divan-data/poets/p303/marsiya/sh8828.json
Anas Rashid eb4e74f0a1 Rename export_ganjoor.py -> export_divan.py, ganjoor_ids -> divan_ids; Language ur-PK
Co-Authored-By: Claude Opus 5.5 <noreply@anthropic.com>
2026-10-04 23:51:03 +02:00

619 lines
22 KiB
JSON
Raw Blame History

This file contains ambiguous Unicode characters

This file contains Unicode characters that might be confused with other characters. If you think that this is intentional, you can safely ignore this warning. Use the Escape button to reveal them.

{
"Id": 8828,
"CatId": 820,
"Title": "ایمان یہ کیسا تھا کیسی یہ مسلمانی",
"FullTitle": "میر تقی میر » مرثیہ » ایمان یہ کیسا تھا کیسی یہ مسلمانی",
"FullUrl": "/p303/marsiya/sh8828",
"RhymeLetters": null,
"SourceName": "ویکی ماخذ",
"SourceUrlSlug": "wikisource",
"SourceUrl": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C",
"Language": "ur-PK",
"PoemSummary": null,
"Metre": null,
"Sections": [
{
"Index": 0,
"Number": 1,
"SectionType": "WholePoem",
"VerseType": "First",
"RhymeLetters": null,
"PlainText": "ایمان یہ کیسا تھا کیسی یہ مسلمانی\r\nکی آل پیمبر سے جو دشمنی جانی\r\nبے آبی میں کشتی تھی شبیر کی طوفانی\r\nدریا کے کنارے پر اس کو نہ ملا پانی\r\nکیا گوہر تر لا کر کس گھاٹ اتارا ہے\r\nلب خشک جگر ٹکڑے بے یاور و یارا ہے\r\nسب خویش و پسر بھائی ایک ایک کو مارا ہے\r\nہے قہر نہ پانی پر یہ پیاس کی طغیانی\r\nانواع ستم گذرے بہتوں کو جواں مارا\r\nجو جاکے گھرا تنہا میداں میں عیاں مارا\r\nانصار کو یاں مارا اعوان کو واں مارا\r\nعباس کی بے جانی اصغر کی وہ نادانی\r\nبازو نہ رہا کوئی اس درد کا کیا چارہ\r\nکیا لطف ہے جینے کا کنبہ مرے جب سارا\r\nپھر دیدہ و دانستہ اپنے ہی تئیں مارا\r\nسب شہر بیابانی گھر بار کی ویرانی\r\nیہ حشر میں احمد کو منھ کیونکے دکھائیں گے\r\nکیا سامنے حیدر کے رولے کے پھر آئیں گے\r\nدیکھیں گے جو زہرا کو کیا بات بنائیں گے\r\nاے واہ ری دیں داری اللہ ری خداخوانی\r\nکیا شام کے لوگوں نے فتنے کو جگایا ہے\r\nاولاد کو حیدر کی سب جن نے سلایا ہے\r\nیہ جور یہودوں سے کس دور میں آیا ہے\r\nاس طور سے پیش آئے کب کفری و نصرانی\r\nآنکھیں جو مندیں شہ کی آشوب سا اک آیا\r\nاسباب گیا سارا خیمے کو جلا پایا\r\nعریاں سر و بے چادر نسواں نہ جنھیں سایہ\r\nاس جمع میں یک باری کیا آئی پریشانی\r\nغارت ہوا ناگاہے اسباب امیرانہ\r\nمردم حرم شہ کے نکلے ہو فقیرانہ\r\nعابد کے تئیں لائے میداں میں اسیرانہ\r\nوہ یوسف ثانی تھا جیسے کہ ہو زندانی\r\nدل سینے میں صد پارہ بے طاقت و بے چارہ\r\nناموس بیاباں میں یک شہر تھے آوارہ\r\nسر باپ کا نیزے پر کرتا تھا جو نظارہ\r\nچاہے تھا کہ ناخن سے نوچوں سر و پیشانی\r\nپر دست نہ تھا اس کو تھے ہاتھ رسن بستہ\r\nرہ جاتا تھا سر دھن کر ناکام جگرخستہ\r\nکہتا تھا پدر مر کر تو تو ہوا وارستہ\r\nمجھ قیدی کی مشکل کی آساں نہیں آسانی\r\nلاشوں کی طرف ہوکر نکلے جو اساریٰ سب\r\nخون جگر آنکھوں میں فریاد تھی زیر لب\r\nکرتی ہے نظر یک سو تو دیکھے ہے کیا زینب\r\nہے بھائی کے پیکر کو اس خاک میں غلطانی\r\nگر خاک میں چلائی کیا جرم ہوا بھائی\r\nجو سر کو کٹا تونے ہموار کی تنہائی\r\nکر سیر چمن اپنا آفت عجب اک آئی\r\nکیا باد خزاں نے کی جنگل میں گل افشانی\r\nنو رستہ نہال اس کے یک دست چھٹے ہیں گے\r\nاشجار سر و بن سے دیکھو تو کٹے ہیں گے\r\nگل پھولے چڑھے چڑھ کر ماٹی میں اٹے ہیں گے\r\nاس رنگ کی دیکھی ہے خاموشی و حیرانی\r\nیاں آن کے جانا تھا ہوگی تری عزت بھی\r\nحیدر کا خلف ہے تو ہے تجھ کو امامت بھی\r\nخاطر کریں گے تیری بھیجیں گے اقامت بھی\r\nسو قوم سیہ دل نے کیا خوب کی مہمانی\r\nکیوں تاج شہی تیرا ہے خاک برابر یوں\r\nکیوں مارے گئے تیرے سب خویش و برادر یوں\r\nکیوں سرکے تئیں رکھا لے نیزے کے اوپر یوں\r\nبرباد کیا بارے کیوں تخت سلیمانی\r\nپرگرد بیاباں میں آوارہ ہوئے ازبس\r\nبے چارہ و بے وارث بے جا و مکاں بیکس\r\nجا بیٹھیں کہیں چھپ کر اپنا جو چلے کچھ بس\r\nکیا دیکھی ہے رسوائی کیا خاک ہے یاں چھانی\r\nاحمد نہیں ہے جس کو یہ حال دکھاویں ہم\r\nحیدر نہیں جس پاس اب روتے ہوئے جاویں ہم\r\nعباس نہیں جس کو اس وقت بلاویں ہم\r\nتو تھا سو مٹا تیرا ہنگامۂ سلطانی\r\nہے زندگی کچھ یہ بھی تھی موت بھلی اس سے\r\nسر کب تئیں یوں ماریں فریاد کریں کس سے\r\nاکبر کہ توقع تھی ہم سب کے تئیں جس سے\r\nبے وقت گیا مارا سو وہ نبی ثانی\r\nقاسم کی طرف گاہے پڑتی تھی نظر جاکر\r\nاس مخمصے میں شاید امداد کرے آکر\r\nسر دے گیا سو آگے تہ بات کی کچھ پاکر\r\nعشرت نہ جوانی کی اس دل زدہ نے جانی\r\nہم شام کو جاتے ہیں فرصت نہیں ہے ہم کو\r\nبے طاقتی سے مطلق طاقت نہیں ہے ہم کو\r\nتاکید سے چلنے کی مہلت نہیں ہے ہم کو\r\nآنکھوں سے کریں ورنہ سب تیری نگہبانی\r\nیہ کہہ کے گئے آگے روتے ہوئے غم دیدہ\r\nاب تو بھی قلم رکھ دے اے میرؔ ستم دیدہ\r\nبس گریہ سے خامے کے کاغذ تو ہے نم دیدہ\r\nدیوانگی کر اس جا یھاں عقل ہے دیوانی",
"HtmlText": null,
"PoemFormat": null,
"Language": "ur-PK",
"CoupletsCount": 42
}
],
"Verses": [
{
"VOrder": 1,
"Position": "Right",
"Text": "ایمان یہ کیسا تھا کیسی یہ مسلمانی",
"CoupletIndex": 0,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 2,
"Position": "Left",
"Text": "کی آل پیمبر سے جو دشمنی جانی",
"CoupletIndex": 0,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 3,
"Position": "Right",
"Text": "بے آبی میں کشتی تھی شبیر کی طوفانی",
"CoupletIndex": 1,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 4,
"Position": "Left",
"Text": "دریا کے کنارے پر اس کو نہ ملا پانی",
"CoupletIndex": 1,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 5,
"Position": "Right",
"Text": "کیا گوہر تر لا کر کس گھاٹ اتارا ہے",
"CoupletIndex": 2,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 6,
"Position": "Left",
"Text": "لب خشک جگر ٹکڑے بے یاور و یارا ہے",
"CoupletIndex": 2,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 7,
"Position": "Right",
"Text": "سب خویش و پسر بھائی ایک ایک کو مارا ہے",
"CoupletIndex": 3,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 8,
"Position": "Left",
"Text": "ہے قہر نہ پانی پر یہ پیاس کی طغیانی",
"CoupletIndex": 3,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 9,
"Position": "Right",
"Text": "انواع ستم گذرے بہتوں کو جواں مارا",
"CoupletIndex": 4,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 10,
"Position": "Left",
"Text": "جو جاکے گھرا تنہا میداں میں عیاں مارا",
"CoupletIndex": 4,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 11,
"Position": "Right",
"Text": "انصار کو یاں مارا اعوان کو واں مارا",
"CoupletIndex": 5,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 12,
"Position": "Left",
"Text": "عباس کی بے جانی اصغر کی وہ نادانی",
"CoupletIndex": 5,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 13,
"Position": "Right",
"Text": "بازو نہ رہا کوئی اس درد کا کیا چارہ",
"CoupletIndex": 6,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 14,
"Position": "Left",
"Text": "کیا لطف ہے جینے کا کنبہ مرے جب سارا",
"CoupletIndex": 6,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 15,
"Position": "Right",
"Text": "پھر دیدہ و دانستہ اپنے ہی تئیں مارا",
"CoupletIndex": 7,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 16,
"Position": "Left",
"Text": "سب شہر بیابانی گھر بار کی ویرانی",
"CoupletIndex": 7,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 17,
"Position": "Right",
"Text": "یہ حشر میں احمد کو منھ کیونکے دکھائیں گے",
"CoupletIndex": 8,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 18,
"Position": "Left",
"Text": "کیا سامنے حیدر کے رولے کے پھر آئیں گے",
"CoupletIndex": 8,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 19,
"Position": "Right",
"Text": "دیکھیں گے جو زہرا کو کیا بات بنائیں گے",
"CoupletIndex": 9,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 20,
"Position": "Left",
"Text": "اے واہ ری دیں داری اللہ ری خداخوانی",
"CoupletIndex": 9,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 21,
"Position": "Right",
"Text": "کیا شام کے لوگوں نے فتنے کو جگایا ہے",
"CoupletIndex": 10,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 22,
"Position": "Left",
"Text": "اولاد کو حیدر کی سب جن نے سلایا ہے",
"CoupletIndex": 10,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 23,
"Position": "Right",
"Text": "یہ جور یہودوں سے کس دور میں آیا ہے",
"CoupletIndex": 11,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 24,
"Position": "Left",
"Text": "اس طور سے پیش آئے کب کفری و نصرانی",
"CoupletIndex": 11,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 25,
"Position": "Right",
"Text": "آنکھیں جو مندیں شہ کی آشوب سا اک آیا",
"CoupletIndex": 12,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 26,
"Position": "Left",
"Text": "اسباب گیا سارا خیمے کو جلا پایا",
"CoupletIndex": 12,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 27,
"Position": "Right",
"Text": "عریاں سر و بے چادر نسواں نہ جنھیں سایہ",
"CoupletIndex": 13,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 28,
"Position": "Left",
"Text": "اس جمع میں یک باری کیا آئی پریشانی",
"CoupletIndex": 13,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 29,
"Position": "Right",
"Text": "غارت ہوا ناگاہے اسباب امیرانہ",
"CoupletIndex": 14,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 30,
"Position": "Left",
"Text": "مردم حرم شہ کے نکلے ہو فقیرانہ",
"CoupletIndex": 14,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 31,
"Position": "Right",
"Text": "عابد کے تئیں لائے میداں میں اسیرانہ",
"CoupletIndex": 15,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 32,
"Position": "Left",
"Text": "وہ یوسف ثانی تھا جیسے کہ ہو زندانی",
"CoupletIndex": 15,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 33,
"Position": "Right",
"Text": "دل سینے میں صد پارہ بے طاقت و بے چارہ",
"CoupletIndex": 16,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 34,
"Position": "Left",
"Text": "ناموس بیاباں میں یک شہر تھے آوارہ",
"CoupletIndex": 16,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 35,
"Position": "Right",
"Text": "سر باپ کا نیزے پر کرتا تھا جو نظارہ",
"CoupletIndex": 17,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 36,
"Position": "Left",
"Text": "چاہے تھا کہ ناخن سے نوچوں سر و پیشانی",
"CoupletIndex": 17,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 37,
"Position": "Right",
"Text": "پر دست نہ تھا اس کو تھے ہاتھ رسن بستہ",
"CoupletIndex": 18,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 38,
"Position": "Left",
"Text": "رہ جاتا تھا سر دھن کر ناکام جگرخستہ",
"CoupletIndex": 18,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 39,
"Position": "Right",
"Text": "کہتا تھا پدر مر کر تو تو ہوا وارستہ",
"CoupletIndex": 19,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 40,
"Position": "Left",
"Text": "مجھ قیدی کی مشکل کی آساں نہیں آسانی",
"CoupletIndex": 19,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 41,
"Position": "Right",
"Text": "لاشوں کی طرف ہوکر نکلے جو اساریٰ سب",
"CoupletIndex": 20,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 42,
"Position": "Left",
"Text": "خون جگر آنکھوں میں فریاد تھی زیر لب",
"CoupletIndex": 20,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 43,
"Position": "Right",
"Text": "کرتی ہے نظر یک سو تو دیکھے ہے کیا زینب",
"CoupletIndex": 21,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 44,
"Position": "Left",
"Text": "ہے بھائی کے پیکر کو اس خاک میں غلطانی",
"CoupletIndex": 21,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 45,
"Position": "Right",
"Text": "گر خاک میں چلائی کیا جرم ہوا بھائی",
"CoupletIndex": 22,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 46,
"Position": "Left",
"Text": "جو سر کو کٹا تونے ہموار کی تنہائی",
"CoupletIndex": 22,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 47,
"Position": "Right",
"Text": "کر سیر چمن اپنا آفت عجب اک آئی",
"CoupletIndex": 23,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 48,
"Position": "Left",
"Text": "کیا باد خزاں نے کی جنگل میں گل افشانی",
"CoupletIndex": 23,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 49,
"Position": "Right",
"Text": "نو رستہ نہال اس کے یک دست چھٹے ہیں گے",
"CoupletIndex": 24,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 50,
"Position": "Left",
"Text": "اشجار سر و بن سے دیکھو تو کٹے ہیں گے",
"CoupletIndex": 24,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 51,
"Position": "Right",
"Text": "گل پھولے چڑھے چڑھ کر ماٹی میں اٹے ہیں گے",
"CoupletIndex": 25,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 52,
"Position": "Left",
"Text": "اس رنگ کی دیکھی ہے خاموشی و حیرانی",
"CoupletIndex": 25,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 53,
"Position": "Right",
"Text": "یاں آن کے جانا تھا ہوگی تری عزت بھی",
"CoupletIndex": 26,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 54,
"Position": "Left",
"Text": "حیدر کا خلف ہے تو ہے تجھ کو امامت بھی",
"CoupletIndex": 26,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 55,
"Position": "Right",
"Text": "خاطر کریں گے تیری بھیجیں گے اقامت بھی",
"CoupletIndex": 27,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 56,
"Position": "Left",
"Text": "سو قوم سیہ دل نے کیا خوب کی مہمانی",
"CoupletIndex": 27,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 57,
"Position": "Right",
"Text": "کیوں تاج شہی تیرا ہے خاک برابر یوں",
"CoupletIndex": 28,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 58,
"Position": "Left",
"Text": "کیوں مارے گئے تیرے سب خویش و برادر یوں",
"CoupletIndex": 28,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 59,
"Position": "Right",
"Text": "کیوں سرکے تئیں رکھا لے نیزے کے اوپر یوں",
"CoupletIndex": 29,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 60,
"Position": "Left",
"Text": "برباد کیا بارے کیوں تخت سلیمانی",
"CoupletIndex": 29,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 61,
"Position": "Right",
"Text": "پرگرد بیاباں میں آوارہ ہوئے ازبس",
"CoupletIndex": 30,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 62,
"Position": "Left",
"Text": "بے چارہ و بے وارث بے جا و مکاں بیکس",
"CoupletIndex": 30,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 63,
"Position": "Right",
"Text": "جا بیٹھیں کہیں چھپ کر اپنا جو چلے کچھ بس",
"CoupletIndex": 31,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 64,
"Position": "Left",
"Text": "کیا دیکھی ہے رسوائی کیا خاک ہے یاں چھانی",
"CoupletIndex": 31,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 65,
"Position": "Right",
"Text": "احمد نہیں ہے جس کو یہ حال دکھاویں ہم",
"CoupletIndex": 32,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 66,
"Position": "Left",
"Text": "حیدر نہیں جس پاس اب روتے ہوئے جاویں ہم",
"CoupletIndex": 32,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 67,
"Position": "Right",
"Text": "عباس نہیں جس کو اس وقت بلاویں ہم",
"CoupletIndex": 33,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 68,
"Position": "Left",
"Text": "تو تھا سو مٹا تیرا ہنگامۂ سلطانی",
"CoupletIndex": 33,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 69,
"Position": "Right",
"Text": "ہے زندگی کچھ یہ بھی تھی موت بھلی اس سے",
"CoupletIndex": 34,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 70,
"Position": "Left",
"Text": "سر کب تئیں یوں ماریں فریاد کریں کس سے",
"CoupletIndex": 34,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 71,
"Position": "Right",
"Text": "اکبر کہ توقع تھی ہم سب کے تئیں جس سے",
"CoupletIndex": 35,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 72,
"Position": "Left",
"Text": "بے وقت گیا مارا سو وہ نبی ثانی",
"CoupletIndex": 35,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 73,
"Position": "Right",
"Text": "قاسم کی طرف گاہے پڑتی تھی نظر جاکر",
"CoupletIndex": 36,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 74,
"Position": "Left",
"Text": "اس مخمصے میں شاید امداد کرے آکر",
"CoupletIndex": 36,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 75,
"Position": "Right",
"Text": "سر دے گیا سو آگے تہ بات کی کچھ پاکر",
"CoupletIndex": 37,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 76,
"Position": "Left",
"Text": "عشرت نہ جوانی کی اس دل زدہ نے جانی",
"CoupletIndex": 37,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 77,
"Position": "Right",
"Text": "ہم شام کو جاتے ہیں فرصت نہیں ہے ہم کو",
"CoupletIndex": 38,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 78,
"Position": "Left",
"Text": "بے طاقتی سے مطلق طاقت نہیں ہے ہم کو",
"CoupletIndex": 38,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 79,
"Position": "Right",
"Text": "تاکید سے چلنے کی مہلت نہیں ہے ہم کو",
"CoupletIndex": 39,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 80,
"Position": "Left",
"Text": "آنکھوں سے کریں ورنہ سب تیری نگہبانی",
"CoupletIndex": 39,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 81,
"Position": "Right",
"Text": "یہ کہہ کے گئے آگے روتے ہوئے غم دیدہ",
"CoupletIndex": 40,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 82,
"Position": "Left",
"Text": "اب تو بھی قلم رکھ دے اے میرؔ ستم دیدہ",
"CoupletIndex": 40,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 83,
"Position": "Right",
"Text": "بس گریہ سے خامے کے کاغذ تو ہے نم دیدہ",
"CoupletIndex": 41,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 84,
"Position": "Left",
"Text": "دیوانگی کر اس جا یھاں عقل ہے دیوانی",
"CoupletIndex": 41,
"SectionIndex1": 0
}
]
}