871 lines
31 KiB
JSON
871 lines
31 KiB
JSON
{
|
||
"Id": 9341,
|
||
"CatId": 823,
|
||
"Title": "یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی",
|
||
"FullTitle": "میر تقی میر » وسوخت » یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی",
|
||
"FullUrl": "/p303/c823/sh9341",
|
||
"RhymeLetters": null,
|
||
"SourceName": "ویکی ماخذ",
|
||
"SourceUrlSlug": "wikisource",
|
||
"SourceUrl": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%A8%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%DB%8C",
|
||
"Language": "ur-PK",
|
||
"PoemSummary": null,
|
||
"Metre": null,
|
||
"Sections": [
|
||
{
|
||
"Index": 0,
|
||
"Number": 1,
|
||
"SectionType": "WholePoem",
|
||
"VerseType": "First",
|
||
"RhymeLetters": null,
|
||
"PlainText": "یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی\r\nسرمہ و آئینہ کی اور نظر تجھ کو نہ تھی\r\nفکر آراستگی شام و سحر تجھ کو نہ تھی\r\nزلف آشفتہ کی سدھ دو دو پہر تجھ کو نہ تھی\r\nشانہ تھا نابلد کوچۂ گیسو تیرا\r\nآئینہ کاہے کو تھا حیرتی رو تیرا\r\nآگہی حسن سے اپنے تجھے زنہار نہ تھی\r\nاپنی مستی سے تری آنکھ خبردار نہ تھی\r\nپاؤں بے ڈول نہ پڑتا تھا یہ رفتار نہ تھی\r\nہر دم اس طور کمر میں ترے تلوار نہ تھی\r\nخون یوں کاہے کو کوچے میں ترے ہوتے تھے\r\nدل زدے کب تری دیواروں تلے روتے تھے\r\nخواہش دل کی ملا کرتی تھی ہر ساعت داد\r\nطبع میں تیرے تصرف تھا ہمیں حد سے زیاد\r\nمطلقاً تجھ سے نہ مربوط تھے ارباب عناد\r\nکاہے کو رہتے تھے کوچے میں ترے شور و فساد\r\nطور پر اپنے ترے پاس ہم آجاتے تھے\r\nحسب خواہش تجھے ہر شام و سحر پاتے تھے\r\nبند جامے کا جو وا ہوتا تو وا رہتا تھا\r\nبے تکلف مرے گھر رات کو آ رہتا تھا\r\nتھوڑی رنجش میں گلے ہی سے لگا رہتا تھا\r\nٹک جدا رہتے تو دیر آنکھ ملا رہتا تھا\r\nاس قدر قدر نہ تھی اپنی تری آنکھوں میں\r\nلعب بازی میں بھی رہتا تھا مری آنکھوں میں\r\nآستینوں میں نہ تھے چاک نہ زہ دامن میں\r\nتکمے کاہے کے تئیں لگتے تھے پیراہن میں\r\nیہ طرح کب تھی دوپٹے کے تلے چتون میں\r\nپھرتے کس روز تھے یوں کپڑے پہن آنگن میں\r\nبند ہلتے ہوئے ہر دم نہ کھڑے رہتے تھے\r\nپیچ پگڑی کے گلے میں نہ پڑے رہتے تھے\r\nکس دن اتنا تھا پراگندگی مو کا خیال\r\nدو دو دن چہرے پہ بکھرے ہی رہا کرتے بال\r\nلعل جاں بخش نہ رہتے تھے کبھو اتنے لال\r\nخوبی خندہ نہ لوگوں کے جیوں کی تھی وبال\r\nپان سے شوق نہ تھا کیسا مسی کا مذکور\r\nغصے ہوجاتے تھے سن ایسے کسی کا مذکور\r\nتنگ پوشی سے نہ محظوظ تمھیں پاتے تھے\r\nتنگ جامے جو سیے جاتے تو گھبراتے تھے\r\nمسکی چولی سے نہ تم در پہ کبھو آتے تھے\r\nلپٹے دامن سے الٹ گھر ہی میں پھر جاتے تھے\r\nیا تو اب کہنی پھٹی مونڈھے چسے رہتے ہیں\r\nباہر اندر ہو کہیں بند کسے رہتے ہیں\r\nشوق زینت سے نہ تھا ربط نہ رعنائی سے\r\nدل نہ اتنا تھا لگا خوبی مرزائی سے\r\nاب تو سو بار کمر بندھتی ہے اکلائی سے\r\nدیکھتے رہتے ہو ترکیب سے خود رائی سے\r\nروسیہ آئینہ سے تم کو فراغت ہی نہیں\r\nسرمۂ تیرہ دروں سے کہیں فرصت ہی نہیں\r\nشانہ اب ہاتھ میں ہے زلف بنا کرتی ہے\r\nمسی دانتوں میں کئی بار لگا کرتی ہے\r\nپاس سرمے کے سلائی بھی رہا کرتی ہے\r\nآنکھ رعنائی پہ اپنی ہی پڑا کرتی ہے\r\nجان آنکھوں میں کسی کی ہو نظر تم کو نہیں\r\nغش کرے کوئی ستم دیدہ خبر تم کو نہیں\r\nکب گلی کوچوں میں پھرتے تھے لیے تم تلوار\r\nپرتلا کاہے کو رہتا تھا گلے کا یوں ہار\r\nساتھ خونخوار نہ پھرتے تھے نہ تم تھے خونخوار\r\nدم میں ناحق کبھو یوں جان نہ رکھتے تھے مار\r\nمایۂ فتنہ و پرخاش ہوئے ہو اب تو\r\nشوخ و شلتاقی و اوباش ہوئے ہو اب تو\r\nپیشتر ہم سے کوئی تیرا طلبگار نہ تھا\r\nایک بھی نرگس بیمار کا بیمار نہ تھا\r\nجنس اچھی تھی تری لیک خریدار نہ تھا\r\nہم سوا کوئی ترا رونق بازار نہ تھا\r\nکتنے سودائی جو تھے دل نہ لگا سکتے تھے\r\nآنکھیں یوں موند کے وے جی نہ چلا سکتے تھے\r\nیا تو ہم ہی تھے کہ اب ہم سے نہیں کچھ یاری\r\nمفت برباد گئی عزت و حرمت ساری\r\nبار خاطر رہے اب ہم کو بھی ہے بیزاری\r\nیعنی اس شہر سے اٹھ جانے کی ہے تیاری\r\nرتبۂ غیر نہیں آنکھوں سے دیکھا جاتا\r\nطاقت اب یہ دل بے تاب نہیں ٹک لاتا\r\nکوئی نادیدہ محب سادہ لگا لیں گے ہم\r\nسادہ نامرتکب بادہ لگا لیں گے ہم\r\nبوس و آغوش کا آمادہ لگا لیں گے ہم\r\nبند خودرائی سے آزادہ لگا لیں گے ہم\r\nاس کو آغوش تمنا میں اب اپنی لیں گے\r\nاس سے داد دل ناکام سب اپنی لیں گے\r\nاس کی کھینچیں گے علی الرغم ترے مرزائی\r\nاس کو سکھلائیں گے طرز و روش رعنائی\r\nمجلسوں میں اسے لاویں گے بصد زیبائی\r\nصحبت اے دشمن جاں اس سے اگر بر آئی\r\nتو تجھے دیکھیو کس طور کڑھاتے ہیں ہم\r\nچھیڑیں کیا رکھتے ہیں کس ڈھب سے ستاتے ہیں ہم\r\nچہرے کو اس کے کر آراستہ دلخواہ کریں\r\nآرسی اس کو دکھا حسن سے آگاہ کریں\r\nراہ خوبی کی بتاکر اسے گمراہ کریں\r\nتو سہی ضد سے ترے ایسا ہی شتاہ کریں\r\nکہ تجھے سدھ نہ رہے خوبی و رعنائی کی\r\nدھجیاں لے تری اس جامۂ زیبائی کی\r\nدست افشاں ہو تو عزت تری سب ہاتھ سے جائے\r\nچشم مکحول کو دکھلائے تو تو آنکھ چھپائے\r\nمار ٹھوکر چلے دامن کو تو تو سر نہ ہلائے\r\nجس طرف اس کا گذر ہووے تو اودھر کو نہ جائے\r\nچھیڑے گالی دے اشارت کرے چشمک مارے\r\nعشوہ و غمزہ و انداز بھلادے سارے\r\nزندگانی ہو تجھے ہاتھ سے اس کے دشوار\r\nکوئی دن تو بھی پھرے جان سے اپنی بیزار\r\nپہنچیں ہر آن میں اس سے تجھے سو سو آزار\r\nطنز و تعریض و کنایہ کی رہے اک بوچھار\r\nجاکے ٹک سامنے اس کے تو بہت تر آوے\r\nعرق شرم میں ڈوبا ہوا سب گھر آوے\r\nدل واسوختہ کو اپنے لیے جاتے ہیں\r\nغصے سے خون جگر اپنا پیے جاتے ہیں\r\nاپنی جا غیروں کو ناچار دیے جاتے ہیں\r\nاب کے یوں جاتے نہیں عہد کیے جاتے ہیں\r\nآوے گا تو بھی منانے تو نہ آویں گے ہم\r\nجان سے جاویں گے پیماں سے نہ جاویں گے ہم\r\nبازگشت اب کی کسو طرح نہیں ہے منظور\r\nگوکہ درپیش ہمیں آوے رہ دور از دور\r\nجانا ٹھانا تو پھر آنے کا ہے یھاں کیا مذکور\r\nجی سے اپنے بھی گذر جایئے پر تا مقدور\r\nمنھ ادھر کریے نہ جس جا سے بنے اٹھ جانا\r\nقدر کھو دیوے ہے ہر بار کا جانا آنا\r\nمیرؔ اعراض بھی لوگوں نے کیا ہے آگے\r\nدل کے واسوز سے لوہو بھی پیا ہے آگے\r\nخلق عالم سے کنارہ بھی کیا ہے آگے\r\nعزت و وقر بھی برباد دیا ہے آگے\r\nپر کنھوں نے نہیں اس ڈھب سے زباں بازی کی\r\nیہ بھی ظالم ہے کوئی طرز سخن سازی کی",
|
||
"HtmlText": null,
|
||
"PoemFormat": null,
|
||
"Language": "ur-PK",
|
||
"CoupletsCount": 60
|
||
}
|
||
],
|
||
"Verses": [
|
||
{
|
||
"VOrder": 1,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی",
|
||
"CoupletIndex": 0,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 2,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سرمہ و آئینہ کی اور نظر تجھ کو نہ تھی",
|
||
"CoupletIndex": 0,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 3,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "فکر آراستگی شام و سحر تجھ کو نہ تھی",
|
||
"CoupletIndex": 1,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 4,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "زلف آشفتہ کی سدھ دو دو پہر تجھ کو نہ تھی",
|
||
"CoupletIndex": 1,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 5,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "شانہ تھا نابلد کوچۂ گیسو تیرا",
|
||
"CoupletIndex": 2,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 6,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آئینہ کاہے کو تھا حیرتی رو تیرا",
|
||
"CoupletIndex": 2,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 7,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آگہی حسن سے اپنے تجھے زنہار نہ تھی",
|
||
"CoupletIndex": 3,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 8,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اپنی مستی سے تری آنکھ خبردار نہ تھی",
|
||
"CoupletIndex": 3,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 9,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پاؤں بے ڈول نہ پڑتا تھا یہ رفتار نہ تھی",
|
||
"CoupletIndex": 4,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 10,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہر دم اس طور کمر میں ترے تلوار نہ تھی",
|
||
"CoupletIndex": 4,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 11,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "خون یوں کاہے کو کوچے میں ترے ہوتے تھے",
|
||
"CoupletIndex": 5,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 12,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دل زدے کب تری دیواروں تلے روتے تھے",
|
||
"CoupletIndex": 5,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 13,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "خواہش دل کی ملا کرتی تھی ہر ساعت داد",
|
||
"CoupletIndex": 6,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 14,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "طبع میں تیرے تصرف تھا ہمیں حد سے زیاد",
|
||
"CoupletIndex": 6,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 15,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "مطلقاً تجھ سے نہ مربوط تھے ارباب عناد",
|
||
"CoupletIndex": 7,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 16,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کاہے کو رہتے تھے کوچے میں ترے شور و فساد",
|
||
"CoupletIndex": 7,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 17,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "طور پر اپنے ترے پاس ہم آجاتے تھے",
|
||
"CoupletIndex": 8,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 18,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "حسب خواہش تجھے ہر شام و سحر پاتے تھے",
|
||
"CoupletIndex": 8,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 19,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بند جامے کا جو وا ہوتا تو وا رہتا تھا",
|
||
"CoupletIndex": 9,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 20,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بے تکلف مرے گھر رات کو آ رہتا تھا",
|
||
"CoupletIndex": 9,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 21,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تھوڑی رنجش میں گلے ہی سے لگا رہتا تھا",
|
||
"CoupletIndex": 10,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 22,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ٹک جدا رہتے تو دیر آنکھ ملا رہتا تھا",
|
||
"CoupletIndex": 10,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 23,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اس قدر قدر نہ تھی اپنی تری آنکھوں میں",
|
||
"CoupletIndex": 11,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 24,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "لعب بازی میں بھی رہتا تھا مری آنکھوں میں",
|
||
"CoupletIndex": 11,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 25,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آستینوں میں نہ تھے چاک نہ زہ دامن میں",
|
||
"CoupletIndex": 12,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 26,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تکمے کاہے کے تئیں لگتے تھے پیراہن میں",
|
||
"CoupletIndex": 12,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 27,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یہ طرح کب تھی دوپٹے کے تلے چتون میں",
|
||
"CoupletIndex": 13,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 28,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پھرتے کس روز تھے یوں کپڑے پہن آنگن میں",
|
||
"CoupletIndex": 13,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 29,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بند ہلتے ہوئے ہر دم نہ کھڑے رہتے تھے",
|
||
"CoupletIndex": 14,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 30,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پیچ پگڑی کے گلے میں نہ پڑے رہتے تھے",
|
||
"CoupletIndex": 14,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 31,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کس دن اتنا تھا پراگندگی مو کا خیال",
|
||
"CoupletIndex": 15,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 32,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دو دو دن چہرے پہ بکھرے ہی رہا کرتے بال",
|
||
"CoupletIndex": 15,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 33,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "لعل جاں بخش نہ رہتے تھے کبھو اتنے لال",
|
||
"CoupletIndex": 16,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 34,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "خوبی خندہ نہ لوگوں کے جیوں کی تھی وبال",
|
||
"CoupletIndex": 16,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 35,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پان سے شوق نہ تھا کیسا مسی کا مذکور",
|
||
"CoupletIndex": 17,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 36,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "غصے ہوجاتے تھے سن ایسے کسی کا مذکور",
|
||
"CoupletIndex": 17,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 37,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تنگ پوشی سے نہ محظوظ تمھیں پاتے تھے",
|
||
"CoupletIndex": 18,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 38,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تنگ جامے جو سیے جاتے تو گھبراتے تھے",
|
||
"CoupletIndex": 18,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 39,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "مسکی چولی سے نہ تم در پہ کبھو آتے تھے",
|
||
"CoupletIndex": 19,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 40,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "لپٹے دامن سے الٹ گھر ہی میں پھر جاتے تھے",
|
||
"CoupletIndex": 19,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 41,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یا تو اب کہنی پھٹی مونڈھے چسے رہتے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 20,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 42,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "باہر اندر ہو کہیں بند کسے رہتے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 20,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 43,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "شوق زینت سے نہ تھا ربط نہ رعنائی سے",
|
||
"CoupletIndex": 21,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 44,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دل نہ اتنا تھا لگا خوبی مرزائی سے",
|
||
"CoupletIndex": 21,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 45,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اب تو سو بار کمر بندھتی ہے اکلائی سے",
|
||
"CoupletIndex": 22,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 46,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دیکھتے رہتے ہو ترکیب سے خود رائی سے",
|
||
"CoupletIndex": 22,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 47,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "روسیہ آئینہ سے تم کو فراغت ہی نہیں",
|
||
"CoupletIndex": 23,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 48,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سرمۂ تیرہ دروں سے کہیں فرصت ہی نہیں",
|
||
"CoupletIndex": 23,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 49,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "شانہ اب ہاتھ میں ہے زلف بنا کرتی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 24,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 50,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "مسی دانتوں میں کئی بار لگا کرتی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 24,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 51,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پاس سرمے کے سلائی بھی رہا کرتی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 25,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 52,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آنکھ رعنائی پہ اپنی ہی پڑا کرتی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 25,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 53,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جان آنکھوں میں کسی کی ہو نظر تم کو نہیں",
|
||
"CoupletIndex": 26,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 54,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "غش کرے کوئی ستم دیدہ خبر تم کو نہیں",
|
||
"CoupletIndex": 26,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 55,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کب گلی کوچوں میں پھرتے تھے لیے تم تلوار",
|
||
"CoupletIndex": 27,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 56,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پرتلا کاہے کو رہتا تھا گلے کا یوں ہار",
|
||
"CoupletIndex": 27,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 57,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ساتھ خونخوار نہ پھرتے تھے نہ تم تھے خونخوار",
|
||
"CoupletIndex": 28,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 58,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دم میں ناحق کبھو یوں جان نہ رکھتے تھے مار",
|
||
"CoupletIndex": 28,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 59,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "مایۂ فتنہ و پرخاش ہوئے ہو اب تو",
|
||
"CoupletIndex": 29,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 60,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "شوخ و شلتاقی و اوباش ہوئے ہو اب تو",
|
||
"CoupletIndex": 29,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 61,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پیشتر ہم سے کوئی تیرا طلبگار نہ تھا",
|
||
"CoupletIndex": 30,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 62,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ایک بھی نرگس بیمار کا بیمار نہ تھا",
|
||
"CoupletIndex": 30,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 63,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جنس اچھی تھی تری لیک خریدار نہ تھا",
|
||
"CoupletIndex": 31,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 64,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہم سوا کوئی ترا رونق بازار نہ تھا",
|
||
"CoupletIndex": 31,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 65,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کتنے سودائی جو تھے دل نہ لگا سکتے تھے",
|
||
"CoupletIndex": 32,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 66,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آنکھیں یوں موند کے وے جی نہ چلا سکتے تھے",
|
||
"CoupletIndex": 32,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 67,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یا تو ہم ہی تھے کہ اب ہم سے نہیں کچھ یاری",
|
||
"CoupletIndex": 33,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 68,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "مفت برباد گئی عزت و حرمت ساری",
|
||
"CoupletIndex": 33,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 69,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بار خاطر رہے اب ہم کو بھی ہے بیزاری",
|
||
"CoupletIndex": 34,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 70,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "یعنی اس شہر سے اٹھ جانے کی ہے تیاری",
|
||
"CoupletIndex": 34,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 71,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "رتبۂ غیر نہیں آنکھوں سے دیکھا جاتا",
|
||
"CoupletIndex": 35,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 72,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "طاقت اب یہ دل بے تاب نہیں ٹک لاتا",
|
||
"CoupletIndex": 35,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 73,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کوئی نادیدہ محب سادہ لگا لیں گے ہم",
|
||
"CoupletIndex": 36,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 74,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سادہ نامرتکب بادہ لگا لیں گے ہم",
|
||
"CoupletIndex": 36,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 75,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بوس و آغوش کا آمادہ لگا لیں گے ہم",
|
||
"CoupletIndex": 37,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 76,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بند خودرائی سے آزادہ لگا لیں گے ہم",
|
||
"CoupletIndex": 37,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 77,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اس کو آغوش تمنا میں اب اپنی لیں گے",
|
||
"CoupletIndex": 38,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 78,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اس سے داد دل ناکام سب اپنی لیں گے",
|
||
"CoupletIndex": 38,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 79,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اس کی کھینچیں گے علی الرغم ترے مرزائی",
|
||
"CoupletIndex": 39,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 80,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اس کو سکھلائیں گے طرز و روش رعنائی",
|
||
"CoupletIndex": 39,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 81,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "مجلسوں میں اسے لاویں گے بصد زیبائی",
|
||
"CoupletIndex": 40,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 82,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "صحبت اے دشمن جاں اس سے اگر بر آئی",
|
||
"CoupletIndex": 40,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 83,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تو تجھے دیکھیو کس طور کڑھاتے ہیں ہم",
|
||
"CoupletIndex": 41,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 84,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "چھیڑیں کیا رکھتے ہیں کس ڈھب سے ستاتے ہیں ہم",
|
||
"CoupletIndex": 41,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 85,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چہرے کو اس کے کر آراستہ دلخواہ کریں",
|
||
"CoupletIndex": 42,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 86,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آرسی اس کو دکھا حسن سے آگاہ کریں",
|
||
"CoupletIndex": 42,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 87,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "راہ خوبی کی بتاکر اسے گمراہ کریں",
|
||
"CoupletIndex": 43,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 88,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تو سہی ضد سے ترے ایسا ہی شتاہ کریں",
|
||
"CoupletIndex": 43,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 89,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کہ تجھے سدھ نہ رہے خوبی و رعنائی کی",
|
||
"CoupletIndex": 44,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 90,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دھجیاں لے تری اس جامۂ زیبائی کی",
|
||
"CoupletIndex": 44,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 91,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دست افشاں ہو تو عزت تری سب ہاتھ سے جائے",
|
||
"CoupletIndex": 45,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 92,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "چشم مکحول کو دکھلائے تو تو آنکھ چھپائے",
|
||
"CoupletIndex": 45,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 93,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "مار ٹھوکر چلے دامن کو تو تو سر نہ ہلائے",
|
||
"CoupletIndex": 46,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 94,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جس طرف اس کا گذر ہووے تو اودھر کو نہ جائے",
|
||
"CoupletIndex": 46,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 95,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چھیڑے گالی دے اشارت کرے چشمک مارے",
|
||
"CoupletIndex": 47,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 96,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "عشوہ و غمزہ و انداز بھلادے سارے",
|
||
"CoupletIndex": 47,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 97,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "زندگانی ہو تجھے ہاتھ سے اس کے دشوار",
|
||
"CoupletIndex": 48,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 98,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کوئی دن تو بھی پھرے جان سے اپنی بیزار",
|
||
"CoupletIndex": 48,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 99,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پہنچیں ہر آن میں اس سے تجھے سو سو آزار",
|
||
"CoupletIndex": 49,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 100,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "طنز و تعریض و کنایہ کی رہے اک بوچھار",
|
||
"CoupletIndex": 49,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 101,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جاکے ٹک سامنے اس کے تو بہت تر آوے",
|
||
"CoupletIndex": 50,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 102,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "عرق شرم میں ڈوبا ہوا سب گھر آوے",
|
||
"CoupletIndex": 50,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 103,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دل واسوختہ کو اپنے لیے جاتے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 51,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 104,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "غصے سے خون جگر اپنا پیے جاتے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 51,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 105,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اپنی جا غیروں کو ناچار دیے جاتے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 52,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 106,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اب کے یوں جاتے نہیں عہد کیے جاتے ہیں",
|
||
"CoupletIndex": 52,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 107,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آوے گا تو بھی منانے تو نہ آویں گے ہم",
|
||
"CoupletIndex": 53,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 108,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جان سے جاویں گے پیماں سے نہ جاویں گے ہم",
|
||
"CoupletIndex": 53,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 109,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بازگشت اب کی کسو طرح نہیں ہے منظور",
|
||
"CoupletIndex": 54,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 110,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "گوکہ درپیش ہمیں آوے رہ دور از دور",
|
||
"CoupletIndex": 54,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 111,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جانا ٹھانا تو پھر آنے کا ہے یھاں کیا مذکور",
|
||
"CoupletIndex": 55,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 112,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جی سے اپنے بھی گذر جایئے پر تا مقدور",
|
||
"CoupletIndex": 55,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 113,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "منھ ادھر کریے نہ جس جا سے بنے اٹھ جانا",
|
||
"CoupletIndex": 56,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 114,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "قدر کھو دیوے ہے ہر بار کا جانا آنا",
|
||
"CoupletIndex": 56,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 115,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "میرؔ اعراض بھی لوگوں نے کیا ہے آگے",
|
||
"CoupletIndex": 57,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 116,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دل کے واسوز سے لوہو بھی پیا ہے آگے",
|
||
"CoupletIndex": 57,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 117,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "خلق عالم سے کنارہ بھی کیا ہے آگے",
|
||
"CoupletIndex": 58,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 118,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "عزت و وقر بھی برباد دیا ہے آگے",
|
||
"CoupletIndex": 58,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 119,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پر کنھوں نے نہیں اس ڈھب سے زباں بازی کی",
|
||
"CoupletIndex": 59,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 120,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "یہ بھی ظالم ہے کوئی طرز سخن سازی کی",
|
||
"CoupletIndex": 59,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
}
|
||
]
|
||
}
|