
|
||
"CoupletIndex": 43,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 88,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "یہ قافلہ بھی سر سے ہے تیرے لگا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 43,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 89,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اس واقعے کے بعد بھی تھا دل میں یہ خیال",
|
||
"CoupletIndex": 44,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 90,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ماتم رکھیں گے دیر بہت کھینچیں گے ملال",
|
||
"CoupletIndex": 44,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 91,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "گاڑیں گے تیری لاش بصد عزت و جلال",
|
||
"CoupletIndex": 45,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 92,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سو خاک میں بھی تجھ کو نہ دیکھا چھپا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 45,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 93,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چاہا ترے محبوں کا ہرگز ہوا نہ آہ",
|
||
"CoupletIndex": 46,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 94,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بے آب یہ جہاز ہوا دشت میں تباہ",
|
||
"CoupletIndex": 46,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 95,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دریا بہے لہو کے جہاں تک گئی نگاہ",
|
||
"CoupletIndex": 47,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 96,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دشمن کے حسب خواہش دل مدعا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 47,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 97,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کیا نقل کریے حالت دشوار بعد جنگ",
|
||
"CoupletIndex": 48,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 98,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دم بھی لیا گیا نہ ہوا کام ایسا تنگ",
|
||
"CoupletIndex": 48,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 99,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "القصہ زندگانی ہوئی ہم سبھوں کو ننگ",
|
||
"CoupletIndex": 49,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 100,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تو کوئی دم جو آگے گیا تھا بھلا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 49,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 101,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "خیمے جلے اسیر ہوئے دیر تک گھرے",
|
||
"CoupletIndex": 50,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 102,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "لوٹے گئے ردائیں گئیں مضطرب پھرے",
|
||
"CoupletIndex": 50,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 103,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کیا کیا نہ پیش آیا ہمیں جاتے ہی ترے",
|
||
"CoupletIndex": 51,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 104,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پوشیدہ کیا ہے یہ جو ستم برملا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 51,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 105,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "برباد اس طرح سے نہیں جاتے گھر کہیں",
|
||
"CoupletIndex": 52,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 106,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ملتے نہیں ہیں خاک میں یوں در تر کہیں",
|
||
"CoupletIndex": 52,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 107,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چلتی نہیں ہے تیغ جفا اس قدر کہیں",
|
||
"CoupletIndex": 53,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 108,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جو تن نظر پڑے ہے تو ہے سر کٹا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 53,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 109,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کیا ظلم ہے کہ ابن علی تشنہ لب مرے",
|
||
"CoupletIndex": 54,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 110,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اور اس کی لاش کو نہ کوئی قبر میں دھرے",
|
||
"CoupletIndex": 54,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 111,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آب حیات پانی جنھوں کا بھرا کرے",
|
||
"CoupletIndex": 55,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 112,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سو نام اس گروہ کا وارث موا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 55,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 113,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "عمر دراز جان کی اپنی ہوئی وبال",
|
||
"CoupletIndex": 56,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 114,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اتنا نہ جیتے ہم تو نہ یہ کھینچتے ملال",
|
||
"CoupletIndex": 56,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 115,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دیکھا علی کے بیٹے کو اس طرح پائمال",
|
||
"CoupletIndex": 57,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 116,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جس کا نہ نام لیں وہ سنا بادشا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 57,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 117,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کہتے تھے ہم حسین کو دیکھیں گے بادشاہ",
|
||
"CoupletIndex": 58,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 118,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "گرد اس کی رہ کی جائے گی تا چرخ رو سیاہ",
|
||
"CoupletIndex": 58,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 119,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سو اس کو خاک و خون میں دیکھا طپیدہ آہ",
|
||
"CoupletIndex": 59,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 120,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تڑپے بہت ولے نہ ہمارا کہا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 59,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 121,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تھے لاش سے یہ حرف جگرسوز درمیاں",
|
||
"CoupletIndex": 60,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 122,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جو مانع درنگ ہوئے جورپیشگاں",
|
||
"CoupletIndex": 60,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 123,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ناچار واں سے گریہ کناں سب ہوئے رواں",
|
||
"CoupletIndex": 61,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 124,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اس کارواں کا عابد نالاں درا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 61,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 125,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہرچند شاعری میں نہیں ہے تری نظیر",
|
||
"CoupletIndex": 62,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 126,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اس فن کے پہلوانوں نے مانا تجھی کو میرؔ",
|
||
"CoupletIndex": 62,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 127,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پر ان دنوں ہوا ہے بہت تو ضعیف و پیر",
|
||
"CoupletIndex": 63,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 128,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کہنے لگا جو مرثیہ اکثر بجا ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 63,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
}
|
||
]
|
||
}
|