619 lines
25 KiB
JSON
619 lines
25 KiB
JSON
{
|
||
"Id": 8797,
|
||
"CatId": 820,
|
||
"Title": "ابن علی سے سنا ہے یار و دشت بلا میں لڑائی ہوئی",
|
||
"FullTitle": "میر تقی میر » مرثیہ » ابن علی سے سنا ہے یار و دشت بلا میں لڑائی ہوئی",
|
||
"FullUrl": "/p303/marsiya/sh8797",
|
||
"RhymeLetters": null,
|
||
"SourceName": "ویکی ماخذ",
|
||
"SourceUrlSlug": "wikisource",
|
||
"SourceUrl": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%D9%86_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%88_%D8%AF%D8%B4%D8%AA_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%84%DA%91%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C",
|
||
"Language": "ur-PK",
|
||
"PoemSummary": null,
|
||
"Metre": null,
|
||
"Sections": [
|
||
{
|
||
"Index": 0,
|
||
"Number": 1,
|
||
"SectionType": "WholePoem",
|
||
"VerseType": "First",
|
||
"RhymeLetters": null,
|
||
"PlainText": "ابن علی سے سنا ہے یار و دشت بلا میں لڑائی ہوئی\r\nایدھر تھے ہفتاد و دو تن یہ اودھر ساری خدائی ہوئی\r\nصاف نکل کر جیسے گیا یہ گھر کی ساری صفائی ہوئی\r\nچارہ کیا ہے خواہش حق سے کب رہتی ہے آئی ہوئی\r\nتھی وہ ختم رسلؐ کی امت یہ بھی اس کا نواسا تھا\r\nچشم وفاداری رکھتا تھا ایک جگہ کا باسا تھا\r\nسو وے سب دریا پر اترے ایک یہی واں پیاسا تھا\r\nدیکھو ان اندھے لوگوں سے کیسی دیدہ درائی ہوئی\r\nہائے کنھوں نے یہ بھی نہ پوچھا کیا ہے گنا ان لوگوں کا\r\nثابت کچھ تو کیا چاہے ہے حال برا ان لوگوں کا\r\nقتل ہوا پھر کس خاطر سردار بھلا ان لوگوں کا\r\nیہ جو مسافر آ اترے تھے کاہے کو ان پہ چڑھائی ہوئی\r\nآنکھ ملا کر کہہ تو فلک پر کیسی نظر تھی تاروں کی\r\nجانیں کھپیاں گردنیں کٹیاں بھوکے پیاسے بچاروں کی\r\nسرور دیں یوں خاک میں لوٹیں عزت ہو یوں خواروں کی\r\nچتر گرایا کس کا ظالم کس کے ہائے دہائی ہوئی\r\nکہیے طول جو حد رکھے کچھ ظلم و ستم کے ہاتھوں کا\r\nکیسا ٹھہرا سبط نبی پر قدغن تھا سب باتوں کا\r\nدن کا کھانا ترک ہوا تھا منع تھا سونا راتوں کا\r\nپانی سید پینے نہ پاویں چاروں اور منائی ہوئی\r\nکیا داور محشر کو کہے گا سر رفتہ کر گوش اس کا\r\nحیدر صفدر باپ ستم کش نانا احمدؐ تھا جس کا\r\nظلم سے اس کو کیوں مارا یہ مجرم ایسا تھا کس کا\r\nقہر ہے جو دکھلاوے گا پیشانی پہ برچھی کھائی ہوئی\r\nکھانا پینا ترک کیے پر اس کو یہ غم کھانے پڑے\r\nبیٹے بھتیجے بھائی سب کے سر ناچار کٹانے پڑے\r\nہائے رے اس غربت پر اس کو کیا کیا ظلم اٹھانے پڑے\r\nجان کھپی ناموس لٹی گھر بار گیا رسوائی ہوئی\r\nجب بولیں ہیں لوگ حرم کے چھاتی پھٹ پھٹ جاوے ہے\r\nایک کھڑی تھانبے ہے عابد ایک اسے سمجھاوے ہے\r\nایک طرف مچلی ہے سکینہ زینب اس کو مناوے ہے\r\nبابا بن وہ روٹھی جو ہے سو منتی نہیں ہے منائی ہوئی\r\nجل کے جگر ہے راکھ کی ڈھیری اور توا ہر چھاتی ہے\r\nجوش غبار ملال اٹھے پر آندھی سی اک آتی ہے\r\nپات اور بن ہیں جیسے سوکھے جانیں اڑا لے جاتی ہے\r\nپہنچے ہے تا عرش اعظم خاک ہماری اڑائی ہوئی\r\nایک بہن کہتی تھی یوں گھر بار ترا کیوں لوٹ لیا\r\nکوئی نہ چھوڑا پیچھے جیتا ہائے یہ کیا ستھراؤ کیا\r\nکنبہ مر کر ڈھیر ہوا آخر کو تونے جی بھی دیا\r\nبارے تقصیر ایسی سزا کی کیا تجھ سے اے بھائی ہوئی\r\nایک کہے تھی نوشہ قاسم کیسا بیاہ رچایا تھا\r\nکیا ساعت تھی نحس وہ جس میں بیاہنے کو تو آیا تھا\r\nلگ گئی چپ ہے ایکا ایکی اتنی ہی کیا لایا تھا\r\nمنھ بولے ہے اب تک تیرے ہاتھ کی مہندی لگائی ہوئی\r\nنیگ کی جس کو رسم تھی اس سے کہتی تھی وہ رو رو کر\r\nرسمیں کتنی باقی تھیں جو یاں سے چلا غمگیں ہوکر\r\nجاتے ہی آنکھیں مند گئیں شب کو کیا نہ اٹھا تھا تو سوکر\r\nایک نگاہ حسرت ہی کیا سہرے کی میرے بندھائی ہوئی\r\nکوئی کہے تھی شبیہ اکبر آنکھوں میں کیونکر اب آوے\r\nنقشہ اس کا نقش جو ہے خاطر صفحہ سے کیا جاوے\r\nدل کی تڑپ اب جا ہی چکی ہے جان تسلی کیا پاوے\r\nجلوہ گری پھر کرتی ہے کوئی صورت ایسی مٹائی ہوئی\r\nظلم اٹھایا جی بھی کھپایا سر کو کٹایا چھاتی جلی\r\nپیاسا جی سے گیا دریا پر منت پھر اک خس کی نہ لی\r\nشہ جو غیور تھا سوچا جی میں اس جینے سے موت بھلی\r\nہاتھ پسارے کون کسی سے شاہی نہیں یہ گدائی ہوئی\r\nایک کہے تھی کوئی ہمارے چھٹکارے کی طرح نہیں\r\nظلم و ستم ہے جور و جفا ہے رحم کسو میں ہے بھی کہیں\r\nظاہر ہے رفتار فلک سے رکھا ہم کو اسیر یہیں\r\nقید حیات سے نکلا کوئی جو بارے اس کی رہائی ہوئی\r\nکوئی کہے تھی تونے شاہا جتنے ان سے جور سہے\r\nیار و یاور خویش و برادر سارے آکر ٹھور رہے\r\nخاک تھے جوکہ انھوں نے اٹھ کر منھ پر کیا کیا حرف کہے\r\nہائے رے کیونکر دل میں تیرے ایسے غموں کی سمائی ہوئی\r\nایک کہے تھی ظلم و ستم پوشیدہ نہیں جو کریے بیاں\r\nسب پیدا ہیں ان سے جو یہ مارے پڑے ہیں پیر و جواں\r\nبھوکے پیاسے اکبر و قاسم خستہ جگر خود شاہ زماں\r\nمنھ پہ سبھوں کے نمایاں ہے تلوار ستم کی کھائی ہوئی\r\nکوئی کسو ملت میں یارو ایسا ستم بھی کرتا ہے\r\nسبط نبی فرزند علی کا ناچاری سے مرتا ہے\r\nدل تو چاہے ہے جینے کو پر موت پہ جی کو دھرتا ہے\r\nکیا سمجھے تھے شامی کوئی ایسی جن سے برائی ہوئی\r\nکیا سمجھی یہ قوم سیہ رو کیا ان نے یہ خیال کیا\r\nزہر حسن کو دے کر مارا حیدر کا وہ حال کیا\r\nاب جو حسین رہا تھا بیکس تس کو یوں پامال کیا\r\nاول سے لے تا آخر کیا ان لوگوں سے بھلائی ہوئی\r\nحال عابد کچھ مت پوچھو ایک تو تھا بیمار و نزار\r\nدوسرے کنبہ اس کا سارا جور و ستم سے ڈالا مار\r\nتیسرے آفت آکر ایسی ٹوٹ پڑی ہے ایک ہی بار\r\nچوتھے ایسے حال میں اس کو ویسے پدر سے جدائی ہوئی\r\nقصہ کوتہ میرؔ کہاں تک آل عبا کے دکھ سنیے\r\nرویئے کڑھیے ماتم کریے کوٹیے چھاتی سر دھنیے\r\nجیسے کباب بروے آتش جلیے شام و سحر بھنیے\r\nچپ رہ ظالم خوب نہیں اب آگے بات بڑھائی ہوئی",
|
||
"HtmlText": null,
|
||
"PoemFormat": null,
|
||
"Language": "ur-PK",
|
||
"CoupletsCount": 42
|
||
}
|
||
],
|
||
"Verses": [
|
||
{
|
||
"VOrder": 1,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ابن علی سے سنا ہے یار و دشت بلا میں لڑائی ہوئی",
|
||
"CoupletIndex": 0,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 2,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ایدھر تھے ہفتاد و دو تن یہ اودھر ساری خدائی ہوئی",
|
||
"CoupletIndex": 0,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 3,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "صاف نکل کر جیسے گیا یہ گھر کی ساری صفائی ہوئی",
|
||
"CoupletIndex": 1,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 4,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "چارہ کیا ہے خواہش حق سے کب رہتی ہے آئی ہوئی",
|
||
"CoupletIndex": 1,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 5,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تھی وہ ختم رسلؐ کی امت یہ بھی اس کا نواسا تھا",
|
||
"CoupletIndex": 2,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 6,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "چشم وفاداری رکھتا تھا ایک جگہ کا باسا تھا",
|
||
"CoupletIndex": 2,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 7,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سو وے سب دریا پر اترے ایک یہی واں پیاسا تھا",
|
||
"CoupletIndex": 3,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 8,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دیکھو ان اندھے لوگوں سے کیسی دیدہ درائی ہوئی",
|
||
"CoupletIndex": 3,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 9,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہائے کنھوں نے یہ بھی نہ پوچھا کیا ہے گنا ان لوگوں کا",
|
||
"CoupletIndex": 4,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 10,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ثابت کچھ تو کیا چاہے ہے حال برا ان لوگوں کا",
|
||
"CoupletIndex": 4,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 11,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "قتل ہوا پھر کس خاطر سردار بھلا ان لوگوں کا",
|
||
"CoupletIndex": 5,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 12,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "یہ جو مسافر آ اترے تھے کاہے کو ان پہ چڑھائی ہوئی",
|
||
"CoupletIndex": 5,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 13,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آنکھ ملا کر کہہ تو فلک پر کیسی نظر تھی تاروں کی",
|
||
"CoupletIndex": 6,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 14,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جانیں کھپیاں گردنیں کٹیاں بھوکے پیاسے بچاروں کی",
|
||
"CoupletIndex": 6,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 15,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سرور دیں یوں خاک میں لوٹیں عزت ہو یوں خواروں کی",
|
||
"CoupletIndex": 7,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 16,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "چتر گرایا کس کا ظالم کس کے ہائے دہائی ہوئی",
|
||
"CoupletIndex": 7,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 17,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کہیے طول جو حد رکھے کچھ ظلم و ستم کے ہاتھوں کا",
|
||
"CoupletIndex": 8,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 18,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کیسا ٹھہرا سبط نبی پر قدغن تھا سب باتوں کا",
|
||
"CoupletIndex": 8,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 19,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دن کا کھانا ترک ہوا تھا منع تھا سونا راتوں کا",
|
||
"CoupletIndex": 9,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 20,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پانی سید پینے نہ پاویں چاروں اور منائی ہوئی",
|
||
"CoupletIndex": 9,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 21,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کیا داور محشر کو کہے گا سر رفتہ کر گوش اس کا",
|
||
"CoupletIndex": 10,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 22,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "حیدر صفدر باپ ستم کش نانا احمدؐ تھا جس کا",
|
||
"CoupletIndex": 10,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 23,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ظلم سے اس کو کیوں مارا یہ مجرم ایسا تھا کس کا",
|
||
"CoupletIndex": 11,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 24,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "قہر ہے جو دکھلاوے گا پیشانی پہ برچھی کھائی ہوئی",
|
||
"CoupletIndex": 11,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 25,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کھانا پینا ترک کیے پر اس کو یہ غم کھانے پڑے",
|
||
"CoupletIndex": 12,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 26,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بیٹے بھتیجے بھائی سب کے سر ناچار کٹانے پڑے",
|
||
"CoupletIndex": 12,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 27,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہائے رے اس غربت پر اس کو کیا کیا ظلم اٹھانے پڑے",
|
||
"CoupletIndex": 13,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 28,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جان کھپی ناموس لٹی گھر بار گیا رسوائی ہوئی",
|
||
"CoupletIndex": 13,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 29,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جب بولیں ہیں لوگ حرم کے چھاتی پھٹ پھٹ جاوے ہے",
|
||
"CoupletIndex": 14,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 30,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ایک کھڑی تھانبے ہے عابد ایک اسے سمجھاوے ہے",
|
||
"CoupletIndex": 14,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 31,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ایک طرف مچلی ہے سکینہ زینب اس کو مناوے ہے",
|
||
"CoupletIndex": 15,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 32,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بابا بن وہ روٹھی جو ہے سو منتی نہیں ہے منائی ہوئی",
|
||
"CoupletIndex": 15,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 33,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جل کے جگر ہے راکھ کی ڈھیری اور توا ہر چھاتی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 16,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 34,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جوش غبار ملال اٹھے پر آندھی سی اک آتی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 16,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 35,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پات اور بن ہیں جیسے سوکھے جانیں اڑا لے جاتی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 17,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 36,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پہنچے ہے تا عرش اعظم خاک ہماری اڑائی ہوئی",
|
||
"CoupletIndex": 17,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 37,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ایک بہن کہتی تھی یوں گھر بار ترا کیوں لوٹ لیا",
|
||
"CoupletIndex": 18,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 38,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کوئی نہ چھوڑا پیچھے جیتا ہائے یہ کیا ستھراؤ کیا",
|
||
"CoupletIndex": 18,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 39,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کنبہ مر کر ڈھیر ہوا آخر کو تونے جی بھی دیا",
|
||
"CoupletIndex": 19,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 40,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بارے تقصیر ایسی سزا کی کیا تجھ سے اے بھائی ہوئی",
|
||
"CoupletIndex": 19,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 41,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ایک کہے تھی نوشہ قاسم کیسا بیاہ رچایا تھا",
|
||
"CoupletIndex": 20,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 42,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کیا ساعت تھی نحس وہ جس میں بیاہنے کو تو آیا تھا",
|
||
"CoupletIndex": 20,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 43,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "لگ گئی چپ ہے ایکا ایکی اتنی ہی کیا لایا تھا",
|
||
"CoupletIndex": 21,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 44,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "منھ بولے ہے اب تک تیرے ہاتھ کی مہندی لگائی ہوئی",
|
||
"CoupletIndex": 21,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 45,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "نیگ کی جس کو رسم تھی اس سے کہتی تھی وہ رو رو کر",
|
||
"CoupletIndex": 22,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 46,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "رسمیں کتنی باقی تھیں جو یاں سے چلا غمگیں ہوکر",
|
||
"CoupletIndex": 22,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 47,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جاتے ہی آنکھیں مند گئیں شب کو کیا نہ اٹھا تھا تو سوکر",
|
||
"CoupletIndex": 23,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 48,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ایک نگاہ حسرت ہی کیا سہرے کی میرے بندھائی ہوئی",
|
||
"CoupletIndex": 23,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 49,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کوئی کہے تھی شبیہ اکبر آنکھوں میں کیونکر اب آوے",
|
||
"CoupletIndex": 24,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 50,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "نقشہ اس کا نقش جو ہے خاطر صفحہ سے کیا جاوے",
|
||
"CoupletIndex": 24,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 51,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دل کی تڑپ اب جا ہی چکی ہے جان تسلی کیا پاوے",
|
||
"CoupletIndex": 25,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 52,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جلوہ گری پھر کرتی ہے کوئی صورت ایسی مٹائی ہوئی",
|
||
"CoupletIndex": 25,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 53,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ظلم اٹھایا جی بھی کھپایا سر کو کٹایا چھاتی جلی",
|
||
"CoupletIndex": 26,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 54,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پیاسا جی سے گیا دریا پر منت پھر اک خس کی نہ لی",
|
||
"CoupletIndex": 26,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 55,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "شہ جو غیور تھا سوچا جی میں اس جینے سے موت بھلی",
|
||
"CoupletIndex": 27,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 56,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہاتھ پسارے کون کسی سے شاہی نہیں یہ گدائی ہوئی",
|
||
"CoupletIndex": 27,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 57,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ایک کہے تھی کوئی ہمارے چھٹکارے کی طرح نہیں",
|
||
"CoupletIndex": 28,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 58,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ظلم و ستم ہے جور و جفا ہے رحم کسو میں ہے بھی کہیں",
|
||
"CoupletIndex": 28,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 59,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ظاہر ہے رفتار فلک سے رکھا ہم کو اسیر یہیں",
|
||
"CoupletIndex": 29,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 60,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "قید حیات سے نکلا کوئی جو بارے اس کی رہائی ہوئی",
|
||
"CoupletIndex": 29,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 61,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کوئی کہے تھی تونے شاہا جتنے ان سے جور سہے",
|
||
"CoupletIndex": 30,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 62,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "یار و یاور خویش و برادر سارے آکر ٹھور رہے",
|
||
"CoupletIndex": 30,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 63,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "خاک تھے جوکہ انھوں نے اٹھ کر منھ پر کیا کیا حرف کہے",
|
||
"CoupletIndex": 31,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 64,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہائے رے کیونکر دل میں تیرے ایسے غموں کی سمائی ہوئی",
|
||
"CoupletIndex": 31,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 65,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ایک کہے تھی ظلم و ستم پوشیدہ نہیں جو کریے بیاں",
|
||
"CoupletIndex": 32,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 66,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سب پیدا ہیں ان سے جو یہ مارے پڑے ہیں پیر و جواں",
|
||
"CoupletIndex": 32,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 67,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بھوکے پیاسے اکبر و قاسم خستہ جگر خود شاہ زماں",
|
||
"CoupletIndex": 33,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 68,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "منھ پہ سبھوں کے نمایاں ہے تلوار ستم کی کھائی ہوئی",
|
||
"CoupletIndex": 33,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 69,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کوئی کسو ملت میں یارو ایسا ستم بھی کرتا ہے",
|
||
"CoupletIndex": 34,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 70,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سبط نبی فرزند علی کا ناچاری سے مرتا ہے",
|
||
"CoupletIndex": 34,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 71,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دل تو چاہے ہے جینے کو پر موت پہ جی کو دھرتا ہے",
|
||
"CoupletIndex": 35,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 72,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کیا سمجھے تھے شامی کوئی ایسی جن سے برائی ہوئی",
|
||
"CoupletIndex": 35,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 73,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کیا سمجھی یہ قوم سیہ رو کیا ان نے یہ خیال کیا",
|
||
"CoupletIndex": 36,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 74,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "زہر حسن کو دے کر مارا حیدر کا وہ حال کیا",
|
||
"CoupletIndex": 36,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 75,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اب جو حسین رہا تھا بیکس تس کو یوں پامال کیا",
|
||
"CoupletIndex": 37,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 76,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اول سے لے تا آخر کیا ان لوگوں سے بھلائی ہوئی",
|
||
"CoupletIndex": 37,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 77,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "حال عابد کچھ مت پوچھو ایک تو تھا بیمار و نزار",
|
||
"CoupletIndex": 38,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 78,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دوسرے کنبہ اس کا سارا جور و ستم سے ڈالا مار",
|
||
"CoupletIndex": 38,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 79,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تیسرے آفت آکر ایسی ٹوٹ پڑی ہے ایک ہی بار",
|
||
"CoupletIndex": 39,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 80,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "چوتھے ایسے حال میں اس کو ویسے پدر سے جدائی ہوئی",
|
||
"CoupletIndex": 39,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 81,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "قصہ کوتہ میرؔ کہاں تک آل عبا کے دکھ سنیے",
|
||
"CoupletIndex": 40,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 82,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "رویئے کڑھیے ماتم کریے کوٹیے چھاتی سر دھنیے",
|
||
"CoupletIndex": 40,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 83,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جیسے کباب بروے آتش جلیے شام و سحر بھنیے",
|
||
"CoupletIndex": 41,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 84,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "چپ رہ ظالم خوب نہیں اب آگے بات بڑھائی ہوئی",
|
||
"CoupletIndex": 41,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
}
|
||
]
|
||
}
|