6289 lines
226 KiB
JSON
6289 lines
226 KiB
JSON
{
|
||
"Id": 8745,
|
||
"CatId": 810,
|
||
"Title": "کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے",
|
||
"FullTitle": "میر انیس » مرثیہ » کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے",
|
||
"FullUrl": "/p300/marsiya/sh8745",
|
||
"RhymeLetters": null,
|
||
"SourceName": "ویکی ماخذ",
|
||
"SourceUrlSlug": "wikisource",
|
||
"SourceUrl": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%BA%D8%A7%D8%B2%DB%8C%D8%A7%D9%86%D9%90_%D9%81%D9%88%D8%AC%D9%90_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%92",
|
||
"Language": "ur-PK",
|
||
"PoemSummary": null,
|
||
"Metre": null,
|
||
"Sections": [
|
||
{
|
||
"Index": 0,
|
||
"Number": 1,
|
||
"SectionType": "WholePoem",
|
||
"VerseType": "First",
|
||
"RhymeLetters": null,
|
||
"PlainText": "کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے\r\nلاکھوں سے تشنہ کام لڑے کام کر گئے\r\nامت کی مغفرت کا سر انجام کر گئے\r\nفیض اپنا مثلِ ابر کرم عام کر گئے\r\nپڑھتے ہیں سب درود جو ذکر ان کے ہوتے ہیں\r\nایسے بشر وہ تھے کہ ملک جن کو روتے ہیں\r\nدیندار و سرفروش و شجاع و خوش اعتقاد\r\nہاتھوں میں تیغیں اور دلوں میں خدا کی یاد\r\nزخموں کو نخلِ قد پہ وہ سمجھے گلِ مراد\r\nمرادنگی یہ پیاس میں فاقوں میں یہ جہاد\r\nتیغوں سے بند کون سا ان کا کٹا نہ تھا\r\nپر معرکے سے پاؤں کسی کا ہٹا نہ تھا\r\nبرسوں رہے گا چرخ میں، گر آسمانِ پیر\r\nلیکن نظر نہ آئے گا ان کا کہیں نظیر\r\nگورے نہ ان کے پاؤں، نہ روئے مہِ منیر\r\nخورشید جن کے سامنے اک ذرۂ حقیر\r\nپرخوں قبائیں جسم میں، سینے تنے ہوئے\r\nپہنچے ریاضِ خلد میں دولہا بنے ہوئے\r\nرستم اٹھا نہ سکتا تھا سر ان کے سامنے\r\nشیروں کے کانپتے تھے جگر ان کے سامنے\r\nپھیکی تھی روشنیِٔ قمر ان کے سامنے\r\nاڑتا تھا رنگ روئے سحر، ان کے سامنے\r\nبخشا تھا نور، حق نے ہر اک خوش صفات کو\r\nہوتا تھا دن، جو گھر سے نکلتے تھے رات کو\r\nپیشانیوں پہ جلوہ نما اختر سجود\r\nدیکھیں جو ان کا نور تو قدسی پڑھیں درود\r\nرخ سے عیاں جلال و جوانمردی و نمود\r\nشیدائے آل، شیفتۂ واجب الوجود\r\nجینے کی شاہ دیں کو دعا دے کے مر گئے\r\nایماں کے آئینہ کو جِلا دے کے مر گئے\r\nتاثیر کر گئی تھی انہیں صحبتِ امام\r\nتھا نزع میں بھی خشک لبوں پہ خدا کا نام\r\nلبریز تھے محبت حیدرؔ سے دل کے جام\r\nذی قدر، ذی شعور، دلاور خجستہ کام\r\nلشکر جو ان پہ ٹوٹ پڑے شام و روم کے\r\nتلواریں کھائیں جسم پہ کیا جھوم جھوم کے\r\nلاکھوں میں انتخاب ہزاروں میں لا جواب\r\nتھا خشک و تر پہ جن کا کرم صورتِ سحاب\r\nوہ نور، وہ جلال، وہ رونق، وہ آب و تاب\r\nزہراؔ کے گھر کے چاند، زمانے کے آفتاب\r\nبس یک بہ یک جہاں میں اندھیرا سا چھا گیا\r\nدن بھی ڈھلا نہ تھا کہ زوال ان پہ آ گیا\r\nگل ہو گئے عقیلؔ کی تربت کے جب چراغ\r\nجعفر کے لاڈلوں نے دیئے شہ کے دل کو داغ\r\nماتم سے بھانجوں کے ہوا تھا نہ انفراغ\r\nپامال ہو گیا، حسنِؔ مجتبیٰ کا باغ\r\nلاشے اٹھائے جنگ کرے یا بکا کرے\r\nجس پر گریں یہ کوہ مصیبت وہ کیا کرے\r\nصدمہ یہ تھا کہ لٹنے لگی دولتِ پدر\r\nنکلے نبرد کو اسد اللہ کے پسر\r\nمارے گئے جہاد میں جس دم وہ شیر نر\r\nرخصت ہوئے حسینؔ سے عباسِؔ نام ور\r\nددریا بہے لہو کے بڑا کشت و خوں ہوا\r\nڈھلتی تھی دوپہر کہ علم سر نگوں ہوا\r\nپیری میں قہر ہے، خبر مرگ نوجواں\r\nریتی پہ تھر تھرا کے گرے شاہِ انس و جاں\r\nنکلیں سروں کو پیٹتی، خیمے سے بیبیاں\r\nتھا خانۂ علی میں تلاطم کہ الا ماں\r\nیوں گھر الٹ پلٹ تھا امامِ حجاز کا\r\nجس طرح ٹوٹ جاتا ہے لنگر جہاز کا\r\nغل تھا کہ خوں میں بھر گیا سقائے اہل بیت\r\nدنیا سے کوچ کر گیا، سقائے اہل بیت\r\nہم لٹ گئے گذر گیا سقائے اہل بیت\r\nفریاد ہے کہ مر گیا، سقائے اہل بیت\r\nہے ہے کہاں سے اپنے بہشتی کو لائیں گے\r\nسوکھی زبان، اب کسے بچے دکھائیں گے\r\nہلتا تھا خیمہ روتے تھے یوں اہل بیت شاہ\r\nصدمے سے حالِ زوجۂ عباسؔ تھا تباہ\r\nچلاتی تھی کہ نہر کی مجھ کو بتاؤ راہ\r\nلوٹی گئی میں دشت پُر آفت میں آہ آہ\r\nخم تھے گرا تھا کوہِ مصیبت حسینؔ پر\r\nماتم تھا بیبیوں میں سکینہؔ کے بین پر\r\nماتم ادھر تھا، جشن میں تھے اہل شر اُدھر\r\nبجتے تھے شادیانۂ فتح و ظفر اُدھر\r\nانعام بانٹتا تھا ہر اک کو عمر ادھر\r\nروتے تھے دیکھ دیکھ کے حضرت اِدھر اُدھر\r\nغل تھا کہ بس حسینؔ بہت روئے بھائی کو\r\nکوئی جواں ہو اور تو بھیجو لڑائی کو\r\nباقی نہیں کوئی تو وِغا کو خود آیئے\r\nحیدرؔ کی ذوالفقار کے جوہر دکھایئے\r\nزخمِ سنان و خنجر و شمشیر کھایئے\r\nگرمی بڑی ہے آج لہو میں نہایئے\r\nآمادہ ہم تو دیر سے بہرِ ستیز ہیں\r\nتیغیں بھی ہیں اُپی ہوئی خنجر بھی تیز ہیں\r\nکاٹے ہیں جس نے بازوئے لخت دلِ امیر\r\nہے خوب آبدار، وہ شمشیرِ بے نظیر\r\nچھیدا ہے جس سے مشک کو موجود ہے وہ تیر\r\nہر گرز وہ ہے، ضرب سے جس کی ہوئے اخیر\r\nتڑپے تھے جس سے مشک کو دانتوں سے چھوڑ کر\r\nبرچھی یہ ہے جو نکلی تھی پہلو کو توڑ کر\r\nصابر بڑے ہیں آپ تو یا شاہِ انس و جاں\r\nاک بھائی کے فراق میں یہ نالہ و فغاں\r\nرونے سے جی اٹھیں گے نہ عباسِ نوجواں\r\nحضرت پکارتے ہیں کسے، بھائی اب کہاں\r\nملتا ہے کب جہاں میں بھلا جو گزر گیا\r\nاب فکر اپنی کیجئے وہ شیر مر گیا\r\nاکبر نے کی غضب کی نظر سوئے فوج شام\r\nکانپے یہ غیظ سے کہ اگلنے لگی حسام\r\nکی عرض ہاتھ جوڑ کے اے قبلۂ انام\r\nسنتے ہیں آپ لشکرِ اعدا کا یہ کلام\r\nخوں تن میں جوش کھاتا ہے ہنگام جنگ ہے\r\nمولا بس اب تو حوصلۂ صبر تنگ ہے\r\nان کے کلام سننے کی کس کے جگر میں ہے تاب\r\nخادم زبانِ تیغ سے دے گا انہیں جواب\r\nکیا اپنے دل میں سمجھے ہیں، یہ خانماں خراب\r\nنعرہ کروں تو شیر کا زہرہ ہو آب آب\r\nآداب شاہ سے نہیں ہم بول سکتے ہیں\r\nزخمِ جگر پہ اب تو نمک یہ چھڑکتے ہیں\r\nہم کو یہ طعن و طنز کی باتیں نہیں پسند\r\nکوفے میں لیں گے دم جو اٹھائیں گے پھر سمند\r\nہونٹوں پہ غم سے اب ہے، یہاں جانِ دردمند\r\nکاٹیں تبر سے، تیغ سے خنجر سے بند بند\r\nہنس ہنس کے جسم پر، تبر و تیر کھائیں گے\r\nتیغِ زباں کے زخم اٹھائے نہ جائیں گے\r\nگھبرا کے دیکھنے لگے بیٹے کے منہ کو شاہ\r\nفرمایا خیر کہہ لیں جو کہتے ہیں روسیاہ\r\nکیوں کانپتے ہو غیظ سے، اے میرے رشک ماہ\r\nلازم ہے صبر و شکر کہ راضی رہے الٰہ\r\nغصہ اسی طرح اگر آئے گا آپ کو\r\nخنجر کے نیچے دیکھو گے کس طرح باپ کو\r\nبرہم نہ ہو تمہیں، سر شبیرؔ کی قسم\r\nلو گھر میں جاؤ خیر سمجھ لیں گے ان سے ہم\r\nدیکھو ہمیں کہ بھائی کے بازو ہوئے قلم\r\nتلوار، دل پہ چل گئی، مارا نہ ہم نے دم\r\nسب جل کے خاک ہوں جو ابھی بد دعا کروں\r\nپر امت نبی ہے، بجز صبر کیا کروں\r\nیہ سن کے زرد ہو گئے ہم شکلِ مصطفی\r\nرو کر کہا یہ کرتے ہیں ارشاد آپ کا\r\nوہ وقت، وہ گھڑی، نہ دکھائے ہمیں خدا\r\nبابا نہ ہو تو بیٹے کے جینے کا کیا مزہ\r\nآمادۂ فنا ہیں، خوشی دل سے فوت ہے\r\nپھر خضرؔ کی حیات ملے گر تو موت ہے\r\nکیا پہلے سر کٹایئے گا یا شہِ زماں\r\nکس اشتیاق سے شہ دیں نے کہا کہ ہاں\r\nآگے جو کچھ رضائے خدا، اے پدر کی جاں\r\nجیتے ہیں پیر، سامنے مرتے ہیں نوجواں\r\nدیکھو کہ چھوٹے بھائی کے ماتم میں روتے ہیں\r\nپالا تھا جن کو ہم نے وہ دریا پہ سوتے ہیں\r\nیہ کہہ کے اٹھ کھڑے ہوئے سلطانِ بحر و بر\r\nپٹکے سے باندھنے لگے، ٹوئی ہوئی کمر\r\nقدموں یہ گر پڑے، علیؔ اکبر بہ چشمِ تر\r\nکی عرض رحم کیجئے، مر جائے گا پسر\r\nآگے مرے جو ہو گی شہادت امام کی\r\nدنیا میں آبرو نہ رہے گی غلام کی\r\nچھوٹے تھے جو کہ سِن میں بڑے کر گئے وہ کام\r\nیا شاہ کیا لڑائی کے قابل نہیں غلام\r\nعمو کے خوں کا لیں گے لعینوں سے انتقام\r\nہم نے بھی تیغ باندھی ہے بچپن سے یا امام\r\nعزت ملی ہے خلق میں صدقے سے آپ کے\r\nبیٹا وہی جو رنج میں کام آئے باپ کے\r\nانصاف آپ کیجئے یا سرورِ عرب\r\nبیٹا تو گھر میں بیٹھے، لڑے باپ تشنہ لب\r\nمارا گیا نہ آج، تو کل یہ کہیں گے سب\r\nکیسا لہو سفید ہے، دنیا کا ہے غضب\r\nسر کو کٹا کے باپ جہاں سے گزر گیا\r\nبیٹا جوان، باپ کے آگے نہ مر گیا\r\nبہرِ رسول رن کی رضا دیجئے مجے\r\nصدقہ علی کا، اذن وغا دیجئے مجھے\r\nمرتا ہوں یا امام، جلا دیجئے مجھے\r\nیادِ خدا میں دل سے بھلا دیجئے مجھے\r\nکھولیں کمر، حضور تو دل کو قرار ہو\r\nکہہ دیجئے کہ جا! علیؔ اکبر نثار ہو\r\nشہ نے کہا تمہیں مرے دل کی نہیں خبر\r\nپیارے کہاں سے لاؤں میں اس طرح کا جگر\r\nہے باپ کو عصائے ضعیفی، جواں پسر\r\nجب تم نہ ہو گے پاس تو مر جائے گا پدر\r\nایسے ہنسے نہ تھے کہ ہمیں تم رلاتے ہو\r\nشادی کے دن جو آئے، تو مرنے کو جاتے ہیں\r\nراتیں یہ عیش کی ہیں مرادوں کے ہیں یہ دن\r\nپورے جواں نہیں، ابھی کیا ہے تمہارا سِن\r\nاکبرؔ تری جوانی پہ روئیں گے انس و جن\r\nکیوں کر قرار آئے گا ماں کو تمہارے بن\r\nکیسی ہوا چلی، چمن روزگار میں\r\nسید کا باغ لٹتا ہے فصلِ بہار میں\r\nدیتا اگر تمہیں کوئی فرزند زوالجلال\r\nہوتی پدر کی قدر سمجھتے ہمارا حال\r\nرخصت کا آپ سے یوں ہی کرتا وہ جب سوال\r\nتب جانتے کہ دیتے اسے رخصتِ جدال\r\nکیا جانے وہ مزاج سے اس کا ملا نہیں\r\nاچھا سدھارو تم سے ہمیں کچھ گلا نہیں\r\nتسلیم کر کے بولے علیؔ اکبرِ غیور\r\nلاکھوں برس جہاں میں سلامت رہیں حضور\r\nفرمایا شہ نے خیر اجل بھی نہیں ہے دور\r\nبرچھی لگا کے دل پہ خوشامد یہ کیا ضرور\r\nتقریر میں پدر کو نہ اب بند کیجیے\r\nخیمے میں جا کے ماں کو رضامند کیجیے\r\nہیں مبتلائے رنج بھلا کیا ہمارا پیار\r\nتم سے جو پسر ہوں تو اس راہ میں نثار\r\nہر دم خدا سے خیر کا ہوں میں امیدوار\r\nہاں ماں نہ جانے دے تو مرا کیا ہے اختیار\r\nسینے میں دل ہلے گا بدن تھرتھرائے گا\r\nرخصت کا نام سنتے ہی غش اس کو آئے گا\r\nسب جانتے ہیں جو ہے پھوپھی کو تمہاری چاہ\r\nمعلوم ہو گا جاؤ گے جب سوئے خیمہ گاہ\r\nباہیں گلے میں ڈالے گی زینبؔ بہ اشک و آہ\r\nقدموں پہ گر کے آپ کی ماں ہوگی سَدِ راہ\r\nیہ مرحلہ بھی کم نہیں زنجیر و طوق سے\r\nدونوں رضا جو دیں تو چلے جاؤ شوق سے\r\nروتے ہوئے چلے علیؔ اکبر سوئے خیام\r\nکانپا یہ دل کہ بیٹھ گئے خاک پر امام\r\nروتا ہوا جو ڈیوڑھی سے آیا وہ نیک نام\r\nدوڑی پسر کو دیکھ کے بانوئے تشنہ کام\r\nدامن سے آ کے بالی سکینہؔ چمٹ گئی\r\nزینبؔ بلائیں لے کے گلے سے لپٹ گئی\r\nماں گرد پھر کے بولی کہ اے میرے گلعذار\r\nتم صبح سے گئے تھے اب آئے یہ ماں نثار\r\nدر پر تڑپ تڑپ کے میں جاتی تھی بار بار\r\nکھولو بس اب کمر کہ مرا دل ہے بے قرار\r\nگرمی یہ اور قحط کئی دن سے آب کا\r\nرخ تمتما گیا ہے مرے آفتاب کا\r\nتر ہے قبا پسینے میں پنکھا کوئی بلاؤ\r\nسونلا گئے ہو دھوپ میں، واری ہوا میں آؤ\r\nجھاڑوں ردا سے گرد میں، زلفوں کی، بیٹھ جاؤ\r\nگھٹ جائے گا لہو مرا آنسو نہ تم بہاؤ\r\nصدمہ جو دل پہ ہو اسے کچھ منہ سے کہتے ہیں\r\nکیا ہے جو اشک نرگسی آنکھوں سے بہتے ہیں\r\nصغراؔ کی تو وطن سے کچھ آئی نہیں خبر\r\nجلدی کہو کہ منھ سے نکلتا ہے اب جگر\r\nاکبرؔ نے عرض کی کہ ہیں سب خیر سے مگر\r\nلٹتا ہے کوئی آن میں خیر النسا کا گھر\r\nملتی نہیں رضا ہمیں آنسو بہاتے ہیں\r\nبابا گلا کٹانے کو میداں میں جاتے ہیں\r\nاس وقت کس سے دردِ دل اپنا کہوں میں آہ\r\nتم بھی ہو سدّ راہ پھوپھی بھی ہیں سدّ راہ\r\nچھائی ہے واں گھٹا کی طرح شام کی سپاہ\r\nاماں مدد کرو کہ کمر باندھتے ہیں شاہ\r\nاب زندگی ہے تلخ بہت دق ہیں جان سے\r\nالفت نے آپ کی ہمیں کھویا جہان سے\r\nدیتے نہیں رضا جو امامِ فلک اساس\r\nخاطر فقط یہ آپ کی ہے اور پھوپھی کا پاس\r\nاب غیرِ یاس کوئی نہیں ان کے آس پاس\r\nناطاقتی ہے ضعف ہے فاقہ ہے اور پیاس\r\nکیوں کر لڑیں گے وہ کہ سراپا ضعیف ہیں\r\nپیری ہے دل ضعیف ہے اعضا ضعیف ہیں\r\nعباس جب سے مر گئے روتے ہیں دم بہ دم\r\nرخ زرد ہے کماں کی طرح ہو گئے ہیں غم\r\nچلوں میں تیر جوڑے ہیں واں بانیٔ ستم\r\nقرباں ہوں کس طرح پسرِ خاطر فاطمہؔ پہ ہم\r\nسب روکتے ہیں رن کی طرف جائیں کس طرح\r\nماں کو پھوپھی کو بہنوں کو سمجھائیں کس طرح\r\nبابا کا حکم ہے کہ رضا جا کے ماں سے لاؤ\r\nراضی پھوپھی ہوں جب تو لڑو اور زخم کھاؤ\r\nمرضی ہے آپ کی کہ مرے پاس سے نہ جاؤ\r\nیا فاطمہؔ تمہیں علیؔ اکبر کے کام آؤ\r\nچلنے لگیں نہ تیر شہِ مشرقین پر\r\nنرغہ ہے ظالموں کا تمہارا حسینؔ پر\r\nدیکھی گئی نہ ماں سے یہ بیتابیِٔ پسر\r\nوارث کی بے کسی پہ لگا کانپنے جگر\r\nہاتھوں سے دل کو تھام کے بولی وہ نوحہ گر\r\nدولت پہ فاطمہؔ کی تصدق تمام گھر\r\nپہلے نہ کچھ کہا تھا نہ اب روکتی ہوں میں\r\nروتے ہو کس لیے تمہیں کب روکتی ہوں میں\r\nزہراؔ کے لال پر مرے مادر پدر نثار\r\nعابدؔ نثار اصغرِؔ تشنہ جگر نثار\r\nجانیں ہزار ہوں تو فدا لاکھ سر نثار\r\nقربان گھر، کنیز تصدق، پسر نثار\r\nکِسرائی گو کہ ہوں پہ بہو میں علیؔ کی ہوں\r\nمانگو گے جو وہ دوں گی کہ لونڈی سخی کی ہوں\r\nمجھ پر حوالہ کرتے ہیں گر شاہِ خوش خصال\r\nرخصت نہ تم کو دوں یہ بھلا ہے مری مجال\r\nصدقہ انہیں کا ہے کہ ملا تم سا نونہال\r\nرخصت کا صدقے جاؤں پھوپھی سے کرو سوال\r\nہم سب کنیزیں بنتِ امیر عرب کی ہیں\r\nاصغرؔ ہو یا کہ تم وہی مختار سب کی ہیں\r\nکہنے کو یوں ہیں چاہنے والے تمہارے سب\r\nلیکن ہے ان کے عشق سے نسبت کسی کو کب\r\nدن کو انہوں نے دن کبھی جانا نہ شب کو شب\r\nلیجے انہیں سے آپ کو جس شے کی ہے طلب\r\nمجھ سے نہ کچھ نہ سید عالی سے پوچھیے\r\nگر پوچھیے تو پالنے والی سے پوچھیے\r\nروتے ہوئے گئے علیؔ اکبر پھوپھی کے پاس\r\nدیکھا کہ غش پڑی ہے زمیں پر وہ حق شناس\r\nزانو پہ سر لیے ہوئے کبراؔ ہے بے حواس\r\nاس حال میں بھی لب پہ یہی ہے کلام یاس\r\nاب تاب و طاقت جسد و روح و دل گئی\r\nکیوں صاحبو! رضا علیؔ اکبر کو مل گئی\r\nاکبرؔ سے مجھ کو یہ نہ توقع تھی ہے غضب\r\nاتنا نہیں خیال کہ ہے کون جاں بہ لب\r\nاس گُل نے ہائے میری ریاضت بھلائی سب\r\nنامِ خدا جواں ہوئے کیا ہم سے کام اب\r\nہیں محو رن کے شوق میں رخصت کے دھیان میں\r\nسچ ہے کسی کا کون ہوا ہے جہان میں\r\nیا بے ہمارے چین نہ آتا تھا کوئی دم\r\nمالک اب اور ہو گئے کوئی ہوئے نہ ہم\r\nکیا دخل تھا جو ڈیوڑھی سے باہر رکھیں قدم\r\nہے ہے وہ میرا دردِ مصیبت وہ رنج و غم\r\nجاگی ہوں میں جو چونک کے راتوں کو روئے ہیں\r\nپوچھو تو کس کی چھاتی پہ بچپن میں سوئے ہیں\r\nکنگھی کسی کے ہاتھ کی بھاتی نہ تھی کبھی\r\nبے میرے لیٹے نیند انہیں آتی نہ تھی کبھی\r\nبے ان کی ماں کی قبر پہ جاتی نہ تھی کبھی\r\nروئیں پسر، پہ ان کو رلاتی نہ تھی کبھی\r\nمیرے سوا کسی کو کبھی جانتے نہ تھے\r\nجو تھی سو میں تھی ماں کو تو پہچانتے نہ تھے\r\nہر چند دونوں تھے مرے فرزند خورد سال\r\nپر اِن کے آگے اُن کا مجھے کچھ نہ تھا خیال\r\nراتوں کو جب لپٹتے تھے مجھ سے وہ نونہال\r\nمیں کہتے تھی ہٹو علیؔ اکبر ہے میرا لال\r\nوہ دونوں مرنے والے تو پہلو میں ہوتے تھے\r\nپھیلا کے پاؤں یہ مری چھاتی پہ سوتے تھے\r\nچھوٹا تو ضد بھی کرتا تھا راتوں کو بارہا\r\nپرعونؔ کیا عقیلؔ تھا بخشے اسے خدا\r\nدن رات تھی خوشامدِ ہم شکل مصطفا\r\nسینے پہ جب یہ سوئے تو اس نے یہی کیا\r\nآقا کے نور عین ہیں عالی مقام ہیں\r\nاماں یہ شاہزادے ہیں اور ہم غلام ہیں\r\nرہتے تھے پاس باپ کے وہ غیرتِ قمر\r\nالفت میں ان کی مجھ کو کچھ ان کی نہ تھی خبر\r\nقرآن پڑھنے بیٹھتی تھی جب دمِ سحر\r\nصورت پہ تھی انہیں کی تلاوت میں بھی نظر\r\nغافل نہ ان کے پیار سے میں ایک آن تھی\r\nقرآں تو رحل پر تھا حمائل میں جان تھی\r\nمیں نے انہیں پہ صدقے کئے اپنے دونوں لال\r\nتسکین تھی کہ باقی ہے اکبر سا نونہال\r\nمانگے تو آگے مجھ سے بھلا رخصتِ جدال\r\nنکلوں گی ساتھ خیمے سے بکھرا کے سر کے بال\r\nکیا خوب جیتے جی مَرے جائیں گے مرنے کو\r\nتلوار باندھ لی ہے ہمیں ذبح کرنے کو\r\nبچپن میں تھا نہ ہم سے زیادہ کسی کا پیار\r\nاب کیا غرض گزر گئی وہ فصل وہ بہار\r\nبھیگیں مسیں نمود ہوا سبزۂ عذار\r\nمالک ہیں خود بھلا مرا اب کیا ہے اختیار\r\nثابت ہوا اِدھر سے اُدھر مرنے جائیں گے\r\nمیں مر بھی جاؤں گی تو وہ یاں تک نہ آئیں گے\r\nباہر سدھارے یا ابھی ہیں ماں سے کچھ کلام\r\nبھابی نے کیوں لیا تھا ابھی رو کے میرا نام\r\nسینے پہ منہ کو رکھ کے یہ بولا وہ لالہ فام\r\nآنکھیں تو آپ کھولیے حاضر ہے یہ غلام\r\nخادم جدا نہ تھا شہِ گردوں سریر سے\r\nکس جرم پہ حضور خفا ہیں حقیر سے\r\nکیا ہے قصور جس پہ یہ غصہ ہے یہ عتاب\r\nکرتا ہوں بات میں کوئی بے مرضیِٔ جناب\r\nروتا ہوں اب کہ صبر کی مجھ کو نہیں ہے تاب\r\nشکوہ یہ خاکسار کا اے بنتِ بوتراب\r\nہر دکھ میں ہر بلا میں مددگار آپ ہیں\r\nپالا ہے مجھ کو مالک و مختار آپ ہیں\r\nپیدا ہوا تو آپ کی صحبت مجھے ملی\r\nکرتی ہے روح شکر وہ راحت مجھے ملی\r\nیوسف کو کب ملی تھی جو دولت مجھے ملی\r\nرکھا عزیز آپ نے عزت مجھے ملی\r\nصدقہ ہے اس قدم کا جو سر تا فلک گیا\r\nکی مہر آفتاب نے، ذرہ چمک گیا\r\nمرضی نہ ہو تو رن کو بھی جائے نہ یہ غلام\r\nبندے ہیں ہم اطاعتِ مالک سے ہم کو کام\r\nتکرار کی مجال نہ اصرار کا مقام\r\nمرتے اگر تو اس میں بھی تھا آپ ہی کا نام\r\nروتی ہیں آپ کس لیے اچھا نہ جائیں گے\r\nپر یاد رکھیے منہ نہ کسی کو دکھائیں گے\r\nیہ کہہ کے جھک گیا جو قدم پر وہ ذی وقار\r\nبس ہو گئیں محبتِ قلبی سے بے قرار\r\nپھیلا کے دونوں ہاتھوں کو اٹھیں بحال زار\r\nشکوے کے بدلے منہ سے یہ نکلا کہ میں نثار\r\nامڈا یہ دل کہ چشم کے ساغر چھلک پڑے\r\nدیکھا جو آفتاب کو آنسو ٹپک پڑے\r\nلے کر بلایں بولیں کہ واری خفا نہ ہو\r\nصدقے ہے تم پہ جان ہماری خفا نہ ہو\r\nباتیں تھیں یہ تو پیار کی ساری خفا نہ ہو\r\nروتے ہو کیوں منگاؤ سواری خفا نہ ہو\r\nآئے بلا حسینؔ پہ جو اس کو رد کرو\r\nاچھا سدھارو دکھ میں پدر کی مدد کرو\r\nالفت کے جوش میں تو یہ منہ سے کہا مگر\r\nاٹھا یہ دل میں درد کہ تھرا گیا جگر\r\nکبراؔ کو روتے دیکھ کے بولی وہ نوحہ گر\r\nکیا ماجرا ہوا مجھے مطلق نہیں خبر\r\nمیں روکنے نہ پائی کہ وار ان کا چل گیا\r\nکیا میں نے کہہ دیا کہ کلیجہ نکل گیا\r\nکیا جا کے اب نہ آئے گا گھر میں یہ نونہال\r\nہے ہے مری کمائی پہ آ جائے گا زوال\r\nجس وقت سے شہید ہوئے رن میں دونوں لال\r\nبیہوش ہوں، حواس میں ہے میرے اختلال\r\nایسا ہے اضطراب کہ کچھ جس کی حد نہیں\r\nجو آپ میں نہ ہو سخن اس کا سند نہیں\r\nمیں ہوش میں نہ تھی یہ قدم پر گرے تھے جب\r\nمیں بھی کہوں، یہ پاؤں پہ گرنے کا کیا سبب\r\nلو مجھ پہ اب کھلا کہ یہ رخصت کی تھی طلب\r\nاکبرؔ کو میں نے ہاتھ سے کھویا تھا ہے غضب\r\nاِصلا خبر نہیں مرے دلبر نے کیا کہا\r\nمیں نے جواب کیا دیا اکبرؔ نے کیا کہا\r\nکیا کہہ دیا تھا مرنے کو جائے یہ گل بدن\r\nراضی ہوئی تھی میں کہ خزاں ہو مرا چمن\r\nبیخود ہوں جب سے رن میں سدھارے شہِ زمن\r\nکہتی ہوں کچھ زباں سے نکلتا ہے کچھ سخن\r\nاتنی خبر نہیں علیؔ اکبر کے پیار میں\r\nقابو میں ہے نہ دل نہ زباں اختیار میں\r\nزندوں میں ہوتی گر تو یہ کہتی کہ مرنے جائیں\r\nاس پیاس میں شہید ہوں فاقوں میں زخم کھائیں\r\nاٹھا رواں برس ہے دلھن تو مجھے دکھائیں\r\nپالا ہے منتوں سے، مُرادیں مری برآئیں\r\nمرتی ہوں اشتیاق میں سہرا تو دیکھ لوں\r\nسہرے کے نیچے چاند سا چہرا تو دیکھ لوں\r\nرخصت کے نام سے مرا پھٹتا ہے اب جگر\r\nایسا نہ ہو کہ بانوئے بے کس کو ہو خبر\r\nگر سن لیا تو دل میں کہے گی وہ نوحہ گر\r\nپیارا ہوا نہ بنتِ علیؔ کو مرا پسر\r\nسمجھیں تھیں کیا جو دی اسے رخصت جدال کی\r\nزینبؔ نے ہائے قدر نہ کی میرے لال کی\r\nسچ ہے کہ اس کی چاہ سے نسبت مجھے کہاں\r\nہوں لاکھ ان کی چاہنے والی وہ پھر ہے ماں\r\nآنکھوں کا نور قلب کی طاقت بدن کی جاں\r\nآنچ آتما کی ہے وہ قیامت کہ، الاماں\r\nکیا سوچتے ہو صاحبو کچھ تم کو خیر ہے\r\nماں ہے تو ماں ہے خلق میں پھر غیر غیر ہے\r\nماں کی نہ کم توجہی اور نہ کسی کا پیار\r\nغصہ ہو، یا کہ سخت کہے دل میں ہے نثار\r\nبلبل فدا ہے گل پہ، شکایت کرے ہزار\r\nدنیا میں عاشقوں کے دلوں کو کہاں قرار\r\nدیں ماں کا ساتھ نامِ خدا اب جوان ہیں\r\nمیرا ہے جب یہ حال، پھر اس کی تو جان ہیں\r\nجس دم سنے یہ دُور سے بانو نے سب کلام\r\nآئی قریب حضرت زینب وہ نیک کام\r\nکی غرض ہاتھ جوڑ کے اے خواہر امام\r\nمیں ہوں کنیز آپ کی اور یہ پسر غلام\r\nکس کی مجال ہے جو کہے گا یہ کیا کیا\r\nبی بی نے دی غلام کو رخصت، بجا کیا\r\nلونڈی ہے فاطمہ کی کنیزوں میں با وفا\r\nہو قطع وہ زباں جو کرے آپ کا گلا\r\nحضرت کو ان کے سر پہ سلامت رکھے خدا\r\nمالک ہیں آپ اس میں کسی کو ہے دخل کیا\r\nکچھ جائے گفتگو ہے نہ ماں کو نہ باپ کو\r\nہے دخل اذن دینے نہ دینے کا آپ کو\r\nغم کھائیے نہ خونِ جگر آپ پیجئے\r\nعابدؔ کو بھیج دیجیے اصغرؔ کو بھیجئے\r\nہے اختیار دیجیے رخصت نہ دیجیے\r\nقربان جاؤں جو ہو مناسب وہ کیجیے\r\nشادی ہو یا کہ غم ہو شریکِ ثواب ہوں\r\nہر طرح سے میں تابع حکمِ جناب ہوں\r\nگھر میرا جب سے لٹ گیا اس گھر میں آئی ہوں\r\nشکوے کا کوئی حرف کبھی لب پہ لائی ہوں\r\nکسریٰ کی گو کہ پوتی ہوں سلطاں کی جائی ہوں\r\nلونڈی ہوں آپ کی علیؔ اکبر کی دائی ہوں\r\nصدقہ یہ آپ کا ہے جو شہ کو عزیز ہوں\r\nبھاوج نہ جانیے مجھے ادنیٰ کنیز ہوں\r\nآپ اس کی ماں ہیں آپ کا فرزند ہے یہ لال\r\nدخل اس معاملہ میں کوئی دے یہ کیا مجال\r\nیہ عازم جدال ہے اور آپ کا یہ حال\r\nقدموں کو چھوڑتا نہ کبھی یہ نکو خصال\r\nآپ اس کو چاہتی ہیں یہ صدقے ہے آپ پر\r\nپر کیا کرے کہ آج مصیبت ہے باپ پر\r\nقسمت بری ہے اس میں کسی کا قصور کیا\r\nاچھا رہیں کہ جائیں ہمارا بھی ہے خدا\r\nپروا ہماری ہے نہ خیال ان کو آپ کا\r\nتابع ہم آپ کے بھی ہیں ان پر بھی ہیں فدا\r\nعابدؔ ہوں یا کہ یہ سبھی، آنکھوں کے تارے ہیں\r\nپر اب تو یہ نہ آپ کے ہیں، نہ ہمارے ہیں\r\nیہ سن کے کانپنے لگی زینبؔ جگر فگار\r\nآئی صدائے فاطمہؔ بیٹی یہ ماں نثار\r\nاللہ یہ محبتِ فرزند اور یہ پیار\r\nتنہا ستم کی فوج میں ہے میرا گل عذار\r\nرخصت نہ دے گی تو اگر اس نور عین کو\r\nکون اب بچائے گا مرے بیکس حسینؔ کو\r\nآواز سن کے کانپ گئی بنتِ مرتضا\r\nبانوؔ کے منہ کو دیکھ کے اکبرؔ سے یہ کہا\r\nواری سدھارو خیر جو کچھ مرضیِٔ خدا\r\nترکِ ادب ہے تم کو اگر اب نہ دوں رجا\r\nیاں والدہ بہشت سے تشریف لائی ہیں\r\nبنتِ نبی تمہاری سفارش کو آئی ہیں\r\nتسلیم کرکے خیمے سے وہ سیم بر چلا\r\nپیچھے حرم کا قافلہ سب ننگے سر چلا\r\nبانوؔ پکارتی تھی کہ پیارا پسر چلا\r\nچلاتی تھی پوپھی مرا لختِ جگر چلا\r\nلٹتے ہیں اہلِ بیت دہائی امام کی\r\nتصویر گھر سے جاتی ہے خیر الانام کی\r\nبھائی کے غم سے عابدِ بیکس تھے بے قرار\r\nاٹھتے تھے اور زمین پہ گرتے تھے باربار\r\nبہنیں پکارتی تھیں کہ بھیا ترے نثار\r\nسینوں کو پیٹتی تھیں خواصیں بہ حال زار\r\nاک حشر تھا جدا علیؔ اکبر جو ہوتے تھے\r\nجھولے میں پھوٹ پھوٹ کے اصغرؔ بھی روتے تھے\r\nہلتا تھا خیمہ رانڈوں میں تھی، یہ دھڑا دھڑی\r\nآہوں کی بجلیاں تھیں تو اشکوں کی تھی جھڑی\r\nکوئی ادھر کو غش تھی کوئی تھی اُدھر پڑی\r\nآفت کا وقت تھا تو قیامت کی تھی گھڑی\r\nماتم تھا یہ حسینؔ کے تازہ جوان کا\r\nجاتا ہے گھر سے جیسے جنازہ جوان کا\r\nنکلا حرم سرا سے جو وہ نورِ حق کا نور\r\nخادم نے دی صدا کہ برآمد ہوئے حضور\r\nحضرت کھڑے تھے خیمے کی ڈیوڑھی سے کچھ جو دور\r\nدستِ ادب کو جوڑ کے بولا وہ ذی شعور\r\nرخصت ہوں اب جو حکم شہ نامدار ہو\r\nرو کر کہا حسینؔ نے اچھا سوار ہو\r\nگھوڑے پہ شاہزادۂ عالم ہوا سوار\r\nگویا چلے جہاد کو محبوب کردگار\r\nتھا ثانیِٔ براق فلک سیر راہوار\r\nصرصر سے تند و تیز تو بجلی سے بے قرار\r\nیوں سامنے سے وہ دمِ جولاں نکل گیا\r\nگویا ہوا پہ تختِ سلیماں نکل گیا\r\nحضرت تو یاں زمیں پہ گرے تھام کر جگر\r\nجاسوس نے یہ لشکر اعدا کو دی خبر\r\nآتا ہے اک جوانِ حسیں غیرت قمر\r\nچہرہ پہ اس کے نور محمد ہے جلوہ گر\r\nشان و شکوہ سب اسدِ کبریا کی کی ہے\r\nکہتے ہیں سب بشر نہیں قدرت خدا کی ہے\r\nہے دھوم ذرے ذرے میں اس آفتاب کی\r\nخوشبو ہے زلف و جسم میں مشک و گلاب کی\r\nسر تا قدم ہے شان رسالت مآب کی\r\nتصویر ہے رسولِ خدا کے شباب کی\r\nگھوڑے کے گرد جن و ملک کا ہجوم ہے\r\nصلّو علی النبی کی بیاباں میں دھوم ہے\r\nروشن کیا ہے روئے منور نے راہ کو\r\nرخ پر نہیں ٹھہرنے کا یارا نگاہ کو\r\nحیراں ہے عقل دیکھ کے زلفِ سیاہ کو\r\nآغوش میں لیے ہے شبِ قدر ماہ کو\r\nچہرے کے نور سے شبِ مہتاب ماند ہے\r\nخالق گوا ہ ہے کہ اندھیرے کا چاند ہے\r\nیہ ذکر تھا کہ نورِ خدا جلوہ گر ہوا\r\nگویا رسولِ پاک کا رن میں گذر ہوا\r\nچلائے اہلِ شام کہ طالع قمر ہوا\r\nہنگامِ ظہر تھا پہ گمانِ سحر ہوا\r\nجلوہ دکھایا برق تجلیِٔ طور نے\r\nخورشید کو چھپا دیا چہرے کے نور نے\r\nغش کھا گیا کوئی کوئی گر کر سنبھلا گیا\r\nصلِّ علیٰ کسی کی زباں سے نکل گیا\r\nخجلت سے آفتاب کا نقشبہ بدل گیا\r\nچمکا جو نور دھوپ کا جو بن بھی ڈھل گیا\r\nدریائے نور حق کا فقط اوج موج تھا\r\nسب پست تھے زمیں کے ستارے کا اوج تھا\r\nصحرا کو شمعِ حسن نے تابند کر دیا\r\nجو مردہ دل تھے دم میں انہیں زندہ کر دیا\r\nذروں کو آفتاب درخشندہ کر دیا\r\nگردوں کو اس زمین نے شرمندہ کر دیا\r\nپایہ زمیں کا عرش کے ہم دست ہو گیا\r\nجادے سے اوجِ کاہکشاں پست ہو گیا\r\nاللہ رے نبیرۂ مشکل کشا کی شان\r\nتھی جس کے عضو عضو سے پیدا خدا کی شان\r\nحیراں تھے لوگ دیکھ کے اس مہ لقا کی شان\r\nحمزہ کا رعب زورِ علی مصطفی کی شان\r\nپاکیزگی نسب میں بزرگی صفات میں\r\nشیرینیٔ کلام حسنؔ بات بات میں\r\nکچھ حسن بچپنے کا تو کچھ آمد شباب\r\nوہ گل سا جسم اور وہ چہرے کی آب و تاب\r\nاپنی جگہ یہ خال کے نقطے ہیں انتخاب\r\nپتلی کا نور جن کی سیاہی سے بہرہ یاب\r\nگردن کی ضو میں طَور تجلیٔ طُور کے\r\nسب عضو تن ڈھلے ہوئے سانچے میں نور کے\r\nدل پاک روح پاک نطر پاک جسم پاک\r\nطینت میں آبِ خلد تھا اور کربلا کی خاک\r\nغرفوں سے جس کے حسن کی حوروں کو جھانک تاک\r\nیوسف جو دیکھ لیں تو کہے روحنا فداک\r\nنام اس کا لوح پر جو قلم نے رقم کیا\r\nسو بار پڑھ کے سورۂ نور اس پہ دم کیا\r\nکیا دخل، چار ہو، جو کسی بے ادب کی آنکھ\r\nرکھتی تھی رعب یہ، نہ عجم نہ عرب کی آنکھ\r\nلاکھوں تھے اس طرف پہ جھپکتی تھی سب کی آنکھ\r\nغصہ ستم کا، قہر کی چتون غضب کی آنکھ\r\nپانی تھا، خوف جاں سے جگر، ہر دلیر کا\r\nآہو شکار کرتے تھے میداں میں شیر کا\r\nغل تھا رسولِ پاک کے ثانی کو دیکھنا\r\nحسنِ بہار باغ جوانی کو دیکھنا\r\nکھلتے ہیں گل شگفتہ بیانی کو دیکھنا\r\nیہ سب تو ہے پہ غنچہ دہانی کو دیکھنا\r\nنازک لب اس صفت کے دہن اس طریق کا\r\nخاتم پہ جڑ دیا ہے نگینہ عقیق کا\r\nکچھ عمر بھی نہیں ابھی اٹھارواں ہے سال\r\nیہ باغ کس بہار میں ہوتا ہے پائمال\r\nقامت یہ ہے کہ سروِ گلستانِ اعتدال\r\nماں باپ دیکھ دیکھ کے کیوں کر نہ ہوں نہال\r\nآنکھوں کے سامنے جو یہ قامت نہ ہوئے گی\r\nبتلاؤ ماں کہ دل پہ قیامت نہ ہوئے گی\r\nزخمی جو ہوگی تیر سے یہ چاند سی جبیں\r\nپٹکے گی سر کو خاک پہ بانوئے دل حزیں\r\nتیغوں سے جب کٹیں گے یہ رخسار نازنیں\r\nپیٹیں گے دونوں ہاتھوں سے منہ اپنا شاہِ دیں\r\nسینہ چھدے پسر کا تو کیا دل کو کل پڑے\r\nایوبؔ بھی جو ہوں تو کلیجہ نکل پڑے\r\nناگاہ فوج کیں سے عمرؔ نے کیا کلام\r\nیہ وقت کار زار ہے اے ساکنانِ شام\r\nبس ہے یہی بساط شہنشاہِ خاص و عام\r\nمارا گیا یہ شیر تو مر جائیں گے امام\r\nلُوٹو جناب فاطمہؔ زہرا کے باغ کو\r\nٹھنڈا کرو حسینؔ کے گھر کے چراغ کو\r\nتصویر مصطفی کی مٹائے گا آج جو\r\nکہتا ہوں میں کہ صاحب جاگیر ہوگا وہ\r\nمحبوب کبریا کے مشابہ ہے گر تو ہو\r\nاب مصلحت یہی ہے کہ مہلت اسے نہ دو\r\nہے اس سے کیا مراد حسیں ہے کہ نیک ہے\r\nدو لاکھ اس طرف ہیں دلاور وہ ایک ہے\r\nدنیا نہ جائے دین کا گر ہو تو ہو ضرر\r\nٹکڑے کرو اسے کہ یہ دشمن کا ہے پسر\r\nتم آب دیدہ ہو لبِ خشک اس کے دیکھ کر\r\nقطرہ نہ دوں میں گھٹنیوں اصغرؔ بھی آئے گر\r\nغیر از یزیدؔ اور کوئی حکمراں نہ ہو\r\nاولاد مرتضیٰ میں کسی کا نشاں نہ ہو\r\nہاں غازیو نہ اس کی جوانی کا غم کرو\r\nنیزے پہ نیزے مارو ستم پر ستم کرو\r\nبرچھی اٹھاؤ ہاتھوں پہ تیغیں علم کرو\r\nنخلِ مرادِ سبطِ نبی کو قلم کرو\r\nبیٹا نہ جب رہا تو کدھر جائیں گے حسینؔ\r\nگھوڑے سے یہ گرے گا تو مرجائیں گے حسینؔ\r\nچھد جائے گا سناں سے جو اس شیر کا جگر\r\nتڑپیں گے کیا زمیں پہ شہنشاہ بحر و بر\r\nڈیوڑھی سے ماں پکارے گی ہے ہے مرا پسر\r\nنکلے گی خیمہ گاہ سے زینبؔ برہنہ سر\r\nحضرت تو پیٹتے ہوئے لاشے پہ آئیں گے\r\nہم لوٹنے کو خیمۂ اقدس میں جائیں گے\r\nیہ گل عذار دخترِ حیدرؔ کی جان ہے\r\nبہنوں کی زندگی ہے برادر کی جان ہے\r\nبابا کی روح ہے تنِ مادر کی جان ہے\r\nبے جاں کرو اسے کہ یہ سب گھر کی جان ہے\r\nجوشن یہی ہے بازوئے برناوپیر کا\r\nبعد اس کے خاتمہ ہے صغیر و کبیر کا\r\nیہ سن کے فوجِ کیں ہوئی آمادۂ نبرد\r\nدردِ دل حسین کا تھا ایک کو نہ درد\r\nغل سن کے ہو گیا شہ والا کا رنگ زرد\r\nکانپے جو پاؤں بیٹھ گئے بھر کے آہ سرد\r\nماں گر پڑی زمیں پہ پھوپھی بلبلا گئی\r\nبدلی ستم کی واں علیؔ اکبر پہ چھا گئی\r\nقرنا پھکی سپاہ میں طبلِ وغا بجا\r\nباندھے پرے سواروں نے بڑھ بڑھ کے جابجا\r\nپیدل، چلے نبرد کو باجے بجابجا\r\nچلاے اہلِ بیت کہ ہے ہے یہ کیا بجا\r\nحضرت پکارے لال پہ اعدا کے ریلے ہیں\r\nرانڈو دعا کرو علیؔ اکبر اکیلے ہیں\r\nلڑنے کو اس طرف سے عدو سب کے سب بڑھے\r\nتنہا ادھر سے اکبرؔ عالی نسب بڑھے\r\nچومے قدم نہیب نے جھک کر یہ جب بڑھے\r\nگویا پئے جہاد امیر عرب بڑھے\r\nدہشت سے فوج شام کی بدلی سمٹ گئی\r\nقدرت خدا کی دن جو بڑھا رات گھٹ گئی\r\nڈھالوں کو رکھ کے چہروں پہ گر گر پڑے حسود\r\nگو تھے کئی ہزار پہ کیا ان کی ہست و بود\r\nتھرا گیا تمام جنودِ سقر و رود\r\nنورِ خدا کے سامنے ظلمت کی کیا نمود\r\nعبرت سپاہ شام پہ دِہ چند ہو گئی\r\nباجوں کی فوجِ کیں کے صدا بند ہو گئی\r\nجرار کی زرہ پہ لگے جب کئی خدنگ\r\nصفدر نے پڑھ کے فاتحہ، لی تیغ شعلہ رنگ\r\nچمکا اک آئینہ کہ ہوئی فوجِ شام دنگ\r\nدکھلائے تیغ تیز نے بجلی کے رنگ ڈھنگ\r\nتھی کس کو تاب صاعقۂ شعلہ بار کی\r\nیاد آ گئی ہر اک کو چمک ذوالفقار کی\r\nتھم تھم کے یوں گیا صفِ اعدا پہ وہ دلیر\r\nجاتا ہے داؤں کر کے غزالوں پہ جیسے شیر\r\nغازی جو بھوک پیاس میں تھا زندگی سے سیر\r\nکشتوں کے پشتے ہو گئے دم میں سروں کے ڈھیر\r\nاک سیل زور شور سے آئی گذر گئی\r\nثابت نہ یہ ہوا صفِ اول کدھر گئی\r\nجب یہ بڑھے لہو تنِ اعدا کا گھٹ گیا\r\nباقی تھا جو حساب وہ لاشوں سے پٹ گیا\r\nلشکر میں فرد فرد کا چہرا جو کٹ گیا\r\nپس دفعتاً سپاہ کا دفتر الٹ گیا\r\nسر داخلِ خزانۂ سرکار ہوگئے\r\nپہلا ہی جائزہ تھا کہ بیکار ہوگے\r\nچہرے پہ ایک کے نہ بحالی نظر پڑی\r\nجو صف بھری ہوئی تھی وہ خالی نظر پڑی\r\nسر پر سبھوں کے تیغ ہلالی نظر پڑی\r\nسوئے جنوب فوجِ شمالی نظر پڑی\r\nغل تھا کہ تیغ تیز نہیں موت آتی ہے\r\nکیوں کر قدم تھمیں کہ زمیں سرکی جاتی ہے\r\nٹکڑے پڑے تھے خاک پہ بھالے اِدھر اُدھر\r\nچھپتے تھے ڈر کے برچھیوں والے اِدھر اُدھر\r\nپیشِ نظر تھے خون کے تھالے اِدھر اُدھر\r\nابتر تھے دشتِ کیں میں رسالے اِدھر اُدھر\r\nملتا تھا فصل کا نہ ٹھکانا نہ باب کا\r\nشیرازہ کھل گیا تھا ستم کی کتاب کا\r\nبڑھ کر کسی نے وار جو روکا سپر کٹی\r\nچار آئینہ کٹا زرہِ خیرہ سر کٹی\r\nنیزے کی ہرگرہ صفتِ نیشکر کٹی\r\nسینہ کٹا جگر ہوا زخمی کمر کٹی\r\nرہوار بھی دو نیم میانِ مصاف تھا\r\nان سب کے بعد منہ کو جو دیکھا تو صاف تھا\r\nوہ گھاٹ باڑھ اور وہ اس کی چمک دمک\r\nکانپی کبھی زمیں کبھی تھرا گئے فلک\r\nشعلے میں یہ چمک تھی نہ بجلی میں یہ لپک\r\nہر ضرب میں سما سے تلاطم تھا تا سمک\r\nکونین میں حواس بجا تھے نہ ایک کے\r\nگاوِ زمیں سمٹتی تھی گھنٹوں کو ٹیک کے\r\nسیدھی چلی وہ جب صفِ دشمن الٹ گئی\r\nباقی تھی جتنی عمر تہِ تیغ کٹ گئی\r\nآ کر زمیں پہ جب سوئے گردن پلٹ گئی\r\nبجلی سے رعد رعد سے بجلی لپٹ گئی\r\nگرتے تھے جن، زمین پہ منہ ڈھانپ ڈھانپ کے\r\nہٹتے تھے جبرئیل امیں کانپ کانپ کے\r\nملتا نہ تھا صفوں میں عَلم کا نشاں کہیں\r\nچلے کہیں تھے شست کہیں اور کماں کہیں\r\nنیزے کہیں تھے ڈانڈ کہیں اور سناں کہیں\r\nجمدھر کہیں کمند کہیں برچھیاں کہیں\r\nاک اک سیاہ رو کا جگر داغ داغ تھا\r\nجنگل تمام ڈھالوں کے پھولوں سے باغ تھا\r\nچمکی گری اٹھی ادھر آئی اُدھر گئی\r\nخالی کیے پرے تو صفیں خوں میں بھر گئی\r\nکاٹے کبھی قدم کبھی بالائے سر گئی\r\nندی غضب کی تھی کہ چڑھی اور اتر گئی\r\nاک شور تھا یہ کیا ہے جو قہر صمد نہیں\r\nایسا تو رودِ نیل میں بھی جزر و مد نہیں\r\nسر خود سروں کے چنبر گردن سے اڑ گئے\r\nہاتھ آستیں سے اڑ گئے سر تن سے اڑ گئے\r\nڈر ڈر کے سب پرند نشیمن سے اڑ گئے\r\nپائی جو راہ طائرِ جاں سَن سے اڑ گئے\r\nتھے قتلِ عام پر علیؔ اکبر تلے ہوئے\r\nرستے تھے بند زخموں کے کوچے کھلے ہوئے\r\nاللہ رے دو زبانیٔ تیغ دو دم کا کاٹ\r\nآفت تھی جس کی باڑھ قیامت تھا جس کا گھاٹ\r\nمقتل سے تا بہ نہر تھا دریائے خوں کا پاٹ\r\nہر دم تھی اس کو تازہ لہو چاٹنے کی چاٹ\r\nسختی کو جوڑ بند کے کب مانتی تھی وہ\r\nہر استخواں کو مغز قلم جانتی تھی وہ\r\nآئی جدھر پلٹ کے صفوں کو بچھا گئی\r\nتن سے اڑا دیا وہی سر جس کو پا گئی\r\nہر اک کڑی کو نرم سمجھ کر چبا گئی\r\nفولاد کی زرہ کو اشارے میں کھا گئی\r\nچار آئینہ کا کاٹ بھی اس پر حوالہ تھا\r\nذکر اس کا کیا ہے خود تو منہ کا نوالہ تھا\r\nیارا قرار کا تھا نہ صورت فرار کی\r\nپیدل کی موت تھی تو خرابی سوار کی\r\nروئیں تنوں کو، تاب نہ تھی ایک وار کی\r\nٹکڑے تھے دو کے ہاتھ یہ گھائی تھی چار کی\r\nآگے بڑھے تو منہ وہیں کٹ جائے گیو کا\r\nبجلی کی تھی کڑک کہ طمانچہ تھا دیو کا\r\nاتری زمیں پہ وہ سر دشمن پہ جب چڑھی\r\nدم بھر میں آبِ تیغ کی ندی غضب چڑھی\r\nاک شور تھا صفوں میں کب اتری یہ کب چڑھی\r\nسب کو بخارِ تیغ سے لرزے کی تپ چڑھی\r\nمقتل سے بھاگنے پہ تنک ظرف تُل گئے\r\nکانپے یہ نیزہ باز کہ سب بند کُھل گئے\r\nزندہ کسی کو تیغ دو دم چھوڑتی نہ تھی\r\nپیاسی یہ تھی کہ جسم میں دم چھوڑتی نہ تھی\r\nبے دم کیے گلا کوئی دم چھوڑتی نہ تھی\r\nبھاگیں کہاں کہ موت قدم چھوڑتی نہ تھی\r\nخود وہ دبے جو لڑتے تھے گھوڑوں کو داب کے\r\nبیڑی قدم میں بن گئے، حلقے رکاب کے\r\nقعرِ سقر میں کشتۂ ضربِ نخست تھے\r\nبے سر ہوئے بہت جو لڑائی میں چست تھے\r\nقبضہ میں تھا نہ زور نہ بازو درست ھے\r\nکھینچیں کسے کمانوں کے بازو بھی سست تھے\r\nہر کج نہاد تیر اجل کا نشانہ تھا\r\nشانے بھی تھے قلم یہ نیا شاخسانہ تھا\r\nتیغوں کو ڈر کے عربدہ جو پھینکنے لگے\r\nمغفر سروں سے مثل سبو پھینکنے لگے\r\nحلقے کماں کے سب لب جو پھینکنے لگے\r\nتنکا سمجھ کے تیر عدو پھینکنے لگے\r\nترکش بھی اہل ظلم کے آفت رسیدہ تھے\r\nچلّے بھی کشمکش میں کماں سے کشیدہ تھے\r\nکرتے تھے فتح جنگ کو جو ایک آن میں\r\nرعشہ تھا ان کے ہاتھ میں لکنت زبان میں\r\nالجھاتے تھے کمند کمینے کمان میں\r\nترکش میں تیغیں رکھتے تھے تیروں کو میان میں\r\nتلوار رکھ کے ہاتھ سے منہ ڈھانپ لیتے تھے\r\nآتی تھی تیغ جب تو سپر پھینک دیتے تھے\r\nبڑھتے تھے جو پرے سے بڑے بول بول کے\r\nپہلے انہیں کو مار لیا رول رول کے\r\nحملہ کیا جو تیغِ دو دم تول تول کے\r\nہتھیار سب نے پھینک دیے کھول کھول کے\r\nاس شان سے کبھی نہ عجم نہ عرب لڑے\r\nدو دن کی پیاس میں علیؔ اکبر غضب لڑے\r\nدہشت سے کتنے ڈوب کے دریا میں مر گئے\r\nاس گھاٹ پر جو آئے سر ان کے اتر گئے\r\nرستہ تھا ایک اِدھر وہ گئے یا اُدھر گئے\r\nہر پھر کے ہر طرف سے میانِ سقر گئے\r\nنار ان کے اشتیاق میں آب ان کی لاگ میں\r\nپھینکا ہوا نے آب میں پانی نے آگ میں\r\nوہ حرب وہ شکوہ وہ شان پیمبری\r\nنعرے وہ زور و شور کے وہ ضرب حیدریؔ\r\nوہ تیغ خوں چکاں وہ جلالِ غضنفری\r\nراکب جو رشکِ حور تو رہوار بھی پری\r\nچالاک آہوانِ ختن اس قدر نہ تھے\r\nاڑ جاتا تھا ہما کی طرح اور پر نہ تھے\r\nباریک جلد وہ کہ نظر آئے تن کا خوں\r\nکنڈے کو دیکھ کر مہِ نو ہووے سرنگوں\r\nرفتار میں وہ سحر کہ پریوں کو ہو جنوں\r\nغنچے بھی کچھ بڑے ہیں کنوتی کو کیا کروں\r\nقرباں ہزار جان، فرس بے نظیر پر\r\nپیکان دو چڑھے ہوئے ہیں ایک تیر پر\r\nکوتاہ و گرد و صاف کنوتی کمر کفل\r\nکیا خوشنما کشادگیِٔ سینہ و بغل\r\nسیماب کی طرح نہیں آرام ایک پل\r\nپھرتا تھا اس طرح کہ پھرے جس طرح سے کَل\r\nراکب نے سانس لی کہ وہ کوسوں روانہ تھا\r\nتارِ نفس بھی اس کے لیے تازیانہ تھا\r\nوہ جست خیز سرعتِ چالاکیِٔ سمند\r\nسانچے میں تھے ڈھلے ہوئے سب اس کے جوڑ بند\r\nسُم قرص ماہتاب سے روشن ہزار چند\r\nنازک مزاج و شوخ و سیہ جسم سر بلند\r\nگر ہل گئی ہوا سے ذرا باگ اڑ گیا\r\nپُتلی سوار کی نہ پھری تھی کہ مُڑ گیا\r\nآہو کی جست شیر کی آمد پری کی چال\r\nکبکِ دری خجل پر طاؤس پائمال\r\nسبزہ سبک روی میں قدم کے تلے نہال\r\nاک دو قدم میں بھول گئے چوکڑی غزال\r\nجو آ گیا قدم کے تلے گرد برد تھا\r\nچھل بل غضب کی تھی کہ چھلاوا بھی گرد تھا\r\nبجلی کبھی بنا کبھی رہوار بن گیا\r\nآیا عرق تو ابر گہر بار بن گیا\r\nگہ قطب، گاہ گنبد دوّار بن گیا\r\nنقطہ کبھی بنا کبھی پرکار بن گیا\r\nتیراں تھے اس کے گشت پہ لوگ اس ہجوم کے\r\nتھوڑی سی جا میں پھرتا تھا کیا جھوم جھوم کے\r\nجب اس جری نے قتل کیے پانچ سو جواں\r\nہر صف سے ہر پرے سے اٹھا شور الاماں\r\nچلایا ابن سعدِ سیہ قلب و سخت جاں\r\nنکلیں وہ دس ہزار کماندار ہیں کہاں\r\nبرچھی کا اب ہے کام نہ تلوار چاہیے\r\nاس نوجواں پہ تیروں کی بوچھار چاہیے\r\nیہ سن کے تشنہ لب پہ چلے چار سو سے تیر\r\nپتھر عقب سے پڑنے لگے رو برو سے تیر\r\nآتے تھے فوج فوج، سپاہِ عدو سے تیز\r\nسب سرخ تھے شبیہ نبی کے لہو سے تیر\r\nمقتل میں کیا ہجوم تھا اس نور عین پر\r\nپروانے گر رہے تھے چراغِ حسینؔ پر\r\nسینے پہ تیر کھا کے اٹھایا جو راہوار\r\nبجلی چمک کے ہو گئی گویا فلک کے پار\r\nسر خاک پر گرانے لگی تیغِ آبدار\r\nتیروں کو پھینک پھینک کے بھاگے خطا شعار\r\nحملہ کیا تھا جن پہ رخ ان کے تو پھر گئے\r\nپر یہ پلٹ کے برچھیوں والوں میں گھر گئے\r\nیوں آ گیا سنانوں میں وہ آسماں جناب\r\nہو جس طرح خطوطِ شعاعی میں آفتاب\r\nسوکھی زباں میں پڑ گئے کانٹے بغیر آب\r\nطاقت بھی فرط ضعف سے دینے لگی جواب\r\nآمد ہوئی جو غش کی سرِ پاک جھک گیا\r\nواحسرتا کہ ہاتھ بھی لڑنے سے رک گیا\r\nاس حال میں بھی تیغ سے کیں برچھیاں قلم\r\nلیکن جگر پہ لگ گیا اک نیزۂ ستم\r\nزخمِ جگر سے بہنے لگا خون دم بہ دم\r\nنکلے ہوئے رکابوں سے تھراتے تھے قدم\r\nکھینچا جو اس نے سینے سے نیزہ تکاں کے ساتھ\r\nدو پارۂ جگر نکل آئے سناں کے ساتھ\r\nنیزہ لگا کے بھاگ چلا تھا وہ نابکار\r\nقربان جرأتِ پسرِ شاہِ نامدار\r\nزخمِ سناں تھا سینۂ انور کے وار پار\r\nماری شقی کو دوڑ کے اک تیغ آبدار\r\nپہونچوں سے اس کے ہاتھ قلم ہو کے گر پڑے\r\nلیکن فرس سے آپ بھی خم ہو کے گر پڑے\r\nگرنا تھا بس کہ سر پہ لگا گرز ہے ستم\r\nیوں جھک گئے کہ ہوتے ہیں سجدے میں جیسے خم\r\nرکھ دی گلے پر شیثؔ نے شمشیر تیز دم\r\nتلوار اک پڑی کہ ہوئیں پسلیاں قلم\r\nغل تھا کرو نہ رحم تنِ پاش پاش پر\r\nدوڑا دو گھوڑے اکبرؔ مہرو کی لاش پر\r\nحضرت کھڑے تھے خیمے کی پکڑے ہوئے طناب\r\nسن کر یہ غل رہی نہ دلِ ناتواں کو تاب\r\nناگاہ رن سے آئی صدا اے فلک جناب\r\nبیٹا جہاں سے جاتا ہے اب آئیے شتاب\r\nلاشے پہ ظلم و جور بد افعال کرتے ہیں\r\nگھوڑوں سے اہل کیں ہمیں پامال کرتے ہیں\r\nسن کر یہ استغاثۂ فرزند خوش خصال\r\nسید نے آہ کی کہ ہلا عرش ذو الجلال\r\nکھولے جناب فاطمہؔ کی بیٹیوں نے بال\r\nبانوؔ پکاری خیر تو ہے اے علیؔ کے لال\r\nہے ہے پسر سے کون سی مادر بچھڑ گئی\r\nصاحب بتاؤ کیا مری بستی اجڑ گئی\r\nنیزے سے کس کے لال کا زخمی ہوا جگر\r\nکرتے ہیں کس کی لاش کو پامال اہلِ شر\r\nکہتا ہے کون رن میں تڑپ کر پدرپدر\r\nاب گھر سے میں نکلتی ہوں ہے ہے مرا پسر\r\nپردہ نہ مجھ سے کیجیے سب جانتی ہوں میں\r\nآواز یہ اسی کی ہے پہچانتی ہوں میں\r\nبانوؔ کو قسمیں دے کے چلے شاہِ نامدار\r\nوہ پیاس اور وہ دھوپ کا صدمہ وہ اضطرار\r\nدل تھا الٹ پلٹ تو کلیجہ تھا بے قرار\r\nاٹھتے تھے اور زمین پہ گرتے تھے باربار\r\nچلاتے تھے شبیہ پیمبر ہم آتے ہیں\r\nگھبرائیو نہ اے علیؔ اکبر ہم آتے ہیں\r\nبیٹا پکارو پھر کہ بصارت میں فرق ہے\r\nاے نور عین جسم کی طاقت میں فرق ہے\r\nتم یہ نہ جانیو کہ محبت میں فرق ہے\r\nزخمی ہے قلب روح کی راحت میں فرق ہے\r\nداغِ جگر ملا ہمیں گودی میں پال کے\r\nکس کو دکھاؤں اپنا کلیجہ نکال کے\r\nآؤں کدھر کو اے علیؔ اکبر جواب دو\r\nچلا رہی ہے ڈیوڑھی پہ مادر جواب دو\r\nاکبرؔ برائے خالقِ اکبر جواب دو\r\nبیٹا جواب دو مرے دلبر جواب دو\r\nگرتے ہیں ہم ثواب کا ہاتھوں سے کام لو\r\nبیٹا ضعیف باپ کے بازو کو تھام لو\r\nکچھ سوجھتا نہیں کہ کدھر جاؤں کیا کروں\r\nاے نورِ چشم تجھ کو کہاں پاؤں کیا کروں\r\nمضطر ہے جان و دل کسے سمجھاؤں کیا کروں\r\nکیوں کر پسر کو ڈھونڈھ کے میں لاؤں کیا کروں\r\nپایا تھا مدتوں میں جسے خاک چھان کے\r\nوہ لال ہم نے کھو دیا جنگل میں آن کے\r\nبس اب خبر حسینؔ کی لے جلد اے اجل\r\nاے جسم زار، زیست کا باقی نہیں محل\r\nاے جانِ ناتواں تنِ مجروح سے نکل\r\nہاں اے نفس چھری کی طرح سے گلے پہ چل\r\nچھوٹے نہ اس کا ہاتھ جو پیری کی آس ہو\r\nلاشہ بھی لاشۂ علیؔ اکبر کے پاس ہو\r\nجنگل سے بے حواس پھرے نہر پر گئے\r\nواں بھی جو وہ گہر نہ ملا سوئے بر گئے\r\nدوڑے کسی طرف تو کسی جا ٹھہر گئے\r\nتھالے ملے لہو کے برابر جدھر گئے\r\nٹپکا ہوا زمیں پہ جگر کا لہو ملا\r\nلیکن کہیں نہ وہ پسر ماہ رو ملا\r\nجا کر صفوں کے پاس پکارے باشکِ آہ\r\nہے کس طرف مرے علیؔ اکبر کی قتل گاہ\r\nاے ظالمو، یہ شب ہے کہ دن ہو گیا سیاہ\r\nکس ابر میں چھپا ہے مرا چودھویں کا ماہ\r\nبتلاؤ جان ہے کہ نہیں جسم زار میں\r\nزخمی پڑا ہے شیر مرا کس کچھار میں\r\nلاش پسر کو ڈھونڈھتے تھے شاہِ بحر و بر\r\nسر پیٹنے کی جا ہے کہ ہنستے تھے اہل شہر\r\nکہتا تھا شمر اے پسر سید البشر\r\nکس کو حضور ڈھونڈھتے ہیں مر گیا پسر\r\nخود ڈھونڈھ لیجیے جسد پاش پاش کو\r\nبتلائیں گے نہ ہم علیؔ اکبر کی لاش کو",
|
||
"HtmlText": null,
|
||
"PoemFormat": null,
|
||
"Language": "ur-PK",
|
||
"CoupletsCount": 447
|
||
}
|
||
],
|
||
"Verses": [
|
||
{
|
||
"VOrder": 1,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے",
|
||
"CoupletIndex": 0,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 2,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "لاکھوں سے تشنہ کام لڑے کام کر گئے",
|
||
"CoupletIndex": 0,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 3,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "امت کی مغفرت کا سر انجام کر گئے",
|
||
"CoupletIndex": 1,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 4,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "فیض اپنا مثلِ ابر کرم عام کر گئے",
|
||
"CoupletIndex": 1,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 5,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پڑھتے ہیں سب درود جو ذکر ان کے ہوتے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 2,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 6,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ایسے بشر وہ تھے کہ ملک جن کو روتے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 2,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 7,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دیندار و سرفروش و شجاع و خوش اعتقاد",
|
||
"CoupletIndex": 3,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 8,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہاتھوں میں تیغیں اور دلوں میں خدا کی یاد",
|
||
"CoupletIndex": 3,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 9,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "زخموں کو نخلِ قد پہ وہ سمجھے گلِ مراد",
|
||
"CoupletIndex": 4,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 10,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "مرادنگی یہ پیاس میں فاقوں میں یہ جہاد",
|
||
"CoupletIndex": 4,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 11,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تیغوں سے بند کون سا ان کا کٹا نہ تھا",
|
||
"CoupletIndex": 5,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 12,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پر معرکے سے پاؤں کسی کا ہٹا نہ تھا",
|
||
"CoupletIndex": 5,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 13,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "برسوں رہے گا چرخ میں، گر آسمانِ پیر",
|
||
"CoupletIndex": 6,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 14,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "لیکن نظر نہ آئے گا ان کا کہیں نظیر",
|
||
"CoupletIndex": 6,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 15,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "گورے نہ ان کے پاؤں، نہ روئے مہِ منیر",
|
||
"CoupletIndex": 7,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 16,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "خورشید جن کے سامنے اک ذرۂ حقیر",
|
||
"CoupletIndex": 7,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 17,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پرخوں قبائیں جسم میں، سینے تنے ہوئے",
|
||
"CoupletIndex": 8,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 18,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پہنچے ریاضِ خلد میں دولہا بنے ہوئے",
|
||
"CoupletIndex": 8,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 19,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "رستم اٹھا نہ سکتا تھا سر ان کے سامنے",
|
||
"CoupletIndex": 9,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 20,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "شیروں کے کانپتے تھے جگر ان کے سامنے",
|
||
"CoupletIndex": 9,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 21,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پھیکی تھی روشنیِٔ قمر ان کے سامنے",
|
||
"CoupletIndex": 10,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 22,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اڑتا تھا رنگ روئے سحر، ان کے سامنے",
|
||
"CoupletIndex": 10,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 23,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بخشا تھا نور، حق نے ہر اک خوش صفات کو",
|
||
"CoupletIndex": 11,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 24,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہوتا تھا دن، جو گھر سے نکلتے تھے رات کو",
|
||
"CoupletIndex": 11,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 25,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پیشانیوں پہ جلوہ نما اختر سجود",
|
||
"CoupletIndex": 12,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 26,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دیکھیں جو ان کا نور تو قدسی پڑھیں درود",
|
||
"CoupletIndex": 12,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 27,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "رخ سے عیاں جلال و جوانمردی و نمود",
|
||
"CoupletIndex": 13,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 28,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "شیدائے آل، شیفتۂ واجب الوجود",
|
||
"CoupletIndex": 13,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 29,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جینے کی شاہ دیں کو دعا دے کے مر گئے",
|
||
"CoupletIndex": 14,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 30,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ایماں کے آئینہ کو جِلا دے کے مر گئے",
|
||
"CoupletIndex": 14,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 31,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تاثیر کر گئی تھی انہیں صحبتِ امام",
|
||
"CoupletIndex": 15,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 32,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تھا نزع میں بھی خشک لبوں پہ خدا کا نام",
|
||
"CoupletIndex": 15,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 33,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "لبریز تھے محبت حیدرؔ سے دل کے جام",
|
||
"CoupletIndex": 16,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 34,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ذی قدر، ذی شعور، دلاور خجستہ کام",
|
||
"CoupletIndex": 16,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 35,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "لشکر جو ان پہ ٹوٹ پڑے شام و روم کے",
|
||
"CoupletIndex": 17,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 36,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تلواریں کھائیں جسم پہ کیا جھوم جھوم کے",
|
||
"CoupletIndex": 17,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 37,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "لاکھوں میں انتخاب ہزاروں میں لا جواب",
|
||
"CoupletIndex": 18,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 38,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تھا خشک و تر پہ جن کا کرم صورتِ سحاب",
|
||
"CoupletIndex": 18,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 39,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "وہ نور، وہ جلال، وہ رونق، وہ آب و تاب",
|
||
"CoupletIndex": 19,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 40,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "زہراؔ کے گھر کے چاند، زمانے کے آفتاب",
|
||
"CoupletIndex": 19,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 41,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بس یک بہ یک جہاں میں اندھیرا سا چھا گیا",
|
||
"CoupletIndex": 20,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 42,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دن بھی ڈھلا نہ تھا کہ زوال ان پہ آ گیا",
|
||
"CoupletIndex": 20,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 43,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "گل ہو گئے عقیلؔ کی تربت کے جب چراغ",
|
||
"CoupletIndex": 21,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 44,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جعفر کے لاڈلوں نے دیئے شہ کے دل کو داغ",
|
||
"CoupletIndex": 21,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 45,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ماتم سے بھانجوں کے ہوا تھا نہ انفراغ",
|
||
"CoupletIndex": 22,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 46,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پامال ہو گیا، حسنِؔ مجتبیٰ کا باغ",
|
||
"CoupletIndex": 22,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 47,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "لاشے اٹھائے جنگ کرے یا بکا کرے",
|
||
"CoupletIndex": 23,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 48,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جس پر گریں یہ کوہ مصیبت وہ کیا کرے",
|
||
"CoupletIndex": 23,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 49,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "صدمہ یہ تھا کہ لٹنے لگی دولتِ پدر",
|
||
"CoupletIndex": 24,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 50,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "نکلے نبرد کو اسد اللہ کے پسر",
|
||
"CoupletIndex": 24,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 51,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "مارے گئے جہاد میں جس دم وہ شیر نر",
|
||
"CoupletIndex": 25,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 52,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "رخصت ہوئے حسینؔ سے عباسِؔ نام ور",
|
||
"CoupletIndex": 25,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 53,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ددریا بہے لہو کے بڑا کشت و خوں ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 26,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 54,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ڈھلتی تھی دوپہر کہ علم سر نگوں ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 26,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 55,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پیری میں قہر ہے، خبر مرگ نوجواں",
|
||
"CoupletIndex": 27,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 56,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ریتی پہ تھر تھرا کے گرے شاہِ انس و جاں",
|
||
"CoupletIndex": 27,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 57,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "نکلیں سروں کو پیٹتی، خیمے سے بیبیاں",
|
||
"CoupletIndex": 28,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 58,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تھا خانۂ علی میں تلاطم کہ الا ماں",
|
||
"CoupletIndex": 28,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 59,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یوں گھر الٹ پلٹ تھا امامِ حجاز کا",
|
||
"CoupletIndex": 29,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 60,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جس طرح ٹوٹ جاتا ہے لنگر جہاز کا",
|
||
"CoupletIndex": 29,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 61,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "غل تھا کہ خوں میں بھر گیا سقائے اہل بیت",
|
||
"CoupletIndex": 30,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 62,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دنیا سے کوچ کر گیا، سقائے اہل بیت",
|
||
"CoupletIndex": 30,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 63,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہم لٹ گئے گذر گیا سقائے اہل بیت",
|
||
"CoupletIndex": 31,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 64,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "فریاد ہے کہ مر گیا، سقائے اہل بیت",
|
||
"CoupletIndex": 31,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 65,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہے ہے کہاں سے اپنے بہشتی کو لائیں گے",
|
||
"CoupletIndex": 32,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 66,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سوکھی زبان، اب کسے بچے دکھائیں گے",
|
||
"CoupletIndex": 32,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 67,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہلتا تھا خیمہ روتے تھے یوں اہل بیت شاہ",
|
||
"CoupletIndex": 33,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 68,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "صدمے سے حالِ زوجۂ عباسؔ تھا تباہ",
|
||
"CoupletIndex": 33,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 69,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چلاتی تھی کہ نہر کی مجھ کو بتاؤ راہ",
|
||
"CoupletIndex": 34,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 70,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "لوٹی گئی میں دشت پُر آفت میں آہ آہ",
|
||
"CoupletIndex": 34,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 71,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "خم تھے گرا تھا کوہِ مصیبت حسینؔ پر",
|
||
"CoupletIndex": 35,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 72,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ماتم تھا بیبیوں میں سکینہؔ کے بین پر",
|
||
"CoupletIndex": 35,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 73,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ماتم ادھر تھا، جشن میں تھے اہل شر اُدھر",
|
||
"CoupletIndex": 36,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 74,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بجتے تھے شادیانۂ فتح و ظفر اُدھر",
|
||
"CoupletIndex": 36,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 75,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "انعام بانٹتا تھا ہر اک کو عمر ادھر",
|
||
"CoupletIndex": 37,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 76,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "روتے تھے دیکھ دیکھ کے حضرت اِدھر اُدھر",
|
||
"CoupletIndex": 37,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 77,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "غل تھا کہ بس حسینؔ بہت روئے بھائی کو",
|
||
"CoupletIndex": 38,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 78,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کوئی جواں ہو اور تو بھیجو لڑائی کو",
|
||
"CoupletIndex": 38,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 79,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "باقی نہیں کوئی تو وِغا کو خود آیئے",
|
||
"CoupletIndex": 39,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 80,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "حیدرؔ کی ذوالفقار کے جوہر دکھایئے",
|
||
"CoupletIndex": 39,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 81,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "زخمِ سنان و خنجر و شمشیر کھایئے",
|
||
"CoupletIndex": 40,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 82,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "گرمی بڑی ہے آج لہو میں نہایئے",
|
||
"CoupletIndex": 40,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 83,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آمادہ ہم تو دیر سے بہرِ ستیز ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 41,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 84,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تیغیں بھی ہیں اُپی ہوئی خنجر بھی تیز ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 41,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 85,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کاٹے ہیں جس نے بازوئے لخت دلِ امیر",
|
||
"CoupletIndex": 42,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 86,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہے خوب آبدار، وہ شمشیرِ بے نظیر",
|
||
"CoupletIndex": 42,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 87,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چھیدا ہے جس سے مشک کو موجود ہے وہ تیر",
|
||
"CoupletIndex": 43,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 88,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہر گرز وہ ہے، ضرب سے جس کی ہوئے اخیر",
|
||
"CoupletIndex": 43,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 89,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تڑپے تھے جس سے مشک کو دانتوں سے چھوڑ کر",
|
||
"CoupletIndex": 44,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 90,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "برچھی یہ ہے جو نکلی تھی پہلو کو توڑ کر",
|
||
"CoupletIndex": 44,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 91,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "صابر بڑے ہیں آپ تو یا شاہِ انس و جاں",
|
||
"CoupletIndex": 45,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 92,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اک بھائی کے فراق میں یہ نالہ و فغاں",
|
||
"CoupletIndex": 45,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 93,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "رونے سے جی اٹھیں گے نہ عباسِ نوجواں",
|
||
"CoupletIndex": 46,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 94,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "حضرت پکارتے ہیں کسے، بھائی اب کہاں",
|
||
"CoupletIndex": 46,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 95,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ملتا ہے کب جہاں میں بھلا جو گزر گیا",
|
||
"CoupletIndex": 47,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 96,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اب فکر اپنی کیجئے وہ شیر مر گیا",
|
||
"CoupletIndex": 47,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 97,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اکبر نے کی غضب کی نظر سوئے فوج شام",
|
||
"CoupletIndex": 48,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 98,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کانپے یہ غیظ سے کہ اگلنے لگی حسام",
|
||
"CoupletIndex": 48,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 99,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کی عرض ہاتھ جوڑ کے اے قبلۂ انام",
|
||
"CoupletIndex": 49,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 100,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سنتے ہیں آپ لشکرِ اعدا کا یہ کلام",
|
||
"CoupletIndex": 49,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 101,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "خوں تن میں جوش کھاتا ہے ہنگام جنگ ہے",
|
||
"CoupletIndex": 50,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 102,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "مولا بس اب تو حوصلۂ صبر تنگ ہے",
|
||
"CoupletIndex": 50,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 103,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ان کے کلام سننے کی کس کے جگر میں ہے تاب",
|
||
"CoupletIndex": 51,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 104,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "خادم زبانِ تیغ سے دے گا انہیں جواب",
|
||
"CoupletIndex": 51,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 105,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کیا اپنے دل میں سمجھے ہیں، یہ خانماں خراب",
|
||
"CoupletIndex": 52,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 106,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "نعرہ کروں تو شیر کا زہرہ ہو آب آب",
|
||
"CoupletIndex": 52,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 107,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آداب شاہ سے نہیں ہم بول سکتے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 53,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 108,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "زخمِ جگر پہ اب تو نمک یہ چھڑکتے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 53,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 109,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہم کو یہ طعن و طنز کی باتیں نہیں پسند",
|
||
"CoupletIndex": 54,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 110,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کوفے میں لیں گے دم جو اٹھائیں گے پھر سمند",
|
||
"CoupletIndex": 54,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 111,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہونٹوں پہ غم سے اب ہے، یہاں جانِ دردمند",
|
||
"CoupletIndex": 55,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 112,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کاٹیں تبر سے، تیغ سے خنجر سے بند بند",
|
||
"CoupletIndex": 55,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 113,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہنس ہنس کے جسم پر، تبر و تیر کھائیں گے",
|
||
"CoupletIndex": 56,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 114,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تیغِ زباں کے زخم اٹھائے نہ جائیں گے",
|
||
"CoupletIndex": 56,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 115,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "گھبرا کے دیکھنے لگے بیٹے کے منہ کو شاہ",
|
||
"CoupletIndex": 57,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 116,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "فرمایا خیر کہہ لیں جو کہتے ہیں روسیاہ",
|
||
"CoupletIndex": 57,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 117,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کیوں کانپتے ہو غیظ سے، اے میرے رشک ماہ",
|
||
"CoupletIndex": 58,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 118,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "لازم ہے صبر و شکر کہ راضی رہے الٰہ",
|
||
"CoupletIndex": 58,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 119,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "غصہ اسی طرح اگر آئے گا آپ کو",
|
||
"CoupletIndex": 59,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 120,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "خنجر کے نیچے دیکھو گے کس طرح باپ کو",
|
||
"CoupletIndex": 59,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 121,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "برہم نہ ہو تمہیں، سر شبیرؔ کی قسم",
|
||
"CoupletIndex": 60,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 122,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "لو گھر میں جاؤ خیر سمجھ لیں گے ان سے ہم",
|
||
"CoupletIndex": 60,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 123,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دیکھو ہمیں کہ بھائی کے بازو ہوئے قلم",
|
||
"CoupletIndex": 61,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 124,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تلوار، دل پہ چل گئی، مارا نہ ہم نے دم",
|
||
"CoupletIndex": 61,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 125,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سب جل کے خاک ہوں جو ابھی بد دعا کروں",
|
||
"CoupletIndex": 62,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 126,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پر امت نبی ہے، بجز صبر کیا کروں",
|
||
"CoupletIndex": 62,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 127,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یہ سن کے زرد ہو گئے ہم شکلِ مصطفی",
|
||
"CoupletIndex": 63,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 128,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "رو کر کہا یہ کرتے ہیں ارشاد آپ کا",
|
||
"CoupletIndex": 63,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 129,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "وہ وقت، وہ گھڑی، نہ دکھائے ہمیں خدا",
|
||
"CoupletIndex": 64,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 130,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بابا نہ ہو تو بیٹے کے جینے کا کیا مزہ",
|
||
"CoupletIndex": 64,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 131,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آمادۂ فنا ہیں، خوشی دل سے فوت ہے",
|
||
"CoupletIndex": 65,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 132,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پھر خضرؔ کی حیات ملے گر تو موت ہے",
|
||
"CoupletIndex": 65,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 133,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کیا پہلے سر کٹایئے گا یا شہِ زماں",
|
||
"CoupletIndex": 66,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 134,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کس اشتیاق سے شہ دیں نے کہا کہ ہاں",
|
||
"CoupletIndex": 66,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 135,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آگے جو کچھ رضائے خدا، اے پدر کی جاں",
|
||
"CoupletIndex": 67,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 136,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جیتے ہیں پیر، سامنے مرتے ہیں نوجواں",
|
||
"CoupletIndex": 67,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 137,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دیکھو کہ چھوٹے بھائی کے ماتم میں روتے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 68,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 138,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پالا تھا جن کو ہم نے وہ دریا پہ سوتے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 68,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 139,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یہ کہہ کے اٹھ کھڑے ہوئے سلطانِ بحر و بر",
|
||
"CoupletIndex": 69,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 140,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پٹکے سے باندھنے لگے، ٹوئی ہوئی کمر",
|
||
"CoupletIndex": 69,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 141,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "قدموں یہ گر پڑے، علیؔ اکبر بہ چشمِ تر",
|
||
"CoupletIndex": 70,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 142,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کی عرض رحم کیجئے، مر جائے گا پسر",
|
||
"CoupletIndex": 70,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 143,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آگے مرے جو ہو گی شہادت امام کی",
|
||
"CoupletIndex": 71,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 144,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دنیا میں آبرو نہ رہے گی غلام کی",
|
||
"CoupletIndex": 71,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 145,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چھوٹے تھے جو کہ سِن میں بڑے کر گئے وہ کام",
|
||
"CoupletIndex": 72,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 146,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "یا شاہ کیا لڑائی کے قابل نہیں غلام",
|
||
"CoupletIndex": 72,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 147,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "عمو کے خوں کا لیں گے لعینوں سے انتقام",
|
||
"CoupletIndex": 73,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 148,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہم نے بھی تیغ باندھی ہے بچپن سے یا امام",
|
||
"CoupletIndex": 73,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 149,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "عزت ملی ہے خلق میں صدقے سے آپ کے",
|
||
"CoupletIndex": 74,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 150,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بیٹا وہی جو رنج میں کام آئے باپ کے",
|
||
"CoupletIndex": 74,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 151,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "انصاف آپ کیجئے یا سرورِ عرب",
|
||
"CoupletIndex": 75,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 152,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بیٹا تو گھر میں بیٹھے، لڑے باپ تشنہ لب",
|
||
"CoupletIndex": 75,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 153,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "مارا گیا نہ آج، تو کل یہ کہیں گے سب",
|
||
"CoupletIndex": 76,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 154,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کیسا لہو سفید ہے، دنیا کا ہے غضب",
|
||
"CoupletIndex": 76,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 155,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سر کو کٹا کے باپ جہاں سے گزر گیا",
|
||
"CoupletIndex": 77,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 156,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بیٹا جوان، باپ کے آگے نہ مر گیا",
|
||
"CoupletIndex": 77,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 157,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بہرِ رسول رن کی رضا دیجئے مجے",
|
||
"CoupletIndex": 78,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 158,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "صدقہ علی کا، اذن وغا دیجئے مجھے",
|
||
"CoupletIndex": 78,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 159,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "مرتا ہوں یا امام، جلا دیجئے مجھے",
|
||
"CoupletIndex": 79,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 160,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "یادِ خدا میں دل سے بھلا دیجئے مجھے",
|
||
"CoupletIndex": 79,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 161,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کھولیں کمر، حضور تو دل کو قرار ہو",
|
||
"CoupletIndex": 80,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 162,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کہہ دیجئے کہ جا! علیؔ اکبر نثار ہو",
|
||
"CoupletIndex": 80,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 163,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "شہ نے کہا تمہیں مرے دل کی نہیں خبر",
|
||
"CoupletIndex": 81,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 164,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پیارے کہاں سے لاؤں میں اس طرح کا جگر",
|
||
"CoupletIndex": 81,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 165,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہے باپ کو عصائے ضعیفی، جواں پسر",
|
||
"CoupletIndex": 82,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 166,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جب تم نہ ہو گے پاس تو مر جائے گا پدر",
|
||
"CoupletIndex": 82,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 167,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ایسے ہنسے نہ تھے کہ ہمیں تم رلاتے ہو",
|
||
"CoupletIndex": 83,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 168,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "شادی کے دن جو آئے، تو مرنے کو جاتے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 83,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 169,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "راتیں یہ عیش کی ہیں مرادوں کے ہیں یہ دن",
|
||
"CoupletIndex": 84,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 170,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پورے جواں نہیں، ابھی کیا ہے تمہارا سِن",
|
||
"CoupletIndex": 84,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 171,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اکبرؔ تری جوانی پہ روئیں گے انس و جن",
|
||
"CoupletIndex": 85,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 172,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کیوں کر قرار آئے گا ماں کو تمہارے بن",
|
||
"CoupletIndex": 85,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 173,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کیسی ہوا چلی، چمن روزگار میں",
|
||
"CoupletIndex": 86,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 174,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سید کا باغ لٹتا ہے فصلِ بہار میں",
|
||
"CoupletIndex": 86,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 175,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دیتا اگر تمہیں کوئی فرزند زوالجلال",
|
||
"CoupletIndex": 87,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 176,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہوتی پدر کی قدر سمجھتے ہمارا حال",
|
||
"CoupletIndex": 87,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 177,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "رخصت کا آپ سے یوں ہی کرتا وہ جب سوال",
|
||
"CoupletIndex": 88,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 178,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تب جانتے کہ دیتے اسے رخصتِ جدال",
|
||
"CoupletIndex": 88,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 179,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کیا جانے وہ مزاج سے اس کا ملا نہیں",
|
||
"CoupletIndex": 89,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 180,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اچھا سدھارو تم سے ہمیں کچھ گلا نہیں",
|
||
"CoupletIndex": 89,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 181,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تسلیم کر کے بولے علیؔ اکبرِ غیور",
|
||
"CoupletIndex": 90,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 182,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "لاکھوں برس جہاں میں سلامت رہیں حضور",
|
||
"CoupletIndex": 90,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 183,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "فرمایا شہ نے خیر اجل بھی نہیں ہے دور",
|
||
"CoupletIndex": 91,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 184,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "برچھی لگا کے دل پہ خوشامد یہ کیا ضرور",
|
||
"CoupletIndex": 91,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 185,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تقریر میں پدر کو نہ اب بند کیجیے",
|
||
"CoupletIndex": 92,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 186,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "خیمے میں جا کے ماں کو رضامند کیجیے",
|
||
"CoupletIndex": 92,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 187,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہیں مبتلائے رنج بھلا کیا ہمارا پیار",
|
||
"CoupletIndex": 93,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 188,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تم سے جو پسر ہوں تو اس راہ میں نثار",
|
||
"CoupletIndex": 93,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 189,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہر دم خدا سے خیر کا ہوں میں امیدوار",
|
||
"CoupletIndex": 94,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 190,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہاں ماں نہ جانے دے تو مرا کیا ہے اختیار",
|
||
"CoupletIndex": 94,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 191,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سینے میں دل ہلے گا بدن تھرتھرائے گا",
|
||
"CoupletIndex": 95,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 192,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "رخصت کا نام سنتے ہی غش اس کو آئے گا",
|
||
"CoupletIndex": 95,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 193,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سب جانتے ہیں جو ہے پھوپھی کو تمہاری چاہ",
|
||
"CoupletIndex": 96,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 194,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "معلوم ہو گا جاؤ گے جب سوئے خیمہ گاہ",
|
||
"CoupletIndex": 96,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 195,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "باہیں گلے میں ڈالے گی زینبؔ بہ اشک و آہ",
|
||
"CoupletIndex": 97,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 196,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "قدموں پہ گر کے آپ کی ماں ہوگی سَدِ راہ",
|
||
"CoupletIndex": 97,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 197,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یہ مرحلہ بھی کم نہیں زنجیر و طوق سے",
|
||
"CoupletIndex": 98,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 198,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دونوں رضا جو دیں تو چلے جاؤ شوق سے",
|
||
"CoupletIndex": 98,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 199,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "روتے ہوئے چلے علیؔ اکبر سوئے خیام",
|
||
"CoupletIndex": 99,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 200,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کانپا یہ دل کہ بیٹھ گئے خاک پر امام",
|
||
"CoupletIndex": 99,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 201,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "روتا ہوا جو ڈیوڑھی سے آیا وہ نیک نام",
|
||
"CoupletIndex": 100,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 202,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دوڑی پسر کو دیکھ کے بانوئے تشنہ کام",
|
||
"CoupletIndex": 100,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 203,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دامن سے آ کے بالی سکینہؔ چمٹ گئی",
|
||
"CoupletIndex": 101,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 204,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "زینبؔ بلائیں لے کے گلے سے لپٹ گئی",
|
||
"CoupletIndex": 101,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 205,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ماں گرد پھر کے بولی کہ اے میرے گلعذار",
|
||
"CoupletIndex": 102,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 206,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تم صبح سے گئے تھے اب آئے یہ ماں نثار",
|
||
"CoupletIndex": 102,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 207,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "در پر تڑپ تڑپ کے میں جاتی تھی بار بار",
|
||
"CoupletIndex": 103,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 208,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کھولو بس اب کمر کہ مرا دل ہے بے قرار",
|
||
"CoupletIndex": 103,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 209,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "گرمی یہ اور قحط کئی دن سے آب کا",
|
||
"CoupletIndex": 104,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 210,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "رخ تمتما گیا ہے مرے آفتاب کا",
|
||
"CoupletIndex": 104,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 211,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تر ہے قبا پسینے میں پنکھا کوئی بلاؤ",
|
||
"CoupletIndex": 105,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 212,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سونلا گئے ہو دھوپ میں، واری ہوا میں آؤ",
|
||
"CoupletIndex": 105,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 213,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جھاڑوں ردا سے گرد میں، زلفوں کی، بیٹھ جاؤ",
|
||
"CoupletIndex": 106,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 214,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "گھٹ جائے گا لہو مرا آنسو نہ تم بہاؤ",
|
||
"CoupletIndex": 106,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 215,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "صدمہ جو دل پہ ہو اسے کچھ منہ سے کہتے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 107,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 216,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کیا ہے جو اشک نرگسی آنکھوں سے بہتے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 107,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 217,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "صغراؔ کی تو وطن سے کچھ آئی نہیں خبر",
|
||
"CoupletIndex": 108,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 218,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جلدی کہو کہ منھ سے نکلتا ہے اب جگر",
|
||
"CoupletIndex": 108,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 219,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اکبرؔ نے عرض کی کہ ہیں سب خیر سے مگر",
|
||
"CoupletIndex": 109,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 220,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "لٹتا ہے کوئی آن میں خیر النسا کا گھر",
|
||
"CoupletIndex": 109,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 221,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ملتی نہیں رضا ہمیں آنسو بہاتے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 110,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 222,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بابا گلا کٹانے کو میداں میں جاتے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 110,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 223,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اس وقت کس سے دردِ دل اپنا کہوں میں آہ",
|
||
"CoupletIndex": 111,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 224,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تم بھی ہو سدّ راہ پھوپھی بھی ہیں سدّ راہ",
|
||
"CoupletIndex": 111,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 225,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چھائی ہے واں گھٹا کی طرح شام کی سپاہ",
|
||
"CoupletIndex": 112,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 226,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اماں مدد کرو کہ کمر باندھتے ہیں شاہ",
|
||
"CoupletIndex": 112,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 227,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اب زندگی ہے تلخ بہت دق ہیں جان سے",
|
||
"CoupletIndex": 113,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 228,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "الفت نے آپ کی ہمیں کھویا جہان سے",
|
||
"CoupletIndex": 113,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 229,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دیتے نہیں رضا جو امامِ فلک اساس",
|
||
"CoupletIndex": 114,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 230,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "خاطر فقط یہ آپ کی ہے اور پھوپھی کا پاس",
|
||
"CoupletIndex": 114,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 231,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اب غیرِ یاس کوئی نہیں ان کے آس پاس",
|
||
"CoupletIndex": 115,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 232,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ناطاقتی ہے ضعف ہے فاقہ ہے اور پیاس",
|
||
"CoupletIndex": 115,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 233,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کیوں کر لڑیں گے وہ کہ سراپا ضعیف ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 116,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 234,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پیری ہے دل ضعیف ہے اعضا ضعیف ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 116,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 235,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "عباس جب سے مر گئے روتے ہیں دم بہ دم",
|
||
"CoupletIndex": 117,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 236,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "رخ زرد ہے کماں کی طرح ہو گئے ہیں غم",
|
||
"CoupletIndex": 117,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 237,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چلوں میں تیر جوڑے ہیں واں بانیٔ ستم",
|
||
"CoupletIndex": 118,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 238,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "قرباں ہوں کس طرح پسرِ خاطر فاطمہؔ پہ ہم",
|
||
"CoupletIndex": 118,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 239,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سب روکتے ہیں رن کی طرف جائیں کس طرح",
|
||
"CoupletIndex": 119,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 240,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ماں کو پھوپھی کو بہنوں کو سمجھائیں کس طرح",
|
||
"CoupletIndex": 119,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 241,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بابا کا حکم ہے کہ رضا جا کے ماں سے لاؤ",
|
||
"CoupletIndex": 120,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 242,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "راضی پھوپھی ہوں جب تو لڑو اور زخم کھاؤ",
|
||
"CoupletIndex": 120,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 243,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "مرضی ہے آپ کی کہ مرے پاس سے نہ جاؤ",
|
||
"CoupletIndex": 121,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 244,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "یا فاطمہؔ تمہیں علیؔ اکبر کے کام آؤ",
|
||
"CoupletIndex": 121,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 245,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چلنے لگیں نہ تیر شہِ مشرقین پر",
|
||
"CoupletIndex": 122,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 246,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "نرغہ ہے ظالموں کا تمہارا حسینؔ پر",
|
||
"CoupletIndex": 122,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 247,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دیکھی گئی نہ ماں سے یہ بیتابیِٔ پسر",
|
||
"CoupletIndex": 123,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 248,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "وارث کی بے کسی پہ لگا کانپنے جگر",
|
||
"CoupletIndex": 123,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 249,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہاتھوں سے دل کو تھام کے بولی وہ نوحہ گر",
|
||
"CoupletIndex": 124,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 250,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دولت پہ فاطمہؔ کی تصدق تمام گھر",
|
||
"CoupletIndex": 124,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 251,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پہلے نہ کچھ کہا تھا نہ اب روکتی ہوں میں",
|
||
"CoupletIndex": 125,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 252,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "روتے ہو کس لیے تمہیں کب روکتی ہوں میں",
|
||
"CoupletIndex": 125,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 253,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "زہراؔ کے لال پر مرے مادر پدر نثار",
|
||
"CoupletIndex": 126,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 254,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "عابدؔ نثار اصغرِؔ تشنہ جگر نثار",
|
||
"CoupletIndex": 126,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 255,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جانیں ہزار ہوں تو فدا لاکھ سر نثار",
|
||
"CoupletIndex": 127,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 256,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "قربان گھر، کنیز تصدق، پسر نثار",
|
||
"CoupletIndex": 127,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 257,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کِسرائی گو کہ ہوں پہ بہو میں علیؔ کی ہوں",
|
||
"CoupletIndex": 128,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 258,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "مانگو گے جو وہ دوں گی کہ لونڈی سخی کی ہوں",
|
||
"CoupletIndex": 128,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 259,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "مجھ پر حوالہ کرتے ہیں گر شاہِ خوش خصال",
|
||
"CoupletIndex": 129,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 260,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "رخصت نہ تم کو دوں یہ بھلا ہے مری مجال",
|
||
"CoupletIndex": 129,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 261,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "صدقہ انہیں کا ہے کہ ملا تم سا نونہال",
|
||
"CoupletIndex": 130,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 262,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "رخصت کا صدقے جاؤں پھوپھی سے کرو سوال",
|
||
"CoupletIndex": 130,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 263,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہم سب کنیزیں بنتِ امیر عرب کی ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 131,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 264,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اصغرؔ ہو یا کہ تم وہی مختار سب کی ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 131,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 265,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کہنے کو یوں ہیں چاہنے والے تمہارے سب",
|
||
"CoupletIndex": 132,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 266,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "لیکن ہے ان کے عشق سے نسبت کسی کو کب",
|
||
"CoupletIndex": 132,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 267,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دن کو انہوں نے دن کبھی جانا نہ شب کو شب",
|
||
"CoupletIndex": 133,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 268,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "لیجے انہیں سے آپ کو جس شے کی ہے طلب",
|
||
"CoupletIndex": 133,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 269,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "مجھ سے نہ کچھ نہ سید عالی سے پوچھیے",
|
||
"CoupletIndex": 134,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 270,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "گر پوچھیے تو پالنے والی سے پوچھیے",
|
||
"CoupletIndex": 134,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 271,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "روتے ہوئے گئے علیؔ اکبر پھوپھی کے پاس",
|
||
"CoupletIndex": 135,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 272,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دیکھا کہ غش پڑی ہے زمیں پر وہ حق شناس",
|
||
"CoupletIndex": 135,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 273,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "زانو پہ سر لیے ہوئے کبراؔ ہے بے حواس",
|
||
"CoupletIndex": 136,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 274,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اس حال میں بھی لب پہ یہی ہے کلام یاس",
|
||
"CoupletIndex": 136,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 275,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اب تاب و طاقت جسد و روح و دل گئی",
|
||
"CoupletIndex": 137,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 276,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کیوں صاحبو! رضا علیؔ اکبر کو مل گئی",
|
||
"CoupletIndex": 137,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 277,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اکبرؔ سے مجھ کو یہ نہ توقع تھی ہے غضب",
|
||
"CoupletIndex": 138,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 278,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اتنا نہیں خیال کہ ہے کون جاں بہ لب",
|
||
"CoupletIndex": 138,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 279,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اس گُل نے ہائے میری ریاضت بھلائی سب",
|
||
"CoupletIndex": 139,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 280,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "نامِ خدا جواں ہوئے کیا ہم سے کام اب",
|
||
"CoupletIndex": 139,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 281,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہیں محو رن کے شوق میں رخصت کے دھیان میں",
|
||
"CoupletIndex": 140,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 282,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سچ ہے کسی کا کون ہوا ہے جہان میں",
|
||
"CoupletIndex": 140,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 283,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یا بے ہمارے چین نہ آتا تھا کوئی دم",
|
||
"CoupletIndex": 141,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 284,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "مالک اب اور ہو گئے کوئی ہوئے نہ ہم",
|
||
"CoupletIndex": 141,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 285,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کیا دخل تھا جو ڈیوڑھی سے باہر رکھیں قدم",
|
||
"CoupletIndex": 142,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 286,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہے ہے وہ میرا دردِ مصیبت وہ رنج و غم",
|
||
"CoupletIndex": 142,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 287,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جاگی ہوں میں جو چونک کے راتوں کو روئے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 143,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 288,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پوچھو تو کس کی چھاتی پہ بچپن میں سوئے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 143,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 289,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کنگھی کسی کے ہاتھ کی بھاتی نہ تھی کبھی",
|
||
"CoupletIndex": 144,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 290,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بے میرے لیٹے نیند انہیں آتی نہ تھی کبھی",
|
||
"CoupletIndex": 144,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 291,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بے ان کی ماں کی قبر پہ جاتی نہ تھی کبھی",
|
||
"CoupletIndex": 145,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 292,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "روئیں پسر، پہ ان کو رلاتی نہ تھی کبھی",
|
||
"CoupletIndex": 145,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 293,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "میرے سوا کسی کو کبھی جانتے نہ تھے",
|
||
"CoupletIndex": 146,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 294,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جو تھی سو میں تھی ماں کو تو پہچانتے نہ تھے",
|
||
"CoupletIndex": 146,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 295,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہر چند دونوں تھے مرے فرزند خورد سال",
|
||
"CoupletIndex": 147,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 296,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پر اِن کے آگے اُن کا مجھے کچھ نہ تھا خیال",
|
||
"CoupletIndex": 147,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 297,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "راتوں کو جب لپٹتے تھے مجھ سے وہ نونہال",
|
||
"CoupletIndex": 148,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 298,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "میں کہتے تھی ہٹو علیؔ اکبر ہے میرا لال",
|
||
"CoupletIndex": 148,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 299,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "وہ دونوں مرنے والے تو پہلو میں ہوتے تھے",
|
||
"CoupletIndex": 149,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 300,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پھیلا کے پاؤں یہ مری چھاتی پہ سوتے تھے",
|
||
"CoupletIndex": 149,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 301,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چھوٹا تو ضد بھی کرتا تھا راتوں کو بارہا",
|
||
"CoupletIndex": 150,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 302,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پرعونؔ کیا عقیلؔ تھا بخشے اسے خدا",
|
||
"CoupletIndex": 150,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 303,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دن رات تھی خوشامدِ ہم شکل مصطفا",
|
||
"CoupletIndex": 151,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 304,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سینے پہ جب یہ سوئے تو اس نے یہی کیا",
|
||
"CoupletIndex": 151,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 305,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آقا کے نور عین ہیں عالی مقام ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 152,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 306,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اماں یہ شاہزادے ہیں اور ہم غلام ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 152,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 307,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "رہتے تھے پاس باپ کے وہ غیرتِ قمر",
|
||
"CoupletIndex": 153,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 308,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "الفت میں ان کی مجھ کو کچھ ان کی نہ تھی خبر",
|
||
"CoupletIndex": 153,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 309,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "قرآن پڑھنے بیٹھتی تھی جب دمِ سحر",
|
||
"CoupletIndex": 154,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 310,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "صورت پہ تھی انہیں کی تلاوت میں بھی نظر",
|
||
"CoupletIndex": 154,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 311,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "غافل نہ ان کے پیار سے میں ایک آن تھی",
|
||
"CoupletIndex": 155,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 312,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "قرآں تو رحل پر تھا حمائل میں جان تھی",
|
||
"CoupletIndex": 155,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 313,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "میں نے انہیں پہ صدقے کئے اپنے دونوں لال",
|
||
"CoupletIndex": 156,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 314,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تسکین تھی کہ باقی ہے اکبر سا نونہال",
|
||
"CoupletIndex": 156,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 315,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "مانگے تو آگے مجھ سے بھلا رخصتِ جدال",
|
||
"CoupletIndex": 157,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 316,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "نکلوں گی ساتھ خیمے سے بکھرا کے سر کے بال",
|
||
"CoupletIndex": 157,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 317,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کیا خوب جیتے جی مَرے جائیں گے مرنے کو",
|
||
"CoupletIndex": 158,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 318,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تلوار باندھ لی ہے ہمیں ذبح کرنے کو",
|
||
"CoupletIndex": 158,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 319,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بچپن میں تھا نہ ہم سے زیادہ کسی کا پیار",
|
||
"CoupletIndex": 159,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 320,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اب کیا غرض گزر گئی وہ فصل وہ بہار",
|
||
"CoupletIndex": 159,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 321,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بھیگیں مسیں نمود ہوا سبزۂ عذار",
|
||
"CoupletIndex": 160,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 322,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "مالک ہیں خود بھلا مرا اب کیا ہے اختیار",
|
||
"CoupletIndex": 160,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 323,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ثابت ہوا اِدھر سے اُدھر مرنے جائیں گے",
|
||
"CoupletIndex": 161,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 324,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "میں مر بھی جاؤں گی تو وہ یاں تک نہ آئیں گے",
|
||
"CoupletIndex": 161,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 325,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "باہر سدھارے یا ابھی ہیں ماں سے کچھ کلام",
|
||
"CoupletIndex": 162,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 326,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بھابی نے کیوں لیا تھا ابھی رو کے میرا نام",
|
||
"CoupletIndex": 162,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 327,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سینے پہ منہ کو رکھ کے یہ بولا وہ لالہ فام",
|
||
"CoupletIndex": 163,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 328,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آنکھیں تو آپ کھولیے حاضر ہے یہ غلام",
|
||
"CoupletIndex": 163,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 329,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "خادم جدا نہ تھا شہِ گردوں سریر سے",
|
||
"CoupletIndex": 164,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 330,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کس جرم پہ حضور خفا ہیں حقیر سے",
|
||
"CoupletIndex": 164,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 331,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کیا ہے قصور جس پہ یہ غصہ ہے یہ عتاب",
|
||
"CoupletIndex": 165,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 332,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کرتا ہوں بات میں کوئی بے مرضیِٔ جناب",
|
||
"CoupletIndex": 165,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 333,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "روتا ہوں اب کہ صبر کی مجھ کو نہیں ہے تاب",
|
||
"CoupletIndex": 166,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 334,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "شکوہ یہ خاکسار کا اے بنتِ بوتراب",
|
||
"CoupletIndex": 166,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 335,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہر دکھ میں ہر بلا میں مددگار آپ ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 167,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 336,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پالا ہے مجھ کو مالک و مختار آپ ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 167,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 337,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پیدا ہوا تو آپ کی صحبت مجھے ملی",
|
||
"CoupletIndex": 168,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 338,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کرتی ہے روح شکر وہ راحت مجھے ملی",
|
||
"CoupletIndex": 168,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 339,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یوسف کو کب ملی تھی جو دولت مجھے ملی",
|
||
"CoupletIndex": 169,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 340,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "رکھا عزیز آپ نے عزت مجھے ملی",
|
||
"CoupletIndex": 169,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 341,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "صدقہ ہے اس قدم کا جو سر تا فلک گیا",
|
||
"CoupletIndex": 170,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 342,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کی مہر آفتاب نے، ذرہ چمک گیا",
|
||
"CoupletIndex": 170,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 343,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "مرضی نہ ہو تو رن کو بھی جائے نہ یہ غلام",
|
||
"CoupletIndex": 171,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 344,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بندے ہیں ہم اطاعتِ مالک سے ہم کو کام",
|
||
"CoupletIndex": 171,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 345,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تکرار کی مجال نہ اصرار کا مقام",
|
||
"CoupletIndex": 172,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 346,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "مرتے اگر تو اس میں بھی تھا آپ ہی کا نام",
|
||
"CoupletIndex": 172,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 347,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "روتی ہیں آپ کس لیے اچھا نہ جائیں گے",
|
||
"CoupletIndex": 173,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 348,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پر یاد رکھیے منہ نہ کسی کو دکھائیں گے",
|
||
"CoupletIndex": 173,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 349,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یہ کہہ کے جھک گیا جو قدم پر وہ ذی وقار",
|
||
"CoupletIndex": 174,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 350,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بس ہو گئیں محبتِ قلبی سے بے قرار",
|
||
"CoupletIndex": 174,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 351,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پھیلا کے دونوں ہاتھوں کو اٹھیں بحال زار",
|
||
"CoupletIndex": 175,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 352,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "شکوے کے بدلے منہ سے یہ نکلا کہ میں نثار",
|
||
"CoupletIndex": 175,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 353,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "امڈا یہ دل کہ چشم کے ساغر چھلک پڑے",
|
||
"CoupletIndex": 176,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 354,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دیکھا جو آفتاب کو آنسو ٹپک پڑے",
|
||
"CoupletIndex": 176,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 355,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "لے کر بلایں بولیں کہ واری خفا نہ ہو",
|
||
"CoupletIndex": 177,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 356,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "صدقے ہے تم پہ جان ہماری خفا نہ ہو",
|
||
"CoupletIndex": 177,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 357,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "باتیں تھیں یہ تو پیار کی ساری خفا نہ ہو",
|
||
"CoupletIndex": 178,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 358,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "روتے ہو کیوں منگاؤ سواری خفا نہ ہو",
|
||
"CoupletIndex": 178,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 359,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آئے بلا حسینؔ پہ جو اس کو رد کرو",
|
||
"CoupletIndex": 179,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 360,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اچھا سدھارو دکھ میں پدر کی مدد کرو",
|
||
"CoupletIndex": 179,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 361,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "الفت کے جوش میں تو یہ منہ سے کہا مگر",
|
||
"CoupletIndex": 180,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 362,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اٹھا یہ دل میں درد کہ تھرا گیا جگر",
|
||
"CoupletIndex": 180,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 363,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کبراؔ کو روتے دیکھ کے بولی وہ نوحہ گر",
|
||
"CoupletIndex": 181,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 364,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کیا ماجرا ہوا مجھے مطلق نہیں خبر",
|
||
"CoupletIndex": 181,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 365,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "میں روکنے نہ پائی کہ وار ان کا چل گیا",
|
||
"CoupletIndex": 182,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 366,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کیا میں نے کہہ دیا کہ کلیجہ نکل گیا",
|
||
"CoupletIndex": 182,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 367,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کیا جا کے اب نہ آئے گا گھر میں یہ نونہال",
|
||
"CoupletIndex": 183,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 368,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہے ہے مری کمائی پہ آ جائے گا زوال",
|
||
"CoupletIndex": 183,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 369,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جس وقت سے شہید ہوئے رن میں دونوں لال",
|
||
"CoupletIndex": 184,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 370,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بیہوش ہوں، حواس میں ہے میرے اختلال",
|
||
"CoupletIndex": 184,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 371,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ایسا ہے اضطراب کہ کچھ جس کی حد نہیں",
|
||
"CoupletIndex": 185,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 372,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جو آپ میں نہ ہو سخن اس کا سند نہیں",
|
||
"CoupletIndex": 185,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 373,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "میں ہوش میں نہ تھی یہ قدم پر گرے تھے جب",
|
||
"CoupletIndex": 186,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 374,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "میں بھی کہوں، یہ پاؤں پہ گرنے کا کیا سبب",
|
||
"CoupletIndex": 186,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 375,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "لو مجھ پہ اب کھلا کہ یہ رخصت کی تھی طلب",
|
||
"CoupletIndex": 187,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 376,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اکبرؔ کو میں نے ہاتھ سے کھویا تھا ہے غضب",
|
||
"CoupletIndex": 187,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 377,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اِصلا خبر نہیں مرے دلبر نے کیا کہا",
|
||
"CoupletIndex": 188,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 378,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "میں نے جواب کیا دیا اکبرؔ نے کیا کہا",
|
||
"CoupletIndex": 188,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 379,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کیا کہہ دیا تھا مرنے کو جائے یہ گل بدن",
|
||
"CoupletIndex": 189,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 380,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "راضی ہوئی تھی میں کہ خزاں ہو مرا چمن",
|
||
"CoupletIndex": 189,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 381,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بیخود ہوں جب سے رن میں سدھارے شہِ زمن",
|
||
"CoupletIndex": 190,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 382,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کہتی ہوں کچھ زباں سے نکلتا ہے کچھ سخن",
|
||
"CoupletIndex": 190,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 383,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اتنی خبر نہیں علیؔ اکبر کے پیار میں",
|
||
"CoupletIndex": 191,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 384,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "قابو میں ہے نہ دل نہ زباں اختیار میں",
|
||
"CoupletIndex": 191,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 385,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "زندوں میں ہوتی گر تو یہ کہتی کہ مرنے جائیں",
|
||
"CoupletIndex": 192,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 386,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اس پیاس میں شہید ہوں فاقوں میں زخم کھائیں",
|
||
"CoupletIndex": 192,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 387,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اٹھا رواں برس ہے دلھن تو مجھے دکھائیں",
|
||
"CoupletIndex": 193,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 388,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پالا ہے منتوں سے، مُرادیں مری برآئیں",
|
||
"CoupletIndex": 193,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 389,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "مرتی ہوں اشتیاق میں سہرا تو دیکھ لوں",
|
||
"CoupletIndex": 194,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 390,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سہرے کے نیچے چاند سا چہرا تو دیکھ لوں",
|
||
"CoupletIndex": 194,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 391,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "رخصت کے نام سے مرا پھٹتا ہے اب جگر",
|
||
"CoupletIndex": 195,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 392,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ایسا نہ ہو کہ بانوئے بے کس کو ہو خبر",
|
||
"CoupletIndex": 195,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 393,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "گر سن لیا تو دل میں کہے گی وہ نوحہ گر",
|
||
"CoupletIndex": 196,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 394,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پیارا ہوا نہ بنتِ علیؔ کو مرا پسر",
|
||
"CoupletIndex": 196,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 395,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سمجھیں تھیں کیا جو دی اسے رخصت جدال کی",
|
||
"CoupletIndex": 197,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 396,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "زینبؔ نے ہائے قدر نہ کی میرے لال کی",
|
||
"CoupletIndex": 197,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 397,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سچ ہے کہ اس کی چاہ سے نسبت مجھے کہاں",
|
||
"CoupletIndex": 198,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 398,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہوں لاکھ ان کی چاہنے والی وہ پھر ہے ماں",
|
||
"CoupletIndex": 198,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 399,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آنکھوں کا نور قلب کی طاقت بدن کی جاں",
|
||
"CoupletIndex": 199,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 400,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آنچ آتما کی ہے وہ قیامت کہ، الاماں",
|
||
"CoupletIndex": 199,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 401,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کیا سوچتے ہو صاحبو کچھ تم کو خیر ہے",
|
||
"CoupletIndex": 200,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 402,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ماں ہے تو ماں ہے خلق میں پھر غیر غیر ہے",
|
||
"CoupletIndex": 200,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 403,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ماں کی نہ کم توجہی اور نہ کسی کا پیار",
|
||
"CoupletIndex": 201,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 404,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "غصہ ہو، یا کہ سخت کہے دل میں ہے نثار",
|
||
"CoupletIndex": 201,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 405,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بلبل فدا ہے گل پہ، شکایت کرے ہزار",
|
||
"CoupletIndex": 202,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 406,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دنیا میں عاشقوں کے دلوں کو کہاں قرار",
|
||
"CoupletIndex": 202,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 407,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دیں ماں کا ساتھ نامِ خدا اب جوان ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 203,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 408,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "میرا ہے جب یہ حال، پھر اس کی تو جان ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 203,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 409,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جس دم سنے یہ دُور سے بانو نے سب کلام",
|
||
"CoupletIndex": 204,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 410,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آئی قریب حضرت زینب وہ نیک کام",
|
||
"CoupletIndex": 204,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 411,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کی غرض ہاتھ جوڑ کے اے خواہر امام",
|
||
"CoupletIndex": 205,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 412,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "میں ہوں کنیز آپ کی اور یہ پسر غلام",
|
||
"CoupletIndex": 205,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 413,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کس کی مجال ہے جو کہے گا یہ کیا کیا",
|
||
"CoupletIndex": 206,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 414,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بی بی نے دی غلام کو رخصت، بجا کیا",
|
||
"CoupletIndex": 206,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 415,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "لونڈی ہے فاطمہ کی کنیزوں میں با وفا",
|
||
"CoupletIndex": 207,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 416,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہو قطع وہ زباں جو کرے آپ کا گلا",
|
||
"CoupletIndex": 207,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 417,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "حضرت کو ان کے سر پہ سلامت رکھے خدا",
|
||
"CoupletIndex": 208,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 418,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "مالک ہیں آپ اس میں کسی کو ہے دخل کیا",
|
||
"CoupletIndex": 208,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 419,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کچھ جائے گفتگو ہے نہ ماں کو نہ باپ کو",
|
||
"CoupletIndex": 209,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 420,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہے دخل اذن دینے نہ دینے کا آپ کو",
|
||
"CoupletIndex": 209,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 421,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "غم کھائیے نہ خونِ جگر آپ پیجئے",
|
||
"CoupletIndex": 210,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 422,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "عابدؔ کو بھیج دیجیے اصغرؔ کو بھیجئے",
|
||
"CoupletIndex": 210,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 423,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہے اختیار دیجیے رخصت نہ دیجیے",
|
||
"CoupletIndex": 211,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 424,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "قربان جاؤں جو ہو مناسب وہ کیجیے",
|
||
"CoupletIndex": 211,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 425,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "شادی ہو یا کہ غم ہو شریکِ ثواب ہوں",
|
||
"CoupletIndex": 212,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 426,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہر طرح سے میں تابع حکمِ جناب ہوں",
|
||
"CoupletIndex": 212,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 427,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "گھر میرا جب سے لٹ گیا اس گھر میں آئی ہوں",
|
||
"CoupletIndex": 213,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 428,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "شکوے کا کوئی حرف کبھی لب پہ لائی ہوں",
|
||
"CoupletIndex": 213,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 429,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کسریٰ کی گو کہ پوتی ہوں سلطاں کی جائی ہوں",
|
||
"CoupletIndex": 214,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 430,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "لونڈی ہوں آپ کی علیؔ اکبر کی دائی ہوں",
|
||
"CoupletIndex": 214,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 431,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "صدقہ یہ آپ کا ہے جو شہ کو عزیز ہوں",
|
||
"CoupletIndex": 215,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 432,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بھاوج نہ جانیے مجھے ادنیٰ کنیز ہوں",
|
||
"CoupletIndex": 215,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 433,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آپ اس کی ماں ہیں آپ کا فرزند ہے یہ لال",
|
||
"CoupletIndex": 216,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 434,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دخل اس معاملہ میں کوئی دے یہ کیا مجال",
|
||
"CoupletIndex": 216,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 435,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یہ عازم جدال ہے اور آپ کا یہ حال",
|
||
"CoupletIndex": 217,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 436,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "قدموں کو چھوڑتا نہ کبھی یہ نکو خصال",
|
||
"CoupletIndex": 217,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 437,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آپ اس کو چاہتی ہیں یہ صدقے ہے آپ پر",
|
||
"CoupletIndex": 218,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 438,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پر کیا کرے کہ آج مصیبت ہے باپ پر",
|
||
"CoupletIndex": 218,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 439,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "قسمت بری ہے اس میں کسی کا قصور کیا",
|
||
"CoupletIndex": 219,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 440,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اچھا رہیں کہ جائیں ہمارا بھی ہے خدا",
|
||
"CoupletIndex": 219,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 441,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پروا ہماری ہے نہ خیال ان کو آپ کا",
|
||
"CoupletIndex": 220,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 442,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تابع ہم آپ کے بھی ہیں ان پر بھی ہیں فدا",
|
||
"CoupletIndex": 220,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 443,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "عابدؔ ہوں یا کہ یہ سبھی، آنکھوں کے تارے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 221,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 444,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پر اب تو یہ نہ آپ کے ہیں، نہ ہمارے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 221,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 445,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یہ سن کے کانپنے لگی زینبؔ جگر فگار",
|
||
"CoupletIndex": 222,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 446,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آئی صدائے فاطمہؔ بیٹی یہ ماں نثار",
|
||
"CoupletIndex": 222,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 447,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اللہ یہ محبتِ فرزند اور یہ پیار",
|
||
"CoupletIndex": 223,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 448,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تنہا ستم کی فوج میں ہے میرا گل عذار",
|
||
"CoupletIndex": 223,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 449,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "رخصت نہ دے گی تو اگر اس نور عین کو",
|
||
"CoupletIndex": 224,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 450,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کون اب بچائے گا مرے بیکس حسینؔ کو",
|
||
"CoupletIndex": 224,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 451,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آواز سن کے کانپ گئی بنتِ مرتضا",
|
||
"CoupletIndex": 225,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 452,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بانوؔ کے منہ کو دیکھ کے اکبرؔ سے یہ کہا",
|
||
"CoupletIndex": 225,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 453,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "واری سدھارو خیر جو کچھ مرضیِٔ خدا",
|
||
"CoupletIndex": 226,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 454,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ترکِ ادب ہے تم کو اگر اب نہ دوں رجا",
|
||
"CoupletIndex": 226,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 455,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یاں والدہ بہشت سے تشریف لائی ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 227,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 456,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بنتِ نبی تمہاری سفارش کو آئی ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 227,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 457,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تسلیم کرکے خیمے سے وہ سیم بر چلا",
|
||
"CoupletIndex": 228,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 458,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پیچھے حرم کا قافلہ سب ننگے سر چلا",
|
||
"CoupletIndex": 228,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 459,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بانوؔ پکارتی تھی کہ پیارا پسر چلا",
|
||
"CoupletIndex": 229,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 460,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "چلاتی تھی پوپھی مرا لختِ جگر چلا",
|
||
"CoupletIndex": 229,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 461,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "لٹتے ہیں اہلِ بیت دہائی امام کی",
|
||
"CoupletIndex": 230,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 462,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تصویر گھر سے جاتی ہے خیر الانام کی",
|
||
"CoupletIndex": 230,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 463,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بھائی کے غم سے عابدِ بیکس تھے بے قرار",
|
||
"CoupletIndex": 231,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 464,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اٹھتے تھے اور زمین پہ گرتے تھے باربار",
|
||
"CoupletIndex": 231,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 465,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بہنیں پکارتی تھیں کہ بھیا ترے نثار",
|
||
"CoupletIndex": 232,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 466,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سینوں کو پیٹتی تھیں خواصیں بہ حال زار",
|
||
"CoupletIndex": 232,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 467,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اک حشر تھا جدا علیؔ اکبر جو ہوتے تھے",
|
||
"CoupletIndex": 233,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 468,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جھولے میں پھوٹ پھوٹ کے اصغرؔ بھی روتے تھے",
|
||
"CoupletIndex": 233,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 469,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہلتا تھا خیمہ رانڈوں میں تھی، یہ دھڑا دھڑی",
|
||
"CoupletIndex": 234,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 470,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آہوں کی بجلیاں تھیں تو اشکوں کی تھی جھڑی",
|
||
"CoupletIndex": 234,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 471,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کوئی ادھر کو غش تھی کوئی تھی اُدھر پڑی",
|
||
"CoupletIndex": 235,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 472,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آفت کا وقت تھا تو قیامت کی تھی گھڑی",
|
||
"CoupletIndex": 235,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 473,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ماتم تھا یہ حسینؔ کے تازہ جوان کا",
|
||
"CoupletIndex": 236,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 474,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جاتا ہے گھر سے جیسے جنازہ جوان کا",
|
||
"CoupletIndex": 236,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 475,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "نکلا حرم سرا سے جو وہ نورِ حق کا نور",
|
||
"CoupletIndex": 237,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 476,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "خادم نے دی صدا کہ برآمد ہوئے حضور",
|
||
"CoupletIndex": 237,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 477,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "حضرت کھڑے تھے خیمے کی ڈیوڑھی سے کچھ جو دور",
|
||
"CoupletIndex": 238,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 478,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دستِ ادب کو جوڑ کے بولا وہ ذی شعور",
|
||
"CoupletIndex": 238,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 479,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "رخصت ہوں اب جو حکم شہ نامدار ہو",
|
||
"CoupletIndex": 239,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 480,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "رو کر کہا حسینؔ نے اچھا سوار ہو",
|
||
"CoupletIndex": 239,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 481,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "گھوڑے پہ شاہزادۂ عالم ہوا سوار",
|
||
"CoupletIndex": 240,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 482,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "گویا چلے جہاد کو محبوب کردگار",
|
||
"CoupletIndex": 240,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 483,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تھا ثانیِٔ براق فلک سیر راہوار",
|
||
"CoupletIndex": 241,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 484,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "صرصر سے تند و تیز تو بجلی سے بے قرار",
|
||
"CoupletIndex": 241,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 485,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یوں سامنے سے وہ دمِ جولاں نکل گیا",
|
||
"CoupletIndex": 242,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 486,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "گویا ہوا پہ تختِ سلیماں نکل گیا",
|
||
"CoupletIndex": 242,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 487,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "حضرت تو یاں زمیں پہ گرے تھام کر جگر",
|
||
"CoupletIndex": 243,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 488,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جاسوس نے یہ لشکر اعدا کو دی خبر",
|
||
"CoupletIndex": 243,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 489,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آتا ہے اک جوانِ حسیں غیرت قمر",
|
||
"CoupletIndex": 244,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 490,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "چہرہ پہ اس کے نور محمد ہے جلوہ گر",
|
||
"CoupletIndex": 244,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 491,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "شان و شکوہ سب اسدِ کبریا کی کی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 245,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 492,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کہتے ہیں سب بشر نہیں قدرت خدا کی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 245,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 493,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہے دھوم ذرے ذرے میں اس آفتاب کی",
|
||
"CoupletIndex": 246,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 494,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "خوشبو ہے زلف و جسم میں مشک و گلاب کی",
|
||
"CoupletIndex": 246,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 495,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سر تا قدم ہے شان رسالت مآب کی",
|
||
"CoupletIndex": 247,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 496,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تصویر ہے رسولِ خدا کے شباب کی",
|
||
"CoupletIndex": 247,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 497,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "گھوڑے کے گرد جن و ملک کا ہجوم ہے",
|
||
"CoupletIndex": 248,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 498,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "صلّو علی النبی کی بیاباں میں دھوم ہے",
|
||
"CoupletIndex": 248,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 499,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "روشن کیا ہے روئے منور نے راہ کو",
|
||
"CoupletIndex": 249,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 500,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "رخ پر نہیں ٹھہرنے کا یارا نگاہ کو",
|
||
"CoupletIndex": 249,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 501,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "حیراں ہے عقل دیکھ کے زلفِ سیاہ کو",
|
||
"CoupletIndex": 250,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 502,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آغوش میں لیے ہے شبِ قدر ماہ کو",
|
||
"CoupletIndex": 250,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 503,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چہرے کے نور سے شبِ مہتاب ماند ہے",
|
||
"CoupletIndex": 251,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 504,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "خالق گوا ہ ہے کہ اندھیرے کا چاند ہے",
|
||
"CoupletIndex": 251,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 505,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یہ ذکر تھا کہ نورِ خدا جلوہ گر ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 252,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 506,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "گویا رسولِ پاک کا رن میں گذر ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 252,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 507,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چلائے اہلِ شام کہ طالع قمر ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 253,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 508,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہنگامِ ظہر تھا پہ گمانِ سحر ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 253,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 509,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جلوہ دکھایا برق تجلیِٔ طور نے",
|
||
"CoupletIndex": 254,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 510,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "خورشید کو چھپا دیا چہرے کے نور نے",
|
||
"CoupletIndex": 254,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 511,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "غش کھا گیا کوئی کوئی گر کر سنبھلا گیا",
|
||
"CoupletIndex": 255,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 512,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "صلِّ علیٰ کسی کی زباں سے نکل گیا",
|
||
"CoupletIndex": 255,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 513,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "خجلت سے آفتاب کا نقشبہ بدل گیا",
|
||
"CoupletIndex": 256,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 514,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "چمکا جو نور دھوپ کا جو بن بھی ڈھل گیا",
|
||
"CoupletIndex": 256,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 515,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دریائے نور حق کا فقط اوج موج تھا",
|
||
"CoupletIndex": 257,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 516,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سب پست تھے زمیں کے ستارے کا اوج تھا",
|
||
"CoupletIndex": 257,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 517,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "صحرا کو شمعِ حسن نے تابند کر دیا",
|
||
"CoupletIndex": 258,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 518,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جو مردہ دل تھے دم میں انہیں زندہ کر دیا",
|
||
"CoupletIndex": 258,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 519,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ذروں کو آفتاب درخشندہ کر دیا",
|
||
"CoupletIndex": 259,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 520,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "گردوں کو اس زمین نے شرمندہ کر دیا",
|
||
"CoupletIndex": 259,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 521,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پایہ زمیں کا عرش کے ہم دست ہو گیا",
|
||
"CoupletIndex": 260,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 522,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جادے سے اوجِ کاہکشاں پست ہو گیا",
|
||
"CoupletIndex": 260,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 523,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اللہ رے نبیرۂ مشکل کشا کی شان",
|
||
"CoupletIndex": 261,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 524,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تھی جس کے عضو عضو سے پیدا خدا کی شان",
|
||
"CoupletIndex": 261,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 525,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "حیراں تھے لوگ دیکھ کے اس مہ لقا کی شان",
|
||
"CoupletIndex": 262,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 526,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "حمزہ کا رعب زورِ علی مصطفی کی شان",
|
||
"CoupletIndex": 262,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 527,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پاکیزگی نسب میں بزرگی صفات میں",
|
||
"CoupletIndex": 263,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 528,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "شیرینیٔ کلام حسنؔ بات بات میں",
|
||
"CoupletIndex": 263,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 529,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کچھ حسن بچپنے کا تو کچھ آمد شباب",
|
||
"CoupletIndex": 264,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 530,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "وہ گل سا جسم اور وہ چہرے کی آب و تاب",
|
||
"CoupletIndex": 264,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 531,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اپنی جگہ یہ خال کے نقطے ہیں انتخاب",
|
||
"CoupletIndex": 265,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 532,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پتلی کا نور جن کی سیاہی سے بہرہ یاب",
|
||
"CoupletIndex": 265,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 533,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "گردن کی ضو میں طَور تجلیٔ طُور کے",
|
||
"CoupletIndex": 266,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 534,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سب عضو تن ڈھلے ہوئے سانچے میں نور کے",
|
||
"CoupletIndex": 266,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 535,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دل پاک روح پاک نطر پاک جسم پاک",
|
||
"CoupletIndex": 267,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 536,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "طینت میں آبِ خلد تھا اور کربلا کی خاک",
|
||
"CoupletIndex": 267,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 537,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "غرفوں سے جس کے حسن کی حوروں کو جھانک تاک",
|
||
"CoupletIndex": 268,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 538,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "یوسف جو دیکھ لیں تو کہے روحنا فداک",
|
||
"CoupletIndex": 268,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 539,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "نام اس کا لوح پر جو قلم نے رقم کیا",
|
||
"CoupletIndex": 269,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 540,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سو بار پڑھ کے سورۂ نور اس پہ دم کیا",
|
||
"CoupletIndex": 269,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 541,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کیا دخل، چار ہو، جو کسی بے ادب کی آنکھ",
|
||
"CoupletIndex": 270,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 542,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "رکھتی تھی رعب یہ، نہ عجم نہ عرب کی آنکھ",
|
||
"CoupletIndex": 270,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 543,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "لاکھوں تھے اس طرف پہ جھپکتی تھی سب کی آنکھ",
|
||
"CoupletIndex": 271,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 544,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "غصہ ستم کا، قہر کی چتون غضب کی آنکھ",
|
||
"CoupletIndex": 271,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 545,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پانی تھا، خوف جاں سے جگر، ہر دلیر کا",
|
||
"CoupletIndex": 272,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 546,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آہو شکار کرتے تھے میداں میں شیر کا",
|
||
"CoupletIndex": 272,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 547,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "غل تھا رسولِ پاک کے ثانی کو دیکھنا",
|
||
"CoupletIndex": 273,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 548,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "حسنِ بہار باغ جوانی کو دیکھنا",
|
||
"CoupletIndex": 273,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 549,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کھلتے ہیں گل شگفتہ بیانی کو دیکھنا",
|
||
"CoupletIndex": 274,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 550,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "یہ سب تو ہے پہ غنچہ دہانی کو دیکھنا",
|
||
"CoupletIndex": 274,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 551,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "نازک لب اس صفت کے دہن اس طریق کا",
|
||
"CoupletIndex": 275,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 552,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "خاتم پہ جڑ دیا ہے نگینہ عقیق کا",
|
||
"CoupletIndex": 275,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 553,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کچھ عمر بھی نہیں ابھی اٹھارواں ہے سال",
|
||
"CoupletIndex": 276,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 554,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "یہ باغ کس بہار میں ہوتا ہے پائمال",
|
||
"CoupletIndex": 276,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 555,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "قامت یہ ہے کہ سروِ گلستانِ اعتدال",
|
||
"CoupletIndex": 277,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 556,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ماں باپ دیکھ دیکھ کے کیوں کر نہ ہوں نہال",
|
||
"CoupletIndex": 277,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 557,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آنکھوں کے سامنے جو یہ قامت نہ ہوئے گی",
|
||
"CoupletIndex": 278,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 558,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بتلاؤ ماں کہ دل پہ قیامت نہ ہوئے گی",
|
||
"CoupletIndex": 278,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 559,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "زخمی جو ہوگی تیر سے یہ چاند سی جبیں",
|
||
"CoupletIndex": 279,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 560,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پٹکے گی سر کو خاک پہ بانوئے دل حزیں",
|
||
"CoupletIndex": 279,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 561,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تیغوں سے جب کٹیں گے یہ رخسار نازنیں",
|
||
"CoupletIndex": 280,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 562,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پیٹیں گے دونوں ہاتھوں سے منہ اپنا شاہِ دیں",
|
||
"CoupletIndex": 280,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 563,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سینہ چھدے پسر کا تو کیا دل کو کل پڑے",
|
||
"CoupletIndex": 281,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 564,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ایوبؔ بھی جو ہوں تو کلیجہ نکل پڑے",
|
||
"CoupletIndex": 281,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 565,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ناگاہ فوج کیں سے عمرؔ نے کیا کلام",
|
||
"CoupletIndex": 282,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 566,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "یہ وقت کار زار ہے اے ساکنانِ شام",
|
||
"CoupletIndex": 282,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 567,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بس ہے یہی بساط شہنشاہِ خاص و عام",
|
||
"CoupletIndex": 283,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 568,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "مارا گیا یہ شیر تو مر جائیں گے امام",
|
||
"CoupletIndex": 283,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 569,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "لُوٹو جناب فاطمہؔ زہرا کے باغ کو",
|
||
"CoupletIndex": 284,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 570,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ٹھنڈا کرو حسینؔ کے گھر کے چراغ کو",
|
||
"CoupletIndex": 284,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 571,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تصویر مصطفی کی مٹائے گا آج جو",
|
||
"CoupletIndex": 285,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 572,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کہتا ہوں میں کہ صاحب جاگیر ہوگا وہ",
|
||
"CoupletIndex": 285,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 573,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "محبوب کبریا کے مشابہ ہے گر تو ہو",
|
||
"CoupletIndex": 286,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 574,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اب مصلحت یہی ہے کہ مہلت اسے نہ دو",
|
||
"CoupletIndex": 286,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 575,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہے اس سے کیا مراد حسیں ہے کہ نیک ہے",
|
||
"CoupletIndex": 287,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 576,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دو لاکھ اس طرف ہیں دلاور وہ ایک ہے",
|
||
"CoupletIndex": 287,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 577,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دنیا نہ جائے دین کا گر ہو تو ہو ضرر",
|
||
"CoupletIndex": 288,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 578,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ٹکڑے کرو اسے کہ یہ دشمن کا ہے پسر",
|
||
"CoupletIndex": 288,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 579,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تم آب دیدہ ہو لبِ خشک اس کے دیکھ کر",
|
||
"CoupletIndex": 289,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 580,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "قطرہ نہ دوں میں گھٹنیوں اصغرؔ بھی آئے گر",
|
||
"CoupletIndex": 289,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 581,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "غیر از یزیدؔ اور کوئی حکمراں نہ ہو",
|
||
"CoupletIndex": 290,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 582,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اولاد مرتضیٰ میں کسی کا نشاں نہ ہو",
|
||
"CoupletIndex": 290,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 583,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہاں غازیو نہ اس کی جوانی کا غم کرو",
|
||
"CoupletIndex": 291,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 584,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "نیزے پہ نیزے مارو ستم پر ستم کرو",
|
||
"CoupletIndex": 291,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 585,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "برچھی اٹھاؤ ہاتھوں پہ تیغیں علم کرو",
|
||
"CoupletIndex": 292,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 586,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "نخلِ مرادِ سبطِ نبی کو قلم کرو",
|
||
"CoupletIndex": 292,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 587,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بیٹا نہ جب رہا تو کدھر جائیں گے حسینؔ",
|
||
"CoupletIndex": 293,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 588,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "گھوڑے سے یہ گرے گا تو مرجائیں گے حسینؔ",
|
||
"CoupletIndex": 293,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 589,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چھد جائے گا سناں سے جو اس شیر کا جگر",
|
||
"CoupletIndex": 294,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 590,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تڑپیں گے کیا زمیں پہ شہنشاہ بحر و بر",
|
||
"CoupletIndex": 294,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 591,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ڈیوڑھی سے ماں پکارے گی ہے ہے مرا پسر",
|
||
"CoupletIndex": 295,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 592,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "نکلے گی خیمہ گاہ سے زینبؔ برہنہ سر",
|
||
"CoupletIndex": 295,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 593,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "حضرت تو پیٹتے ہوئے لاشے پہ آئیں گے",
|
||
"CoupletIndex": 296,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 594,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہم لوٹنے کو خیمۂ اقدس میں جائیں گے",
|
||
"CoupletIndex": 296,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 595,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یہ گل عذار دخترِ حیدرؔ کی جان ہے",
|
||
"CoupletIndex": 297,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 596,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بہنوں کی زندگی ہے برادر کی جان ہے",
|
||
"CoupletIndex": 297,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 597,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بابا کی روح ہے تنِ مادر کی جان ہے",
|
||
"CoupletIndex": 298,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 598,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بے جاں کرو اسے کہ یہ سب گھر کی جان ہے",
|
||
"CoupletIndex": 298,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 599,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جوشن یہی ہے بازوئے برناوپیر کا",
|
||
"CoupletIndex": 299,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 600,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بعد اس کے خاتمہ ہے صغیر و کبیر کا",
|
||
"CoupletIndex": 299,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 601,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یہ سن کے فوجِ کیں ہوئی آمادۂ نبرد",
|
||
"CoupletIndex": 300,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 602,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دردِ دل حسین کا تھا ایک کو نہ درد",
|
||
"CoupletIndex": 300,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 603,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "غل سن کے ہو گیا شہ والا کا رنگ زرد",
|
||
"CoupletIndex": 301,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 604,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کانپے جو پاؤں بیٹھ گئے بھر کے آہ سرد",
|
||
"CoupletIndex": 301,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 605,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ماں گر پڑی زمیں پہ پھوپھی بلبلا گئی",
|
||
"CoupletIndex": 302,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 606,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بدلی ستم کی واں علیؔ اکبر پہ چھا گئی",
|
||
"CoupletIndex": 302,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 607,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "قرنا پھکی سپاہ میں طبلِ وغا بجا",
|
||
"CoupletIndex": 303,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 608,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "باندھے پرے سواروں نے بڑھ بڑھ کے جابجا",
|
||
"CoupletIndex": 303,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 609,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پیدل، چلے نبرد کو باجے بجابجا",
|
||
"CoupletIndex": 304,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 610,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "چلاے اہلِ بیت کہ ہے ہے یہ کیا بجا",
|
||
"CoupletIndex": 304,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 611,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "حضرت پکارے لال پہ اعدا کے ریلے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 305,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 612,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "رانڈو دعا کرو علیؔ اکبر اکیلے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 305,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 613,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "لڑنے کو اس طرف سے عدو سب کے سب بڑھے",
|
||
"CoupletIndex": 306,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 614,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تنہا ادھر سے اکبرؔ عالی نسب بڑھے",
|
||
"CoupletIndex": 306,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 615,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چومے قدم نہیب نے جھک کر یہ جب بڑھے",
|
||
"CoupletIndex": 307,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 616,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "گویا پئے جہاد امیر عرب بڑھے",
|
||
"CoupletIndex": 307,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 617,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دہشت سے فوج شام کی بدلی سمٹ گئی",
|
||
"CoupletIndex": 308,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 618,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "قدرت خدا کی دن جو بڑھا رات گھٹ گئی",
|
||
"CoupletIndex": 308,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 619,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ڈھالوں کو رکھ کے چہروں پہ گر گر پڑے حسود",
|
||
"CoupletIndex": 309,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 620,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "گو تھے کئی ہزار پہ کیا ان کی ہست و بود",
|
||
"CoupletIndex": 309,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 621,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تھرا گیا تمام جنودِ سقر و رود",
|
||
"CoupletIndex": 310,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 622,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "نورِ خدا کے سامنے ظلمت کی کیا نمود",
|
||
"CoupletIndex": 310,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 623,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "عبرت سپاہ شام پہ دِہ چند ہو گئی",
|
||
"CoupletIndex": 311,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 624,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "باجوں کی فوجِ کیں کے صدا بند ہو گئی",
|
||
"CoupletIndex": 311,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 625,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جرار کی زرہ پہ لگے جب کئی خدنگ",
|
||
"CoupletIndex": 312,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 626,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "صفدر نے پڑھ کے فاتحہ، لی تیغ شعلہ رنگ",
|
||
"CoupletIndex": 312,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 627,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چمکا اک آئینہ کہ ہوئی فوجِ شام دنگ",
|
||
"CoupletIndex": 313,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 628,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دکھلائے تیغ تیز نے بجلی کے رنگ ڈھنگ",
|
||
"CoupletIndex": 313,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 629,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تھی کس کو تاب صاعقۂ شعلہ بار کی",
|
||
"CoupletIndex": 314,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 630,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "یاد آ گئی ہر اک کو چمک ذوالفقار کی",
|
||
"CoupletIndex": 314,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 631,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تھم تھم کے یوں گیا صفِ اعدا پہ وہ دلیر",
|
||
"CoupletIndex": 315,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 632,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جاتا ہے داؤں کر کے غزالوں پہ جیسے شیر",
|
||
"CoupletIndex": 315,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 633,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "غازی جو بھوک پیاس میں تھا زندگی سے سیر",
|
||
"CoupletIndex": 316,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 634,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کشتوں کے پشتے ہو گئے دم میں سروں کے ڈھیر",
|
||
"CoupletIndex": 316,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 635,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اک سیل زور شور سے آئی گذر گئی",
|
||
"CoupletIndex": 317,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 636,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ثابت نہ یہ ہوا صفِ اول کدھر گئی",
|
||
"CoupletIndex": 317,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 637,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جب یہ بڑھے لہو تنِ اعدا کا گھٹ گیا",
|
||
"CoupletIndex": 318,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 638,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "باقی تھا جو حساب وہ لاشوں سے پٹ گیا",
|
||
"CoupletIndex": 318,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 639,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "لشکر میں فرد فرد کا چہرا جو کٹ گیا",
|
||
"CoupletIndex": 319,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 640,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پس دفعتاً سپاہ کا دفتر الٹ گیا",
|
||
"CoupletIndex": 319,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 641,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سر داخلِ خزانۂ سرکار ہوگئے",
|
||
"CoupletIndex": 320,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 642,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پہلا ہی جائزہ تھا کہ بیکار ہوگے",
|
||
"CoupletIndex": 320,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 643,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چہرے پہ ایک کے نہ بحالی نظر پڑی",
|
||
"CoupletIndex": 321,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 644,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جو صف بھری ہوئی تھی وہ خالی نظر پڑی",
|
||
"CoupletIndex": 321,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 645,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سر پر سبھوں کے تیغ ہلالی نظر پڑی",
|
||
"CoupletIndex": 322,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 646,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سوئے جنوب فوجِ شمالی نظر پڑی",
|
||
"CoupletIndex": 322,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 647,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "غل تھا کہ تیغ تیز نہیں موت آتی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 323,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 648,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کیوں کر قدم تھمیں کہ زمیں سرکی جاتی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 323,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 649,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ٹکڑے پڑے تھے خاک پہ بھالے اِدھر اُدھر",
|
||
"CoupletIndex": 324,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 650,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "چھپتے تھے ڈر کے برچھیوں والے اِدھر اُدھر",
|
||
"CoupletIndex": 324,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 651,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پیشِ نظر تھے خون کے تھالے اِدھر اُدھر",
|
||
"CoupletIndex": 325,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 652,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ابتر تھے دشتِ کیں میں رسالے اِدھر اُدھر",
|
||
"CoupletIndex": 325,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 653,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ملتا تھا فصل کا نہ ٹھکانا نہ باب کا",
|
||
"CoupletIndex": 326,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 654,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "شیرازہ کھل گیا تھا ستم کی کتاب کا",
|
||
"CoupletIndex": 326,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 655,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بڑھ کر کسی نے وار جو روکا سپر کٹی",
|
||
"CoupletIndex": 327,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 656,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "چار آئینہ کٹا زرہِ خیرہ سر کٹی",
|
||
"CoupletIndex": 327,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 657,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "نیزے کی ہرگرہ صفتِ نیشکر کٹی",
|
||
"CoupletIndex": 328,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 658,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سینہ کٹا جگر ہوا زخمی کمر کٹی",
|
||
"CoupletIndex": 328,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 659,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "رہوار بھی دو نیم میانِ مصاف تھا",
|
||
"CoupletIndex": 329,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 660,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ان سب کے بعد منہ کو جو دیکھا تو صاف تھا",
|
||
"CoupletIndex": 329,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 661,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "وہ گھاٹ باڑھ اور وہ اس کی چمک دمک",
|
||
"CoupletIndex": 330,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 662,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کانپی کبھی زمیں کبھی تھرا گئے فلک",
|
||
"CoupletIndex": 330,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 663,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "شعلے میں یہ چمک تھی نہ بجلی میں یہ لپک",
|
||
"CoupletIndex": 331,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 664,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہر ضرب میں سما سے تلاطم تھا تا سمک",
|
||
"CoupletIndex": 331,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 665,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کونین میں حواس بجا تھے نہ ایک کے",
|
||
"CoupletIndex": 332,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 666,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "گاوِ زمیں سمٹتی تھی گھنٹوں کو ٹیک کے",
|
||
"CoupletIndex": 332,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 667,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سیدھی چلی وہ جب صفِ دشمن الٹ گئی",
|
||
"CoupletIndex": 333,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 668,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "باقی تھی جتنی عمر تہِ تیغ کٹ گئی",
|
||
"CoupletIndex": 333,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 669,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آ کر زمیں پہ جب سوئے گردن پلٹ گئی",
|
||
"CoupletIndex": 334,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 670,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بجلی سے رعد رعد سے بجلی لپٹ گئی",
|
||
"CoupletIndex": 334,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 671,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "گرتے تھے جن، زمین پہ منہ ڈھانپ ڈھانپ کے",
|
||
"CoupletIndex": 335,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 672,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہٹتے تھے جبرئیل امیں کانپ کانپ کے",
|
||
"CoupletIndex": 335,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 673,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ملتا نہ تھا صفوں میں عَلم کا نشاں کہیں",
|
||
"CoupletIndex": 336,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 674,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "چلے کہیں تھے شست کہیں اور کماں کہیں",
|
||
"CoupletIndex": 336,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 675,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "نیزے کہیں تھے ڈانڈ کہیں اور سناں کہیں",
|
||
"CoupletIndex": 337,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 676,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جمدھر کہیں کمند کہیں برچھیاں کہیں",
|
||
"CoupletIndex": 337,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 677,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اک اک سیاہ رو کا جگر داغ داغ تھا",
|
||
"CoupletIndex": 338,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 678,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جنگل تمام ڈھالوں کے پھولوں سے باغ تھا",
|
||
"CoupletIndex": 338,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 679,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چمکی گری اٹھی ادھر آئی اُدھر گئی",
|
||
"CoupletIndex": 339,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 680,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "خالی کیے پرے تو صفیں خوں میں بھر گئی",
|
||
"CoupletIndex": 339,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 681,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کاٹے کبھی قدم کبھی بالائے سر گئی",
|
||
"CoupletIndex": 340,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 682,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ندی غضب کی تھی کہ چڑھی اور اتر گئی",
|
||
"CoupletIndex": 340,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 683,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اک شور تھا یہ کیا ہے جو قہر صمد نہیں",
|
||
"CoupletIndex": 341,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 684,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ایسا تو رودِ نیل میں بھی جزر و مد نہیں",
|
||
"CoupletIndex": 341,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 685,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سر خود سروں کے چنبر گردن سے اڑ گئے",
|
||
"CoupletIndex": 342,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 686,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہاتھ آستیں سے اڑ گئے سر تن سے اڑ گئے",
|
||
"CoupletIndex": 342,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 687,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ڈر ڈر کے سب پرند نشیمن سے اڑ گئے",
|
||
"CoupletIndex": 343,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 688,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پائی جو راہ طائرِ جاں سَن سے اڑ گئے",
|
||
"CoupletIndex": 343,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 689,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تھے قتلِ عام پر علیؔ اکبر تلے ہوئے",
|
||
"CoupletIndex": 344,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 690,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "رستے تھے بند زخموں کے کوچے کھلے ہوئے",
|
||
"CoupletIndex": 344,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 691,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اللہ رے دو زبانیٔ تیغ دو دم کا کاٹ",
|
||
"CoupletIndex": 345,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 692,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آفت تھی جس کی باڑھ قیامت تھا جس کا گھاٹ",
|
||
"CoupletIndex": 345,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 693,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "مقتل سے تا بہ نہر تھا دریائے خوں کا پاٹ",
|
||
"CoupletIndex": 346,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 694,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہر دم تھی اس کو تازہ لہو چاٹنے کی چاٹ",
|
||
"CoupletIndex": 346,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 695,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سختی کو جوڑ بند کے کب مانتی تھی وہ",
|
||
"CoupletIndex": 347,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 696,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہر استخواں کو مغز قلم جانتی تھی وہ",
|
||
"CoupletIndex": 347,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 697,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آئی جدھر پلٹ کے صفوں کو بچھا گئی",
|
||
"CoupletIndex": 348,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 698,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تن سے اڑا دیا وہی سر جس کو پا گئی",
|
||
"CoupletIndex": 348,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 699,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہر اک کڑی کو نرم سمجھ کر چبا گئی",
|
||
"CoupletIndex": 349,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 700,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "فولاد کی زرہ کو اشارے میں کھا گئی",
|
||
"CoupletIndex": 349,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 701,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چار آئینہ کا کاٹ بھی اس پر حوالہ تھا",
|
||
"CoupletIndex": 350,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 702,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ذکر اس کا کیا ہے خود تو منہ کا نوالہ تھا",
|
||
"CoupletIndex": 350,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 703,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یارا قرار کا تھا نہ صورت فرار کی",
|
||
"CoupletIndex": 351,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 704,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پیدل کی موت تھی تو خرابی سوار کی",
|
||
"CoupletIndex": 351,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 705,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "روئیں تنوں کو، تاب نہ تھی ایک وار کی",
|
||
"CoupletIndex": 352,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 706,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ٹکڑے تھے دو کے ہاتھ یہ گھائی تھی چار کی",
|
||
"CoupletIndex": 352,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 707,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آگے بڑھے تو منہ وہیں کٹ جائے گیو کا",
|
||
"CoupletIndex": 353,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 708,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بجلی کی تھی کڑک کہ طمانچہ تھا دیو کا",
|
||
"CoupletIndex": 353,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 709,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اتری زمیں پہ وہ سر دشمن پہ جب چڑھی",
|
||
"CoupletIndex": 354,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 710,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دم بھر میں آبِ تیغ کی ندی غضب چڑھی",
|
||
"CoupletIndex": 354,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 711,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اک شور تھا صفوں میں کب اتری یہ کب چڑھی",
|
||
"CoupletIndex": 355,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 712,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سب کو بخارِ تیغ سے لرزے کی تپ چڑھی",
|
||
"CoupletIndex": 355,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 713,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "مقتل سے بھاگنے پہ تنک ظرف تُل گئے",
|
||
"CoupletIndex": 356,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 714,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کانپے یہ نیزہ باز کہ سب بند کُھل گئے",
|
||
"CoupletIndex": 356,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 715,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "زندہ کسی کو تیغ دو دم چھوڑتی نہ تھی",
|
||
"CoupletIndex": 357,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 716,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پیاسی یہ تھی کہ جسم میں دم چھوڑتی نہ تھی",
|
||
"CoupletIndex": 357,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 717,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بے دم کیے گلا کوئی دم چھوڑتی نہ تھی",
|
||
"CoupletIndex": 358,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 718,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بھاگیں کہاں کہ موت قدم چھوڑتی نہ تھی",
|
||
"CoupletIndex": 358,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 719,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "خود وہ دبے جو لڑتے تھے گھوڑوں کو داب کے",
|
||
"CoupletIndex": 359,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 720,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بیڑی قدم میں بن گئے، حلقے رکاب کے",
|
||
"CoupletIndex": 359,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 721,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "قعرِ سقر میں کشتۂ ضربِ نخست تھے",
|
||
"CoupletIndex": 360,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 722,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بے سر ہوئے بہت جو لڑائی میں چست تھے",
|
||
"CoupletIndex": 360,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 723,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "قبضہ میں تھا نہ زور نہ بازو درست ھے",
|
||
"CoupletIndex": 361,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 724,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کھینچیں کسے کمانوں کے بازو بھی سست تھے",
|
||
"CoupletIndex": 361,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 725,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہر کج نہاد تیر اجل کا نشانہ تھا",
|
||
"CoupletIndex": 362,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 726,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "شانے بھی تھے قلم یہ نیا شاخسانہ تھا",
|
||
"CoupletIndex": 362,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 727,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تیغوں کو ڈر کے عربدہ جو پھینکنے لگے",
|
||
"CoupletIndex": 363,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 728,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "مغفر سروں سے مثل سبو پھینکنے لگے",
|
||
"CoupletIndex": 363,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 729,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "حلقے کماں کے سب لب جو پھینکنے لگے",
|
||
"CoupletIndex": 364,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 730,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تنکا سمجھ کے تیر عدو پھینکنے لگے",
|
||
"CoupletIndex": 364,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 731,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ترکش بھی اہل ظلم کے آفت رسیدہ تھے",
|
||
"CoupletIndex": 365,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 732,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "چلّے بھی کشمکش میں کماں سے کشیدہ تھے",
|
||
"CoupletIndex": 365,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 733,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کرتے تھے فتح جنگ کو جو ایک آن میں",
|
||
"CoupletIndex": 366,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 734,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "رعشہ تھا ان کے ہاتھ میں لکنت زبان میں",
|
||
"CoupletIndex": 366,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 735,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "الجھاتے تھے کمند کمینے کمان میں",
|
||
"CoupletIndex": 367,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 736,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ترکش میں تیغیں رکھتے تھے تیروں کو میان میں",
|
||
"CoupletIndex": 367,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 737,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تلوار رکھ کے ہاتھ سے منہ ڈھانپ لیتے تھے",
|
||
"CoupletIndex": 368,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 738,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آتی تھی تیغ جب تو سپر پھینک دیتے تھے",
|
||
"CoupletIndex": 368,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 739,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بڑھتے تھے جو پرے سے بڑے بول بول کے",
|
||
"CoupletIndex": 369,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 740,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پہلے انہیں کو مار لیا رول رول کے",
|
||
"CoupletIndex": 369,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 741,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "حملہ کیا جو تیغِ دو دم تول تول کے",
|
||
"CoupletIndex": 370,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 742,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہتھیار سب نے پھینک دیے کھول کھول کے",
|
||
"CoupletIndex": 370,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 743,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اس شان سے کبھی نہ عجم نہ عرب لڑے",
|
||
"CoupletIndex": 371,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 744,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دو دن کی پیاس میں علیؔ اکبر غضب لڑے",
|
||
"CoupletIndex": 371,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 745,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دہشت سے کتنے ڈوب کے دریا میں مر گئے",
|
||
"CoupletIndex": 372,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 746,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اس گھاٹ پر جو آئے سر ان کے اتر گئے",
|
||
"CoupletIndex": 372,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 747,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "رستہ تھا ایک اِدھر وہ گئے یا اُدھر گئے",
|
||
"CoupletIndex": 373,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 748,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہر پھر کے ہر طرف سے میانِ سقر گئے",
|
||
"CoupletIndex": 373,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 749,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "نار ان کے اشتیاق میں آب ان کی لاگ میں",
|
||
"CoupletIndex": 374,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 750,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پھینکا ہوا نے آب میں پانی نے آگ میں",
|
||
"CoupletIndex": 374,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 751,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "وہ حرب وہ شکوہ وہ شان پیمبری",
|
||
"CoupletIndex": 375,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 752,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "نعرے وہ زور و شور کے وہ ضرب حیدریؔ",
|
||
"CoupletIndex": 375,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 753,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "وہ تیغ خوں چکاں وہ جلالِ غضنفری",
|
||
"CoupletIndex": 376,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 754,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "راکب جو رشکِ حور تو رہوار بھی پری",
|
||
"CoupletIndex": 376,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 755,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چالاک آہوانِ ختن اس قدر نہ تھے",
|
||
"CoupletIndex": 377,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 756,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اڑ جاتا تھا ہما کی طرح اور پر نہ تھے",
|
||
"CoupletIndex": 377,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 757,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "باریک جلد وہ کہ نظر آئے تن کا خوں",
|
||
"CoupletIndex": 378,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 758,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کنڈے کو دیکھ کر مہِ نو ہووے سرنگوں",
|
||
"CoupletIndex": 378,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 759,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "رفتار میں وہ سحر کہ پریوں کو ہو جنوں",
|
||
"CoupletIndex": 379,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 760,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "غنچے بھی کچھ بڑے ہیں کنوتی کو کیا کروں",
|
||
"CoupletIndex": 379,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 761,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "قرباں ہزار جان، فرس بے نظیر پر",
|
||
"CoupletIndex": 380,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 762,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پیکان دو چڑھے ہوئے ہیں ایک تیر پر",
|
||
"CoupletIndex": 380,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 763,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کوتاہ و گرد و صاف کنوتی کمر کفل",
|
||
"CoupletIndex": 381,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 764,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کیا خوشنما کشادگیِٔ سینہ و بغل",
|
||
"CoupletIndex": 381,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 765,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سیماب کی طرح نہیں آرام ایک پل",
|
||
"CoupletIndex": 382,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 766,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پھرتا تھا اس طرح کہ پھرے جس طرح سے کَل",
|
||
"CoupletIndex": 382,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 767,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "راکب نے سانس لی کہ وہ کوسوں روانہ تھا",
|
||
"CoupletIndex": 383,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 768,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تارِ نفس بھی اس کے لیے تازیانہ تھا",
|
||
"CoupletIndex": 383,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 769,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "وہ جست خیز سرعتِ چالاکیِٔ سمند",
|
||
"CoupletIndex": 384,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 770,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سانچے میں تھے ڈھلے ہوئے سب اس کے جوڑ بند",
|
||
"CoupletIndex": 384,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 771,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سُم قرص ماہتاب سے روشن ہزار چند",
|
||
"CoupletIndex": 385,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 772,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "نازک مزاج و شوخ و سیہ جسم سر بلند",
|
||
"CoupletIndex": 385,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 773,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "گر ہل گئی ہوا سے ذرا باگ اڑ گیا",
|
||
"CoupletIndex": 386,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 774,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پُتلی سوار کی نہ پھری تھی کہ مُڑ گیا",
|
||
"CoupletIndex": 386,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 775,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آہو کی جست شیر کی آمد پری کی چال",
|
||
"CoupletIndex": 387,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 776,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کبکِ دری خجل پر طاؤس پائمال",
|
||
"CoupletIndex": 387,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 777,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سبزہ سبک روی میں قدم کے تلے نہال",
|
||
"CoupletIndex": 388,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 778,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اک دو قدم میں بھول گئے چوکڑی غزال",
|
||
"CoupletIndex": 388,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 779,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جو آ گیا قدم کے تلے گرد برد تھا",
|
||
"CoupletIndex": 389,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 780,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "چھل بل غضب کی تھی کہ چھلاوا بھی گرد تھا",
|
||
"CoupletIndex": 389,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 781,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بجلی کبھی بنا کبھی رہوار بن گیا",
|
||
"CoupletIndex": 390,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 782,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آیا عرق تو ابر گہر بار بن گیا",
|
||
"CoupletIndex": 390,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 783,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "گہ قطب، گاہ گنبد دوّار بن گیا",
|
||
"CoupletIndex": 391,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 784,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "نقطہ کبھی بنا کبھی پرکار بن گیا",
|
||
"CoupletIndex": 391,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 785,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تیراں تھے اس کے گشت پہ لوگ اس ہجوم کے",
|
||
"CoupletIndex": 392,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 786,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تھوڑی سی جا میں پھرتا تھا کیا جھوم جھوم کے",
|
||
"CoupletIndex": 392,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 787,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جب اس جری نے قتل کیے پانچ سو جواں",
|
||
"CoupletIndex": 393,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 788,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہر صف سے ہر پرے سے اٹھا شور الاماں",
|
||
"CoupletIndex": 393,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 789,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چلایا ابن سعدِ سیہ قلب و سخت جاں",
|
||
"CoupletIndex": 394,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 790,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "نکلیں وہ دس ہزار کماندار ہیں کہاں",
|
||
"CoupletIndex": 394,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 791,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "برچھی کا اب ہے کام نہ تلوار چاہیے",
|
||
"CoupletIndex": 395,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 792,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اس نوجواں پہ تیروں کی بوچھار چاہیے",
|
||
"CoupletIndex": 395,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 793,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یہ سن کے تشنہ لب پہ چلے چار سو سے تیر",
|
||
"CoupletIndex": 396,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 794,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پتھر عقب سے پڑنے لگے رو برو سے تیر",
|
||
"CoupletIndex": 396,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 795,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آتے تھے فوج فوج، سپاہِ عدو سے تیز",
|
||
"CoupletIndex": 397,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 796,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سب سرخ تھے شبیہ نبی کے لہو سے تیر",
|
||
"CoupletIndex": 397,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 797,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "مقتل میں کیا ہجوم تھا اس نور عین پر",
|
||
"CoupletIndex": 398,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 798,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پروانے گر رہے تھے چراغِ حسینؔ پر",
|
||
"CoupletIndex": 398,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 799,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سینے پہ تیر کھا کے اٹھایا جو راہوار",
|
||
"CoupletIndex": 399,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 800,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بجلی چمک کے ہو گئی گویا فلک کے پار",
|
||
"CoupletIndex": 399,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 801,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سر خاک پر گرانے لگی تیغِ آبدار",
|
||
"CoupletIndex": 400,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 802,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تیروں کو پھینک پھینک کے بھاگے خطا شعار",
|
||
"CoupletIndex": 400,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 803,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "حملہ کیا تھا جن پہ رخ ان کے تو پھر گئے",
|
||
"CoupletIndex": 401,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 804,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پر یہ پلٹ کے برچھیوں والوں میں گھر گئے",
|
||
"CoupletIndex": 401,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 805,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یوں آ گیا سنانوں میں وہ آسماں جناب",
|
||
"CoupletIndex": 402,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 806,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہو جس طرح خطوطِ شعاعی میں آفتاب",
|
||
"CoupletIndex": 402,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 807,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سوکھی زباں میں پڑ گئے کانٹے بغیر آب",
|
||
"CoupletIndex": 403,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 808,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "طاقت بھی فرط ضعف سے دینے لگی جواب",
|
||
"CoupletIndex": 403,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 809,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آمد ہوئی جو غش کی سرِ پاک جھک گیا",
|
||
"CoupletIndex": 404,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 810,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "واحسرتا کہ ہاتھ بھی لڑنے سے رک گیا",
|
||
"CoupletIndex": 404,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 811,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اس حال میں بھی تیغ سے کیں برچھیاں قلم",
|
||
"CoupletIndex": 405,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 812,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "لیکن جگر پہ لگ گیا اک نیزۂ ستم",
|
||
"CoupletIndex": 405,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 813,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "زخمِ جگر سے بہنے لگا خون دم بہ دم",
|
||
"CoupletIndex": 406,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 814,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "نکلے ہوئے رکابوں سے تھراتے تھے قدم",
|
||
"CoupletIndex": 406,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 815,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کھینچا جو اس نے سینے سے نیزہ تکاں کے ساتھ",
|
||
"CoupletIndex": 407,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 816,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دو پارۂ جگر نکل آئے سناں کے ساتھ",
|
||
"CoupletIndex": 407,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 817,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "نیزہ لگا کے بھاگ چلا تھا وہ نابکار",
|
||
"CoupletIndex": 408,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 818,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "قربان جرأتِ پسرِ شاہِ نامدار",
|
||
"CoupletIndex": 408,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 819,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "زخمِ سناں تھا سینۂ انور کے وار پار",
|
||
"CoupletIndex": 409,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 820,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ماری شقی کو دوڑ کے اک تیغ آبدار",
|
||
"CoupletIndex": 409,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 821,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پہونچوں سے اس کے ہاتھ قلم ہو کے گر پڑے",
|
||
"CoupletIndex": 410,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 822,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "لیکن فرس سے آپ بھی خم ہو کے گر پڑے",
|
||
"CoupletIndex": 410,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 823,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "گرنا تھا بس کہ سر پہ لگا گرز ہے ستم",
|
||
"CoupletIndex": 411,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 824,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "یوں جھک گئے کہ ہوتے ہیں سجدے میں جیسے خم",
|
||
"CoupletIndex": 411,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 825,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "رکھ دی گلے پر شیثؔ نے شمشیر تیز دم",
|
||
"CoupletIndex": 412,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 826,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تلوار اک پڑی کہ ہوئیں پسلیاں قلم",
|
||
"CoupletIndex": 412,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 827,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "غل تھا کرو نہ رحم تنِ پاش پاش پر",
|
||
"CoupletIndex": 413,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 828,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دوڑا دو گھوڑے اکبرؔ مہرو کی لاش پر",
|
||
"CoupletIndex": 413,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 829,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "حضرت کھڑے تھے خیمے کی پکڑے ہوئے طناب",
|
||
"CoupletIndex": 414,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 830,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سن کر یہ غل رہی نہ دلِ ناتواں کو تاب",
|
||
"CoupletIndex": 414,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 831,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ناگاہ رن سے آئی صدا اے فلک جناب",
|
||
"CoupletIndex": 415,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 832,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بیٹا جہاں سے جاتا ہے اب آئیے شتاب",
|
||
"CoupletIndex": 415,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 833,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "لاشے پہ ظلم و جور بد افعال کرتے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 416,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 834,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "گھوڑوں سے اہل کیں ہمیں پامال کرتے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 416,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 835,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "سن کر یہ استغاثۂ فرزند خوش خصال",
|
||
"CoupletIndex": 417,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 836,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سید نے آہ کی کہ ہلا عرش ذو الجلال",
|
||
"CoupletIndex": 417,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 837,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کھولے جناب فاطمہؔ کی بیٹیوں نے بال",
|
||
"CoupletIndex": 418,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 838,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بانوؔ پکاری خیر تو ہے اے علیؔ کے لال",
|
||
"CoupletIndex": 418,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 839,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہے ہے پسر سے کون سی مادر بچھڑ گئی",
|
||
"CoupletIndex": 419,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 840,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "صاحب بتاؤ کیا مری بستی اجڑ گئی",
|
||
"CoupletIndex": 419,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 841,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "نیزے سے کس کے لال کا زخمی ہوا جگر",
|
||
"CoupletIndex": 420,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 842,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کرتے ہیں کس کی لاش کو پامال اہلِ شر",
|
||
"CoupletIndex": 420,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 843,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کہتا ہے کون رن میں تڑپ کر پدرپدر",
|
||
"CoupletIndex": 421,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 844,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اب گھر سے میں نکلتی ہوں ہے ہے مرا پسر",
|
||
"CoupletIndex": 421,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 845,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پردہ نہ مجھ سے کیجیے سب جانتی ہوں میں",
|
||
"CoupletIndex": 422,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 846,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آواز یہ اسی کی ہے پہچانتی ہوں میں",
|
||
"CoupletIndex": 422,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 847,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بانوؔ کو قسمیں دے کے چلے شاہِ نامدار",
|
||
"CoupletIndex": 423,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 848,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "وہ پیاس اور وہ دھوپ کا صدمہ وہ اضطرار",
|
||
"CoupletIndex": 423,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 849,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دل تھا الٹ پلٹ تو کلیجہ تھا بے قرار",
|
||
"CoupletIndex": 424,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 850,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اٹھتے تھے اور زمین پہ گرتے تھے باربار",
|
||
"CoupletIndex": 424,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 851,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چلاتے تھے شبیہ پیمبر ہم آتے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 425,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 852,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "گھبرائیو نہ اے علیؔ اکبر ہم آتے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 425,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 853,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بیٹا پکارو پھر کہ بصارت میں فرق ہے",
|
||
"CoupletIndex": 426,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 854,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اے نور عین جسم کی طاقت میں فرق ہے",
|
||
"CoupletIndex": 426,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 855,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تم یہ نہ جانیو کہ محبت میں فرق ہے",
|
||
"CoupletIndex": 427,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 856,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "زخمی ہے قلب روح کی راحت میں فرق ہے",
|
||
"CoupletIndex": 427,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 857,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "داغِ جگر ملا ہمیں گودی میں پال کے",
|
||
"CoupletIndex": 428,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 858,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کس کو دکھاؤں اپنا کلیجہ نکال کے",
|
||
"CoupletIndex": 428,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 859,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آؤں کدھر کو اے علیؔ اکبر جواب دو",
|
||
"CoupletIndex": 429,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 860,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "چلا رہی ہے ڈیوڑھی پہ مادر جواب دو",
|
||
"CoupletIndex": 429,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 861,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اکبرؔ برائے خالقِ اکبر جواب دو",
|
||
"CoupletIndex": 430,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 862,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بیٹا جواب دو مرے دلبر جواب دو",
|
||
"CoupletIndex": 430,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 863,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "گرتے ہیں ہم ثواب کا ہاتھوں سے کام لو",
|
||
"CoupletIndex": 431,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 864,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بیٹا ضعیف باپ کے بازو کو تھام لو",
|
||
"CoupletIndex": 431,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 865,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کچھ سوجھتا نہیں کہ کدھر جاؤں کیا کروں",
|
||
"CoupletIndex": 432,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 866,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اے نورِ چشم تجھ کو کہاں پاؤں کیا کروں",
|
||
"CoupletIndex": 432,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 867,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "مضطر ہے جان و دل کسے سمجھاؤں کیا کروں",
|
||
"CoupletIndex": 433,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 868,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کیوں کر پسر کو ڈھونڈھ کے میں لاؤں کیا کروں",
|
||
"CoupletIndex": 433,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 869,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پایا تھا مدتوں میں جسے خاک چھان کے",
|
||
"CoupletIndex": 434,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 870,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "وہ لال ہم نے کھو دیا جنگل میں آن کے",
|
||
"CoupletIndex": 434,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 871,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بس اب خبر حسینؔ کی لے جلد اے اجل",
|
||
"CoupletIndex": 435,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 872,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اے جسم زار، زیست کا باقی نہیں محل",
|
||
"CoupletIndex": 435,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 873,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اے جانِ ناتواں تنِ مجروح سے نکل",
|
||
"CoupletIndex": 436,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 874,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہاں اے نفس چھری کی طرح سے گلے پہ چل",
|
||
"CoupletIndex": 436,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 875,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چھوٹے نہ اس کا ہاتھ جو پیری کی آس ہو",
|
||
"CoupletIndex": 437,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 876,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "لاشہ بھی لاشۂ علیؔ اکبر کے پاس ہو",
|
||
"CoupletIndex": 437,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 877,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جنگل سے بے حواس پھرے نہر پر گئے",
|
||
"CoupletIndex": 438,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 878,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "واں بھی جو وہ گہر نہ ملا سوئے بر گئے",
|
||
"CoupletIndex": 438,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 879,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دوڑے کسی طرف تو کسی جا ٹھہر گئے",
|
||
"CoupletIndex": 439,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 880,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تھالے ملے لہو کے برابر جدھر گئے",
|
||
"CoupletIndex": 439,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 881,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ٹپکا ہوا زمیں پہ جگر کا لہو ملا",
|
||
"CoupletIndex": 440,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 882,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "لیکن کہیں نہ وہ پسر ماہ رو ملا",
|
||
"CoupletIndex": 440,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 883,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جا کر صفوں کے پاس پکارے باشکِ آہ",
|
||
"CoupletIndex": 441,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 884,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہے کس طرف مرے علیؔ اکبر کی قتل گاہ",
|
||
"CoupletIndex": 441,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 885,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اے ظالمو، یہ شب ہے کہ دن ہو گیا سیاہ",
|
||
"CoupletIndex": 442,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 886,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کس ابر میں چھپا ہے مرا چودھویں کا ماہ",
|
||
"CoupletIndex": 442,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 887,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بتلاؤ جان ہے کہ نہیں جسم زار میں",
|
||
"CoupletIndex": 443,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 888,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "زخمی پڑا ہے شیر مرا کس کچھار میں",
|
||
"CoupletIndex": 443,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 889,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "لاش پسر کو ڈھونڈھتے تھے شاہِ بحر و بر",
|
||
"CoupletIndex": 444,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 890,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سر پیٹنے کی جا ہے کہ ہنستے تھے اہل شہر",
|
||
"CoupletIndex": 444,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 891,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کہتا تھا شمر اے پسر سید البشر",
|
||
"CoupletIndex": 445,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 892,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کس کو حضور ڈھونڈھتے ہیں مر گیا پسر",
|
||
"CoupletIndex": 445,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 893,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "خود ڈھونڈھ لیجیے جسد پاش پاش کو",
|
||
"CoupletIndex": 446,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 894,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بتلائیں گے نہ ہم علیؔ اکبر کی لاش کو",
|
||
"CoupletIndex": 446,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
}
|
||
]
|
||
}
|