divan-data/poets/p102/_cat.json
Anas Rashid 256800c577
Some checks are pending
Wikisource sync / sync (push) Waiting to run
Published order for books and poems; divan (radif letter) order for ghazals
- wikisource.py: record each work's position in the author page list (ord), refreshed on
  every sync; children of index pages keep their parent's position
- export: walk works by ord; books in order of first appearance (Iqbal: Bang-e-Dra,
  Bal-e-Jibril, Zarb-e-Kalim, Armaghan-e-Hijaz)
- ghazal sections in divan order: last letter of the radif (opening line), alif..ye;
  ties keep source order; Iqbal keeps his books' published order

Co-Authored-By: Claude Opus 5.5 <noreply@anthropic.com>
2026-10-08 20:45:45 +02:00

29 lines
2.7 KiB
JSON
Raw Permalink Blame History

This file contains ambiguous Unicode characters

This file contains Unicode characters that might be confused with other characters. If you think that this is intentional, you can safely ignore this warning. Use the Escape button to reveal them.

{
"Id": 263,
"PoetId": 102,
"ParentId": null,
"Title": "داغ دہلوی",
"FullUrl": "/p102",
"Description": "نواب مرزا خاں اور تخلص داغ تھا۔ ۲۵ مئی ۱۸۳۱ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ابھی چھ سال ہی کے تھے کہ ان کے والد نواب شمس الدین خاں کاانتقال ہو گیا۔ آپ کی والدہ نے بہادر شاہ ظفر کے بیٹے مرزا فخرو سے شادی کر لی۔ اس طرح داغ قلعہ معلی میں باریاب ہوئے ان کی پرورش وہیں ہوئی۔ بہادر شاہ ظفر اور مرزا فخرو دونوں ذوق کے شاگرد تھے۔ لہٰذا داغ کو بھی ذوق سے فیض حاصل کرنے کا موقع ملا۔ داغ کی زبان بنانے اور سنوارنے میں ذوق کا یقینا بہت بڑا حصہ ہے۔\n۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد رام پور پہنچے جہاں نواب کلب علی خان نے داغ کی قدردانی فرمائی اور باقاعدہ ملازمت دے کر اپنی مصاحبت میں رکھا۔ داغ چوبیس سال تک رام پور میں قیام پزیر رہے۔ اس عرصے میں انھوں نے بڑے آرام و سکون اور عیش و عشرت میں وقت گزارا یہیں انھیں”حجاب“ سے محبت ہوئی اور اس کے عشق میں کلکتہ بھی گئے۔ مثنوی فریاد ِ عشق اس واقعہ عشق کی تفصیل ہے۔\nنواب کلب علی خان کی وفات کے بعد حیدر آباد دکن کارخ کیا۔ نظام دکن کی استادی کا شرف حاصل ہوا۔ دبیر الدولہ۔ فصیح الملک، نواب ناظم جنگ بہادر کے خطاب ملے۔ ۱۹۰۵ء میں فالج کی وجہ سے حیدرآباد میں وفات پائی۔ داغ کو جتنے شاگرد میسر آئے اتنے کسی بھی شاعر کو نہ مل سکے۔ اس کے شاگردوں کا سلسلہ ہندوستان میں پھیلا ہوا تھا۔ حسن رضا حسن ،اقبال، جگر مراد آبادی، سیماب اکبر آبادی اور احسن مارہروی جیسے معروف شاعر وں کو ان کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔ ان کے جانشین نوح ناروی بھی ایک معروف شاعر ہیں۔\nداغ دہلوی کی شاعری کی کلیات",
"DescriptionHtml": null,
"BookName": null,
"ChildCats": [
{
"Id": 264,
"Title": "غزل",
"FullUrl": "/p102/ghazal"
},
{
"Id": 266,
"Title": "قطعہ",
"FullUrl": "/p102/qita"
},
{
"Id": 265,
"Title": "نعت",
"FullUrl": "/p102/naat"
}
],
"Poems": []
}