divan-data/poets/p59/poet.json
Anas Rashid 8cf14ad1ff
Some checks are pending
Wikisource sync / sync (push) Waiting to run
Export Gregorian (عیسوی) birth/death years alongside Hijri (BirthYearCE, DeathYearCE)
Co-Authored-By: Claude Opus 5.5 <noreply@anthropic.com>
2026-10-08 20:53:21 +02:00

17 lines
4.3 KiB
JSON
Raw Blame History

This file contains ambiguous Unicode characters

This file contains Unicode characters that might be confused with other characters. If you think that this is intentional, you can safely ignore this warning. Use the Escape button to reveal them.

{
"Id": 59,
"Name": "بہادر شاہ ظفر",
"Nickname": "بہادر شاہ ظفر",
"Description": "۱۸۵۷ء کی پہلی جنگ آزادی کے وقت بہادر شاہ ظفر ۸۲ سال کے تھے جب ان کے چار بچوں کا سر قلم کرکے ان کے سامنے انگریز تھال میں سجا کر ان کے سامنے تحفے کی شکل میں لائے تھے۔ میجر ہڈسن نے ان کے چاروں لڑکوں مرزا غلام، مرزا خضر سلطان، مرزا ابوبکر اور مرزا عبد اللہ کوبھی قید کر لیا، میجر ہڈسن نے چاروں صاحبزادوں کا سر کاٹا اور ان کا گرم خون چلو سے پی کر ہندوستان کو آزاد کرنے کی چاہ رکھنے والوں سے انگریزوں نے جنگ اوربغاوت کوجاری رکھنے کا خطرناک وحشیانہ عہد کو جاری رکھا۔ بہادر شاہ ظفر نے اپنے بیٹوں کے کٹے ہوئے سروں کو اپنے ہاتھوں میں لے کردرد بھرے الفاظ میں ان کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا تیمور کی اولاد ایسے ہی سرخرو ہو کر باپ کے سامنے اپنا فرض ادا کرتے ہیں۔ اس کے بعد شہزادوں کے دھڑ کوتوالی کے سامنے اور کٹے ہوئے سروں کو خونی دروازے پر لٹکا دیا گیا۔ بہادر شاہ ظفر نے انگریزوں کی داستان کے لیے ۱۸۵۷ء کی پہلی ہندوستانی جنگ کی اگوائی کی، انگریز سیناپتی نے انھیں دھوکے سے قتل کرنے کے لیے بلوایا اور گرفتار کرکے رنگون بھیج دیا۔\nبہادرشاہ ظفر مغل خاندان کے آخری بادشاہ تھے۔۱۸۳۷ء میں تخت پوشی کے وقت انھیں ابوالمظفر کے بدلے ابوظفر، محمد سراج الدین، بہادر شاہ غازی نام ملا تھا۔ ان کی حکومت ڈھنگ عالم سے پالم تک ہی مانا جاتا تھا۔ وہ نام ماگ کے دہلی کے چیرمین تھے اور اصل حکومت انگریزوں کے پاس تھی۔ انھوں نے اردو، عربی، فارسی، زبان کے ساتھ گھڑسواری، تلوار بازی، تیراندازی اور بندوق چلانے کی کافی مہارت حاصل کرلی تھی۔ وہ ایک اچھے صوفی درشن کے جانکار فارسی میان، سولے خن میں ادیب و شاعر تھے۔ وہ ۱۸۵۷ء تک حکومت کے کام کاج سنبھالتے رہے۔\nانگریزوں نے ان پر حکومتی مجرم اور فوجیوں قتل کے الزام میں عدالت کے ذریعہ مقدمہ چلایا، مقدمے میں پیش کیے گئے ثبو ت بہت زیادہ ظلم آمیز تھے اور قانون عام ہونے کے باوجود انگریزوں نے بہادر شاہ ظفر کو مجرم اور خاطی قرار دیا اور ملک سے نکالنے کا جرمانہ دیا۔ بے چارگی، ملک دوست، دین دار، بزرگ ۸۲ سال ہندوستان دھرتی ماں کے لاڈلے بہادر شاہ ظفر پر حیرت انگیز مقدمہ سونپا۔ اکتوبر ۱۸۵۸ء میں انھیں زندگی بھر کے لیے رنگون بھیج دیا گیا اس طرح دیش ایک محب وطن نے ملک سے دور رہ کر بھی ملک کی آزادی کے لیے خود کو قربان کرتے ہوئے اپنے قلم سے آزادی کی لڑائی کوجاری رکھا۔ اس دو ران انھوں نے جو غزلیں لکھیں وہ اپنی مہارت اورترقی کے لیے ہندو ستان کی آزادی کے کے متوالوں کے دلوں میں کشادہ جگہ رکھتی ہیں۔ رنگون میں۶ نومبر، ۱۸۶۲ء کو اس آخری مغل خاندان ۱۸۵۷ء کی پہلی جنگ آزادی کے رہبر نے اپنی جان نچھاور کردی۔",
"FullUrl": "/p59",
"ImageUrl": "https://commons.wikimedia.org/wiki/Special:FilePath/Bahadur_Shah_II_of_India.jpg",
"BirthYearInLHijri": 1189,
"ValidBirthDate": true,
"DeathYearInLHijri": 1279,
"ValidDeathDate": true,
"BirthYearCE": 1775,
"DeathYearCE": 1862,
"BirthPlace": null,
"DeathPlace": null
}