divan-data/poets/p136/c365/sh3802.json
Anas Rashid eb4e74f0a1 Rename export_ganjoor.py -> export_divan.py, ganjoor_ids -> divan_ids; Language ur-PK
Co-Authored-By: Claude Opus 5.5 <noreply@anthropic.com>
2026-10-04 23:51:03 +02:00

66 lines
11 KiB
JSON
Raw Blame History

This file contains ambiguous Unicode characters

This file contains Unicode characters that might be confused with other characters. If you think that this is intentional, you can safely ignore this warning. Use the Escape button to reveal them.

{
"Id": 3802,
"CatId": 365,
"Title": "تحدید اسلحہ",
"FullTitle": "سعادت حسن منٹو » منٹو کے مضامین » تحدید اسلحہ",
"FullUrl": "/p136/c365/sh3802",
"RhymeLetters": null,
"SourceName": "ویکی ماخذ",
"SourceUrlSlug": "wikisource",
"SourceUrl": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AF_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%AD%DB%81",
"Language": "ur-PK",
"PoemSummary": null,
"Metre": null,
"Sections": [
{
"Index": 0,
"Number": 1,
"SectionType": "WholePoem",
"VerseType": "First",
"RhymeLetters": null,
"PlainText": "بین الاقوامی سیاست اتنی پیچ دار اور الجھی ہوئی ہے کہ اس کو سمجھنا کام رکھتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس بھول بھلیوں میں انسان گم ہو کر رہ جاتا ہے۔ تحدید اسلحہ کے متعلق آپ نے بیسیوں مرتبہ اخباروں میں پڑھا ہوگا مگر سچ کہیئے کہ آپ نے اس کے متعلق کیا سمجھا؟ لیکن میں آپ کی عقل و دانش کا امتحان لینا نہیں چاہتا۔ میں نے اس کے متعلق جو کچھ سمجھا ہے، وہ نہایت سادہ الفاظ میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے، یعنی اس طور پر کہ بچے کو بھی غلط فہمی نہ ہو سکے۔\r\nفرض کر لیجئے کہ آپ اور میں ذرا کم سمجھ والے واقع ہوئے ہیں۔ میرے پاس تکیہ ہے اور بہت ممکن ہے کہ یہ تکیہ میں آپ کے سر پر دے ماروں۔ آپ کے پاس ایک انڈہ ہے اور ہو سکتا ہے کہ آپ اسے میرے سر پر پھوڑ دیں۔ گویا تکیہ اور انڈہ ہمارے اسلحہ ہیں۔ امن قائم رکھنے کی خاطر ہم آپس میں سمجھوتہ کرنے کے لئے تحدید اسلحہ کی ایک مجلس منعقد کرتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ اپنے لئے ایک تکیہ رکھنے کے حقوق حاصل کریں گے اور میں ایک انڈہ رکھنے کا حق طلب کروں گا۔ گویا ہم دونوں کے پاس ایک دوسرے کو برابر کا ضرر پہنچانے کا سامان ہوگا۔ ہم دونوں میں سے کسی کو حق نہیں ہوگا کہ دوسرے کے مشورے کے بغیر اپنے ہتھیاروں میں اضافہ کر کے باہمی امن کو خطرے میں ڈالے۔\r\nاب کچھ دیر کے بعد میں آپ کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کراتا ہوں کہ آپ کے پاس ایک قلم تراش ہے، جو وقت پر مہلک ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ سن کر آپ میری توجہ اس امر کی طرف منعطف کراتے ہیں کہ میری ملکیت میں ایک کلہاڑی ہے جس سے میں ایک ہی ضرب میں گردن اڑا سکتا ہوں۔ اس پر ہمارے دلوں میں دفعتاً جذبۂ امن پسندی کروٹ لیتا ہے اور میں جھٹ سے ایک قلم تراش خرید لیتا ہوں اور آپ اولین فرصت میں کلہاڑی لے آتے ہیں۔\r\nاب حالات بین الاقوامی سیاسیات کی طرح ترقی پذیر ہو جاتے ہیں اور ایک روز میں آپ سے یہ کہتا ہوں کہ چونکہ میرے ہتھیاروں کے جواب میں آپ کے پاس بھی اس قسم کے ہتھیار موجود ہیں اس لئے مجھے بازار سے پستول خریدنے میں کوئی دیر نہ کرنی چاہیئے۔ بات باون تولے پاؤرتی کی ہے۔ جب میں پستول خرید لاتا ہوں تو آپ پستول کے ساتھ ساتھ ایک چمکیلی تلوار بھی لے آتے ہیں۔ اب فطری طور پر میں بھی تلوار خرید لیتا ہوں اور ساتھ ساتھ تحدید اسلحہ کے جذبے کے ماتحت ایک مشین گن بھی گاڑی پر لدوا کر لے آتا ہوں، تو سمجھ لیجئے کہ اب امن و امان قائم ہونے میں کوئی دیر نہیں۔ آپ دوڑ کر بہترین اسلحہ ساز کے یہاں سے ایک عمدہ قسم کا تباہ کن ٹینک لے آتے ہیں اور لگے ہاتھوں ایک بڑا سا بم بھی خرید لیتے ہیں، جس سے میرے گھر کی چھت بھک سے اڑائی جا سکتی ہے۔\r\nخاکسار بھی آپ کی دیکھا دیکھی دو ایک گولے گھر میں ڈال دیتا ہے اور بطور حفظ ماتقدم گیس بنانے والوں کو چند سلنڈر زہریلی گیس تیار کرنے کی فرمائش بھی کر ڈالتا ہے۔ اس گیس سے آپ کے بال بچوں کا رنگ پیلا پڑ سکتا ہے اور آپ کے چہرے پر سوکھے ہوئے بینگن کی طرح جھریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس پر آپ اس قسم کی گیس تلاش کر لیتے ہیں جو میرے سر، میری ٹانگوں اور میرے بازوؤں کو سرے سے غائب ہی کر دے، پھر آپ احتیاطاً ایک بمبار طیارہ بھی اپنے گھر میں لے آتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم کچھ اس طرح ’’غیر مسلح‘‘ ہو جاتے ہیں کہ ہمارے درمیان جنگ کا خیال ہی نہیں کیا جا سکتا۔ تھوڑے دنوں کے بعد ہم ایک دوسرے کو بالکل فنا کر دیتے ہیں، مگر یہ تباہی اتفاقی ہوگی۔ اس کا کچھ خیال نہیں کرنا چاہیئے۔",
"HtmlText": null,
"PoemFormat": null,
"Language": "ur-PK",
"CoupletsCount": 5
}
],
"Verses": [
{
"VOrder": 1,
"Position": "Paragraph",
"Text": "بین الاقوامی سیاست اتنی پیچ دار اور الجھی ہوئی ہے کہ اس کو سمجھنا کام رکھتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس بھول بھلیوں میں انسان گم ہو کر رہ جاتا ہے۔ تحدید اسلحہ کے متعلق آپ نے بیسیوں مرتبہ اخباروں میں پڑھا ہوگا مگر سچ کہیئے کہ آپ نے اس کے متعلق کیا سمجھا؟ لیکن میں آپ کی عقل و دانش کا امتحان لینا نہیں چاہتا۔ میں نے اس کے متعلق جو کچھ سمجھا ہے، وہ نہایت سادہ الفاظ میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے، یعنی اس طور پر کہ بچے کو بھی غلط فہمی نہ ہو سکے۔",
"CoupletIndex": 0,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 2,
"Position": "Paragraph",
"Text": "فرض کر لیجئے کہ آپ اور میں ذرا کم سمجھ والے واقع ہوئے ہیں۔ میرے پاس تکیہ ہے اور بہت ممکن ہے کہ یہ تکیہ میں آپ کے سر پر دے ماروں۔ آپ کے پاس ایک انڈہ ہے اور ہو سکتا ہے کہ آپ اسے میرے سر پر پھوڑ دیں۔ گویا تکیہ اور انڈہ ہمارے اسلحہ ہیں۔ امن قائم رکھنے کی خاطر ہم آپس میں سمجھوتہ کرنے کے لئے تحدید اسلحہ کی ایک مجلس منعقد کرتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ اپنے لئے ایک تکیہ رکھنے کے حقوق حاصل کریں گے اور میں ایک انڈہ رکھنے کا حق طلب کروں گا۔ گویا ہم دونوں کے پاس ایک دوسرے کو برابر کا ضرر پہنچانے کا سامان ہوگا۔ ہم دونوں میں سے کسی کو حق نہیں ہوگا کہ دوسرے کے مشورے کے بغیر اپنے ہتھیاروں میں اضافہ کر کے باہمی امن کو خطرے میں ڈالے۔",
"CoupletIndex": 1,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 3,
"Position": "Paragraph",
"Text": "اب کچھ دیر کے بعد میں آپ کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کراتا ہوں کہ آپ کے پاس ایک قلم تراش ہے، جو وقت پر مہلک ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ سن کر آپ میری توجہ اس امر کی طرف منعطف کراتے ہیں کہ میری ملکیت میں ایک کلہاڑی ہے جس سے میں ایک ہی ضرب میں گردن اڑا سکتا ہوں۔ اس پر ہمارے دلوں میں دفعتاً جذبۂ امن پسندی کروٹ لیتا ہے اور میں جھٹ سے ایک قلم تراش خرید لیتا ہوں اور آپ اولین فرصت میں کلہاڑی لے آتے ہیں۔",
"CoupletIndex": 2,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 4,
"Position": "Paragraph",
"Text": "اب حالات بین الاقوامی سیاسیات کی طرح ترقی پذیر ہو جاتے ہیں اور ایک روز میں آپ سے یہ کہتا ہوں کہ چونکہ میرے ہتھیاروں کے جواب میں آپ کے پاس بھی اس قسم کے ہتھیار موجود ہیں اس لئے مجھے بازار سے پستول خریدنے میں کوئی دیر نہ کرنی چاہیئے۔ بات باون تولے پاؤرتی کی ہے۔ جب میں پستول خرید لاتا ہوں تو آپ پستول کے ساتھ ساتھ ایک چمکیلی تلوار بھی لے آتے ہیں۔ اب فطری طور پر میں بھی تلوار خرید لیتا ہوں اور ساتھ ساتھ تحدید اسلحہ کے جذبے کے ماتحت ایک مشین گن بھی گاڑی پر لدوا کر لے آتا ہوں، تو سمجھ لیجئے کہ اب امن و امان قائم ہونے میں کوئی دیر نہیں۔ آپ دوڑ کر بہترین اسلحہ ساز کے یہاں سے ایک عمدہ قسم کا تباہ کن ٹینک لے آتے ہیں اور لگے ہاتھوں ایک بڑا سا بم بھی خرید لیتے ہیں، جس سے میرے گھر کی چھت بھک سے اڑائی جا سکتی ہے۔",
"CoupletIndex": 3,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 5,
"Position": "Paragraph",
"Text": "خاکسار بھی آپ کی دیکھا دیکھی دو ایک گولے گھر میں ڈال دیتا ہے اور بطور حفظ ماتقدم گیس بنانے والوں کو چند سلنڈر زہریلی گیس تیار کرنے کی فرمائش بھی کر ڈالتا ہے۔ اس گیس سے آپ کے بال بچوں کا رنگ پیلا پڑ سکتا ہے اور آپ کے چہرے پر سوکھے ہوئے بینگن کی طرح جھریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس پر آپ اس قسم کی گیس تلاش کر لیتے ہیں جو میرے سر، میری ٹانگوں اور میرے بازوؤں کو سرے سے غائب ہی کر دے، پھر آپ احتیاطاً ایک بمبار طیارہ بھی اپنے گھر میں لے آتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم کچھ اس طرح ’’غیر مسلح‘‘ ہو جاتے ہیں کہ ہمارے درمیان جنگ کا خیال ہی نہیں کیا جا سکتا۔ تھوڑے دنوں کے بعد ہم ایک دوسرے کو بالکل فنا کر دیتے ہیں، مگر یہ تباہی اتفاقی ہوگی۔ اس کا کچھ خیال نہیں کرنا چاہیئے۔",
"CoupletIndex": 4,
"SectionIndex1": 0
}
]
}