19 lines
4.0 KiB
JSON
19 lines
4.0 KiB
JSON
{
|
||
"Id": 958,
|
||
"PoetId": 356,
|
||
"ParentId": null,
|
||
"Title": "ولی دکنی",
|
||
"FullUrl": "/p356",
|
||
"Description": "ولی کے نام اور وطن کے بارے میں اختلاف ہے۔ اہل گجرات انھیں گجرات کا باشندہ ثابت کرتے ہیں اور اہل دکن کی تحقیق کے مطابق ان کا وطن اورنگ آباد دکن تھا۔ ولی کے اشعار سے دکنی ہونا ثابت ہے۔ ولی اللہ ولی، سلطان عبد اللہ قطب شاہ، قطب شاہوں کے ساتویں فرماں روا کے عہد میں 1667ء میں اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد حصول علم کے لیے احمد آباد آگئے۔ جو اس زمانے میں علم و فن کا مرکز تھا۔ وہاں حضرت شاہ وجیہ الدین کی خانقاہ کے مدرسے میں داخل ہو گئے۔ ولی کی عمر کا بیشتر حصہ احمد آباد میں گذرا۔ اس شہر کے فراق میں انھوں نے ایک پردرد قطعہ بھی لکھا۔ ولی نے گجرات، سورت اور دہلی کا سفر بھی کیا۔ اس کے متعلق اشارے ان کے کلام میں موجود ہیں۔\n\tدہلی میں ولی کی سعد اللہ گلشن سے ملاقات ہوئی۔ تو وہ ان کا کلام دیکھ کر بہت متاثر ہوئے اور مشورہ دیا کہ ان تمام مضامین کو جو فارسی میں بیکار پڑے ہیں۔ ریختہ کی زبان میں کام میں لانا چاہیے، تاہم یہ بات متنازع ہے اور اردو نقاد اور محقق شمس الرحمٰن فاروقی کا خیال ہے (کتاب: اردو کا ابتدائی زمانہ) کہ محض دہلی والوں کی امپیریل ازم کا نتیجہ ہے کیوں کہ اردو کے اولین تذکرہ نگار میر تقی میر اور قائم چاندپوری یہ بات تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں تھے کہ کوئی خارجی آکے دہلی میں اردو غزل کا آغاز کرے۔ اس لیے سعد اللہ گلشن والا واقعہ ایجاد کیا گیا تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ اصل میں الٹا دہلی والوں نے (یعنی سعداللہ گلشن نے) ولی کو شاعری سکھائی تھی۔ دوسرا مشورہ یہ دیا کہ دکنی الفاظ کا استعمال کم کرو اور ان کی جگہ فارسی کے شیریں الفاظ کا انتخاب کرو.\nفلسفہ کی گہرائیوں اور علمی مضامین اور اخلاقی باتیں نہ ہونے کے باوجود ولی کی شاعرانہ اہمیت مسلمہ ہے۔ جب بھی اردو غزل کی بات ہوگی اولیت کا تاج ولی کے سر کی زینت بنے گا۔ وہ اردو غزل کا بابا آدم نہ سہی، غزل کو نئے معانی اور نئے راستوں پر ڈالنے کا معمار اول ضرور ہے۔\nقائم چاند پوری نے اپنے تذکرے نکاتِ سخن میں لکھا ہے کہ ولی نے سعد کے مشورے پر عمل کیا اور دوسری مرتبہ دہلی گئے تو ان کے کلام کی خوب قدر ہوئی اور یہاں تک شہرت ہوئی کی امراءکی محفلوں میں اور جلسوں اور کوچہ و بازار میں ولی کے اشعار لوگوں کی زبان پر تھے۔ ولی دکنی کو محمد حسین آزاد نے اردو شاعری میں وہی مقام دیا ہے جو انگریزی شاعری میں چاسر اور فارسی شاعری میں رودکی کو حاصل ہے۔\nولی کی تاریخ وفات بھی بے حد متنازع ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کی تحقیق کے مطابق وہ 1730 کے بعد فوت ہوئے، تاہم زیادہ تر محققین کا خیال ہے کہ ولی 1708 کے لگ بھگ فوت ہوئے تھے۔",
|
||
"DescriptionHtml": null,
|
||
"BookName": null,
|
||
"ChildCats": [
|
||
{
|
||
"Id": 959,
|
||
"Title": "غزل",
|
||
"FullUrl": "/p356/ghazal"
|
||
}
|
||
],
|
||
"Poems": []
|
||
}
|