1165 lines
42 KiB
JSON
1165 lines
42 KiB
JSON
{
|
||
"Id": 9065,
|
||
"CatId": 823,
|
||
"Title": "طرز اے رشک چمن اب تری کچھ تازی ہے",
|
||
"FullTitle": "میر تقی میر » وسوخت » طرز اے رشک چمن اب تری کچھ تازی ہے",
|
||
"FullUrl": "/p303/c823/sh9065",
|
||
"RhymeLetters": null,
|
||
"SourceName": "ویکی ماخذ",
|
||
"SourceUrlSlug": "wikisource",
|
||
"SourceUrl": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D8%B1%D8%B2_%D8%A7%DB%92_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%DA%86%D9%85%D9%86_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%8C_%DB%81%DB%92",
|
||
"Language": "ur-PK",
|
||
"PoemSummary": null,
|
||
"Metre": null,
|
||
"Sections": [
|
||
{
|
||
"Index": 0,
|
||
"Number": 1,
|
||
"SectionType": "WholePoem",
|
||
"VerseType": "First",
|
||
"RhymeLetters": null,
|
||
"PlainText": "طرز اے رشک چمن اب تری کچھ تازی ہے\r\nساتھ غیروں کے مرے حق میں سخن سازی ہے\r\nداغ رکھنے کو مرے ان ہی سے گل بازی ہے\r\nہمدمی ان سے انھیں سب سے ہم آوازی ہے\r\nگوش کر میرے بھی شکوے کی طرف گل کے رنگ\r\nرکتے رکتے روش غنچہ ہوا ہوں دل تنگ\r\nایک مدت ہوئی بدنامی و رسوائی ہے\r\nبیکسی بے دلی درویشی و تنہائی ہے\r\nصبح جب دی ہے دعا گالی تری کھائی ہے\r\nابتدا سے مری ذلت تجھے خوش آئی ہے\r\nخلق کیا کیا تری بے طوریوں سے کہتی نہیں\r\nمیں بھی ناچار ہوں اب منھ میں زباں رہتی نہیں\r\nملتفت حال پہ رہنا ہے مرے اب موقوف\r\nبات گر دن کو کوئی ہوگئی تو شب موقوف\r\nاے فریبندہ سخن رابطے کے سب موقوف\r\nمہر و الطاف و عنایات و کرم جب موقوف\r\nمہربانی سے کبھو کوئی جو ایدھر کی نگاہ\r\nسو بھی اس طور کہ کیا جانیے کیدھر کی نگاہ\r\nمیں جو صحبت میں ہوں بیٹھا تو رکے بولو ہو\r\nآنکھیں ایدھر سے جو موندو ہو سو کم کھولو ہو\r\nنام لیتے ہو کراہت سے مرا جو لو ہو\r\nلگ چلے غیر تو تابع اسی کے ہو لو ہو\r\nروے حرف اس کی طرف چشم حمایت اودھر\r\nابرو اودھر کو جھکے لطف و عنایت اودھر\r\nپیار تجھ کو نہ کیا کرتے اگر جانتے ہم\r\nکاشکے تیری روش پہلے ہی پہچانتے ہم\r\nجھوٹے جھوٹے ترے وعدے نہ کبھو مانتے ہم\r\nجی میں اب ٹھانی ہے جو کچھ سو تبھی ٹھانتے ہم\r\nاس قدر تجھ سے نہ لگ چلتے نہ آتے اس راہ\r\nتو پری ہوتا تو کرتے نہ تری اور نگاہ\r\nیہ فریبندہ سخن گوش نہ کرتے ہرگز\r\nخواہش کنج دہن دل پہ نہ دھرتے ہرگز\r\nبے شب وصل دن اس طور نہ بھرتے ہرگز\r\nلعل جاں بخش پہ یوں تیرے نہ مرتے ہرگز\r\nاتفاقات سے ہو جاتی ملاقات تو خیر\r\nدل تجرد پہ رکھا جب نہ کوئی یار نہ غیر\r\nعشوہ و ناز و ادا سے کسو کو پھر کیا کام\r\nجی نہ بے چین رہا کرتا نہ دل بے آرام\r\nہوگیا یوں تو کبھو ہوگیا آپس میں کلام\r\nبے رخ و زلف رکن کاہے کو ہر صبح و شام\r\nجنس اچھی تری پر گرمی بازار کہاں\r\nسرگراں تو تو بہت ہے پہ خریدار کہاں\r\nتجھ سے بے مہر و وفا دل کا لگانا تھا غلط\r\nآپ کو حرف غلط رنگ مٹانا تھا غلط\r\nخط دے قاصد کو تری اور چلانا تھا غلط\r\nآتش غم سے مرا جی کا جلانا تھا غلط\r\nاپنی نادانی نہ سمجھے کہ تو کیا نسخہ ہے\r\nآدمی بھی کسو دانا کا لکھا نسخہ ہے\r\nغم نہیں تجھ کو مری یاری وفاداری کا\r\nنہ خیال آوے ہے بندے کی گرفتاری کا\r\nطور چھوڑا نہ تنک تونے ستمگاری کا\r\nوہی عشوہ ہے شب و روز دل آزاری کا\r\nپرسش حال کا بھی مجھ کو نہ ممنوں رکھا\r\nہے یہ خاطر کہ حزیں دل کے تئیں خوں رکھا\r\nترک اخلاص کیا سب سے تجھے پیار کیا\r\nرحم دل پر نہ کیا جان کو آزار کیا\r\nچاہ سے اپنی عبث تجھ کو خبردار کیا\r\nکیا کیا ہم نے کہ اس معنی کا اظہار کیا\r\nجوکہ الفاظ نہ شایاں تھے سو تو کہنے لگا\r\nوجہ بے وجہ تو روپوش ہی اب رہنے لگا\r\nآرسی کی کبھی صورت نہ دکھاتے تجھ کو\r\nطرز یہ سرمہ کشی کی نہ سجھاتے تجھ کو\r\nدلربائی کے نہ انداز بتاتے تجھ کو\r\nکیوں بگڑتا تو جو ایسا نہ بناتے تجھ کو\r\nمستی چشم سے ہوتی نہ اگر تجھ کو خبر\r\nایسی ہشیاری سے کرتا نہ تو ایدھر کو نظر\r\nاور مہ پارہ بھی اس شہر میں مشہور ہے اب\r\nاس کی محبوبی و خوبی ہی کا مذکور ہے اب\r\nدیکھنا کچھ ہو اسی کا مجھے منظور ہے اب\r\nصرف اس پر کروں گا اپنا جو مقدور ہے اب\r\nاس کنے ضد سے تری شام و سحر جاؤں گا\r\nگھر سے جس دم اٹھوں گا اس کے ہی گھر جاؤں گا\r\nوہ بھی سن شور وفا مجھ سے ملا چاہے ہے\r\nمختلط لطف و عنایت سے ہوا چاہے ہے\r\nکوئی دن راتوں کو مجھ پاس رہا چاہے ہے\r\nکام دل لوں ہوں اسی سے جو خدا چاہے ہے\r\nباؤ کا رخ تجھے بتلاؤں دم اس مہ کا بھروں\r\nخط تری بندگی کا کاغذ باد اس کا کروں\r\nمیں بھی ناچار ہوں تاچند جفائیں یہ سہوں\r\nقصد رکھتا ہوں کہ اس شہر میں ہرگز نہ رہوں\r\nیا اسی ماہ کنے جا رہوں گو اس میں نہ ہوں\r\nخوبیاں اور ترے حسن سلوک اس سے کہوں\r\nکیں ترا مہر مری دونوں ہیں اس پر معلوم\r\nاس کے معلوم ہوئے روے دل اودھر معلوم\r\nپھر تو جی کو میں کروں گا اسی مہ پر قرباں\r\nراہ و منزل پہ پھروں گا اسی کے دست افشاں\r\nبس بگولا سا ہوا تیرے لیے سرگرداں\r\nاس قدر مجھ کو دماغ اب ہے کہاں دل ہے کہاں\r\nکہ رہوں بیخود و بے خواب شبوں کو روتا\r\nکاش مشتاق ترے منھ کا نہ اتنا ہوتا\r\nاب تو جو کچھ ہو دل اس ساتھ لگا بیٹھوں گا\r\nاس کے دروازے پہ درویش ہو جا بیٹھوں گا\r\nہاتھ واسوختہ ہو تجھ سے اٹھا بیٹھوں گا\r\nآؤں گا بھی تو ترے پاس نہ آ بیٹھوں گا\r\nدور سے ایک نظر کرکے چلا جاؤں گا\r\nسو بھی کتنے دنوں پھر کاہے کو میں آؤں گا\r\nلاگ ہے جس سے نئی اس سے رکھوں قیل و قال\r\nدل نشیں اس کے کروں خوب طرح کہنہ مقال\r\nساری مجلس کے تئیں اس کی کروں واقف حال\r\nبعد ازاں ترک کروں کھا کے قسم تیرا خیال\r\nپھر کبھو وہم میں بھی گذرے نہ ملنا تیرا\r\nجب نہ تب در پہ اسی کے رہے ماتھا میرا\r\nلگ چلوں اس سے صبا کی سی طرح شام و سحر\r\nاس کے پاؤں تلے کی خاک کروں کحل بصر\r\nروے گل رنگ سے اس کے نہ اٹھے میری نظر\r\nچپکے اس کے لب شیریں سے رہیں دیدۂ تر\r\nدرہمی حال کی اس گیسوے برہم سے رہے\r\nجی کو بے طاقتی اس قد کے چم و خم سے رہے\r\nناز بیجا ترے دل پھر نہ اٹھاوے ہرگز\r\nبات یہ تیری فریبندہ نہ بھاوے ہرگز\r\nطرز رفتار تری جی میں نہ آوے ہرگز\r\nآنکھ خوبی کی طرف تیری نہ جاوے ہرگز\r\nوہ جو سادہ ہے تو پرکار بھی ہوجاوے گا\r\nاب جو بیگانہ سا ہے یار بھی ہوجاوے گا\r\nفن معشوقی میں تیار کروں گا اس کو\r\nشانہ و آئینہ سے یار کروں گا اس کو\r\nحسن سے اس کے خبردار کروں گا اس کو\r\nضد سے میں تیری بہت پیار کروں گا اس کو\r\nفرش رہ دیدۂ نمناک کروں گا واں کے\r\nپلکوں سے خار و خسک پاک کروں گا واں کے\r\nہوگیا مجھ سے جو مانوس تو مرزا ہوگا\r\nپوشش تنگ کا مصروف مہیا ہوگا\r\nگھیر جامے کا نہ سو گز سے کم اس کا ہوگا\r\nلپٹے بندوں کا بر و دوش پہ لچھا ہوگا\r\nچلتے دامن کے تئیں لگتی رہے گی ٹھوکر\r\nہوگا ہنگامہ ادھر نکلے گا جیدھر ہوکر\r\nکس و ناکس اسی مہ پارے کا مفتوں ہوگا\r\nایسی سج سے تو اسے دیکھ کے محزوں ہوگا\r\nرشک سے اس کے ترا حال دگرگوں ہوگا\r\nدل نازک ترا دھڑکے گا جگر خوں ہوگا\r\nشرم سے ہوگا نہ اک آنکھ اٹھانا مشکل\r\nبلکہ ہوجاوے گا اس کوچے میں آنا مشکل\r\nطنز و تعریض و کنائے سے بتنگ آوے گا\r\nناز کا طور فراموش ہی ہوجاوے گا\r\nربط و اخلاص میں ویسا نہ مجھے پاوے گا\r\nیہ سخن یاد رہے دل میں تو پچھتاوے گا\r\nآشنا جتنے ہیں بیگانہ نکل جاویں گے\r\nسر جھکائے اسی کی اور چلے آویں گے\r\nاب بھی گر سمجھے تو مجھ کو ہے وہی تجھ سے پیار\r\nچھیڑ کا ننگ نہیں تیری نہ گالی کا ہے عار\r\nوہی مخلص ہوں قدیمی وہی میں تیرا یار\r\nبندگی کیش وفاشیوہ و اخلاص شعار\r\nچوٹ مجھ کو بھی تو غیروں کی ملاقات کی ہے\r\nچھوڑے یہ تو تو پھر آزردگی کس بات کی ہے\r\nجی نہ تڑپے گا مرا پھر نہ مری چھاتی جلے\r\nدل نہ سینے میں مرے شام و سحر کوئی ملے\r\nشکوہ ناکی سے زباں منھ میں نہ زنہار ہلے\r\nآئے چلتے کہیں سے تو لیے لگ تیرے گلے\r\nزور سے بازو پہ اپنے ترے سر کو رکھا\r\nدست گستاخ پہ لے تیری کمر کو رکھا\r\nبس ہوس کیشوں سے مل مل کے تو بدنام ہوا\r\nبسکہ راتوں کو رہا شہرۂ ایام ہوا\r\nکاسہ لیسوں کے گہے مرتکب جام ہوا\r\nشوخ و شلتاقی و بدوضع و مے آشام ہوا\r\nطور پر میرے معیشت کوئی دن اچھی ہے\r\nایسے بدکار سے صحبت کوئی دن اچھی ہے\r\nآ اگر غیر کے ملنے کی قسم کھاتا ہے\r\nمیرؔ بھی حرف درشتانہ سے شرماتا ہے\r\nذوق ویسا ہی ہے اس کا تو اسے بھاتا ہے\r\nدل کے واسوز سے منھ پر یہ سخن لاتا ہے\r\nورنہ مشتاق ہے سو جی سے جگرخستہ ترا\r\nکشتہ و مردہ ترا رفتہ و دل بستہ ترا",
|
||
"HtmlText": null,
|
||
"PoemFormat": null,
|
||
"Language": "ur-PK",
|
||
"CoupletsCount": 81
|
||
}
|
||
],
|
||
"Verses": [
|
||
{
|
||
"VOrder": 1,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "طرز اے رشک چمن اب تری کچھ تازی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 0,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 2,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ساتھ غیروں کے مرے حق میں سخن سازی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 0,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 3,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "داغ رکھنے کو مرے ان ہی سے گل بازی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 1,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 4,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہمدمی ان سے انھیں سب سے ہم آوازی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 1,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 5,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "گوش کر میرے بھی شکوے کی طرف گل کے رنگ",
|
||
"CoupletIndex": 2,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 6,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "رکتے رکتے روش غنچہ ہوا ہوں دل تنگ",
|
||
"CoupletIndex": 2,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 7,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ایک مدت ہوئی بدنامی و رسوائی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 3,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 8,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بیکسی بے دلی درویشی و تنہائی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 3,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 9,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "صبح جب دی ہے دعا گالی تری کھائی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 4,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 10,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ابتدا سے مری ذلت تجھے خوش آئی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 4,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 11,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "خلق کیا کیا تری بے طوریوں سے کہتی نہیں",
|
||
"CoupletIndex": 5,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 12,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "میں بھی ناچار ہوں اب منھ میں زباں رہتی نہیں",
|
||
"CoupletIndex": 5,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 13,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ملتفت حال پہ رہنا ہے مرے اب موقوف",
|
||
"CoupletIndex": 6,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 14,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بات گر دن کو کوئی ہوگئی تو شب موقوف",
|
||
"CoupletIndex": 6,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 15,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اے فریبندہ سخن رابطے کے سب موقوف",
|
||
"CoupletIndex": 7,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 16,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "مہر و الطاف و عنایات و کرم جب موقوف",
|
||
"CoupletIndex": 7,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 17,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "مہربانی سے کبھو کوئی جو ایدھر کی نگاہ",
|
||
"CoupletIndex": 8,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 18,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سو بھی اس طور کہ کیا جانیے کیدھر کی نگاہ",
|
||
"CoupletIndex": 8,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 19,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "میں جو صحبت میں ہوں بیٹھا تو رکے بولو ہو",
|
||
"CoupletIndex": 9,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 20,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آنکھیں ایدھر سے جو موندو ہو سو کم کھولو ہو",
|
||
"CoupletIndex": 9,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 21,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "نام لیتے ہو کراہت سے مرا جو لو ہو",
|
||
"CoupletIndex": 10,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 22,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "لگ چلے غیر تو تابع اسی کے ہو لو ہو",
|
||
"CoupletIndex": 10,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 23,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "روے حرف اس کی طرف چشم حمایت اودھر",
|
||
"CoupletIndex": 11,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 24,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ابرو اودھر کو جھکے لطف و عنایت اودھر",
|
||
"CoupletIndex": 11,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 25,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پیار تجھ کو نہ کیا کرتے اگر جانتے ہم",
|
||
"CoupletIndex": 12,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 26,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کاشکے تیری روش پہلے ہی پہچانتے ہم",
|
||
"CoupletIndex": 12,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 27,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جھوٹے جھوٹے ترے وعدے نہ کبھو مانتے ہم",
|
||
"CoupletIndex": 13,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 28,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جی میں اب ٹھانی ہے جو کچھ سو تبھی ٹھانتے ہم",
|
||
"CoupletIndex": 13,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 29,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اس قدر تجھ سے نہ لگ چلتے نہ آتے اس راہ",
|
||
"CoupletIndex": 14,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 30,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "تو پری ہوتا تو کرتے نہ تری اور نگاہ",
|
||
"CoupletIndex": 14,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 31,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یہ فریبندہ سخن گوش نہ کرتے ہرگز",
|
||
"CoupletIndex": 15,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 32,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "خواہش کنج دہن دل پہ نہ دھرتے ہرگز",
|
||
"CoupletIndex": 15,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 33,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بے شب وصل دن اس طور نہ بھرتے ہرگز",
|
||
"CoupletIndex": 16,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 34,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "لعل جاں بخش پہ یوں تیرے نہ مرتے ہرگز",
|
||
"CoupletIndex": 16,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 35,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اتفاقات سے ہو جاتی ملاقات تو خیر",
|
||
"CoupletIndex": 17,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 36,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دل تجرد پہ رکھا جب نہ کوئی یار نہ غیر",
|
||
"CoupletIndex": 17,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 37,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "عشوہ و ناز و ادا سے کسو کو پھر کیا کام",
|
||
"CoupletIndex": 18,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 38,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جی نہ بے چین رہا کرتا نہ دل بے آرام",
|
||
"CoupletIndex": 18,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 39,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہوگیا یوں تو کبھو ہوگیا آپس میں کلام",
|
||
"CoupletIndex": 19,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 40,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بے رخ و زلف رکن کاہے کو ہر صبح و شام",
|
||
"CoupletIndex": 19,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 41,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جنس اچھی تری پر گرمی بازار کہاں",
|
||
"CoupletIndex": 20,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 42,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سرگراں تو تو بہت ہے پہ خریدار کہاں",
|
||
"CoupletIndex": 20,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 43,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "تجھ سے بے مہر و وفا دل کا لگانا تھا غلط",
|
||
"CoupletIndex": 21,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 44,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آپ کو حرف غلط رنگ مٹانا تھا غلط",
|
||
"CoupletIndex": 21,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 45,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "خط دے قاصد کو تری اور چلانا تھا غلط",
|
||
"CoupletIndex": 22,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 46,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آتش غم سے مرا جی کا جلانا تھا غلط",
|
||
"CoupletIndex": 22,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 47,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اپنی نادانی نہ سمجھے کہ تو کیا نسخہ ہے",
|
||
"CoupletIndex": 23,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 48,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آدمی بھی کسو دانا کا لکھا نسخہ ہے",
|
||
"CoupletIndex": 23,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 49,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "غم نہیں تجھ کو مری یاری وفاداری کا",
|
||
"CoupletIndex": 24,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 50,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "نہ خیال آوے ہے بندے کی گرفتاری کا",
|
||
"CoupletIndex": 24,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 51,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "طور چھوڑا نہ تنک تونے ستمگاری کا",
|
||
"CoupletIndex": 25,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 52,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "وہی عشوہ ہے شب و روز دل آزاری کا",
|
||
"CoupletIndex": 25,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 53,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پرسش حال کا بھی مجھ کو نہ ممنوں رکھا",
|
||
"CoupletIndex": 26,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 54,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہے یہ خاطر کہ حزیں دل کے تئیں خوں رکھا",
|
||
"CoupletIndex": 26,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 55,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ترک اخلاص کیا سب سے تجھے پیار کیا",
|
||
"CoupletIndex": 27,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 56,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "رحم دل پر نہ کیا جان کو آزار کیا",
|
||
"CoupletIndex": 27,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 57,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چاہ سے اپنی عبث تجھ کو خبردار کیا",
|
||
"CoupletIndex": 28,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 58,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کیا کیا ہم نے کہ اس معنی کا اظہار کیا",
|
||
"CoupletIndex": 28,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 59,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جوکہ الفاظ نہ شایاں تھے سو تو کہنے لگا",
|
||
"CoupletIndex": 29,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 60,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "وجہ بے وجہ تو روپوش ہی اب رہنے لگا",
|
||
"CoupletIndex": 29,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 61,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آرسی کی کبھی صورت نہ دکھاتے تجھ کو",
|
||
"CoupletIndex": 30,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 62,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "طرز یہ سرمہ کشی کی نہ سجھاتے تجھ کو",
|
||
"CoupletIndex": 30,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 63,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دلربائی کے نہ انداز بتاتے تجھ کو",
|
||
"CoupletIndex": 31,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 64,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کیوں بگڑتا تو جو ایسا نہ بناتے تجھ کو",
|
||
"CoupletIndex": 31,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 65,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "مستی چشم سے ہوتی نہ اگر تجھ کو خبر",
|
||
"CoupletIndex": 32,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 66,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ایسی ہشیاری سے کرتا نہ تو ایدھر کو نظر",
|
||
"CoupletIndex": 32,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 67,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اور مہ پارہ بھی اس شہر میں مشہور ہے اب",
|
||
"CoupletIndex": 33,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 68,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اس کی محبوبی و خوبی ہی کا مذکور ہے اب",
|
||
"CoupletIndex": 33,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 69,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دیکھنا کچھ ہو اسی کا مجھے منظور ہے اب",
|
||
"CoupletIndex": 34,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 70,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "صرف اس پر کروں گا اپنا جو مقدور ہے اب",
|
||
"CoupletIndex": 34,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 71,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اس کنے ضد سے تری شام و سحر جاؤں گا",
|
||
"CoupletIndex": 35,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 72,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "گھر سے جس دم اٹھوں گا اس کے ہی گھر جاؤں گا",
|
||
"CoupletIndex": 35,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 73,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "وہ بھی سن شور وفا مجھ سے ملا چاہے ہے",
|
||
"CoupletIndex": 36,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 74,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "مختلط لطف و عنایت سے ہوا چاہے ہے",
|
||
"CoupletIndex": 36,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 75,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کوئی دن راتوں کو مجھ پاس رہا چاہے ہے",
|
||
"CoupletIndex": 37,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 76,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کام دل لوں ہوں اسی سے جو خدا چاہے ہے",
|
||
"CoupletIndex": 37,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 77,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "باؤ کا رخ تجھے بتلاؤں دم اس مہ کا بھروں",
|
||
"CoupletIndex": 38,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 78,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "خط تری بندگی کا کاغذ باد اس کا کروں",
|
||
"CoupletIndex": 38,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 79,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "میں بھی ناچار ہوں تاچند جفائیں یہ سہوں",
|
||
"CoupletIndex": 39,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 80,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "قصد رکھتا ہوں کہ اس شہر میں ہرگز نہ رہوں",
|
||
"CoupletIndex": 39,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 81,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "یا اسی ماہ کنے جا رہوں گو اس میں نہ ہوں",
|
||
"CoupletIndex": 40,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 82,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "خوبیاں اور ترے حسن سلوک اس سے کہوں",
|
||
"CoupletIndex": 40,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 83,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کیں ترا مہر مری دونوں ہیں اس پر معلوم",
|
||
"CoupletIndex": 41,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 84,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اس کے معلوم ہوئے روے دل اودھر معلوم",
|
||
"CoupletIndex": 41,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 85,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پھر تو جی کو میں کروں گا اسی مہ پر قرباں",
|
||
"CoupletIndex": 42,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 86,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "راہ و منزل پہ پھروں گا اسی کے دست افشاں",
|
||
"CoupletIndex": 42,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 87,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بس بگولا سا ہوا تیرے لیے سرگرداں",
|
||
"CoupletIndex": 43,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 88,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اس قدر مجھ کو دماغ اب ہے کہاں دل ہے کہاں",
|
||
"CoupletIndex": 43,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 89,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کہ رہوں بیخود و بے خواب شبوں کو روتا",
|
||
"CoupletIndex": 44,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 90,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کاش مشتاق ترے منھ کا نہ اتنا ہوتا",
|
||
"CoupletIndex": 44,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 91,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اب تو جو کچھ ہو دل اس ساتھ لگا بیٹھوں گا",
|
||
"CoupletIndex": 45,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 92,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اس کے دروازے پہ درویش ہو جا بیٹھوں گا",
|
||
"CoupletIndex": 45,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 93,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہاتھ واسوختہ ہو تجھ سے اٹھا بیٹھوں گا",
|
||
"CoupletIndex": 46,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 94,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آؤں گا بھی تو ترے پاس نہ آ بیٹھوں گا",
|
||
"CoupletIndex": 46,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 95,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "دور سے ایک نظر کرکے چلا جاؤں گا",
|
||
"CoupletIndex": 47,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 96,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سو بھی کتنے دنوں پھر کاہے کو میں آؤں گا",
|
||
"CoupletIndex": 47,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 97,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "لاگ ہے جس سے نئی اس سے رکھوں قیل و قال",
|
||
"CoupletIndex": 48,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 98,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دل نشیں اس کے کروں خوب طرح کہنہ مقال",
|
||
"CoupletIndex": 48,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 99,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ساری مجلس کے تئیں اس کی کروں واقف حال",
|
||
"CoupletIndex": 49,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 100,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بعد ازاں ترک کروں کھا کے قسم تیرا خیال",
|
||
"CoupletIndex": 49,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 101,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "پھر کبھو وہم میں بھی گذرے نہ ملنا تیرا",
|
||
"CoupletIndex": 50,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 102,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جب نہ تب در پہ اسی کے رہے ماتھا میرا",
|
||
"CoupletIndex": 50,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 103,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "لگ چلوں اس سے صبا کی سی طرح شام و سحر",
|
||
"CoupletIndex": 51,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 104,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اس کے پاؤں تلے کی خاک کروں کحل بصر",
|
||
"CoupletIndex": 51,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 105,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "روے گل رنگ سے اس کے نہ اٹھے میری نظر",
|
||
"CoupletIndex": 52,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 106,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "چپکے اس کے لب شیریں سے رہیں دیدۂ تر",
|
||
"CoupletIndex": 52,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 107,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "درہمی حال کی اس گیسوے برہم سے رہے",
|
||
"CoupletIndex": 53,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 108,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "جی کو بے طاقتی اس قد کے چم و خم سے رہے",
|
||
"CoupletIndex": 53,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 109,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ناز بیجا ترے دل پھر نہ اٹھاوے ہرگز",
|
||
"CoupletIndex": 54,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 110,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بات یہ تیری فریبندہ نہ بھاوے ہرگز",
|
||
"CoupletIndex": 54,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 111,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "طرز رفتار تری جی میں نہ آوے ہرگز",
|
||
"CoupletIndex": 55,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 112,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آنکھ خوبی کی طرف تیری نہ جاوے ہرگز",
|
||
"CoupletIndex": 55,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 113,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "وہ جو سادہ ہے تو پرکار بھی ہوجاوے گا",
|
||
"CoupletIndex": 56,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 114,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "اب جو بیگانہ سا ہے یار بھی ہوجاوے گا",
|
||
"CoupletIndex": 56,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 115,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "فن معشوقی میں تیار کروں گا اس کو",
|
||
"CoupletIndex": 57,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 116,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "شانہ و آئینہ سے یار کروں گا اس کو",
|
||
"CoupletIndex": 57,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 117,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "حسن سے اس کے خبردار کروں گا اس کو",
|
||
"CoupletIndex": 58,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 118,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ضد سے میں تیری بہت پیار کروں گا اس کو",
|
||
"CoupletIndex": 58,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 119,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "فرش رہ دیدۂ نمناک کروں گا واں کے",
|
||
"CoupletIndex": 59,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 120,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پلکوں سے خار و خسک پاک کروں گا واں کے",
|
||
"CoupletIndex": 59,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 121,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ہوگیا مجھ سے جو مانوس تو مرزا ہوگا",
|
||
"CoupletIndex": 60,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 122,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "پوشش تنگ کا مصروف مہیا ہوگا",
|
||
"CoupletIndex": 60,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 123,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "گھیر جامے کا نہ سو گز سے کم اس کا ہوگا",
|
||
"CoupletIndex": 61,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 124,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "لپٹے بندوں کا بر و دوش پہ لچھا ہوگا",
|
||
"CoupletIndex": 61,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 125,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چلتے دامن کے تئیں لگتی رہے گی ٹھوکر",
|
||
"CoupletIndex": 62,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 126,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ہوگا ہنگامہ ادھر نکلے گا جیدھر ہوکر",
|
||
"CoupletIndex": 62,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 127,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کس و ناکس اسی مہ پارے کا مفتوں ہوگا",
|
||
"CoupletIndex": 63,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 128,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ایسی سج سے تو اسے دیکھ کے محزوں ہوگا",
|
||
"CoupletIndex": 63,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 129,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "رشک سے اس کے ترا حال دگرگوں ہوگا",
|
||
"CoupletIndex": 64,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 130,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دل نازک ترا دھڑکے گا جگر خوں ہوگا",
|
||
"CoupletIndex": 64,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 131,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "شرم سے ہوگا نہ اک آنکھ اٹھانا مشکل",
|
||
"CoupletIndex": 65,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 132,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بلکہ ہوجاوے گا اس کوچے میں آنا مشکل",
|
||
"CoupletIndex": 65,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 133,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "طنز و تعریض و کنائے سے بتنگ آوے گا",
|
||
"CoupletIndex": 66,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 134,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ناز کا طور فراموش ہی ہوجاوے گا",
|
||
"CoupletIndex": 66,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 135,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ربط و اخلاص میں ویسا نہ مجھے پاوے گا",
|
||
"CoupletIndex": 67,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 136,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "یہ سخن یاد رہے دل میں تو پچھتاوے گا",
|
||
"CoupletIndex": 67,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 137,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آشنا جتنے ہیں بیگانہ نکل جاویں گے",
|
||
"CoupletIndex": 68,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 138,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "سر جھکائے اسی کی اور چلے آویں گے",
|
||
"CoupletIndex": 68,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 139,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "اب بھی گر سمجھے تو مجھ کو ہے وہی تجھ سے پیار",
|
||
"CoupletIndex": 69,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 140,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "چھیڑ کا ننگ نہیں تیری نہ گالی کا ہے عار",
|
||
"CoupletIndex": 69,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 141,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "وہی مخلص ہوں قدیمی وہی میں تیرا یار",
|
||
"CoupletIndex": 70,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 142,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بندگی کیش وفاشیوہ و اخلاص شعار",
|
||
"CoupletIndex": 70,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 143,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "چوٹ مجھ کو بھی تو غیروں کی ملاقات کی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 71,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 144,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "چھوڑے یہ تو تو پھر آزردگی کس بات کی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 71,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 145,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "جی نہ تڑپے گا مرا پھر نہ مری چھاتی جلے",
|
||
"CoupletIndex": 72,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 146,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دل نہ سینے میں مرے شام و سحر کوئی ملے",
|
||
"CoupletIndex": 72,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 147,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "شکوہ ناکی سے زباں منھ میں نہ زنہار ہلے",
|
||
"CoupletIndex": 73,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 148,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "آئے چلتے کہیں سے تو لیے لگ تیرے گلے",
|
||
"CoupletIndex": 73,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 149,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "زور سے بازو پہ اپنے ترے سر کو رکھا",
|
||
"CoupletIndex": 74,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 150,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دست گستاخ پہ لے تیری کمر کو رکھا",
|
||
"CoupletIndex": 74,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 151,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "بس ہوس کیشوں سے مل مل کے تو بدنام ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 75,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 152,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "بسکہ راتوں کو رہا شہرۂ ایام ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 75,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 153,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "کاسہ لیسوں کے گہے مرتکب جام ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 76,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 154,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "شوخ و شلتاقی و بدوضع و مے آشام ہوا",
|
||
"CoupletIndex": 76,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 155,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "طور پر میرے معیشت کوئی دن اچھی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 77,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 156,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "ایسے بدکار سے صحبت کوئی دن اچھی ہے",
|
||
"CoupletIndex": 77,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 157,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "آ اگر غیر کے ملنے کی قسم کھاتا ہے",
|
||
"CoupletIndex": 78,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 158,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "میرؔ بھی حرف درشتانہ سے شرماتا ہے",
|
||
"CoupletIndex": 78,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 159,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ذوق ویسا ہی ہے اس کا تو اسے بھاتا ہے",
|
||
"CoupletIndex": 79,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 160,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "دل کے واسوز سے منھ پر یہ سخن لاتا ہے",
|
||
"CoupletIndex": 79,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 161,
|
||
"Position": "Right",
|
||
"Text": "ورنہ مشتاق ہے سو جی سے جگرخستہ ترا",
|
||
"CoupletIndex": 80,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 162,
|
||
"Position": "Left",
|
||
"Text": "کشتہ و مردہ ترا رفتہ و دل بستہ ترا",
|
||
"CoupletIndex": 80,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
}
|
||
]
|
||
}
|