150 lines
37 KiB
JSON
150 lines
37 KiB
JSON
{
|
||
"Id": 8537,
|
||
"CatId": 794,
|
||
"Title": "ہندی اردو کا جھگڑا",
|
||
"FullTitle": "مولوی عبد الحق » مضمون » ہندی اردو کا جھگڑا",
|
||
"FullUrl": "/p293/mazmoon/sh8537",
|
||
"RhymeLetters": null,
|
||
"SourceName": "ویکی ماخذ",
|
||
"SourceUrlSlug": "wikisource",
|
||
"SourceUrl": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%AF%DB%8C_%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%DA%BE%DA%AF%DA%91%D8%A7",
|
||
"Language": "ur-PK",
|
||
"PoemSummary": null,
|
||
"Metre": null,
|
||
"Sections": [
|
||
{
|
||
"Index": 0,
|
||
"Number": 1,
|
||
"SectionType": "WholePoem",
|
||
"VerseType": "First",
|
||
"RhymeLetters": null,
|
||
"PlainText": "شری رام شرما صاحب ہندی کے مشہور ماہانہ رسالہ وشال بھارت کے ایڈیٹر ہیں۔ یہ ہندی اردو دونوں زبانوں میں دست گاہ رکھتے ہیں۔ وہ خود لکھتے ہیں کہ ’’میں نے بھی اردو ہی پڑھی تھی، ہندی تو مجھے ویسے ہی آ گئی۔‘‘ ادبی لیاقت کے علاوہ ان میں رواداری بھی بہت ہے۔ ہندو مسلم ملاپ کے بڑے حامی ہیں۔ انھوں نے حال ہی میں اپنے رسالے میں ایک مضمون زبان اور رسم خط کے مسئلہ پر لکھا ہے۔ مضمون کے شروع میں انھوں نے اپنے پچھلے مہینے کے ایک نوٹ ’’اصلی اور فروعی مسئلے‘‘ سے ایک اقتباس دیا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں،\r\n’’بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ہندو مسلم اختلاف کی جڑ میں بھاشا کا سوال ہے اور مسلمانوں کے دلوں میں ہندوؤں کی طرف سے بدگمانی ہے۔ اس لیے ان کی یہ رائے ہے کہ ہندی، اردو کا جھگڑا مٹانے کے لیے ’’ہندوستانی‘‘ پر زور دیا جائے اور یک ساں زبان کے لیے کوشش کی جائے تو سب مشکلیں دور ہو جائیں گی۔ ہم ہندی اردو کے جھگڑے کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ اگر دونوں کا ایک رسم خط ہو جائے تو یہ جھگڑا بہت کچھ ہٹ جائے گا لیکن ہم اپنے بہکے ہوئے دوستوں سے پوچھتے ہیں کہ ڈھاکہ اور احمد آباد میں تو بھاشا کا کوئی جھگڑا نہ تھا پھر وہاں فرقہ وارانہ جھگڑے کیوں ہو گئے؟ ملک کی غلامی ہماری اصل مصیبت ہے۔ ہماری تقریباً تمام بلاؤں کا سرچشمہ یہی ہے۔ اگر ہمیں اس سے نجات مل گئی تو یہ فروعی جھگڑے اپنے آپ مٹ جائیں گے۔ جب جھگڑوں کی سوت سوکھ جائے گی تو زبان کے زہر کا نالہ خود ہی سوکھ جائےگا۔‘‘\r\nاس اقتباس میں تین باتیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ زبان کو ہندو مسلمانوں کے اختلاف میں کوئی زیادہ دخل نہیں۔ دلیل یہ پیش کی گئی ہے کہ ڈھاکہ اور احمدآباد میں فساد کیوں ہوئے وہاں تو زبان کا کوئی جھگڑا نہیں۔ دوسری بات یہ کہ فساد کی جڑ ملک کی غلامی ہے، اگر اس سے نجات مل جائے تو سب جھگڑے مٹ جائیں گے۔ تیسری بات یہ کہ دونوں (یعنی اردو ہندی) کا ایک رسم خط ہوجائے تو زبان کا کوئی جھگڑا نہیں رہےگا۔\r\nپہلی بات کے متعلق یہ عرض ہے کہ جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ہندو مسلم اختلاف کی جڑ میں زبان کا سوال ہے، انھوں نے ملک کی حالت کا بہت صحیح اندازہ کیا ہے اور وہ ہندو مسلم اختلاف کی حقیقت سے پورے طور پر واقف ہیں۔ اس کے برخلاف احمد آباداور ڈھاکہ کو جو ثبوت میں پیش کیا گیا ہے، وہ ایک بھولے پن کی بات ہے اور کسی بچے کے منھ سے نکلتی تو تعجب نہ ہوتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان صاحبوں نے ہندو مسلم نزاع کے اسباب پر کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا اور نہ کبھی ملک کے مختلف علاقوں میں سفر کر کے وہاں کے حالات کو گہری نظر سے دیکھا ہے۔ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ جن مقامات کی مادری زبان اردو نہیں یا جہاں اردو کا رواج کم ہے وہاں والوں کے دل میں اردو کا جو احترام ہے، وہ ان لوگوں میں نہیں پایا جاتا جن کی مادری زبان اردو ہے۔\r\nوہ اسے ایک طرح کی مقدس زبان خیال کرتے ہیں اور جب وہ یہ سنتے اور دیکھتے ہیں کہ اردو زبان کی مخالفت کی جا رہی ہے اور اس کے مٹانے کی کوششیں کی جارہی ہیں تو ان کے دلوں میں مخالفت اور نفرت کی آگ بھڑک اٹھتی ہے اور صحیح یا غلط وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اردو کے مٹانے کی کوششیں نہیں بلکہ ان کی تہذیب اور مذہب کو مٹانے کی تجویزیں ہیں اور احمد آباد اور ڈھاکہ کی جو مثالیں پیش کی ہیں وہ بھی صحیح نہیں کیوں کہ ان مقامات میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کی مادری زبان اردو ہے اور ان سے کہیں زیادہ ایسے ہیں جو اردو جانتے اور بولتے ہیں۔\r\nغلامی کا جو اتار پھینکنے کا خیال بہت خوب ہے اور کوئی معقول شخص اس سے اختلاف نہیں کر سکتا اور یہ بھی صحیح ہے کہ جب ایک بار غلامی سے نجات مل گئی تو سب فروعی جھگڑے مٹ جائیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ غلامی سے نجات کیوں کر ملے اور وہ کیا طریقہ ہے جو ہمیں اس سے نجات دلاسکتا ہے؟ کیا اس مقصد کے حاصل کرنے کے یہی ڈھنگ ہیں جو ہم آج کل دیکھ رہے ہیں کہ تقریباً ہر معاملے میں جھگڑا اور ہر مسئلے میں اختلاف اور بجائے اس کے کہ ان جھگڑوں کو کم کیا جائے، ان کو بڑھانے اور اکسانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر یہی لچھن ہیں تو کوئی توقع نہیں کہ غلامی کا طوق ہماری گردنوں سے اتر جائے۔\r\nیہ سچ ہے کہ ہم فروعی مسائل میں الجھے رہتے ہیں اور اصل کی طرف پوری توجہ نہیں کرتے اور بہ قول شرما صاحب کے ہندی اردو کا جھگڑا بھی فروعی مسائل میں سے ہے اور صحیح یہ ہے کہ جڑ اگر مضبوط رہی تو شاخیں اور تنے اور سارا درخت سرسبز اور شاداب رہےگا لیکن انھیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جب فروعی جھگڑے شدت پکڑ جاتے ہیں تو وہی رفتہ رفتہ اصل ہوجاتے ہیں۔ ہمیشہ یہی نہیں ہوتا کہ جڑ کے کھوکھلے ہونے سے درخت بےکار ہو جاتا ہے بلکہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ تنے کی چھال اتار لینے سے درخت کا پنپنا بند ہو جاتا ہے اور وہ ٹھنٹھ ہوکے رہ جاتا ہے۔ ہماری بدقسمتی سے اور ہمارے رہ نماؤں کی غلطیوں سے اردو ہندی کا جھگڑا اب فروعی مسائل میں سے نہیں رہا، اصل مسئلہ ہو گیا ہے۔\r\nاس کے بعد وشال بھارت کے قابل ایڈیٹر نے اس جھگڑے کی اصل حقیقت پر نظر ڈالی ہے اور یہ سوال کیا ہے کہ ہندی اردو کا جھگڑا کہاں اور ان صوبوں میں ہے؟ اس کا جواب انھوں نے کسی قدر تفصیل سے دیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بنگال، آسام، گجرات، مدراس، اڑیسہ، سندھ، مہاراشٹر، کرناٹک اور ملیبار میں ہندی اردو کا کوئی جھگڑا نہیں۔ اب رہے سرحد، پنجاب، یوپی، بہار اور سی پی کے صوبے تو ان میں بھی صرف یوپی اور پنجاب ایسے دو صوبے ہیں جو ہندی اردو جھگڑے کا اکھاڑہ بنے ہوئے ہیں۔ بہار میں اردو کی کوئی حیثیت نہیں۔ مختصر یہ کہ یوپی کے صرف چند فی صدی شہری لوگ اردو بولتے ہیں۔ پنجاب میں پنجابی بولی جاتی ہے اور رسم خط اردو، ہندی، گورمکھی تینوں رائج ہیں، لہٰذا جھگڑا ہے تو انہی دو صوبوں میں۔\r\nکیا اچھا تبصرہ اور فیصلہ ہے۔ بہار کو صرف ایک فقرے میں اڑا دیا ہے کہ وہاں اردو کی کوئی اہمیت نہیں۔ حالانکہ ہندی اردو جھگڑے کی ابتدا وہیں سے ہوئی اور اب تک جاری ہے۔ بہار کے شہروں، قصبوں اور دیہات میں ایک کثیر آبادی ایسی ہے جس کی زبان اردو ہے۔ عظیم آباد، پٹنہ اردو زبان وادب کا ایسا ہی مشہور اور بڑا مرکز تھا، جیسے دلی اور لکھنؤ۔ بہار نے اردو کے ایسے نام ور ادیب اور شاعر پیدا کیے ہیں جو اردو ادب کی تاریخ میں یادگار رہیں گے۔ اردو کو تو خیر سری شرما نے یوپی کے شہروں کے چند ہزار (زیادہ سے زیادہ چند لاکھ) نفوس تک محدود رکھا ہے لیکن ہم ان سے باادب یہ پوچھتے ہیں کہ وہ نئی ہندی جس کے پرچار کے لیے طرح طرح کے جتن کیے جارہے ہیں، وہ کس علاقے، کس شہر اور قصبے اور کس گاوں کی بولی ہے؟ اور اس کے بولنے والے کس دیس میں بستے ہیں؟\r\nوہ اردو کو ہندی یا ہندی کی بعض شاخوں کی طرح مقامی خیال کرتے ہیں، حالانکہ یہ بات نہیں ہے۔ اردو ایک سرسے لے کر دوسرے سرے تک سارے ہندوستان پرچھائی ہوئی ہے۔ صوبہ سرحد، سندھ، خاندیس، کرناٹک، دھاروار، گجرات، سی پی اور مدراس میں ہزاروں لاکھوں آدمیوں کی مادری زبان اردو ہے اور ان مقامات میں بے شمار لوگ ایسے آباد ہیں جو اردو جانتے، بولتے اور لکھتے ہیں جس کی تفصیل میں اپنے دوروں کے ضمن میں بیان کر چکا ہوں۔ ان میں کے بعض مقام اردو زبان کے مرکز رہے ہیں اور قریب قریب ان میں سے ہر مقام میں اردو اخبار جاری ہیں اور شوق سے پڑھے جاتے ہیں۔\r\nشرما صاحب نے ہندی اردو جھگڑے کو صرف یوپی اور پنجاب تک محدود کر دیا ہے، یہ صحیح نہیں ہے۔ اردو کی وسعت غیر محدود ہے اور وہ ایک طرح سے کل ہند زبان ہے اور جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں جن مقامات کے مسلمانوں کی مادری زبان اردو نہیں یا جہاں اردو کا رواج نسبتاً کم ہے، وہاں کے مسلمان اردو کو ہم سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جب اردو کو ذرا سی بھی ٹھیس لگتی ہے تو وہ بے چین ہو جاتے ہیں۔\r\nبے شک ایک زمانے میں ہندی اردو کا جھگڑا مقامی جھگڑا تھا لیکن جب سے گاندھی جی نے اس مسئلے کو اپنے ہاتھ میں لیا اور ہندی کی اشاعت کا بیڑا اٹھایا اور یہ اعلان کیا کہ وہ ہندی کو ملک کی مشترکہ زبان بنا کے چھوڑیں گے، اسی وقت سے سارے ملک میں ایک آگ سی لگ گئی اور فرقہ واری عناد اور فساد کی مستحکم بنیاد پڑ گئی۔ کانگریس گورنمنٹ نے جو اصل میں مہاتما کی حکومت تھی، اس جلتی ہوئی آگ پر خوب تیل چھڑکا۔ اس معاملے میں حکومت کے بعض وزرا اور معزز ارکان کانگریس گورنمنٹ کے وزیر یا کانگریس کے ممبر نہیں رہے تھے بلکہ وہ ہندی زبان کے مشنری بن گئے تھے اور کانگریس کے گزشتہ فیصلوں اور قراردادوں اور کانگریس کے آئین کو بالائے طاق رکھ دیا تھا۔\r\nکانگریس گورنمنٹ نے اس جھگڑے کو اور بڑھایا اور پھیلایا اور ترقی دی۔ کیونکہ کانگریس کی آواز مہاتما کی آواز تھی اور مہاتما کی آواز اہل کانگریس اور کروڑوں عوام کے لیے بہ منزلۂ الٰہی آواز کے تھی۔ مہاتما گاندھی نے (خدا ان کو نیک ہدایت دے) اس معاملے میں ملک کے حق میں ایسے کانٹے بوئے ہیں اور وہ بِس پھیلایا ہے اور مختصر یہ کہ وہ کام کیا ہے جو اس ملک کا بڑا سے بڑا اور سخت سے سخت دشمن بھی نہیں کر سکتا تھا۔ ہم ملک کی ابتری اور آئے دن کے جھگڑوں اور اختلافات کے لیے غیروں کو الزام دیتے ہیں مگر اپنے گریبان میں منھ ڈال کر کبھی نہیں دیکھتے۔\r\nہندو مسلمانوں میں جس چیز نے سب سے زیادہ بدگمانی، نفرت اور باہمی عناد کو بڑھایا وہ ہندی اردو کا جھگڑا ہے اور اس جھگڑے کے بانی اعظم ’’مہاتما‘‘ گاندھی ہیں۔ میں یہاں پنڈت سندر لال کی تقریر کے دو ایک فقرے نقل کرتا ہوں، ’’اردو ایک ہندوستانی زبان رہی ہے جسے ہندوؤں مسلمانوں نے مل کر بنایا اور ترقی دی اور اب بھی صوبہ متحدہ کے بہت سے ضلعوں میں، شہروں اور دیہات ہر جگہ کے ہندو اردو ہی بولتے ہیں اور موجودہ زمانے کی سنسکرت آمیز ہندی نہیں سمجھ سکتے۔۔۔ اس سنسکرت آمیز ہندی کو قومی زبان کی حیثیت سے رائج کرنے کی کوشش نہ صرف ہندی کے لیے بلکہ قومی اتحاد کے لیے سخت مضر ہے۔۔۔ اس کوشش نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ایک خلیج پیدا کرنے میں بڑا حصہ لیا ہے۔‘‘ پنڈت جی کا یہ قول حرف بہ حرف درست ہے۔\r\nاردو رسم خط کے متعلق شرما صاحب فرماتے ہیں کہ ’’علمی بحثا بحثی میں اردو لیپی (رسم خط) خود ہی مرےگی، اس کو ختم کرنے کی کوشش کرنا مَرے کو مارے شاہ مدار کا حکم رکھتا ہے۔‘‘ یہ کلمہ بڑے غرور کا ہے اور ایسے بڑے بول صرف اکثریت کا غرور ہی بلوا سکتا ہے۔ زبان اور تہذیب کے مسائل، تعداد کی کمی بیشی، اوسط اور فی صدی کے حساب سے طے نہیں ہوا کرتے۔ اس کے لیے کسی قدر رواداری، ہم دردی اور انصاف کی بھی ضرورت ہے۔ اردو کا رسم خط ہندی کی طرح صرف ہندوستان کے ایک آدھ علاقے تک محدود نہیں بلکہ یہ ہندوستان کے باہر بھی بہت سے ملکوں میں رائج ہے۔ کہاں کہاں مٹائیں گے۔ یہاں یہ رسم خط اردو کی پیدائش کے ساتھ ساتھ آیا ہے۔ اس کا مٹانا آسان نہیں۔\r\nہندوستان میں ایک دو رسم خط نہیں بیسیوں ہیں۔ سب سے پہلے بنگالی، تامل، تلنگی، کنڑی، ملیالم وغیرہ زبانوں کو یہ مشورہ دینا چاہیے جن کی نسبت یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ سنسکرت سے بہت قریب بلکہ سنسکرت کے بچے ہیں۔ اس کے بعد اردو کی باری آئے گی۔ خطوں کے بدلنے سے دل نہیں بدلتے۔ اول دلوں کے بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اس کے لیے جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے رواداری، ہم دردی اور انصاف کی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک میں سب سے بڑے شخص نے سب سے زیادہ دلوں کے بدلنے کا پرچار کیا اور اس کے لیے دعائیں مانگیں مگر افسوس کہ اس نے دلوں کو ایسا بدلا ہے کہ فی الحال ان کے ملنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔\r\nزبان کا مسئلہ معمولی نہیں، اس پر ہاتھ ڈالنا بہت خطرناک ہے۔ دنیا کی تاریخ شاہد ہے کہ جہاں کہیں ایسا کیا گیا وہاں صرف ناکامی ہی نہیں اٹھانی پڑی بلکہ اس کے ساتھ بہت سی بلائیں اور آفتیں نازل ہوئیں اور انقلاب رونما ہوئے اور باوجود شدید مظالم اور عذابوں کے زباں بندی اور نظربندی اور قانونی شکنجوں کے، ظالم مظلوں کی اور زبردست زیر دستوں کی زبانوں کو نہ مٹا سکے۔ برخلاف اس کے یہ ظلم اور عذاب اور سختیاں ان زبانوں کی ترقی کا باعث ہوئیں۔",
|
||
"HtmlText": null,
|
||
"PoemFormat": null,
|
||
"Language": "ur-PK",
|
||
"CoupletsCount": 17
|
||
}
|
||
],
|
||
"Verses": [
|
||
{
|
||
"VOrder": 1,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "شری رام شرما صاحب ہندی کے مشہور ماہانہ رسالہ وشال بھارت کے ایڈیٹر ہیں۔ یہ ہندی اردو دونوں زبانوں میں دست گاہ رکھتے ہیں۔ وہ خود لکھتے ہیں کہ ’’میں نے بھی اردو ہی پڑھی تھی، ہندی تو مجھے ویسے ہی آ گئی۔‘‘ ادبی لیاقت کے علاوہ ان میں رواداری بھی بہت ہے۔ ہندو مسلم ملاپ کے بڑے حامی ہیں۔ انھوں نے حال ہی میں اپنے رسالے میں ایک مضمون زبان اور رسم خط کے مسئلہ پر لکھا ہے۔ مضمون کے شروع میں انھوں نے اپنے پچھلے مہینے کے ایک نوٹ ’’اصلی اور فروعی مسئلے‘‘ سے ایک اقتباس دیا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں،",
|
||
"CoupletIndex": 0,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 2,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "’’بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ہندو مسلم اختلاف کی جڑ میں بھاشا کا سوال ہے اور مسلمانوں کے دلوں میں ہندوؤں کی طرف سے بدگمانی ہے۔ اس لیے ان کی یہ رائے ہے کہ ہندی، اردو کا جھگڑا مٹانے کے لیے ’’ہندوستانی‘‘ پر زور دیا جائے اور یک ساں زبان کے لیے کوشش کی جائے تو سب مشکلیں دور ہو جائیں گی۔ ہم ہندی اردو کے جھگڑے کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ اگر دونوں کا ایک رسم خط ہو جائے تو یہ جھگڑا بہت کچھ ہٹ جائے گا لیکن ہم اپنے بہکے ہوئے دوستوں سے پوچھتے ہیں کہ ڈھاکہ اور احمد آباد میں تو بھاشا کا کوئی جھگڑا نہ تھا پھر وہاں فرقہ وارانہ جھگڑے کیوں ہو گئے؟ ملک کی غلامی ہماری اصل مصیبت ہے۔ ہماری تقریباً تمام بلاؤں کا سرچشمہ یہی ہے۔ اگر ہمیں اس سے نجات مل گئی تو یہ فروعی جھگڑے اپنے آپ مٹ جائیں گے۔ جب جھگڑوں کی سوت سوکھ جائے گی تو زبان کے زہر کا نالہ خود ہی سوکھ جائےگا۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 1,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 3,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "اس اقتباس میں تین باتیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ زبان کو ہندو مسلمانوں کے اختلاف میں کوئی زیادہ دخل نہیں۔ دلیل یہ پیش کی گئی ہے کہ ڈھاکہ اور احمدآباد میں فساد کیوں ہوئے وہاں تو زبان کا کوئی جھگڑا نہیں۔ دوسری بات یہ کہ فساد کی جڑ ملک کی غلامی ہے، اگر اس سے نجات مل جائے تو سب جھگڑے مٹ جائیں گے۔ تیسری بات یہ کہ دونوں (یعنی اردو ہندی) کا ایک رسم خط ہوجائے تو زبان کا کوئی جھگڑا نہیں رہےگا۔",
|
||
"CoupletIndex": 2,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 4,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "پہلی بات کے متعلق یہ عرض ہے کہ جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ہندو مسلم اختلاف کی جڑ میں زبان کا سوال ہے، انھوں نے ملک کی حالت کا بہت صحیح اندازہ کیا ہے اور وہ ہندو مسلم اختلاف کی حقیقت سے پورے طور پر واقف ہیں۔ اس کے برخلاف احمد آباداور ڈھاکہ کو جو ثبوت میں پیش کیا گیا ہے، وہ ایک بھولے پن کی بات ہے اور کسی بچے کے منھ سے نکلتی تو تعجب نہ ہوتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان صاحبوں نے ہندو مسلم نزاع کے اسباب پر کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا اور نہ کبھی ملک کے مختلف علاقوں میں سفر کر کے وہاں کے حالات کو گہری نظر سے دیکھا ہے۔ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ جن مقامات کی مادری زبان اردو نہیں یا جہاں اردو کا رواج کم ہے وہاں والوں کے دل میں اردو کا جو احترام ہے، وہ ان لوگوں میں نہیں پایا جاتا جن کی مادری زبان اردو ہے۔",
|
||
"CoupletIndex": 3,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 5,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "وہ اسے ایک طرح کی مقدس زبان خیال کرتے ہیں اور جب وہ یہ سنتے اور دیکھتے ہیں کہ اردو زبان کی مخالفت کی جا رہی ہے اور اس کے مٹانے کی کوششیں کی جارہی ہیں تو ان کے دلوں میں مخالفت اور نفرت کی آگ بھڑک اٹھتی ہے اور صحیح یا غلط وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اردو کے مٹانے کی کوششیں نہیں بلکہ ان کی تہذیب اور مذہب کو مٹانے کی تجویزیں ہیں اور احمد آباد اور ڈھاکہ کی جو مثالیں پیش کی ہیں وہ بھی صحیح نہیں کیوں کہ ان مقامات میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کی مادری زبان اردو ہے اور ان سے کہیں زیادہ ایسے ہیں جو اردو جانتے اور بولتے ہیں۔",
|
||
"CoupletIndex": 4,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 6,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "غلامی کا جو اتار پھینکنے کا خیال بہت خوب ہے اور کوئی معقول شخص اس سے اختلاف نہیں کر سکتا اور یہ بھی صحیح ہے کہ جب ایک بار غلامی سے نجات مل گئی تو سب فروعی جھگڑے مٹ جائیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ غلامی سے نجات کیوں کر ملے اور وہ کیا طریقہ ہے جو ہمیں اس سے نجات دلاسکتا ہے؟ کیا اس مقصد کے حاصل کرنے کے یہی ڈھنگ ہیں جو ہم آج کل دیکھ رہے ہیں کہ تقریباً ہر معاملے میں جھگڑا اور ہر مسئلے میں اختلاف اور بجائے اس کے کہ ان جھگڑوں کو کم کیا جائے، ان کو بڑھانے اور اکسانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر یہی لچھن ہیں تو کوئی توقع نہیں کہ غلامی کا طوق ہماری گردنوں سے اتر جائے۔",
|
||
"CoupletIndex": 5,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 7,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "یہ سچ ہے کہ ہم فروعی مسائل میں الجھے رہتے ہیں اور اصل کی طرف پوری توجہ نہیں کرتے اور بہ قول شرما صاحب کے ہندی اردو کا جھگڑا بھی فروعی مسائل میں سے ہے اور صحیح یہ ہے کہ جڑ اگر مضبوط رہی تو شاخیں اور تنے اور سارا درخت سرسبز اور شاداب رہےگا لیکن انھیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جب فروعی جھگڑے شدت پکڑ جاتے ہیں تو وہی رفتہ رفتہ اصل ہوجاتے ہیں۔ ہمیشہ یہی نہیں ہوتا کہ جڑ کے کھوکھلے ہونے سے درخت بےکار ہو جاتا ہے بلکہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ تنے کی چھال اتار لینے سے درخت کا پنپنا بند ہو جاتا ہے اور وہ ٹھنٹھ ہوکے رہ جاتا ہے۔ ہماری بدقسمتی سے اور ہمارے رہ نماؤں کی غلطیوں سے اردو ہندی کا جھگڑا اب فروعی مسائل میں سے نہیں رہا، اصل مسئلہ ہو گیا ہے۔",
|
||
"CoupletIndex": 6,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 8,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "اس کے بعد وشال بھارت کے قابل ایڈیٹر نے اس جھگڑے کی اصل حقیقت پر نظر ڈالی ہے اور یہ سوال کیا ہے کہ ہندی اردو کا جھگڑا کہاں اور ان صوبوں میں ہے؟ اس کا جواب انھوں نے کسی قدر تفصیل سے دیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بنگال، آسام، گجرات، مدراس، اڑیسہ، سندھ، مہاراشٹر، کرناٹک اور ملیبار میں ہندی اردو کا کوئی جھگڑا نہیں۔ اب رہے سرحد، پنجاب، یوپی، بہار اور سی پی کے صوبے تو ان میں بھی صرف یوپی اور پنجاب ایسے دو صوبے ہیں جو ہندی اردو جھگڑے کا اکھاڑہ بنے ہوئے ہیں۔ بہار میں اردو کی کوئی حیثیت نہیں۔ مختصر یہ کہ یوپی کے صرف چند فی صدی شہری لوگ اردو بولتے ہیں۔ پنجاب میں پنجابی بولی جاتی ہے اور رسم خط اردو، ہندی، گورمکھی تینوں رائج ہیں، لہٰذا جھگڑا ہے تو انہی دو صوبوں میں۔",
|
||
"CoupletIndex": 7,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 9,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "کیا اچھا تبصرہ اور فیصلہ ہے۔ بہار کو صرف ایک فقرے میں اڑا دیا ہے کہ وہاں اردو کی کوئی اہمیت نہیں۔ حالانکہ ہندی اردو جھگڑے کی ابتدا وہیں سے ہوئی اور اب تک جاری ہے۔ بہار کے شہروں، قصبوں اور دیہات میں ایک کثیر آبادی ایسی ہے جس کی زبان اردو ہے۔ عظیم آباد، پٹنہ اردو زبان وادب کا ایسا ہی مشہور اور بڑا مرکز تھا، جیسے دلی اور لکھنؤ۔ بہار نے اردو کے ایسے نام ور ادیب اور شاعر پیدا کیے ہیں جو اردو ادب کی تاریخ میں یادگار رہیں گے۔ اردو کو تو خیر سری شرما نے یوپی کے شہروں کے چند ہزار (زیادہ سے زیادہ چند لاکھ) نفوس تک محدود رکھا ہے لیکن ہم ان سے باادب یہ پوچھتے ہیں کہ وہ نئی ہندی جس کے پرچار کے لیے طرح طرح کے جتن کیے جارہے ہیں، وہ کس علاقے، کس شہر اور قصبے اور کس گاوں کی بولی ہے؟ اور اس کے بولنے والے کس دیس میں بستے ہیں؟",
|
||
"CoupletIndex": 8,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 10,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "وہ اردو کو ہندی یا ہندی کی بعض شاخوں کی طرح مقامی خیال کرتے ہیں، حالانکہ یہ بات نہیں ہے۔ اردو ایک سرسے لے کر دوسرے سرے تک سارے ہندوستان پرچھائی ہوئی ہے۔ صوبہ سرحد، سندھ، خاندیس، کرناٹک، دھاروار، گجرات، سی پی اور مدراس میں ہزاروں لاکھوں آدمیوں کی مادری زبان اردو ہے اور ان مقامات میں بے شمار لوگ ایسے آباد ہیں جو اردو جانتے، بولتے اور لکھتے ہیں جس کی تفصیل میں اپنے دوروں کے ضمن میں بیان کر چکا ہوں۔ ان میں کے بعض مقام اردو زبان کے مرکز رہے ہیں اور قریب قریب ان میں سے ہر مقام میں اردو اخبار جاری ہیں اور شوق سے پڑھے جاتے ہیں۔",
|
||
"CoupletIndex": 9,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 11,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "شرما صاحب نے ہندی اردو جھگڑے کو صرف یوپی اور پنجاب تک محدود کر دیا ہے، یہ صحیح نہیں ہے۔ اردو کی وسعت غیر محدود ہے اور وہ ایک طرح سے کل ہند زبان ہے اور جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں جن مقامات کے مسلمانوں کی مادری زبان اردو نہیں یا جہاں اردو کا رواج نسبتاً کم ہے، وہاں کے مسلمان اردو کو ہم سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جب اردو کو ذرا سی بھی ٹھیس لگتی ہے تو وہ بے چین ہو جاتے ہیں۔",
|
||
"CoupletIndex": 10,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 12,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "بے شک ایک زمانے میں ہندی اردو کا جھگڑا مقامی جھگڑا تھا لیکن جب سے گاندھی جی نے اس مسئلے کو اپنے ہاتھ میں لیا اور ہندی کی اشاعت کا بیڑا اٹھایا اور یہ اعلان کیا کہ وہ ہندی کو ملک کی مشترکہ زبان بنا کے چھوڑیں گے، اسی وقت سے سارے ملک میں ایک آگ سی لگ گئی اور فرقہ واری عناد اور فساد کی مستحکم بنیاد پڑ گئی۔ کانگریس گورنمنٹ نے جو اصل میں مہاتما کی حکومت تھی، اس جلتی ہوئی آگ پر خوب تیل چھڑکا۔ اس معاملے میں حکومت کے بعض وزرا اور معزز ارکان کانگریس گورنمنٹ کے وزیر یا کانگریس کے ممبر نہیں رہے تھے بلکہ وہ ہندی زبان کے مشنری بن گئے تھے اور کانگریس کے گزشتہ فیصلوں اور قراردادوں اور کانگریس کے آئین کو بالائے طاق رکھ دیا تھا۔",
|
||
"CoupletIndex": 11,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 13,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "کانگریس گورنمنٹ نے اس جھگڑے کو اور بڑھایا اور پھیلایا اور ترقی دی۔ کیونکہ کانگریس کی آواز مہاتما کی آواز تھی اور مہاتما کی آواز اہل کانگریس اور کروڑوں عوام کے لیے بہ منزلۂ الٰہی آواز کے تھی۔ مہاتما گاندھی نے (خدا ان کو نیک ہدایت دے) اس معاملے میں ملک کے حق میں ایسے کانٹے بوئے ہیں اور وہ بِس پھیلایا ہے اور مختصر یہ کہ وہ کام کیا ہے جو اس ملک کا بڑا سے بڑا اور سخت سے سخت دشمن بھی نہیں کر سکتا تھا۔ ہم ملک کی ابتری اور آئے دن کے جھگڑوں اور اختلافات کے لیے غیروں کو الزام دیتے ہیں مگر اپنے گریبان میں منھ ڈال کر کبھی نہیں دیکھتے۔",
|
||
"CoupletIndex": 12,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 14,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "ہندو مسلمانوں میں جس چیز نے سب سے زیادہ بدگمانی، نفرت اور باہمی عناد کو بڑھایا وہ ہندی اردو کا جھگڑا ہے اور اس جھگڑے کے بانی اعظم ’’مہاتما‘‘ گاندھی ہیں۔ میں یہاں پنڈت سندر لال کی تقریر کے دو ایک فقرے نقل کرتا ہوں، ’’اردو ایک ہندوستانی زبان رہی ہے جسے ہندوؤں مسلمانوں نے مل کر بنایا اور ترقی دی اور اب بھی صوبہ متحدہ کے بہت سے ضلعوں میں، شہروں اور دیہات ہر جگہ کے ہندو اردو ہی بولتے ہیں اور موجودہ زمانے کی سنسکرت آمیز ہندی نہیں سمجھ سکتے۔۔۔ اس سنسکرت آمیز ہندی کو قومی زبان کی حیثیت سے رائج کرنے کی کوشش نہ صرف ہندی کے لیے بلکہ قومی اتحاد کے لیے سخت مضر ہے۔۔۔ اس کوشش نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ایک خلیج پیدا کرنے میں بڑا حصہ لیا ہے۔‘‘ پنڈت جی کا یہ قول حرف بہ حرف درست ہے۔",
|
||
"CoupletIndex": 13,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 15,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "اردو رسم خط کے متعلق شرما صاحب فرماتے ہیں کہ ’’علمی بحثا بحثی میں اردو لیپی (رسم خط) خود ہی مرےگی، اس کو ختم کرنے کی کوشش کرنا مَرے کو مارے شاہ مدار کا حکم رکھتا ہے۔‘‘ یہ کلمہ بڑے غرور کا ہے اور ایسے بڑے بول صرف اکثریت کا غرور ہی بلوا سکتا ہے۔ زبان اور تہذیب کے مسائل، تعداد کی کمی بیشی، اوسط اور فی صدی کے حساب سے طے نہیں ہوا کرتے۔ اس کے لیے کسی قدر رواداری، ہم دردی اور انصاف کی بھی ضرورت ہے۔ اردو کا رسم خط ہندی کی طرح صرف ہندوستان کے ایک آدھ علاقے تک محدود نہیں بلکہ یہ ہندوستان کے باہر بھی بہت سے ملکوں میں رائج ہے۔ کہاں کہاں مٹائیں گے۔ یہاں یہ رسم خط اردو کی پیدائش کے ساتھ ساتھ آیا ہے۔ اس کا مٹانا آسان نہیں۔",
|
||
"CoupletIndex": 14,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 16,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "ہندوستان میں ایک دو رسم خط نہیں بیسیوں ہیں۔ سب سے پہلے بنگالی، تامل، تلنگی، کنڑی، ملیالم وغیرہ زبانوں کو یہ مشورہ دینا چاہیے جن کی نسبت یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ سنسکرت سے بہت قریب بلکہ سنسکرت کے بچے ہیں۔ اس کے بعد اردو کی باری آئے گی۔ خطوں کے بدلنے سے دل نہیں بدلتے۔ اول دلوں کے بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اس کے لیے جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے رواداری، ہم دردی اور انصاف کی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک میں سب سے بڑے شخص نے سب سے زیادہ دلوں کے بدلنے کا پرچار کیا اور اس کے لیے دعائیں مانگیں مگر افسوس کہ اس نے دلوں کو ایسا بدلا ہے کہ فی الحال ان کے ملنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔",
|
||
"CoupletIndex": 15,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 17,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "زبان کا مسئلہ معمولی نہیں، اس پر ہاتھ ڈالنا بہت خطرناک ہے۔ دنیا کی تاریخ شاہد ہے کہ جہاں کہیں ایسا کیا گیا وہاں صرف ناکامی ہی نہیں اٹھانی پڑی بلکہ اس کے ساتھ بہت سی بلائیں اور آفتیں نازل ہوئیں اور انقلاب رونما ہوئے اور باوجود شدید مظالم اور عذابوں کے زباں بندی اور نظربندی اور قانونی شکنجوں کے، ظالم مظلوں کی اور زبردست زیر دستوں کی زبانوں کو نہ مٹا سکے۔ برخلاف اس کے یہ ظلم اور عذاب اور سختیاں ان زبانوں کی ترقی کا باعث ہوئیں۔",
|
||
"CoupletIndex": 16,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
}
|
||
]
|
||
}
|