divan-data/poets/p136/c359/sh3888.json
Anas Rashid eb4e74f0a1 Rename export_ganjoor.py -> export_divan.py, ganjoor_ids -> divan_ids; Language ur-PK
Co-Authored-By: Claude Opus 5.5 <noreply@anthropic.com>
2026-10-04 23:51:03 +02:00

129 lines
14 KiB
JSON
Raw Blame History

This file contains ambiguous Unicode characters

This file contains Unicode characters that might be confused with other characters. If you think that this is intentional, you can safely ignore this warning. Use the Escape button to reveal them.

{
"Id": 3888,
"CatId": 359,
"Title": "موم بتی کے آنسو",
"FullTitle": "سعادت حسن منٹو » منٹو کے افسانے » موم بتی کے آنسو",
"FullUrl": "/p136/c359/sh3888",
"RhymeLetters": null,
"SourceName": "ویکی ماخذ",
"SourceUrlSlug": "wikisource",
"SourceUrl": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D9%85_%D8%A8%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D9%86%D8%B3%D9%88",
"Language": "ur-PK",
"PoemSummary": null,
"Metre": null,
"Sections": [
{
"Index": 0,
"Number": 1,
"SectionType": "WholePoem",
"VerseType": "First",
"RhymeLetters": null,
"PlainText": "غلیظ طاق پر جو شکستہ دیوار میں بنا تھا، موم بتی ساری رات روتی رہی تھی۔موم پگھل پگھل کر کمرے کے گیلے فرش پر اوس کے ٹھٹھرے ہوئے دھندلے قطروں کے مانند بکھر رہا تھا۔ ننھی لاجو موتیوں کا ہار لینے پر ضد کرنے اور رونے لگی تو اس کی ماں نے موم بتی کے ان جمے ہوئے آنسوؤں کو ایک کچے دھاگے میں پرو کر اس کا ہار بنا دیا۔ ننھی لاجو اس ہار کو پہن کر خوش ہوگئی، اور تالیاں بجاتی ہوئی باہر چلی گئی۔\r\nرات آئی۔۔۔ میل بھرے طاقچے میں نئی موم بتی روشن ہوئی اور اس کی کانی کانی آنکھ اس کمرے کی تاریکی دیکھ کر ایک لمحے کے لیے حیرت کے باعث چمک اٹھی۔ مگر تھوڑی دیر کے بعد جب وہ اس ماحول کی عادی ہو گئی تو اس نے خاموشی سے ٹکٹکی باندھ کر اپنے گردوپیش کو دیکھنا شروع کردیا۔\r\nننھی لاجو ایک چھوٹی سی کھٹیا پر پڑی سو رہی تھی،اور خواب میں اپنی سہیلی بندوسے لڑ رہی تھی کہ وہ اپنی گڑیا کا بیاہ اس کے گڈے سے کبھی نہیں کرے گی۔ اس لیے کہ وہ بدصورت ہے۔\r\nلاجو کی ماں کھڑکی کے ساتھ لگی، خاموش اور نیم روشن سڑک پر پھیلی ہوئی کیچڑ کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی، سامنے بھٹیارے کی بند دکان کے باہر چبوترے پر انگیٹھی میں سے کوئلوں کی چنگاریاں ضدی بچوں کی طرح مچل مچل کر نیچے گر رہی تھیں۔\r\nگھنٹہ گھر نے غنودگی میں بارہ بجائے، بارہ کی آخری پکار دسمبر کی سرد رات میں تھوڑی دیر تک کانپتی رہی اور پھر خاموشی کا لحاف اوڑھ کر سو گئی۔۔۔ لاجو کی ماں کے کانوں میں نیند کا بڑا سہانا پیغام گنگنایا مگر اس کی انتڑیاں اس کے دماغ تک کوئی اور بات پہنچا چکی تھیں۔\r\nدفعتاً سرد ہوا کے جھونکے سے گھنگھرؤں کی مدھم جھنجھناہٹ اس کے کانوں تک پہنچی۔ اس نے یہ آواز اچھی طرح سننے کے لیے کانوں میں اپنی سماعت کی طاقت بھرنی شروع کردی۔\r\nگھنگھرو رات کی خاموشی میں مرتے ہوتے آدمی کے حلق میں اٹکے ہوئے سانس کی طرح بجنا شروع ہوگئے، لاجو کی ماں اطمینان سے بیٹھ گئی۔ گھوڑے کی تھکی ہوئی ہنہناہٹ نے رات کی خاموشی میں ارتعاش پیدا کردیا اور ایک تانگہ لالٹین کے کھمبے کی بغل میں آکھڑا ہوا۔ تانگہ والا نیچے اترا۔ گھوڑے کی پیٹھ پر تھپکی دے کر اس نے کھڑکی کی طرف دیکھا۔ جس کی چِق اٹھی ہوئی تھی اور تخت پر ایک دھندلا سایہ بھی پھیلا تھا۔\r\nاپنے کھردرے کمبل کو جسم کے گرد اچھی طرح لپیٹ کر تانگے والے نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا۔ ساڑھے تین روپے کا کریانہ تھا۔ اس میں سے اس نے ایک روپیہ چار آنے اپنے پاس رکھ لیے۔ اور باقی پیسے تانگے کی اگلی نشست کا گدا اٹھا کر اس کے نیچے چھپا دیے ۔یہ کام کرنے کے بعد وہ کوٹھے کی سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔\r\nلاجو کی ماں چندو سنیاری اٹھی اور دروازہ کھول دیا۔ مادھو تانگے والا اندر داخل ہوا اور دروازے کی زنجیر چڑھا کر اس نے چندو سنیاری کو اپنے ساتھ لپٹا لیا، ’’بھگوان جانتا ہے، مجھے تجھ سے کتنا پریم ہے۔۔۔ اگر جوانی میں ملاقات ہوتی تو یاروں کا تانگہ گھوڑا ضرور بکتا!‘‘ یہ کہہ کر اس نے ایک روپیہ اس کی ہتھیلی میں دبا دیا۔\r\nچندو سنیاری نے پوچھا، ’’بس؟‘‘\r\n’’یہ لے۔۔۔اور‘‘ مادھو نے چاندی کی چونی اس کی دوسری ہتھیلی پر جما دی، ’’تیری جان کی قسم! بس یہی کچھ تھا میرے پاس!‘‘\r\nرات کی سردی میں گھوڑا بازار میں کھڑا ہنہناتا رہا۔ لالٹین کا کھمبا ویسے ہی اونگھتا رہا۔\r\nسامنے ٹوٹے ہوئے پلنگ پر مادھو بیہوش لیٹا تھا۔ اس کی بغل میں چندو سنیاری آنکھیں کھولے پڑی تھی اور پگھلتے ہوئے موم کے ان قطروں کو دیکھ رہی تھی جو گیلے فرش پرگر کر چھوٹے چھوٹے دانوں کی صورت میں جم رہے تھے۔ وہ ایکا ایکی دیوانہ وار اٹھی اور لاجو کی کھٹیا کے پاس بیٹھ گئی۔ ننھی لاجو کے سینے پر موم کے دانے دھڑک رہے تھے۔ چندو سنیاری کی دھندلی آنکھوں کو ایسا معلوم ہوا کہ موم بتی کے ان جمے ہوئے قطروں میں اس کی ننھی لاجو کی جوانی کے آنسو چھپ کر بیٹھ گئے ہیں۔ اس کا کانپتا ہوا ہاتھ بڑھا اور لاجو کے گلے سے وہ ہار جدا ہوگیا۔\r\nپگھلے ہوئے موم پر سے موم بتی کا جلتا ہوا دھاگا پھسل کر نیچے فرش پرگرا اور اس کی آغوش میں سو گیا۔۔۔ کمرے میں خاموشی کے علاوہ اندھیرا بھی چھا گیا۔",
"HtmlText": null,
"PoemFormat": null,
"Language": "ur-PK",
"CoupletsCount": 14
}
],
"Verses": [
{
"VOrder": 1,
"Position": "Paragraph",
"Text": "غلیظ طاق پر جو شکستہ دیوار میں بنا تھا، موم بتی ساری رات روتی رہی تھی۔موم پگھل پگھل کر کمرے کے گیلے فرش پر اوس کے ٹھٹھرے ہوئے دھندلے قطروں کے مانند بکھر رہا تھا۔ ننھی لاجو موتیوں کا ہار لینے پر ضد کرنے اور رونے لگی تو اس کی ماں نے موم بتی کے ان جمے ہوئے آنسوؤں کو ایک کچے دھاگے میں پرو کر اس کا ہار بنا دیا۔ ننھی لاجو اس ہار کو پہن کر خوش ہوگئی، اور تالیاں بجاتی ہوئی باہر چلی گئی۔",
"CoupletIndex": 0,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 2,
"Position": "Paragraph",
"Text": "رات آئی۔۔۔ میل بھرے طاقچے میں نئی موم بتی روشن ہوئی اور اس کی کانی کانی آنکھ اس کمرے کی تاریکی دیکھ کر ایک لمحے کے لیے حیرت کے باعث چمک اٹھی۔ مگر تھوڑی دیر کے بعد جب وہ اس ماحول کی عادی ہو گئی تو اس نے خاموشی سے ٹکٹکی باندھ کر اپنے گردوپیش کو دیکھنا شروع کردیا۔",
"CoupletIndex": 1,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 3,
"Position": "Paragraph",
"Text": "ننھی لاجو ایک چھوٹی سی کھٹیا پر پڑی سو رہی تھی،اور خواب میں اپنی سہیلی بندوسے لڑ رہی تھی کہ وہ اپنی گڑیا کا بیاہ اس کے گڈے سے کبھی نہیں کرے گی۔ اس لیے کہ وہ بدصورت ہے۔",
"CoupletIndex": 2,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 4,
"Position": "Paragraph",
"Text": "لاجو کی ماں کھڑکی کے ساتھ لگی، خاموش اور نیم روشن سڑک پر پھیلی ہوئی کیچڑ کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی، سامنے بھٹیارے کی بند دکان کے باہر چبوترے پر انگیٹھی میں سے کوئلوں کی چنگاریاں ضدی بچوں کی طرح مچل مچل کر نیچے گر رہی تھیں۔",
"CoupletIndex": 3,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 5,
"Position": "Paragraph",
"Text": "گھنٹہ گھر نے غنودگی میں بارہ بجائے، بارہ کی آخری پکار دسمبر کی سرد رات میں تھوڑی دیر تک کانپتی رہی اور پھر خاموشی کا لحاف اوڑھ کر سو گئی۔۔۔ لاجو کی ماں کے کانوں میں نیند کا بڑا سہانا پیغام گنگنایا مگر اس کی انتڑیاں اس کے دماغ تک کوئی اور بات پہنچا چکی تھیں۔",
"CoupletIndex": 4,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 6,
"Position": "Paragraph",
"Text": "دفعتاً سرد ہوا کے جھونکے سے گھنگھرؤں کی مدھم جھنجھناہٹ اس کے کانوں تک پہنچی۔ اس نے یہ آواز اچھی طرح سننے کے لیے کانوں میں اپنی سماعت کی طاقت بھرنی شروع کردی۔",
"CoupletIndex": 5,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 7,
"Position": "Paragraph",
"Text": "گھنگھرو رات کی خاموشی میں مرتے ہوتے آدمی کے حلق میں اٹکے ہوئے سانس کی طرح بجنا شروع ہوگئے، لاجو کی ماں اطمینان سے بیٹھ گئی۔ گھوڑے کی تھکی ہوئی ہنہناہٹ نے رات کی خاموشی میں ارتعاش پیدا کردیا اور ایک تانگہ لالٹین کے کھمبے کی بغل میں آکھڑا ہوا۔ تانگہ والا نیچے اترا۔ گھوڑے کی پیٹھ پر تھپکی دے کر اس نے کھڑکی کی طرف دیکھا۔ جس کی چِق اٹھی ہوئی تھی اور تخت پر ایک دھندلا سایہ بھی پھیلا تھا۔",
"CoupletIndex": 6,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 8,
"Position": "Paragraph",
"Text": "اپنے کھردرے کمبل کو جسم کے گرد اچھی طرح لپیٹ کر تانگے والے نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا۔ ساڑھے تین روپے کا کریانہ تھا۔ اس میں سے اس نے ایک روپیہ چار آنے اپنے پاس رکھ لیے۔ اور باقی پیسے تانگے کی اگلی نشست کا گدا اٹھا کر اس کے نیچے چھپا دیے ۔یہ کام کرنے کے بعد وہ کوٹھے کی سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔",
"CoupletIndex": 7,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 9,
"Position": "Paragraph",
"Text": "لاجو کی ماں چندو سنیاری اٹھی اور دروازہ کھول دیا۔ مادھو تانگے والا اندر داخل ہوا اور دروازے کی زنجیر چڑھا کر اس نے چندو سنیاری کو اپنے ساتھ لپٹا لیا، ’’بھگوان جانتا ہے، مجھے تجھ سے کتنا پریم ہے۔۔۔ اگر جوانی میں ملاقات ہوتی تو یاروں کا تانگہ گھوڑا ضرور بکتا!‘‘ یہ کہہ کر اس نے ایک روپیہ اس کی ہتھیلی میں دبا دیا۔",
"CoupletIndex": 8,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 10,
"Position": "Paragraph",
"Text": "چندو سنیاری نے پوچھا، ’’بس؟‘‘",
"CoupletIndex": 9,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 11,
"Position": "Paragraph",
"Text": "’’یہ لے۔۔۔اور‘‘ مادھو نے چاندی کی چونی اس کی دوسری ہتھیلی پر جما دی، ’’تیری جان کی قسم! بس یہی کچھ تھا میرے پاس!‘‘",
"CoupletIndex": 10,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 12,
"Position": "Paragraph",
"Text": "رات کی سردی میں گھوڑا بازار میں کھڑا ہنہناتا رہا۔ لالٹین کا کھمبا ویسے ہی اونگھتا رہا۔",
"CoupletIndex": 11,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 13,
"Position": "Paragraph",
"Text": "سامنے ٹوٹے ہوئے پلنگ پر مادھو بیہوش لیٹا تھا۔ اس کی بغل میں چندو سنیاری آنکھیں کھولے پڑی تھی اور پگھلتے ہوئے موم کے ان قطروں کو دیکھ رہی تھی جو گیلے فرش پرگر کر چھوٹے چھوٹے دانوں کی صورت میں جم رہے تھے۔ وہ ایکا ایکی دیوانہ وار اٹھی اور لاجو کی کھٹیا کے پاس بیٹھ گئی۔ ننھی لاجو کے سینے پر موم کے دانے دھڑک رہے تھے۔ چندو سنیاری کی دھندلی آنکھوں کو ایسا معلوم ہوا کہ موم بتی کے ان جمے ہوئے قطروں میں اس کی ننھی لاجو کی جوانی کے آنسو چھپ کر بیٹھ گئے ہیں۔ اس کا کانپتا ہوا ہاتھ بڑھا اور لاجو کے گلے سے وہ ہار جدا ہوگیا۔",
"CoupletIndex": 12,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 14,
"Position": "Paragraph",
"Text": "پگھلے ہوئے موم پر سے موم بتی کا جلتا ہوا دھاگا پھسل کر نیچے فرش پرگرا اور اس کی آغوش میں سو گیا۔۔۔ کمرے میں خاموشی کے علاوہ اندھیرا بھی چھا گیا۔",
"CoupletIndex": 13,
"SectionIndex1": 0
}
]
}