360 lines
62 KiB
JSON
360 lines
62 KiB
JSON
{
|
||
"Id": 3836,
|
||
"CatId": 364,
|
||
"Title": "سجدہ",
|
||
"FullTitle": "سعادت حسن منٹو » کالی شلوار » سجدہ",
|
||
"FullUrl": "/p136/c364/sh3836",
|
||
"RhymeLetters": null,
|
||
"SourceName": "ویکی ماخذ",
|
||
"SourceUrlSlug": "wikisource",
|
||
"SourceUrl": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AC%D8%AF%DB%81",
|
||
"Language": "ur-PK",
|
||
"PoemSummary": null,
|
||
"Metre": null,
|
||
"Sections": [
|
||
{
|
||
"Index": 0,
|
||
"Number": 1,
|
||
"SectionType": "WholePoem",
|
||
"VerseType": "First",
|
||
"RhymeLetters": null,
|
||
"PlainText": "گلاس پربوتل جھکی تو ایک دم حمید کی طبیعت پر بوجھ سا پڑ گیا۔ ملک جو اس کے سامنے تیسرا پیگ پی رہا تھا فوراً تاڑ گیا کہ حمید کے اندر روحانی کشمکش پیدا ہوگئی ہے۔ وہ حمید کو سات برس سے جانتا تھا، اوران سات برسوں میں کئی بار حمید پر ایسے دورے پڑ چکے تھے جن کا مطلب اس کی سمجھ سے ہمیشہ بالاتر رہا تھا، لیکن وہ اتنا ضرور سمجھتا تھا کہ اس کے لاغر دوست کے سینے پر کوئی بوجھ ہے، ایسا بوجھ جس کا احساس شراب پینے کے دوران میں کبھی کبھی حمید کے اندر یوں پیداہوتا ہے جیسے بے دھیان بیٹھے ہوئے آدمی کی پسلیوں میں کوئی زور سے ٹہوکا دے دے۔\r\nحمید بڑا خوش باش انسان تھا۔ ہنسی مذاق کا عادی، حاضر جواب، بذلہ سنج۔ اس میں بہت سی خوبیاں تھیں جو زیادہ نزدیک آکر اس کے دوست ملک نے معلوم کی تھیں۔ مثال کے طور پر سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ بے حد مخلص تھا، اس قدر مخلص کہ بعض اوقات اس کا اخلاص ملک کے لیے عہد عتیق کا رومانی افسانہ بن جاتا تھا۔\r\nحمید کے کردار میں ایک عجیب وغریب بات جوملک نے نوٹ کی یہ تھی، کہ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے ناآشنا تھیں۔ یوں تو ملک بھی رونے کے معاملے میں بڑا بخیل تھا مگر وہ جانتا تھا کہ جب کبھی رونے کا موقع آئے گا وہ ضرور رو دے گا۔ اس پر غم افزا باتیں اثر ضرور کرتی تھیں مگر وہ اس اثر کو اتنی دیر اپنے دماغ پر بیٹھنے کی اجازت دیتا تھا جتنی دیر گھوڑا اپنے تنے ہوئے جسم پر مکھی کو۔\r\nغموں سے دور رہنے والے اور ہر وقت ہنسی مذاق کے عادی حمید کی زندگی میں نہ جانے ایسا کون سا واقعہ الجھا ہوا تھا کہ وہ کبھی کبھی قبرستان کی طرح خاموش ہو جاتا تھا۔ ایسے لمحات جب اس پر طاری ہوتے تو اس کا چہرہ ایسی رنگت اختیار کرلیتا تھا جو تین دن کی باسی شراب میں بے جان سوڈا گھولنے سے پیدا ہوتی ہے۔\r\nسات برس کے دوران میں کئی بار حمید پر ایسے دورے پڑ چکے تھے مگر ملک نے آج تک اس سے ان کی وجہ دریافت نہ کی تھی۔ اس لیے نہیں کہ ان کی وجہ دریافت کرنے کی خواہش اس کے دل میں پیدا نہیں ہوئی تھی۔ دراصل بات یہ ہے کہ ملک پرلے درجے کا سست اور کاہل واقع ہوا تھا۔ اس خیال سے بھی وہ حمید کے ساتھ اس معاملے میں بات چیت نہیں کرتا تھا کہ ایک طول طویل کہانی اسے سننا پڑے گی اور اس کے چوتھے پیگ کا سارا سرور غارت ہو جائے گا۔ شراب پی کر لمبی چوڑی آپ بیتیاں سننا یا سنانا اس کے نزدیک بہت بڑی بدذوقی تھی۔ اس کے علاوہ وہ کہانیاں سننے کے معاملے میں بہت ہی خام تھا۔ اسی خیال کی وجہ سے کہ وہ اطمینان سے حمید کی داستان نہیں سن سکے گا، اس نے آج تک اس سے ان دوروں کی بابت دریافت نہیں کیا تھا۔\r\nکرپارام نے حمید کے گلاس میں تیسرا پیگ ڈال کر بوتل میز پر رکھ دی اور ملک سے مخاطب ہوا، ’’ملک، اسے کیا ہوگیا ہے۔‘‘ ملک خاموش رہا لیکن حمید مضطرب ہوگیا۔ اس کے اعصاب زور سے کانپ اٹھے۔ کرپا رام کی طرف دیکھ کر اس نے مسکرانے کی کوشش کی، اس میں جب ناکامی ہوئی تو اس کا اضطراب اور بھی زیادہ ہوگیا۔حمید کی یہ بہت بڑی کمزوری تھی کہ وہ کسی بات کو چھپا نہیں سکتا تھا اور اگر چھپانے کی کوشش کرتا تو اس کی وہی حالت ہوتی جو آندھی میں صرف ایک کپڑے میں لپٹی ہوئی عورت کی ہوتی ہے۔\r\nملک نے اپنا تیسرا پیگ ختم کیا اور اس فضا کو جو کچھ عرصہ پہلے طرب افزا باتوں سے گونج رہی تھی، اپنی بے محل ہنسی سے خوشگوار بنانے کے لیے اس نے کرپا رام سے مخاطب ہو کر کہا، ’’کرپا۔ تم مان لو اسے اشوک کمار کا فلمی عشق ہوگیا ہے۔۔۔ بھئی یہ اشوک کمار بھی عجیب چیز ہے۔ پردے پر عشق کرتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کاسٹرآئل پی رہا ہے۔‘‘\r\nکرپا رام، اشوک کمارکو اتنا ہی جانتا تھا جتنا کہ مہاراجہ اشوک اور اس کی مشہور آہنی لاٹھ کو۔ فلم اور تاریخ سے اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ البتہ وہ ان کے فوائد سے ضرور آگاہ تھا۔ کیونکہ وہ عام طور پر کہا کرتا تھا، ’’مجھے اگر کبھی بے خوابی کا عارضہ لاحق ہو جائے تو میں یا تو فلم دیکھنا شروع کردوں گا یا چکرورتی کی لکھی ہوئی تاریخ پڑھنا شروع کردوں گا۔‘‘ وہ ہمیشہ حساب دان چکرورتی کو مورخ بنا کر اپنی مسرت کے لیے ایک بات پیدا کرلیا کرتا تھا۔\r\nکرپا رام چار پیگ پی چکا تھا۔ چار پیالہ پیگ، نشہ اس کے دماغ کی آخری منزل تک پہنچ چکا تھا۔ آنکھیں سیکڑ کر اس نے حمید کی طرف اس اندازسے دیکھا جیسے وہ کیمرے کا فوکس کررہا ہے، ’’تمہارا گلاس ابھی تک ویسے کا ویسا پڑا ہے۔‘‘\r\nحمید نے دردِ سر کے مریض کی سی شکل بنا کرکہا، ’’بس۔۔۔ اب مجھ سے زیادہ نہیں پی جائے گی۔‘‘\r\n’’تم چغد ہو۔۔۔ نہیں چغد نہیں کچھ اور ہو۔۔۔ تمہیں پینا ہوگی۔ سمجھے، یہ گلاس اور اس بوتل میں جتنی پڑی ہے سب کی سب تمہیں پینا ہوگی۔ شراب سے جو انکار کرے وہ انسان نہیں حیوان ہے۔۔۔ حیوان بھی نہیں، اس لیے کہ حیوانوں کو اگر انسان بنا دیا جائے تووہ بھی اس خوبصورت شے کو کبھی نہ چھوڑیں ،تم سن رہے ہو ملک۔۔۔ ملک نے اگر یہ ساری شراب اس کے حلق میں نہ انڈیل دی تو میرا نام کرپا رام نہیں گھسیٹا رام آرٹسٹ ہے۔‘‘ گھسیٹا رام آرٹسٹ سے کرپا رام کو سخت نفرت تھی صرف اس لیے کہ آرٹسٹ ہوکر اس کا نام گھسیٹا رام تھا۔\r\nملک کا منہ سوڈا ملی وسکی سے بھرا ہوا تھا۔ کرپا رام کی بات سن کر وہ بے اختیار ہنس پڑا جس کے باعث اس کے منہ سے ایک فوارہ سا چھوٹ پڑا، ’’کرپا رام خدا کے لیے تم گھسیٹا رام آرٹسٹ کا نام نہ لیا کرو۔ میری انتڑیوں میں ایک طوفان سا مچ جاتا ہے۔۔۔ لاحول ولا۔۔۔ میری پتلون کا ستیاناس ہوگیا ہے۔۔۔ لو بھئی، حمید، اب تو تمہیں پینا ہی پڑے گی۔ کرپا رام، گھسیٹا رام بنے یا نہ بنے لیکن میں ضرور کرپا رام بن جاؤں گا اگرتم نے یہ گلاس خالی نہ کیا۔۔۔ لو پیو۔۔۔ پی جاؤ۔۔۔ ارے میرا منہ کیا دیکھتے ہو۔۔۔ یہ تمہارے چہرے پر یتامت کیسی برس رہی ہے۔۔۔ کرپا رام اٹھو۔۔۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانا کرتے۔ زبردستی کرنا ہی پڑے گی۔‘‘\r\nکرپا رام اور ملک دونوں اٹھے اور حمید کو زبردستی پلانے کی کوشش کرنے لگے۔ حمید کو روحانی کوفت تو ویسے ہی محسوس ہورہی تھی، جب کرپا رام اور ملک نے اس کو جھنجھوڑنا شروع کیا تو اس کو جسمانی اذیت بھی پہنچی جس کے باعث وہ بے حد پریشان ہوگیا۔\r\nاس کی پریشانی سے کرپا رام اور ملک بہت محظوظ ہوئے۔ چنانچہ انھوں نے ایک کھیل سمجھ کر حمید کو اور زیادہ تنگ کرنا شروع کیا۔ کرپا رام نے گلاس پکڑ کر اس کے سر میں تھوڑی سی شراب ڈال دی۔ اور نائیوں کے انداز میں جب اس نے حمید کا سر سہلایا تو وہ اس قدر پریشان ہوا کہ اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آگئے۔ اس کی آواز بھرا گئی۔ اس کے سارے جسم میں تشنج سا پیدا ہوا اور ایک دم کاندھے ڈھیلے کرکے اس نے رونی اور مردہ آواز میں کہا، ’’میں بیمار ہوں۔۔۔ خدا کے لیے مجھے تنگ نہ کرو۔‘‘\r\nکرپا رام اسے بہانہ سمجھ کر حمید کو اور زیادہ تنگ کرنے کے لیے کوئی نیا طریقہ سوچنے ہی والا تھا کہ ملک نے ہاتھ کے اشارے سے اسے پرے ہٹا دیا، ’’کرپا، اس کی طبیعت واقعی خراب ہے۔۔۔ دیکھو تو رو رہا ہے۔‘‘ کرپا رام نے اپنی موٹی کمر جھکا کر غور سے دیکھا، ’’ارے۔۔۔ تم تو سچ مچ رو رہے ہو۔‘‘ حمید کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے، جس پر سوالوں کی بوچھارشروع ہوگئی۔\r\n’’کیا ہوگیا ہے تمہیں۔۔۔؟ خیر تو ہے؟‘‘\r\n’’یہ تم رو کیوں رہے ہو؟‘‘\r\n’’ بھئی حد ہو گئی۔۔۔ ہم تو صرف مذاق کررہے تھے۔‘‘\r\n’’ کچھ سمجھ میں بھی تو آئے۔۔۔ کیا تکلیف ہے تمہیں؟‘‘\r\nملک اس کے پاس بیٹھ گیا، ’’بھئی مجھے معاف کردو اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہو۔‘‘\r\nحمید نے جیب سے رومال نکال کر اپنے آنسو پونچھے اور کچھ کہتے کہتے خاموش ہوگیا۔ جذبات کی شدت کے باعث اس کی قوتِ گویائی جواب دے گئی۔ تیسرے پیگ سے پہلے اس کے چہرے پر رونق تھی، اس کی باتیں سوڈے کے بلبلوں کی طرح تروتازہ اور شگفتہ تھیں مگر اب وہ باسی شراب کی طرح بے رونق تھا۔ وہ سکڑ سا گیا تھا۔ اس کی حالت ویسی ہی تھی جیسی بھیگی ہوئی پتلون کی ہوتی ہے۔\r\nکرسی پر وہ اس انداز سے بیٹھا تھا گویا وہ اپنے آپ سے شرمندہ ہے۔ اپنے آپ کو چھپانے کی بھونڈی کوشش میں وہ ایک ایسا بے جان لطیفہ بن کے رہ گیا تھا جو بڑے ہی خام انداز میں سنایا گیا ہو۔ملک کو اس کی حالت پربہت ترس آیا، ’’حمید، لو اب خدا کے لیے چپ ہو جاؤ۔۔۔ واللہ تمہارے آنسوؤں سے مجھے روحانی تکلیف ہورہی ہے۔ مزا تو سب کِرکرا ہو ہی گیا تھا۔ مگر یوں تمہارے ایکا ایکی آنسو بہانے سے میں بہت مغموم ہوگیا ہوں۔۔۔ خدا جانے تمہیں کیا تکلیف ہے۔۔۔؟‘‘\r\n’’کچھ نہیں، میں بہت جلد ٹھیک ہو جاؤں گا۔ کبھی کبھی مجھے ایسی تکلیف ہو جایا کرتی ہے۔‘‘ یہ کہہ کروہ اٹھا، ’’اب میں اجازت چاہتا ہوں۔‘‘\r\nکرپا رام بوتل میں بچی ہوئی شراب کو دیکھتا رہا اور ملک یہ ارادہ کرتا رہا کہ حمید سے آج پوچھ ہی لے کہ وقتاً فوقتاً اسے یہ دورے کیوں پڑتے ہیں مگر وہ جا چکا تھا۔حمید گھر پہنچا تو اس کی حالت پہلے سے زیادہ خراب تھی۔ کمرے میں چونکہ اس کے سوا اور کوئی نہیں تھا اس لیے وہ رو بھی نہ سکتا تھا۔ اس کی آنسوؤں سے لبالب بھری ہوئی آنکھوں کو کرسیاں اور میزیں نہیں چھلکا سکتی تھیں۔\r\nاس کی خواہش تھی کہ اس کے پاس کوئی آدمی موجود ہو جس کے چھیڑنے سے وہ جی بھر کے رو سکے مگر ساتھ ہی اس کی یہ بھی خواہش تھی کہ وہ بالکل اکیلا ہو۔۔۔ ایک عجیب کشمکش اس کے اندر پیدا ہوگئی تھی۔وہ کرسی پر اس انداز سے اکیلا بیٹھا تھا جیسے شطرنج کا پٹا ہوا مہرہ بساط سے بہت دور پڑا ہے۔ سامنے میز پر اس کی ایک پرانی تصویر چمکدار فریم میں جڑی رکھی تھی۔ حمید نے اداس نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا تو سات برس اس تصویر اور اس کے درمیان تھان کی طرح کھلتے چلے گئے۔۔۔!\r\nٹھیک سات برس پہلے برسات کے انہی دنوں میں رات کو وہ ریلوے رسٹوران میں ملک عبدالرحمن کے ساتھ بیٹھا تھا۔۔۔ اس وقت کے حمید اور اِس وقت کے حمید میں کتنا فرق تھا۔۔۔ کتنا فرق تھا۔ حمید نے یہ فرق اس شدت سے محسوس کیا کہ اسے اپنی تصویر میں ایک ایسا آدمی نظر آیا جس سے ملے اس کو ایک زمانہ گزر گیا ہے۔\r\nاس نے تصویر کو غور دیکھا تو اس کے دل میں یہ تلخ احساس پیدا ہوا کہ انسانیت کے لحاظ سے وہ اس کے مقابلے میں بہت پست ہے۔ تصویر میں جو حمید ہے اس حمید کے مقابلے میں بدرجہا افضل و برتر ہے جوکرسی پر سرنیوڑھائے بیٹھا ہے۔ چنانچہ اس احساس نے اس کے دل میں حسد بھی پیدا کردیا۔\r\nایک سجدے۔۔۔ صرف ایک سجدے نے اس کا ستیاناس کردیا تھا۔\r\nآج سے ٹھیک سات برس پہلے کا ذکرہے۔ برسات کے یہی دن تھے۔ رات کو ریلوے رسٹوران میں اپنے دوست ملک عبدالرحمن کے ساتھ بیٹھا تھا۔ حمید کویہ شرارت سوجھی تھی کہ بغیر بوکی شراب ،جن ،کا ایک پورا پیگ لیمونیڈ میں ملا کر اس کو پلادے اور جب وہ پی جائے تو آہستہ سے اس کے کان میں کہے،’’مولانا ایک پورا پیگ آپ کے ثوابوں بھرے پیٹ میں داخل ہو چکا ہے۔‘‘\r\nبیرے سے مل ملا کر اس نے اس بات کا انتظام کردیا تھا کہ آرڈر دینے پر لیمونیڈ کی بوتل میں جن کا ایک پیگ ڈال کر ملک کو دے دیا جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حمید نے وسکی پی اور ملک بظاہر بے خبری کی حالت میں جن کا پورا پیگ چڑھا گیا۔\r\nحمید چونکہ تین پیگ پینے کا ارادہ رکھتا تھا اس لیے ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد اس نے پوچھا، ’’ملک صاحب، آپ یوں بیکار نہ بیٹھیے میں تیسرا پیگ بڑی عیاشی سے پیا کرتا ہوں۔آپ ایک اور لیمونیڈ منگوا لیجیے۔‘‘ ملک رضا مند ہوگیا، چنانچہ ایک اور لیمونیڈ آگیا۔ اس بیرے نے اپنی طرف سے جن کا ایک پیگ ملا دیا تھا۔\r\nملک سے حمید کی نئی نئی دوستی ہوئی تھی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ حمید اس شرارت سے باز رہتا مگر ان دنوں وہ اس قدر زندہ دل اور شرارت پسند تھا کہ جب بیرا ملک کے لیے لیمونیڈ کا دوسرا گلاس لایا اور اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا تووہ اس خیال سے بہت خوش ہوا کہ ایک کے بجائے دو پیگ ملک کے پیٹ کے اندر چلے جائیں گے۔\r\nملک آہستہ آہستہ لیمونیڈ ملی جِن پیتا رہا اور حمید دل ہی دل میں اس کبوترکی طرح گٹگٹاتا رہا جس کے پاس ایک کبوتری آبیٹھی ہو۔ اس نے جلدی جلدی اپنا تیسرا پیگ ختم کیا اور ملک سے پوچھا، ’’اور پئیں گے آپ۔‘‘ ملک نے غیرمعمولی سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا، ’’نہیں۔‘‘ پھر اس نے بڑے روکھے انداز میں کہا، ’’اگر تمہیں اور پینا ہے تو پیو، میں جاؤں گا۔ مجھے ایک ضروری کام ہے۔‘‘\r\nاس مختصر گفتگو کے بعد دونوں اٹھے۔ حمید نے دوسرے کمرے میں جا کر بل ادا کیا۔ جب وہ رسٹوران سے باہر نکلے تو ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ حمید کے دل میں یہ خواہش چٹکیاں لینے لگی کہ وہ ملک پراپنی شرارت واضح کردے مگر اچھے موقع کی تلاش میں کافی وقت گزر گیا۔ ملک بالکل خاموش تھا اور حمید کے اندر پُھلجھڑی سی چھوٹ رہی تھی۔ بے شمار ننھی ننھی خوبصورت اور شوخ و شنگ باتیں اس کے دل و دماغ میں پیدا ہو ہو کر بجھ رہی تھیں۔ وہ ملک کی خاموشی سے پریشان ہورہا تھا اور جب اس نے اپنی پریشانی کا اظہار نہ کیا تو آہستہ آہستہ اس کی طبیعت پر ایک افسردگی سی طاری ہوگئی۔ وہ محسوس کرنے لگا کہ اس کی شرارت اب دم کٹی گلہری بن کر رہ گئی ہے۔\r\nدیر تک دونوں بالکل خاموش چلتے رہے۔ جب کمپنی باغ آیا تو ملک ایک بنچ پر مفکرانہ انداز میں بیٹھ گیا۔ چند لمحات ایسی خاموشی میں گزرے کہ حمید کے دل میں وہاں سے اٹھ بھاگنے کی خواہش پیدا ہوئی مگر اس وقت زیادہ دیر تک دبے رہنے کے باعث اس کی تمام تیزی اور طراری ماند پڑ چکی تھی۔\r\nملک بنچ پر سے اٹھ کھڑا ہوا، ’’حمید تم نے آج مجھے روحانی تکلیف پہنچائی ہے۔۔۔ تمہیں یہ شرارت نہیں کرنی چا ہیے تھے۔‘‘ اس آواز میں اور درد پیدا ہوگیا، ’’تم نہیں جانتے کہ تمہاری اس شرارت سے مجھے کس قدر روحانی تکلیف پہنچی ہے۔ اللہ تمہیں معاف کرے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چلا گیا اورحمید نے اپنے آپ کو بڑی شدت سےگناہ گار محسوس کرنے لگا۔ معافی مانگنے کا خیال اس کو آیا تھا مگر ملک باغ سے نکل کر باہر سڑک پر پہنچ چکا تھا۔\r\nملک کے چلےجانے کے بعد حمید گناہ اور ثواب کے چکر میں پھنس گیا۔ شراب کے حرام ہونے کے متعلق اس نے جتنی باتیں لوگوں سے سنی تھیں سب کی سب اس کے کانوں میں بھنبھنانے لگیں، ’’شراب اخلاق بگاڑ دیتی ہے۔۔۔ شراب، خانہ خراب ہے، شراب پی کر آدمی بے ادب اور بے حیا ہو جاتا ہے۔ شراب اسی لیے حرام ہے۔ شراب صحت کا ستیاناس کردیتی ہے۔ اس کے پینے سے پھیپھڑے چھلنی ہو جاتے ہیں۔۔۔ شراب۔۔۔‘‘\r\nشراب، شراب کی ایک لامتناہی گردان حمید کے دماغ میں شروع ہوگئی۔ اور اس کی تمام برائیاں ایک ایک کرکے اس کے سامنے آگئیں، ’’سب سے بڑی برائی تو یہ ہے۔‘‘ حمید نے محسوس کیا، ’’کہ میں نے بے ضرر شرارت سمجھ کر ایک شریف آدمی کو دھوکے سے شراب پلا دی ہے۔ ممکن ہے وہ پکا نمازی اور پرہیزگار ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ غلطی میری ہے اور سارا گناہ میرے ہی سر ہوگا مگر اسے جو روحانی تکلیف پہنچی ہے اس کا کیا ہوگا؟ واللہ باللہ میرا یہ مقصد نہیں تھا کہ اسے تکلیف پہنچے۔۔۔ میں اس سے معافی مانگ لوں گا اور ۔۔۔ لیکن اس سے معافی مانگ کر بھی تو میرا گناہ ہلکا نہیں ہوگا۔ ایک میں نے شراب پی۔۔۔ اوپر سے اس کو دھوکا دےکر پلائی۔‘‘\r\nوسکی کا نشہ اس کے دماغ میں جمائیاں لینے لگا جس سے اس کا احساس گناہ گھناؤنی شکل اختیار کرگیا،’’مجھے معافی مانگنی چاہیے۔ مجھے شراب چھوڑ دینی چاہیے۔۔۔ مجھے گناہوں سے پاک زندگی بسرکرنی چاہیے۔ ‘‘اس کو شراب شروع کیے صرف دو برس ہوئے تھے۔ ابھی تک وہ اس کا عادی نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ اس نے گھر لوٹتے ہوئے راستے میں دوسری باتوں کے ساتھ اس پر بھی غور کیا،’’میں شراب کو ہاتھ تک نہیں لگاؤں گا۔ یہ کوئی ضروری چیز نہیں ۔ میں اس کے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہوں۔۔۔ دنیا کہتی ہے۔۔۔ دنیا کہتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ منہ سے لگی ہوئی یہ چھٹ ہی نہیں سکتی۔ میں اسے بالکل چھوڑ دوں گا۔۔۔ میں اس خیال کو غلط ثابت کردوں گا۔‘‘\r\nیہ سوچتے ہوئے حمید نے خود کو ایک ہیرو محسوس کیا۔ پھر ایک دم اس کے دماغ میں خدا کا خیال آیا جس نے اسے تباہی سے بچا لیا تھا، ’’مجھے شکر بجا لانا چاہیے کہ میرے سینے میں نور پیدا ہوگیا ہے۔ میں نہ جانے کتنی دیر تک اس کھائی میں پڑا رہتا۔‘‘\r\nوہ اپنی گلی میں پہنچ چکا تھا۔ اوپر آسمان پر گدلے بادلوں میں چاند صابن کے جھاگ لگے گالوں کا نقشہ پیش کررہا تھا۔ ہوا خنک تھی۔ فضا بالکل خاموش تھی۔۔۔ حمید پر خدا کے رعب اور شراب نوشی سے بچ جانے کے احساس نے رقت طاری کر دی۔ اس نے شکرانے کا سجدہ کرنا چاہا۔ وہیں پتھریلی زمین پر اس نے گھٹنے ٹیک کر اپنا ماتھا رگڑنا چاہا۔ اس خیال سے کہ اسے کوئی دیکھ لے گا وہ کچھ دیر کے لیے ٹھٹک گیا مگر فوراً ہی یہ سوچ کر کہ یوں خدا کی نگاہوں میں اس کی وقعت بڑھ جائے گی وہ ڈبکی لگانے کے انداز میں جھکا اوراپنی پیشانی گلی کے ٹھنڈے ٹھنڈے پتھریلے فرش کے ساتھ جوڑ دی۔\r\nجب وہ اٹھا تو اس نے اپنے آپ کو ایک بہت بڑا آدمی محسوس کیا۔ ا س نے جب آس پاس کی اونچی دیواروں کو دیکھا تو وہ اسے اپنے قد کے مقابلے میں بہت پست معلوم ہوئیں۔\r\nاس واقعہ کے ڈیڑھ مہینے بعد اسی کمرے میں جہاں اب حمید بیٹھا اپنی سات برس کی پرانی تصویر پر رشک کھا رہا تھا۔ اس کا دوست ملک آیا۔ اندر آتے ہی اس نے اپنی جیب سے بلیک اینڈ وائٹ کا ادھا نکالا اور زور سے میز پر رکھ کر کہا، ’’حمید آؤ۔۔۔ آج پئیں اور خوب پئیں۔۔۔ یہ ختم ہو جائے گی تو اور لائیں گے۔‘‘\r\nحمید اس قدر متحیر ہوا کہ وہ اس سے کچھ بھی نہ کہہ سکا۔ ملک نے دوسری جیب سے سوڈے کی بوتل نکالی، تپائی پر سے گلاس اٹھا کر اس میں شراب انڈیلی۔ سوڈے کی بوتل انگوٹھے سے کھولی، اور حمید کی متحیر آنکھوں کے سامنے وہ دو پیگ غٹاغٹ پی گیا۔حمید نے تتلاتے ہوئے کہا، ’’لیکن۔۔۔ لیکن۔۔۔ اس روز تم نے مجھے اتنا برا بھلا کہا تھا۔۔۔‘‘\r\nملک نے ایک قہقہہ بلند کیا، ’’تم نے مجھ سے شرارت کی۔ میں نے بھی اس کے جواب میں تم سے شرارتاً کچھ کہہ دیا۔۔۔ مگر بھئی ایمان کی بات ہے جو مزہ اس روز جِن کے دو پیگ پینے میں آیا ہے زندگی بھر کبھی نہیں آئے گا۔ لو اب چھوڑو اس قصے کو۔۔۔ وسکی پیو۔ جِن وِن بکواس ہے۔ شراب پینی ہو تو وسکی پینی چاہیے۔‘‘ یہ سن کر حمید کو ایسا محسوس ہوا تھا کہ جو سجدہ اس نے گلی میں کیا تھا ٹھنڈے فرش سے نکل کر اس کی پیشانی پر چپک گیا ہے۔یہ سجدہ بھوت کی طرح حمید کی زندگی سے چمٹ گیا تھا۔ اس نے اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے پھر پینا شروع کیا۔ مگر اس سے بھی کچھ فائدہ نہ ہوا۔\r\nان سات برسوں میں جو اس کی پرانی تصویر اور اس کے درمیان کھلے ہوئے تھے، یہ ایک سجدہ بے شمار مرتبہ حمید کو اس کی اپنی نگاہوں میں ذلیل و رسوا کر چکا تھا۔ اس کی خودی، اس کی تخلیقی قوت، اس کی زندگی کی وہ حرارت جس سے حمید اپنے ماحول کو گرما کے رکھنا چاہتا تھا ،اس سجدے نے قریب قریب سرد کردی تھی۔ یہ سجدہ اس کی زندگی میں ایک ایسی خراب بریک بن گئی تھی جو کبھی کبھی اپنے آپ اس کے چلتے ہوئے پہیوں کو ایک دھچکے کے ساتھ ٹھہرا دیتی تھی۔\r\nسات برس کی پرانی تصویر اس کے سامنے میز پر پڑی تھی۔ جب سارا واقعہ اس کے دماغ میں پوری تفصیل کے ساتھ دہرایا جا چکا تھا تو اس کے اندر ایک ناقابل بیان اضطراب پیدا ہوگیا۔ وہ ایسا محسوس کرنے لگا جیسے اس کو قے ہونے والی ہے۔وہ گھبرا کر اٹھا اور سامنے کی دیوار کے ساتھ اس نے اپنا ماتھا رگڑنا شروع کردیاجیسے وہ اس سجدے کا نشان مٹانا چاہتا ہے۔ اس عمل سے اسے جب جسمانی تکلیف پہنچی تو وہ پھر کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔ سر جھکا کر اور کاندھے ڈھیلے کرکے اس نے تھکی ہوئی آواز میں کہا، ’’اے خدا، میرا سجدہ مجھے واپس دے دے۔۔۔‘‘",
|
||
"HtmlText": null,
|
||
"PoemFormat": null,
|
||
"Language": "ur-PK",
|
||
"CoupletsCount": 47
|
||
}
|
||
],
|
||
"Verses": [
|
||
{
|
||
"VOrder": 1,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "گلاس پربوتل جھکی تو ایک دم حمید کی طبیعت پر بوجھ سا پڑ گیا۔ ملک جو اس کے سامنے تیسرا پیگ پی رہا تھا فوراً تاڑ گیا کہ حمید کے اندر روحانی کشمکش پیدا ہوگئی ہے۔ وہ حمید کو سات برس سے جانتا تھا، اوران سات برسوں میں کئی بار حمید پر ایسے دورے پڑ چکے تھے جن کا مطلب اس کی سمجھ سے ہمیشہ بالاتر رہا تھا، لیکن وہ اتنا ضرور سمجھتا تھا کہ اس کے لاغر دوست کے سینے پر کوئی بوجھ ہے، ایسا بوجھ جس کا احساس شراب پینے کے دوران میں کبھی کبھی حمید کے اندر یوں پیداہوتا ہے جیسے بے دھیان بیٹھے ہوئے آدمی کی پسلیوں میں کوئی زور سے ٹہوکا دے دے۔",
|
||
"CoupletIndex": 0,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 2,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "حمید بڑا خوش باش انسان تھا۔ ہنسی مذاق کا عادی، حاضر جواب، بذلہ سنج۔ اس میں بہت سی خوبیاں تھیں جو زیادہ نزدیک آکر اس کے دوست ملک نے معلوم کی تھیں۔ مثال کے طور پر سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ بے حد مخلص تھا، اس قدر مخلص کہ بعض اوقات اس کا اخلاص ملک کے لیے عہد عتیق کا رومانی افسانہ بن جاتا تھا۔",
|
||
"CoupletIndex": 1,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 3,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "حمید کے کردار میں ایک عجیب وغریب بات جوملک نے نوٹ کی یہ تھی، کہ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے ناآشنا تھیں۔ یوں تو ملک بھی رونے کے معاملے میں بڑا بخیل تھا مگر وہ جانتا تھا کہ جب کبھی رونے کا موقع آئے گا وہ ضرور رو دے گا۔ اس پر غم افزا باتیں اثر ضرور کرتی تھیں مگر وہ اس اثر کو اتنی دیر اپنے دماغ پر بیٹھنے کی اجازت دیتا تھا جتنی دیر گھوڑا اپنے تنے ہوئے جسم پر مکھی کو۔",
|
||
"CoupletIndex": 2,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 4,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "غموں سے دور رہنے والے اور ہر وقت ہنسی مذاق کے عادی حمید کی زندگی میں نہ جانے ایسا کون سا واقعہ الجھا ہوا تھا کہ وہ کبھی کبھی قبرستان کی طرح خاموش ہو جاتا تھا۔ ایسے لمحات جب اس پر طاری ہوتے تو اس کا چہرہ ایسی رنگت اختیار کرلیتا تھا جو تین دن کی باسی شراب میں بے جان سوڈا گھولنے سے پیدا ہوتی ہے۔",
|
||
"CoupletIndex": 3,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 5,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "سات برس کے دوران میں کئی بار حمید پر ایسے دورے پڑ چکے تھے مگر ملک نے آج تک اس سے ان کی وجہ دریافت نہ کی تھی۔ اس لیے نہیں کہ ان کی وجہ دریافت کرنے کی خواہش اس کے دل میں پیدا نہیں ہوئی تھی۔ دراصل بات یہ ہے کہ ملک پرلے درجے کا سست اور کاہل واقع ہوا تھا۔ اس خیال سے بھی وہ حمید کے ساتھ اس معاملے میں بات چیت نہیں کرتا تھا کہ ایک طول طویل کہانی اسے سننا پڑے گی اور اس کے چوتھے پیگ کا سارا سرور غارت ہو جائے گا۔ شراب پی کر لمبی چوڑی آپ بیتیاں سننا یا سنانا اس کے نزدیک بہت بڑی بدذوقی تھی۔ اس کے علاوہ وہ کہانیاں سننے کے معاملے میں بہت ہی خام تھا۔ اسی خیال کی وجہ سے کہ وہ اطمینان سے حمید کی داستان نہیں سن سکے گا، اس نے آج تک اس سے ان دوروں کی بابت دریافت نہیں کیا تھا۔",
|
||
"CoupletIndex": 4,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 6,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "کرپارام نے حمید کے گلاس میں تیسرا پیگ ڈال کر بوتل میز پر رکھ دی اور ملک سے مخاطب ہوا، ’’ملک، اسے کیا ہوگیا ہے۔‘‘ ملک خاموش رہا لیکن حمید مضطرب ہوگیا۔ اس کے اعصاب زور سے کانپ اٹھے۔ کرپا رام کی طرف دیکھ کر اس نے مسکرانے کی کوشش کی، اس میں جب ناکامی ہوئی تو اس کا اضطراب اور بھی زیادہ ہوگیا۔حمید کی یہ بہت بڑی کمزوری تھی کہ وہ کسی بات کو چھپا نہیں سکتا تھا اور اگر چھپانے کی کوشش کرتا تو اس کی وہی حالت ہوتی جو آندھی میں صرف ایک کپڑے میں لپٹی ہوئی عورت کی ہوتی ہے۔",
|
||
"CoupletIndex": 5,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 7,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "ملک نے اپنا تیسرا پیگ ختم کیا اور اس فضا کو جو کچھ عرصہ پہلے طرب افزا باتوں سے گونج رہی تھی، اپنی بے محل ہنسی سے خوشگوار بنانے کے لیے اس نے کرپا رام سے مخاطب ہو کر کہا، ’’کرپا۔ تم مان لو اسے اشوک کمار کا فلمی عشق ہوگیا ہے۔۔۔ بھئی یہ اشوک کمار بھی عجیب چیز ہے۔ پردے پر عشق کرتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کاسٹرآئل پی رہا ہے۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 6,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 8,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "کرپا رام، اشوک کمارکو اتنا ہی جانتا تھا جتنا کہ مہاراجہ اشوک اور اس کی مشہور آہنی لاٹھ کو۔ فلم اور تاریخ سے اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ البتہ وہ ان کے فوائد سے ضرور آگاہ تھا۔ کیونکہ وہ عام طور پر کہا کرتا تھا، ’’مجھے اگر کبھی بے خوابی کا عارضہ لاحق ہو جائے تو میں یا تو فلم دیکھنا شروع کردوں گا یا چکرورتی کی لکھی ہوئی تاریخ پڑھنا شروع کردوں گا۔‘‘ وہ ہمیشہ حساب دان چکرورتی کو مورخ بنا کر اپنی مسرت کے لیے ایک بات پیدا کرلیا کرتا تھا۔",
|
||
"CoupletIndex": 7,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 9,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "کرپا رام چار پیگ پی چکا تھا۔ چار پیالہ پیگ، نشہ اس کے دماغ کی آخری منزل تک پہنچ چکا تھا۔ آنکھیں سیکڑ کر اس نے حمید کی طرف اس اندازسے دیکھا جیسے وہ کیمرے کا فوکس کررہا ہے، ’’تمہارا گلاس ابھی تک ویسے کا ویسا پڑا ہے۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 8,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 10,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "حمید نے دردِ سر کے مریض کی سی شکل بنا کرکہا، ’’بس۔۔۔ اب مجھ سے زیادہ نہیں پی جائے گی۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 9,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 11,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "’’تم چغد ہو۔۔۔ نہیں چغد نہیں کچھ اور ہو۔۔۔ تمہیں پینا ہوگی۔ سمجھے، یہ گلاس اور اس بوتل میں جتنی پڑی ہے سب کی سب تمہیں پینا ہوگی۔ شراب سے جو انکار کرے وہ انسان نہیں حیوان ہے۔۔۔ حیوان بھی نہیں، اس لیے کہ حیوانوں کو اگر انسان بنا دیا جائے تووہ بھی اس خوبصورت شے کو کبھی نہ چھوڑیں ،تم سن رہے ہو ملک۔۔۔ ملک نے اگر یہ ساری شراب اس کے حلق میں نہ انڈیل دی تو میرا نام کرپا رام نہیں گھسیٹا رام آرٹسٹ ہے۔‘‘ گھسیٹا رام آرٹسٹ سے کرپا رام کو سخت نفرت تھی صرف اس لیے کہ آرٹسٹ ہوکر اس کا نام گھسیٹا رام تھا۔",
|
||
"CoupletIndex": 10,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 12,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "ملک کا منہ سوڈا ملی وسکی سے بھرا ہوا تھا۔ کرپا رام کی بات سن کر وہ بے اختیار ہنس پڑا جس کے باعث اس کے منہ سے ایک فوارہ سا چھوٹ پڑا، ’’کرپا رام خدا کے لیے تم گھسیٹا رام آرٹسٹ کا نام نہ لیا کرو۔ میری انتڑیوں میں ایک طوفان سا مچ جاتا ہے۔۔۔ لاحول ولا۔۔۔ میری پتلون کا ستیاناس ہوگیا ہے۔۔۔ لو بھئی، حمید، اب تو تمہیں پینا ہی پڑے گی۔ کرپا رام، گھسیٹا رام بنے یا نہ بنے لیکن میں ضرور کرپا رام بن جاؤں گا اگرتم نے یہ گلاس خالی نہ کیا۔۔۔ لو پیو۔۔۔ پی جاؤ۔۔۔ ارے میرا منہ کیا دیکھتے ہو۔۔۔ یہ تمہارے چہرے پر یتامت کیسی برس رہی ہے۔۔۔ کرپا رام اٹھو۔۔۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانا کرتے۔ زبردستی کرنا ہی پڑے گی۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 11,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 13,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "کرپا رام اور ملک دونوں اٹھے اور حمید کو زبردستی پلانے کی کوشش کرنے لگے۔ حمید کو روحانی کوفت تو ویسے ہی محسوس ہورہی تھی، جب کرپا رام اور ملک نے اس کو جھنجھوڑنا شروع کیا تو اس کو جسمانی اذیت بھی پہنچی جس کے باعث وہ بے حد پریشان ہوگیا۔",
|
||
"CoupletIndex": 12,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 14,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "اس کی پریشانی سے کرپا رام اور ملک بہت محظوظ ہوئے۔ چنانچہ انھوں نے ایک کھیل سمجھ کر حمید کو اور زیادہ تنگ کرنا شروع کیا۔ کرپا رام نے گلاس پکڑ کر اس کے سر میں تھوڑی سی شراب ڈال دی۔ اور نائیوں کے انداز میں جب اس نے حمید کا سر سہلایا تو وہ اس قدر پریشان ہوا کہ اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آگئے۔ اس کی آواز بھرا گئی۔ اس کے سارے جسم میں تشنج سا پیدا ہوا اور ایک دم کاندھے ڈھیلے کرکے اس نے رونی اور مردہ آواز میں کہا، ’’میں بیمار ہوں۔۔۔ خدا کے لیے مجھے تنگ نہ کرو۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 13,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 15,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "کرپا رام اسے بہانہ سمجھ کر حمید کو اور زیادہ تنگ کرنے کے لیے کوئی نیا طریقہ سوچنے ہی والا تھا کہ ملک نے ہاتھ کے اشارے سے اسے پرے ہٹا دیا، ’’کرپا، اس کی طبیعت واقعی خراب ہے۔۔۔ دیکھو تو رو رہا ہے۔‘‘ کرپا رام نے اپنی موٹی کمر جھکا کر غور سے دیکھا، ’’ارے۔۔۔ تم تو سچ مچ رو رہے ہو۔‘‘ حمید کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے، جس پر سوالوں کی بوچھارشروع ہوگئی۔",
|
||
"CoupletIndex": 14,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 16,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "’’کیا ہوگیا ہے تمہیں۔۔۔؟ خیر تو ہے؟‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 15,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 17,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "’’یہ تم رو کیوں رہے ہو؟‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 16,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 18,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "’’ بھئی حد ہو گئی۔۔۔ ہم تو صرف مذاق کررہے تھے۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 17,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 19,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "’’ کچھ سمجھ میں بھی تو آئے۔۔۔ کیا تکلیف ہے تمہیں؟‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 18,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 20,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "ملک اس کے پاس بیٹھ گیا، ’’بھئی مجھے معاف کردو اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہو۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 19,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 21,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "حمید نے جیب سے رومال نکال کر اپنے آنسو پونچھے اور کچھ کہتے کہتے خاموش ہوگیا۔ جذبات کی شدت کے باعث اس کی قوتِ گویائی جواب دے گئی۔ تیسرے پیگ سے پہلے اس کے چہرے پر رونق تھی، اس کی باتیں سوڈے کے بلبلوں کی طرح تروتازہ اور شگفتہ تھیں مگر اب وہ باسی شراب کی طرح بے رونق تھا۔ وہ سکڑ سا گیا تھا۔ اس کی حالت ویسی ہی تھی جیسی بھیگی ہوئی پتلون کی ہوتی ہے۔",
|
||
"CoupletIndex": 20,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 22,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "کرسی پر وہ اس انداز سے بیٹھا تھا گویا وہ اپنے آپ سے شرمندہ ہے۔ اپنے آپ کو چھپانے کی بھونڈی کوشش میں وہ ایک ایسا بے جان لطیفہ بن کے رہ گیا تھا جو بڑے ہی خام انداز میں سنایا گیا ہو۔ملک کو اس کی حالت پربہت ترس آیا، ’’حمید، لو اب خدا کے لیے چپ ہو جاؤ۔۔۔ واللہ تمہارے آنسوؤں سے مجھے روحانی تکلیف ہورہی ہے۔ مزا تو سب کِرکرا ہو ہی گیا تھا۔ مگر یوں تمہارے ایکا ایکی آنسو بہانے سے میں بہت مغموم ہوگیا ہوں۔۔۔ خدا جانے تمہیں کیا تکلیف ہے۔۔۔؟‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 21,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 23,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "’’کچھ نہیں، میں بہت جلد ٹھیک ہو جاؤں گا۔ کبھی کبھی مجھے ایسی تکلیف ہو جایا کرتی ہے۔‘‘ یہ کہہ کروہ اٹھا، ’’اب میں اجازت چاہتا ہوں۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 22,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 24,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "کرپا رام بوتل میں بچی ہوئی شراب کو دیکھتا رہا اور ملک یہ ارادہ کرتا رہا کہ حمید سے آج پوچھ ہی لے کہ وقتاً فوقتاً اسے یہ دورے کیوں پڑتے ہیں مگر وہ جا چکا تھا۔حمید گھر پہنچا تو اس کی حالت پہلے سے زیادہ خراب تھی۔ کمرے میں چونکہ اس کے سوا اور کوئی نہیں تھا اس لیے وہ رو بھی نہ سکتا تھا۔ اس کی آنسوؤں سے لبالب بھری ہوئی آنکھوں کو کرسیاں اور میزیں نہیں چھلکا سکتی تھیں۔",
|
||
"CoupletIndex": 23,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 25,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "اس کی خواہش تھی کہ اس کے پاس کوئی آدمی موجود ہو جس کے چھیڑنے سے وہ جی بھر کے رو سکے مگر ساتھ ہی اس کی یہ بھی خواہش تھی کہ وہ بالکل اکیلا ہو۔۔۔ ایک عجیب کشمکش اس کے اندر پیدا ہوگئی تھی۔وہ کرسی پر اس انداز سے اکیلا بیٹھا تھا جیسے شطرنج کا پٹا ہوا مہرہ بساط سے بہت دور پڑا ہے۔ سامنے میز پر اس کی ایک پرانی تصویر چمکدار فریم میں جڑی رکھی تھی۔ حمید نے اداس نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا تو سات برس اس تصویر اور اس کے درمیان تھان کی طرح کھلتے چلے گئے۔۔۔!",
|
||
"CoupletIndex": 24,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 26,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "ٹھیک سات برس پہلے برسات کے انہی دنوں میں رات کو وہ ریلوے رسٹوران میں ملک عبدالرحمن کے ساتھ بیٹھا تھا۔۔۔ اس وقت کے حمید اور اِس وقت کے حمید میں کتنا فرق تھا۔۔۔ کتنا فرق تھا۔ حمید نے یہ فرق اس شدت سے محسوس کیا کہ اسے اپنی تصویر میں ایک ایسا آدمی نظر آیا جس سے ملے اس کو ایک زمانہ گزر گیا ہے۔",
|
||
"CoupletIndex": 25,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 27,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "اس نے تصویر کو غور دیکھا تو اس کے دل میں یہ تلخ احساس پیدا ہوا کہ انسانیت کے لحاظ سے وہ اس کے مقابلے میں بہت پست ہے۔ تصویر میں جو حمید ہے اس حمید کے مقابلے میں بدرجہا افضل و برتر ہے جوکرسی پر سرنیوڑھائے بیٹھا ہے۔ چنانچہ اس احساس نے اس کے دل میں حسد بھی پیدا کردیا۔",
|
||
"CoupletIndex": 26,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 28,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "ایک سجدے۔۔۔ صرف ایک سجدے نے اس کا ستیاناس کردیا تھا۔",
|
||
"CoupletIndex": 27,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 29,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "آج سے ٹھیک سات برس پہلے کا ذکرہے۔ برسات کے یہی دن تھے۔ رات کو ریلوے رسٹوران میں اپنے دوست ملک عبدالرحمن کے ساتھ بیٹھا تھا۔ حمید کویہ شرارت سوجھی تھی کہ بغیر بوکی شراب ،جن ،کا ایک پورا پیگ لیمونیڈ میں ملا کر اس کو پلادے اور جب وہ پی جائے تو آہستہ سے اس کے کان میں کہے،’’مولانا ایک پورا پیگ آپ کے ثوابوں بھرے پیٹ میں داخل ہو چکا ہے۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 28,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 30,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "بیرے سے مل ملا کر اس نے اس بات کا انتظام کردیا تھا کہ آرڈر دینے پر لیمونیڈ کی بوتل میں جن کا ایک پیگ ڈال کر ملک کو دے دیا جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حمید نے وسکی پی اور ملک بظاہر بے خبری کی حالت میں جن کا پورا پیگ چڑھا گیا۔",
|
||
"CoupletIndex": 29,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 31,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "حمید چونکہ تین پیگ پینے کا ارادہ رکھتا تھا اس لیے ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد اس نے پوچھا، ’’ملک صاحب، آپ یوں بیکار نہ بیٹھیے میں تیسرا پیگ بڑی عیاشی سے پیا کرتا ہوں۔آپ ایک اور لیمونیڈ منگوا لیجیے۔‘‘ ملک رضا مند ہوگیا، چنانچہ ایک اور لیمونیڈ آگیا۔ اس بیرے نے اپنی طرف سے جن کا ایک پیگ ملا دیا تھا۔",
|
||
"CoupletIndex": 30,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 32,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "ملک سے حمید کی نئی نئی دوستی ہوئی تھی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ حمید اس شرارت سے باز رہتا مگر ان دنوں وہ اس قدر زندہ دل اور شرارت پسند تھا کہ جب بیرا ملک کے لیے لیمونیڈ کا دوسرا گلاس لایا اور اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا تووہ اس خیال سے بہت خوش ہوا کہ ایک کے بجائے دو پیگ ملک کے پیٹ کے اندر چلے جائیں گے۔",
|
||
"CoupletIndex": 31,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 33,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "ملک آہستہ آہستہ لیمونیڈ ملی جِن پیتا رہا اور حمید دل ہی دل میں اس کبوترکی طرح گٹگٹاتا رہا جس کے پاس ایک کبوتری آبیٹھی ہو۔ اس نے جلدی جلدی اپنا تیسرا پیگ ختم کیا اور ملک سے پوچھا، ’’اور پئیں گے آپ۔‘‘ ملک نے غیرمعمولی سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا، ’’نہیں۔‘‘ پھر اس نے بڑے روکھے انداز میں کہا، ’’اگر تمہیں اور پینا ہے تو پیو، میں جاؤں گا۔ مجھے ایک ضروری کام ہے۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 32,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 34,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "اس مختصر گفتگو کے بعد دونوں اٹھے۔ حمید نے دوسرے کمرے میں جا کر بل ادا کیا۔ جب وہ رسٹوران سے باہر نکلے تو ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ حمید کے دل میں یہ خواہش چٹکیاں لینے لگی کہ وہ ملک پراپنی شرارت واضح کردے مگر اچھے موقع کی تلاش میں کافی وقت گزر گیا۔ ملک بالکل خاموش تھا اور حمید کے اندر پُھلجھڑی سی چھوٹ رہی تھی۔ بے شمار ننھی ننھی خوبصورت اور شوخ و شنگ باتیں اس کے دل و دماغ میں پیدا ہو ہو کر بجھ رہی تھیں۔ وہ ملک کی خاموشی سے پریشان ہورہا تھا اور جب اس نے اپنی پریشانی کا اظہار نہ کیا تو آہستہ آہستہ اس کی طبیعت پر ایک افسردگی سی طاری ہوگئی۔ وہ محسوس کرنے لگا کہ اس کی شرارت اب دم کٹی گلہری بن کر رہ گئی ہے۔",
|
||
"CoupletIndex": 33,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 35,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "دیر تک دونوں بالکل خاموش چلتے رہے۔ جب کمپنی باغ آیا تو ملک ایک بنچ پر مفکرانہ انداز میں بیٹھ گیا۔ چند لمحات ایسی خاموشی میں گزرے کہ حمید کے دل میں وہاں سے اٹھ بھاگنے کی خواہش پیدا ہوئی مگر اس وقت زیادہ دیر تک دبے رہنے کے باعث اس کی تمام تیزی اور طراری ماند پڑ چکی تھی۔",
|
||
"CoupletIndex": 34,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 36,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "ملک بنچ پر سے اٹھ کھڑا ہوا، ’’حمید تم نے آج مجھے روحانی تکلیف پہنچائی ہے۔۔۔ تمہیں یہ شرارت نہیں کرنی چا ہیے تھے۔‘‘ اس آواز میں اور درد پیدا ہوگیا، ’’تم نہیں جانتے کہ تمہاری اس شرارت سے مجھے کس قدر روحانی تکلیف پہنچی ہے۔ اللہ تمہیں معاف کرے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چلا گیا اورحمید نے اپنے آپ کو بڑی شدت سےگناہ گار محسوس کرنے لگا۔ معافی مانگنے کا خیال اس کو آیا تھا مگر ملک باغ سے نکل کر باہر سڑک پر پہنچ چکا تھا۔",
|
||
"CoupletIndex": 35,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 37,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "ملک کے چلےجانے کے بعد حمید گناہ اور ثواب کے چکر میں پھنس گیا۔ شراب کے حرام ہونے کے متعلق اس نے جتنی باتیں لوگوں سے سنی تھیں سب کی سب اس کے کانوں میں بھنبھنانے لگیں، ’’شراب اخلاق بگاڑ دیتی ہے۔۔۔ شراب، خانہ خراب ہے، شراب پی کر آدمی بے ادب اور بے حیا ہو جاتا ہے۔ شراب اسی لیے حرام ہے۔ شراب صحت کا ستیاناس کردیتی ہے۔ اس کے پینے سے پھیپھڑے چھلنی ہو جاتے ہیں۔۔۔ شراب۔۔۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 36,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 38,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "شراب، شراب کی ایک لامتناہی گردان حمید کے دماغ میں شروع ہوگئی۔ اور اس کی تمام برائیاں ایک ایک کرکے اس کے سامنے آگئیں، ’’سب سے بڑی برائی تو یہ ہے۔‘‘ حمید نے محسوس کیا، ’’کہ میں نے بے ضرر شرارت سمجھ کر ایک شریف آدمی کو دھوکے سے شراب پلا دی ہے۔ ممکن ہے وہ پکا نمازی اور پرہیزگار ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ غلطی میری ہے اور سارا گناہ میرے ہی سر ہوگا مگر اسے جو روحانی تکلیف پہنچی ہے اس کا کیا ہوگا؟ واللہ باللہ میرا یہ مقصد نہیں تھا کہ اسے تکلیف پہنچے۔۔۔ میں اس سے معافی مانگ لوں گا اور ۔۔۔ لیکن اس سے معافی مانگ کر بھی تو میرا گناہ ہلکا نہیں ہوگا۔ ایک میں نے شراب پی۔۔۔ اوپر سے اس کو دھوکا دےکر پلائی۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 37,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 39,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "وسکی کا نشہ اس کے دماغ میں جمائیاں لینے لگا جس سے اس کا احساس گناہ گھناؤنی شکل اختیار کرگیا،’’مجھے معافی مانگنی چاہیے۔ مجھے شراب چھوڑ دینی چاہیے۔۔۔ مجھے گناہوں سے پاک زندگی بسرکرنی چاہیے۔ ‘‘اس کو شراب شروع کیے صرف دو برس ہوئے تھے۔ ابھی تک وہ اس کا عادی نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ اس نے گھر لوٹتے ہوئے راستے میں دوسری باتوں کے ساتھ اس پر بھی غور کیا،’’میں شراب کو ہاتھ تک نہیں لگاؤں گا۔ یہ کوئی ضروری چیز نہیں ۔ میں اس کے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہوں۔۔۔ دنیا کہتی ہے۔۔۔ دنیا کہتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ منہ سے لگی ہوئی یہ چھٹ ہی نہیں سکتی۔ میں اسے بالکل چھوڑ دوں گا۔۔۔ میں اس خیال کو غلط ثابت کردوں گا۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 38,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 40,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "یہ سوچتے ہوئے حمید نے خود کو ایک ہیرو محسوس کیا۔ پھر ایک دم اس کے دماغ میں خدا کا خیال آیا جس نے اسے تباہی سے بچا لیا تھا، ’’مجھے شکر بجا لانا چاہیے کہ میرے سینے میں نور پیدا ہوگیا ہے۔ میں نہ جانے کتنی دیر تک اس کھائی میں پڑا رہتا۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 39,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 41,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "وہ اپنی گلی میں پہنچ چکا تھا۔ اوپر آسمان پر گدلے بادلوں میں چاند صابن کے جھاگ لگے گالوں کا نقشہ پیش کررہا تھا۔ ہوا خنک تھی۔ فضا بالکل خاموش تھی۔۔۔ حمید پر خدا کے رعب اور شراب نوشی سے بچ جانے کے احساس نے رقت طاری کر دی۔ اس نے شکرانے کا سجدہ کرنا چاہا۔ وہیں پتھریلی زمین پر اس نے گھٹنے ٹیک کر اپنا ماتھا رگڑنا چاہا۔ اس خیال سے کہ اسے کوئی دیکھ لے گا وہ کچھ دیر کے لیے ٹھٹک گیا مگر فوراً ہی یہ سوچ کر کہ یوں خدا کی نگاہوں میں اس کی وقعت بڑھ جائے گی وہ ڈبکی لگانے کے انداز میں جھکا اوراپنی پیشانی گلی کے ٹھنڈے ٹھنڈے پتھریلے فرش کے ساتھ جوڑ دی۔",
|
||
"CoupletIndex": 40,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 42,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "جب وہ اٹھا تو اس نے اپنے آپ کو ایک بہت بڑا آدمی محسوس کیا۔ ا س نے جب آس پاس کی اونچی دیواروں کو دیکھا تو وہ اسے اپنے قد کے مقابلے میں بہت پست معلوم ہوئیں۔",
|
||
"CoupletIndex": 41,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 43,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "اس واقعہ کے ڈیڑھ مہینے بعد اسی کمرے میں جہاں اب حمید بیٹھا اپنی سات برس کی پرانی تصویر پر رشک کھا رہا تھا۔ اس کا دوست ملک آیا۔ اندر آتے ہی اس نے اپنی جیب سے بلیک اینڈ وائٹ کا ادھا نکالا اور زور سے میز پر رکھ کر کہا، ’’حمید آؤ۔۔۔ آج پئیں اور خوب پئیں۔۔۔ یہ ختم ہو جائے گی تو اور لائیں گے۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 42,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 44,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "حمید اس قدر متحیر ہوا کہ وہ اس سے کچھ بھی نہ کہہ سکا۔ ملک نے دوسری جیب سے سوڈے کی بوتل نکالی، تپائی پر سے گلاس اٹھا کر اس میں شراب انڈیلی۔ سوڈے کی بوتل انگوٹھے سے کھولی، اور حمید کی متحیر آنکھوں کے سامنے وہ دو پیگ غٹاغٹ پی گیا۔حمید نے تتلاتے ہوئے کہا، ’’لیکن۔۔۔ لیکن۔۔۔ اس روز تم نے مجھے اتنا برا بھلا کہا تھا۔۔۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 43,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 45,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "ملک نے ایک قہقہہ بلند کیا، ’’تم نے مجھ سے شرارت کی۔ میں نے بھی اس کے جواب میں تم سے شرارتاً کچھ کہہ دیا۔۔۔ مگر بھئی ایمان کی بات ہے جو مزہ اس روز جِن کے دو پیگ پینے میں آیا ہے زندگی بھر کبھی نہیں آئے گا۔ لو اب چھوڑو اس قصے کو۔۔۔ وسکی پیو۔ جِن وِن بکواس ہے۔ شراب پینی ہو تو وسکی پینی چاہیے۔‘‘ یہ سن کر حمید کو ایسا محسوس ہوا تھا کہ جو سجدہ اس نے گلی میں کیا تھا ٹھنڈے فرش سے نکل کر اس کی پیشانی پر چپک گیا ہے۔یہ سجدہ بھوت کی طرح حمید کی زندگی سے چمٹ گیا تھا۔ اس نے اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے پھر پینا شروع کیا۔ مگر اس سے بھی کچھ فائدہ نہ ہوا۔",
|
||
"CoupletIndex": 44,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 46,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "ان سات برسوں میں جو اس کی پرانی تصویر اور اس کے درمیان کھلے ہوئے تھے، یہ ایک سجدہ بے شمار مرتبہ حمید کو اس کی اپنی نگاہوں میں ذلیل و رسوا کر چکا تھا۔ اس کی خودی، اس کی تخلیقی قوت، اس کی زندگی کی وہ حرارت جس سے حمید اپنے ماحول کو گرما کے رکھنا چاہتا تھا ،اس سجدے نے قریب قریب سرد کردی تھی۔ یہ سجدہ اس کی زندگی میں ایک ایسی خراب بریک بن گئی تھی جو کبھی کبھی اپنے آپ اس کے چلتے ہوئے پہیوں کو ایک دھچکے کے ساتھ ٹھہرا دیتی تھی۔",
|
||
"CoupletIndex": 45,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 47,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "سات برس کی پرانی تصویر اس کے سامنے میز پر پڑی تھی۔ جب سارا واقعہ اس کے دماغ میں پوری تفصیل کے ساتھ دہرایا جا چکا تھا تو اس کے اندر ایک ناقابل بیان اضطراب پیدا ہوگیا۔ وہ ایسا محسوس کرنے لگا جیسے اس کو قے ہونے والی ہے۔وہ گھبرا کر اٹھا اور سامنے کی دیوار کے ساتھ اس نے اپنا ماتھا رگڑنا شروع کردیاجیسے وہ اس سجدے کا نشان مٹانا چاہتا ہے۔ اس عمل سے اسے جب جسمانی تکلیف پہنچی تو وہ پھر کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔ سر جھکا کر اور کاندھے ڈھیلے کرکے اس نے تھکی ہوئی آواز میں کہا، ’’اے خدا، میرا سجدہ مجھے واپس دے دے۔۔۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 46,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
}
|
||
]
|
||
}
|