divan-data/poets/p178/c477/sh4974.json
Anas Rashid eb4e74f0a1 Rename export_ganjoor.py -> export_divan.py, ganjoor_ids -> divan_ids; Language ur-PK
Co-Authored-By: Claude Opus 5.5 <noreply@anthropic.com>
2026-10-04 23:51:03 +02:00

591 lines
21 KiB
JSON
Raw Blame History

This file contains ambiguous Unicode characters

This file contains Unicode characters that might be confused with other characters. If you think that this is intentional, you can safely ignore this warning. Use the Escape button to reveal them.

{
"Id": 4974,
"CatId": 477,
"Title": "شعر آشوب",
"FullTitle": "ظریف لکھنوی » مزاحیہ » شعر آشوب",
"FullUrl": "/p178/c477/sh4974",
"RhymeLetters": null,
"SourceName": "ویکی ماخذ",
"SourceUrlSlug": "wikisource",
"SourceUrl": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B9%D8%B1_%D8%A2%D8%B4%D9%88%D8%A8",
"Language": "ur-PK",
"PoemSummary": null,
"Metre": null,
"Sections": [
{
"Index": 0,
"Number": 1,
"SectionType": "WholePoem",
"VerseType": "First",
"RhymeLetters": null,
"PlainText": "تجھ میں اے ہندوستاں کچھ آج کل حد سے سوا\r\nچار سو پھیلی ہوئی ہے شاعری کی اک وبا\r\nاس مرض میں اب تو اسی فیصدی ہیں مبتلا\r\nمستند شاعر ہے جس نے اک تخلص رکھ لیا\r\nشاعری گو عہد ماضی میں تھی پایان علوم\r\nاب تخلص میں سمٹ کر آ گئی جان علوم\r\nاے عجائب خانۂ ہستی کی جنس بے بہا\r\nعہد موجودہ کے شاعر واہ کیا کہنا ترا\r\nتیری کثرت ہر جگہ مردم شماری سے سوا\r\nتو فرشتہ ہے بشر کی شکل میں اس عہد کا\r\nتجھ کو کھانے سے نہ کچھ مطلب نہ کچھ پینے سے کام\r\nشعر کہہ کہہ کر سنانے اور فقط جینے سے کام\r\nہے بہت تکلیف دہ شاعر کی وہ جنس عجیب\r\nجو سنانے کے لیے بے چین رہتا ہو غریب\r\nاس کو اچھا کر نہیں سکتا کوئی کامل طبیب\r\nشاعری کی جس کو بد ہضمی ہو ہیضہ کے قریب\r\nچاہتا ہے سب سنا دوں جو کہوں اک سال میں\r\nمبتلا ہے شاعری کے سخت تر اسہال میں\r\nنظم کر لیتا ہے سب کچھ اتنی آسانی کے ساتھ\r\nجس طرح بہتے ہیں تنکے تیز رو پانی کے ساتھ\r\nجب کہ تو لیتا نہیں اپنے دماغ و دل سے کام\r\nسہل سے ہے تجھ کو مطلب اور کیا مشکل سے کام\r\nسب کو قلت وقت کی تجھ کو فراوانی ملی\r\nسنگ کو انسان کی شکل ہیولانی ملی\r\nکسب زر سب کے لیے تجھ کو غزل خوانی ملی\r\nمفت کی بے گار کرنے کو سخن دانی ملی\r\nہر ضرورت تیری اک جھوٹا بہانہ بن گئی\r\nمعذرت تک آہ عذر شاعرانہ بن گئی\r\nکچھ صعوبات سفر ہوتے نہیں مانا تجھے\r\nصحبت شعر و سخن میں فرض ہے جانا تجھے\r\nکام شب بھر جاگنا مصرع کا دہرانا تجھے\r\nہر غزل کی داد دینا اور چلانا تجھے\r\nتیری شرکت لازمی ہر شہر میں ہر گاؤں میں\r\nسر میں سودائے سخن اور سنیچر پاؤں میں\r\nدیکھ تیری قدر یوں کرتے ہیں تیرے قدرداں\r\nکوئی میلا ہو کہیں پر یا نمائش یا نہاں\r\nجس میں سرکس بھی ہو دنگل میں لڑیں کچھ پہلواں\r\nیاد کر لیتے ہیں بھولے سے تجھے بھی مہرباں\r\nدیتے ہیں لالچ میڈل کا تیری عزت کے لیے\r\nتھرڈ کا تجھ کو ٹکٹ ملتا ہے شرکت کے لیے\r\nیہ بھی جب کافی ضمانت ہو کہ شاعر آئے گا\r\nیہ کرایہ تو کہیں لے کر نہ کھا جائے گا\r\nایک بھرتی کرنے والا خود ٹکٹ دلوائے گا\r\nاپنی ہمراہی میں تجھ کو ریل پر بٹھلائے گا\r\nپڑھ نہ لے جب تک غزل ہوتی رہے گی دیکھ بھال\r\nبعد اس کے ایک ووٹر اور شاعر کا مآل\r\nیہ بھی ہے شاعر کے ذمے اک ضروری اور کام\r\nجب غزل پڑھنے شریک بزم ہو یہ نیک نام\r\nاپنے جوتوں کا کرے اپنی بغل میں انتظام\r\nورنہ ننگے پیر گھر آنا پڑے گا والسلام\r\nبزم میں کچھ قدر داں اس قسم کے آ جائیں گے\r\nچھانٹ کر اکثر نئے جوتے چرا لے جائیں گے\r\nپیسے والوں کی سمجھ میں آ گئی ہے اب یہ بات\r\nصرف بے جا ناچ گانے کا ہے بالکل واہیات\r\nجب کوئی جلسہ خوشی کا ہو کہیں پر ہو برات\r\nمنعقد بزم سخن ہوتی ہے تا کٹ جائے رات\r\nپہلے ارباب نشاط آتے تھے گانے کے لیے\r\nاب تو شاعر جاتے ہیں غزلیں سنانے کے لیے\r\nیاد ایامے کہ شاعر کو زباں پر ناز تھا\r\nقوت تخئیل ہی سرمایۂ اعزاز تھا\r\nلفظ ہی میں سوز تھا اور لفظ ہی میں ساز تھا\r\nنغمۂ شاعر کا روح القدس ہم آواز تھا\r\nاب اگر قابو ہو ان پر تو ملے شاعر کو داد\r\nسررکھب گندھار مدھم پنجم اور دھیوت نکھار\r\nرفتہ رفتہ بڑھ گیا گر شوق و ذوق نغمہ ساز\r\nشاعر اب آئیں گے محفل میں پہن کر پیشواز\r\nختم اس فقرہ پہ ہوگی ہر غزل استاد کی\r\nسنیے میں ہوں جانکی بائی الہ آباد کی\r\nتو نمونہ سر بسر اخلاق و خودداری کا تھا\r\nاک صفا آئینہ تو قدرت باری کا تھا\r\nتو معالج نفس امارہ کی بیماری کا تھا\r\nتو ذریعہ ملک اور ملت کی بیداری کا تھا\r\nکتنی عبرت خیز شے اب عالم ہستی میں ہے\r\nجس نے قوموں کو ابھارا تھا وہی پستی میں ہے\r\nپیشہ ور جتنے ہیں ان کی ملک میں عزت تو ہے\r\nکم سہی لیکن ہر اک صنعت کی کچھ قیمت تو ہے\r\nہر ضرورت پر کسی صناع کی حاجت تو ہے\r\nجز ترے ہر اہل فن کی کچھ نہ کچھ اجرت تو ہے\r\nقسمت برباد تیری بن کے اڑ جاتی ہے بھاپ\r\nہے صلہ تیرا یہی کیا خوب فرماتے ہیں آپ!",
"HtmlText": null,
"PoemFormat": null,
"Language": "ur-PK",
"CoupletsCount": 40
}
],
"Verses": [
{
"VOrder": 1,
"Position": "Right",
"Text": "تجھ میں اے ہندوستاں کچھ آج کل حد سے سوا",
"CoupletIndex": 0,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 2,
"Position": "Left",
"Text": "چار سو پھیلی ہوئی ہے شاعری کی اک وبا",
"CoupletIndex": 0,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 3,
"Position": "Right",
"Text": "اس مرض میں اب تو اسی فیصدی ہیں مبتلا",
"CoupletIndex": 1,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 4,
"Position": "Left",
"Text": "مستند شاعر ہے جس نے اک تخلص رکھ لیا",
"CoupletIndex": 1,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 5,
"Position": "Right",
"Text": "شاعری گو عہد ماضی میں تھی پایان علوم",
"CoupletIndex": 2,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 6,
"Position": "Left",
"Text": "اب تخلص میں سمٹ کر آ گئی جان علوم",
"CoupletIndex": 2,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 7,
"Position": "Right",
"Text": "اے عجائب خانۂ ہستی کی جنس بے بہا",
"CoupletIndex": 3,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 8,
"Position": "Left",
"Text": "عہد موجودہ کے شاعر واہ کیا کہنا ترا",
"CoupletIndex": 3,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 9,
"Position": "Right",
"Text": "تیری کثرت ہر جگہ مردم شماری سے سوا",
"CoupletIndex": 4,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 10,
"Position": "Left",
"Text": "تو فرشتہ ہے بشر کی شکل میں اس عہد کا",
"CoupletIndex": 4,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 11,
"Position": "Right",
"Text": "تجھ کو کھانے سے نہ کچھ مطلب نہ کچھ پینے سے کام",
"CoupletIndex": 5,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 12,
"Position": "Left",
"Text": "شعر کہہ کہہ کر سنانے اور فقط جینے سے کام",
"CoupletIndex": 5,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 13,
"Position": "Right",
"Text": "ہے بہت تکلیف دہ شاعر کی وہ جنس عجیب",
"CoupletIndex": 6,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 14,
"Position": "Left",
"Text": "جو سنانے کے لیے بے چین رہتا ہو غریب",
"CoupletIndex": 6,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 15,
"Position": "Right",
"Text": "اس کو اچھا کر نہیں سکتا کوئی کامل طبیب",
"CoupletIndex": 7,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 16,
"Position": "Left",
"Text": "شاعری کی جس کو بد ہضمی ہو ہیضہ کے قریب",
"CoupletIndex": 7,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 17,
"Position": "Right",
"Text": "چاہتا ہے سب سنا دوں جو کہوں اک سال میں",
"CoupletIndex": 8,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 18,
"Position": "Left",
"Text": "مبتلا ہے شاعری کے سخت تر اسہال میں",
"CoupletIndex": 8,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 19,
"Position": "Right",
"Text": "نظم کر لیتا ہے سب کچھ اتنی آسانی کے ساتھ",
"CoupletIndex": 9,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 20,
"Position": "Left",
"Text": "جس طرح بہتے ہیں تنکے تیز رو پانی کے ساتھ",
"CoupletIndex": 9,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 21,
"Position": "Right",
"Text": "جب کہ تو لیتا نہیں اپنے دماغ و دل سے کام",
"CoupletIndex": 10,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 22,
"Position": "Left",
"Text": "سہل سے ہے تجھ کو مطلب اور کیا مشکل سے کام",
"CoupletIndex": 10,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 23,
"Position": "Right",
"Text": "سب کو قلت وقت کی تجھ کو فراوانی ملی",
"CoupletIndex": 11,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 24,
"Position": "Left",
"Text": "سنگ کو انسان کی شکل ہیولانی ملی",
"CoupletIndex": 11,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 25,
"Position": "Right",
"Text": "کسب زر سب کے لیے تجھ کو غزل خوانی ملی",
"CoupletIndex": 12,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 26,
"Position": "Left",
"Text": "مفت کی بے گار کرنے کو سخن دانی ملی",
"CoupletIndex": 12,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 27,
"Position": "Right",
"Text": "ہر ضرورت تیری اک جھوٹا بہانہ بن گئی",
"CoupletIndex": 13,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 28,
"Position": "Left",
"Text": "معذرت تک آہ عذر شاعرانہ بن گئی",
"CoupletIndex": 13,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 29,
"Position": "Right",
"Text": "کچھ صعوبات سفر ہوتے نہیں مانا تجھے",
"CoupletIndex": 14,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 30,
"Position": "Left",
"Text": "صحبت شعر و سخن میں فرض ہے جانا تجھے",
"CoupletIndex": 14,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 31,
"Position": "Right",
"Text": "کام شب بھر جاگنا مصرع کا دہرانا تجھے",
"CoupletIndex": 15,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 32,
"Position": "Left",
"Text": "ہر غزل کی داد دینا اور چلانا تجھے",
"CoupletIndex": 15,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 33,
"Position": "Right",
"Text": "تیری شرکت لازمی ہر شہر میں ہر گاؤں میں",
"CoupletIndex": 16,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 34,
"Position": "Left",
"Text": "سر میں سودائے سخن اور سنیچر پاؤں میں",
"CoupletIndex": 16,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 35,
"Position": "Right",
"Text": "دیکھ تیری قدر یوں کرتے ہیں تیرے قدرداں",
"CoupletIndex": 17,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 36,
"Position": "Left",
"Text": "کوئی میلا ہو کہیں پر یا نمائش یا نہاں",
"CoupletIndex": 17,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 37,
"Position": "Right",
"Text": "جس میں سرکس بھی ہو دنگل میں لڑیں کچھ پہلواں",
"CoupletIndex": 18,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 38,
"Position": "Left",
"Text": "یاد کر لیتے ہیں بھولے سے تجھے بھی مہرباں",
"CoupletIndex": 18,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 39,
"Position": "Right",
"Text": "دیتے ہیں لالچ میڈل کا تیری عزت کے لیے",
"CoupletIndex": 19,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 40,
"Position": "Left",
"Text": "تھرڈ کا تجھ کو ٹکٹ ملتا ہے شرکت کے لیے",
"CoupletIndex": 19,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 41,
"Position": "Right",
"Text": "یہ بھی جب کافی ضمانت ہو کہ شاعر آئے گا",
"CoupletIndex": 20,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 42,
"Position": "Left",
"Text": "یہ کرایہ تو کہیں لے کر نہ کھا جائے گا",
"CoupletIndex": 20,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 43,
"Position": "Right",
"Text": "ایک بھرتی کرنے والا خود ٹکٹ دلوائے گا",
"CoupletIndex": 21,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 44,
"Position": "Left",
"Text": "اپنی ہمراہی میں تجھ کو ریل پر بٹھلائے گا",
"CoupletIndex": 21,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 45,
"Position": "Right",
"Text": "پڑھ نہ لے جب تک غزل ہوتی رہے گی دیکھ بھال",
"CoupletIndex": 22,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 46,
"Position": "Left",
"Text": "بعد اس کے ایک ووٹر اور شاعر کا مآل",
"CoupletIndex": 22,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 47,
"Position": "Right",
"Text": "یہ بھی ہے شاعر کے ذمے اک ضروری اور کام",
"CoupletIndex": 23,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 48,
"Position": "Left",
"Text": "جب غزل پڑھنے شریک بزم ہو یہ نیک نام",
"CoupletIndex": 23,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 49,
"Position": "Right",
"Text": "اپنے جوتوں کا کرے اپنی بغل میں انتظام",
"CoupletIndex": 24,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 50,
"Position": "Left",
"Text": "ورنہ ننگے پیر گھر آنا پڑے گا والسلام",
"CoupletIndex": 24,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 51,
"Position": "Right",
"Text": "بزم میں کچھ قدر داں اس قسم کے آ جائیں گے",
"CoupletIndex": 25,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 52,
"Position": "Left",
"Text": "چھانٹ کر اکثر نئے جوتے چرا لے جائیں گے",
"CoupletIndex": 25,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 53,
"Position": "Right",
"Text": "پیسے والوں کی سمجھ میں آ گئی ہے اب یہ بات",
"CoupletIndex": 26,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 54,
"Position": "Left",
"Text": "صرف بے جا ناچ گانے کا ہے بالکل واہیات",
"CoupletIndex": 26,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 55,
"Position": "Right",
"Text": "جب کوئی جلسہ خوشی کا ہو کہیں پر ہو برات",
"CoupletIndex": 27,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 56,
"Position": "Left",
"Text": "منعقد بزم سخن ہوتی ہے تا کٹ جائے رات",
"CoupletIndex": 27,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 57,
"Position": "Right",
"Text": "پہلے ارباب نشاط آتے تھے گانے کے لیے",
"CoupletIndex": 28,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 58,
"Position": "Left",
"Text": "اب تو شاعر جاتے ہیں غزلیں سنانے کے لیے",
"CoupletIndex": 28,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 59,
"Position": "Right",
"Text": "یاد ایامے کہ شاعر کو زباں پر ناز تھا",
"CoupletIndex": 29,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 60,
"Position": "Left",
"Text": "قوت تخئیل ہی سرمایۂ اعزاز تھا",
"CoupletIndex": 29,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 61,
"Position": "Right",
"Text": "لفظ ہی میں سوز تھا اور لفظ ہی میں ساز تھا",
"CoupletIndex": 30,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 62,
"Position": "Left",
"Text": "نغمۂ شاعر کا روح القدس ہم آواز تھا",
"CoupletIndex": 30,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 63,
"Position": "Right",
"Text": "اب اگر قابو ہو ان پر تو ملے شاعر کو داد",
"CoupletIndex": 31,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 64,
"Position": "Left",
"Text": "سررکھب گندھار مدھم پنجم اور دھیوت نکھار",
"CoupletIndex": 31,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 65,
"Position": "Right",
"Text": "رفتہ رفتہ بڑھ گیا گر شوق و ذوق نغمہ ساز",
"CoupletIndex": 32,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 66,
"Position": "Left",
"Text": "شاعر اب آئیں گے محفل میں پہن کر پیشواز",
"CoupletIndex": 32,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 67,
"Position": "Right",
"Text": "ختم اس فقرہ پہ ہوگی ہر غزل استاد کی",
"CoupletIndex": 33,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 68,
"Position": "Left",
"Text": "سنیے میں ہوں جانکی بائی الہ آباد کی",
"CoupletIndex": 33,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 69,
"Position": "Right",
"Text": "تو نمونہ سر بسر اخلاق و خودداری کا تھا",
"CoupletIndex": 34,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 70,
"Position": "Left",
"Text": "اک صفا آئینہ تو قدرت باری کا تھا",
"CoupletIndex": 34,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 71,
"Position": "Right",
"Text": "تو معالج نفس امارہ کی بیماری کا تھا",
"CoupletIndex": 35,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 72,
"Position": "Left",
"Text": "تو ذریعہ ملک اور ملت کی بیداری کا تھا",
"CoupletIndex": 35,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 73,
"Position": "Right",
"Text": "کتنی عبرت خیز شے اب عالم ہستی میں ہے",
"CoupletIndex": 36,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 74,
"Position": "Left",
"Text": "جس نے قوموں کو ابھارا تھا وہی پستی میں ہے",
"CoupletIndex": 36,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 75,
"Position": "Right",
"Text": "پیشہ ور جتنے ہیں ان کی ملک میں عزت تو ہے",
"CoupletIndex": 37,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 76,
"Position": "Left",
"Text": "کم سہی لیکن ہر اک صنعت کی کچھ قیمت تو ہے",
"CoupletIndex": 37,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 77,
"Position": "Right",
"Text": "ہر ضرورت پر کسی صناع کی حاجت تو ہے",
"CoupletIndex": 38,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 78,
"Position": "Left",
"Text": "جز ترے ہر اہل فن کی کچھ نہ کچھ اجرت تو ہے",
"CoupletIndex": 38,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 79,
"Position": "Right",
"Text": "قسمت برباد تیری بن کے اڑ جاتی ہے بھاپ",
"CoupletIndex": 39,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 80,
"Position": "Left",
"Text": "ہے صلہ تیرا یہی کیا خوب فرماتے ہیں آپ!",
"CoupletIndex": 39,
"SectionIndex1": 0
}
]
}