divan-data/poets/p50/poet.json
Anas Rashid 8cf14ad1ff
Some checks are pending
Wikisource sync / sync (push) Waiting to run
Export Gregorian (عیسوی) birth/death years alongside Hijri (BirthYearCE, DeathYearCE)
Co-Authored-By: Claude Opus 5.5 <noreply@anthropic.com>
2026-10-08 20:53:21 +02:00

17 lines
3.7 KiB
JSON
Raw Permalink Blame History

This file contains ambiguous Unicode characters

This file contains Unicode characters that might be confused with other characters. If you think that this is intentional, you can safely ignore this warning. Use the Escape button to reveal them.

{
"Id": 50,
"Name": "باقی صدیقی",
"Nickname": "باقی صدیقی",
"Description": "باقی صدیقی پنجابی، پوٹھاری اور اردو زبان کے مشہور شاعر ہیں ان کا تعلق پاکستان سے ہے باقی صدیقی کی وجہ شہرت ان کی مشہور غزل داغ دل یاد آنے لگے ہے\nباقی صدیقی ۲۰ دسمبر۱۹۰۵میں راولپنڈی کے گاؤں سہام یا شام میں پیدا ہوئے جو اس وقت برٹش انڈیا کا حصہ تھاپیدائش کے وقت والدین نے باقی صدیقی صاحب کا نام محمد افضل رکھا تھا تاہم وہ اپنے ادبی نام سے جانے جاتے ہیں باقی صاحب کے والد برٹش راج میں شمال مغربی ریاست کے ریلوے کے محکمے میں ملاز م تھے باقی صدیقی صاحب نے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد کچھ عرصہ اسکول میں بطور استاد خدمات انجام دیں بعد ازاں وہ ۱۹۳۲ میں ممبئی منتقل ہو گئے اور ممبئی کی فلم نگری میں بطور اداکار اور مکالمہ نگار خدمات انجام دینے لگے ۱۹۴۰میں برطانوی فوج میں شامل ہوئے مگر فورا ہی استفعی دے دیا اور دوبارہ اپنے آبائی علاقے میں واپس آکر راولپنڈی میں ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہو گئے جہاں انھوں نے لگ بھگ اٹھارہ برس خدمات انجام دیں اس دوران انھوں نے پوٹھاری زبان کے کئی عمدہ نغمے لکھ کر شہرت حاصل کی \nابتدائی اور پیشہ وارنہ زندگی\nباقی صدیقی صاحب نے اپنی شاعری کا آغاز ۱۹۲۸ میں مشاعروں سے کیا ان مشاعروں میں وہ اپنے قلمی نام باقی صدیقی سے شرکت کرتے تھے ابتدا میں وہ صرف پنجابی اور پوٹھاری میں شاعری کرتے تھے تاہم جلد ہی انھوں نے اردو زبان میں بھی اشعار کہنا شروع کردئے اور اردوزبان کے کئی شعرا سے مراسم پیدا کرلئے جس میں محسن احسان، شوکت واسطی، احمد فراز، رضا حمدانی، احسان دانش، عبد الحمید عدم وغیرہ قابل زکر ہیں باقی صدیقی صاحب کا پہلا مجموعہ کلام۱۹۴۴میں '' جام جم'' کے نام سے شائع ہوا جب کہ بقیہ دو کلام'' کتنی دیر چراغ جلا'' اور'' زاد راہ'' ان کے انتقال کے بعد۱۹۷۷ اور۱۹۸۴ میں منظر عام پر آئے۔\nذاتی زندگی\nباقی صدیقی صاحب نے ساری زندگی شادی نہیں کی انھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اپنی چھوٹی مطلقہ بہن اصغری خانم کو سہارا دینے میں ان کے ساتھ گزارا۔\nکتابیں\nجام جم (نظمیں اور غزلیں) اشاعت ۱۹۴۴\nدارورسن اشاعت۱۹۵۱\nزخم بہار اشاعت ۱۹۶۱\nکچے گھڑے (پوٹھاری شاعری)اشاعت۱۹۶۷\nکتنی دیر چراغ جلا اشاعت ۱۹۷۷\nزاد راہ (نشید) اشاعت ۱۹۸۴\nانتقال\nباقی صدیقی صاحب کا انتقال۸ جنوری۱۹۷۲ میں راولپنڈی میں ہوااور ان کے آبائی علاقے میں تدفین کی گئی۔",
"FullUrl": "/p50",
"ImageUrl": null,
"BirthYearInLHijri": 1323,
"ValidBirthDate": true,
"DeathYearInLHijri": 1392,
"ValidDeathDate": true,
"BirthYearCE": 1905,
"DeathYearCE": 1972,
"BirthPlace": null,
"DeathPlace": null
}