437 lines
32 KiB
JSON
437 lines
32 KiB
JSON
{
|
||
"Id": 3795,
|
||
"CatId": 357,
|
||
"Title": "بغیر اجازت (افسانہ)",
|
||
"FullTitle": "سعادت حسن منٹو » بغیر اجازت » بغیر اجازت (افسانہ)",
|
||
"FullUrl": "/p136/c357/sh3795",
|
||
"RhymeLetters": null,
|
||
"SourceName": "ویکی ماخذ",
|
||
"SourceUrlSlug": "wikisource",
|
||
"SourceUrl": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D8%AC%D8%A7%D8%B2%D8%AA_%28%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%29",
|
||
"Language": "ur-PK",
|
||
"PoemSummary": null,
|
||
"Metre": null,
|
||
"Sections": [
|
||
{
|
||
"Index": 0,
|
||
"Number": 1,
|
||
"SectionType": "WholePoem",
|
||
"VerseType": "First",
|
||
"RhymeLetters": null,
|
||
"PlainText": "نعیم ٹہلتا ٹہلتا ایک باغ کے اندر چلا گیا۔۔۔ اس کو وہاں کی فضا بہت پسند آئی۔۔۔ گھاس کے ایک تختے پر لیٹ کر اس نے خود کلامی شروع کر دی۔\r\n’’کیسی پر فضا جگہ ہے۔۔۔ حیرت ہے کہ آج تک میری نظروں سے اوجھل رہی۔۔۔ نظریں۔۔۔ اوجھل۔‘‘\r\nاتنا کہہ کر وہ مسکرایا۔\r\n’’نظر ہو تو چیزیں نظر بھی نہیں آتیں۔۔۔ آہ کہ نظر کی بے نظری!‘‘ دیر تک وہ گھاس کے اس تختے پر لیٹا اور ٹھنڈک محسوس کرتا رہا۔ لیکن اس کی خود کلامی جاری تھی۔\r\n’’ یہ نرم نرم گھاس کتنی فرحت ناک ہے!آنکھیں پاؤں کے تلووں میں چلی آئیں۔۔۔ اور یہ پھول۔۔۔ یہ پھول اتنے خوبصورت نہیں جتنی ان کی ہرجائی خوشبو ہے۔۔۔ ہر شے جوہر جائی ہو۔۔۔خوبصورت ہوتی ہے۔۔۔ ہر جائی عورت۔۔۔ ہر جائی مرد۔۔۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔۔۔ یہ خوبصورت چیزیں پہلے پیدا ہوئی تھیں۔۔۔ یا خوبصورت خیال۔۔۔ ہر خیال خوبصورت ہوتا ہے۔۔۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ ہر پھول خوبصورت نہیں ہوتا۔۔۔ مثال کے طور پر یہ پھول۔۔۔‘‘\r\nاس نے اٹھ کر ایک پھول کی طرف دیکھا اور اپنی خود کلامی جاری رکھی، ’’یہ اس ٹہنی پر اکڑوں بیٹھا ہے ۔۔۔ کتنا سفلہ دکھائی دیتا ہے بہر حال، یہ جگہ خوب ہے۔۔۔ ایک بہت بڑا دماغ معلوم ہوتی ہے۔۔۔ روشنی بھی ہے۔۔۔ سائے بھی ہیں۔۔۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت میں نہیں بلکہ یہ جگہ سوچ رہی ہے ۔یہ پرفضا جگہ جو اتنی دیر میری نظروں سے اوجھل رہی۔‘‘ اس کے بعد نعیم فرطِ مسرت میں کوئی غزل گانا شروع کر دیتا ہے۔۔۔ کہ اچانک موٹر کے ہارن کی کرخت آواز اس کے سازِ دل کے سارے تار جھنجھوڑ دیتی ہے۔\r\nوہ چونک کر اٹھتا ہے۔۔۔ دیکھتا ہے کہ ایک موٹر پاس کی روش پر کھڑ ی ہے اور ایک لمبی لمبی مونچھوں والا آدمی اس کی طرف قہرآلود نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔۔۔ اس مونچھوں والے آدمی نے گرج کر کہا:\r\n’’اے تم کون ہو؟‘‘\r\nنعیم جو اپنے ہی نشے میں سر شار تھا، چونکا، ’’یہ موٹر اس باغ میں کہاں سے آگئی؟‘‘\r\nمونچھوں والا جو اس باغ کا مالک تھا، بڑ بڑایا۔\r\n’’وضع قطع سے تو آدمی شریف معلوم ہوتا ہے مگر یہاں کیسے گھس آیا۔۔۔ کس اطمینان سے لیٹا تھا جیسے اس کے باوا کا باغ ہے۔‘‘ پھر اس نے بلند آواز میں للکار کے نعیم سے کہا :\r\n’’اماں۔۔۔ کچھ سنتے ہو؟‘‘\r\nنعیم نے جواب دیا، ’’حضور سن رہا ہوں۔۔۔ تشریف لے آئیے۔۔۔ یہاں بہت پر فضا جگہ ہے۔۔۔‘‘\r\nباغ کا مالک بھنّا گیا، ’’تشریف کا بچہ۔۔۔ اِدھر آؤ۔۔۔‘‘\r\nنعیم لیٹ گیا۔\r\n’’بھئی مجھ سے نہ آیا جائے گا ،تم خود ہی چلے آؤ۔۔۔ واللہ ! بڑی دل فریب جگہ ہے تمہاری سب کوفت دور ہو جائے گی۔۔۔‘‘\r\nباغ کا مالک موٹر سے نکلا۔۔۔ اور غصے میں بھرا ہوا نعیم کے پاس آیا:\r\n’’اُٹھو یہاں سے!‘‘\r\nنعیم کے کانوں میں اس کی تیکھی آواز بہت ناگوار گزری، ’’اتنے اونچے نہ بولو۔۔۔ آؤ، میرے پاس لیٹ جاؤ۔۔۔ بالکل خاموش جس طرح کہ میں لیٹا ہوا ہوں۔۔۔ آنکھیں بند کر لو۔۔۔ اپنا سارا جسم ڈھیلا چھوڑ دو۔۔۔ دماغ کی ساری بتیاں گل کر دو۔۔۔ پھر جب تم اس اندھیرے میں چلو گے تو ٹٹولتی ہوئی تمہاری انگلیاں غیر ارادی طور پر ایسے قمقمے روشن کریں گی جن کے وجود سے تم بالکل غافل تھے۔ آؤ میرے ساتھ لیٹ جاؤ۔۔۔‘‘\r\nباغ کے مالک نے ایک لحظہ سوچا۔۔۔ نعیم سے کہا، ’’دیوانے معلوم ہوتے ہو۔۔۔‘‘ نعیم مسکرایا، ’’نہیں۔۔۔ تم نے کبھی دیوانے دیکھے ہی نہیں۔۔۔ میری جگہ یہاں اگر کوئی دیوانہ ہوتا تو وہ ان بکھری ہوئی جھاڑیوں اور ٹہنیوں پر بچوں کے گالوں کے مانند لٹکے ہوئے پھولوں سے کبھی مطمئن نہ ہوتا۔۔۔ دیوانگی اطمینان کا نام نہیں میرے دوست۔۔۔ لیکن آؤ! دیوانگی کی باتیں کریں۔‘‘\r\n’’بکواس بند کرو۔۔۔ نکل جاؤ یہاں سے۔‘‘\r\nباغ کے مالک کو طیش آگیا۔۔۔ اس نے اپنے ڈرائیورکو بلایا اور کہا کہ نعیم کو دھکے مار کر باہر نکال دے۔\r\n’’ارے تم کون ہو ؟ بڑے بد تمیز معلوم ہوتے ہو۔‘‘\r\nجب نعیم باہر جارہا تھا تو اس نے گیٹ پر ایک بورڈ دیکھا جس پر یہ لکھا تھا، ’’بغیر اجازت اندر آنا منع ہے۔‘‘\r\nوہ مسکرایا۔\r\nحیرت ہے کہ یہ میری نظروں سے اوجھل رہا۔۔۔ نظر ہو تو بعض چیزیں نظر نہیں بھی آتیں۔۔۔ آہ نظر کی یہ بے نظری۔\r\nیہاں سے نکل کر وہ ایک آرٹ کی نمائش میں چلا گیا تاکہ اپنا ذہنی تکدر دور کرسکے۔ہال میں داخل ہوتے ہی اس کو عورتوں اور مردوں کا جھرمٹ نظر آیا جو دیواروں پر لگی پینٹنگز دیکھ رہا تھا۔\r\nایک مرد کسی پارسی عورت سے کہہ رہا تھا، ’’مسز فوجدار۔۔۔ یہ پینٹنگ دیکھی آپ نے؟‘‘\r\nمسز فوجدار نے تصویر کو ایک نظر دیکھنے کے بعد ایک عورت شیریں کی طرف بڑے غور سے دیکھا اور اس مرد سے جو غالباً اس کا ہونے والا شوہر تھا کہا، ’’تم نے دیکھا ، شیریں کتنی سج بن کر آئی ہے!‘‘\r\nایک نوجوان عورت ایک نو عمر لڑکی سے کہہ رہی تھی،’’ثریا ! ادھر آ کے تصویریں دیکھ۔۔۔ تو وہاں کھڑی کیا کر رہی ہے؟‘‘\r\nثریا کو تصویروں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، اصل میں اس کو ایک بوائے فرینڈ سے ملنا تھا۔\r\nایک ادھیڑ عمر کا مرد جسے پینٹنگ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، اپنے ادھیڑ عمر کے دوست سے کہہ رہا تھا، ’’بلی زکام کی وجہ سے نڈھال ہے، ورنہ ضرور آتی۔۔۔ آپ جانتے ہی ہیں پینٹنگز سے اسے کتنی دلچسپی ہے، اب تو وہ بہت اچھی تصویریں بنا لیتی ہے، پرسوں اس نے پنسل کاغذ لے کر اپنے چھوٹے بھائی کی سائیکل کی تصویراتاری۔۔۔ میں تو دنگ رہ گیا۔‘‘\r\nنعیم پاس کھڑا تھا۔۔۔ اس نے ہلکے سے طنز کے ساتھ کہا، ’’ہو بہو سائیکل معلوم ہوتی ہوگی!‘‘\r\nدونوں دوست بھونچکے سے ہو کر رہ گئے کہ یہ کون بد تمیز ہے۔ چنانچہ ان میں سے ایک نے نعیم سے پوچھا، ’’آپ کون۔۔۔؟‘‘\r\nنعیم بوکھلا گیا۔\r\n’’ میں۔۔۔ میں۔۔۔‘‘\r\n’’میں میں کیا کرتے ہو۔۔۔ بتاؤ تم کون ہو؟‘‘\r\nنعیم نے سنبھل کر کہا، ’’آپ ذرا آرام سے پوچھیے۔۔۔ میں آپ کو بتا سکتا ہوں۔۔۔‘‘\r\n’’تم یہاں آئے کیسے؟‘‘\r\nنعیم کا جواب بڑا مختصر تھا، ’’جی پیدل۔۔۔‘‘\r\nعورتوں اور مردوں نے جو آس پاس کھڑے تصویریں دیکھنے کی بجائے خدا معلوم کن کن چیزوں پر تبصرہ کر رہے تھے، ہنسنا شروع کر دیا۔۔۔ اتنے میں اس نمائش کا ناظم آیا۔ اس کو نعیم کی گستاخی کے متعلق بتایا گیا تو اس نے بڑے کڑے انداز میں اس سے پوچھا، ’’تمہارے پاس کارڈ ہے؟‘‘\r\n’’بغیر اجازت تم اندر چلے آئے۔ جاؤ بھاگ جاؤ یہاں سے۔‘‘\r\nنعیم ایک تصویر کو دیر تک دیکھنا چاہتا تھا مگر اسے بادل ناخواستہ وہاں سے نکلنا پڑا۔۔۔ سیدھا اپنے گھر گیا، دروازے پر دستک دی۔ اس کا نوکر فضلو باہر نکلا ۔نعیم نے اس سے درخواست کی، ’’کیا میں اندر آسکتا ہوں؟‘‘\r\nفضلو بوکھلا گیا، ’’حضور۔۔۔ حضور۔۔۔ یہ آپ کا اپنا گھر ہے۔ اجازت کیسی؟‘‘\r\nنعیم نے کہا، ’’نہیں فضلو۔۔۔ یہ میرا گھر نہیں۔۔۔ یہ گھر جو مجھے راحت بخشتا ہے، کیسے میرا ہوسکتا ہے۔۔۔ مجھے اب ایک نئی بات معلوم ہوئی ہے۔‘‘\r\nفضلو نے بڑے ادب سے پوچھا، ’’کیا سرکار؟‘‘\r\nنعیم نے کہا، ’’یہی کہ یہ میرا گھر نہیں۔۔۔ البتہ اس کا گرد و غبار۔۔۔ اس کی تمام غلاظتیں میری ہیں۔۔۔ وہ تمام چیزیں جن سے مجھے کوفت ہوتی ہے، میری ہیں، لیکن وہ تمام چیزیں جن سے مجھے راحت پہنچتی ہے کسی اور کی ۔۔۔ خدا جانے کس کی۔۔۔ میں اب ڈرتا ہوں۔۔۔ کسی اچھی چیز کو اپنانے سے خوف لگتا ہے ۔ یہ پانی میرا نہیں۔۔۔ یہ ہوا میری نہیں۔۔۔ یہ آسمان میرا نہیں۔۔۔ وہ لحاف جو میں سردیوں میں اوڑھتا ہوں، میرا نہیں۔۔۔ اس لیے کہ میں اس سے راحت طلب کرتا تھا۔۔۔ فضلو جاؤ۔۔۔ تم بھی میرے نہیں۔۔۔‘‘\r\nنعیم نے فضلو کو کوئی بات کرنے نہ دی۔\r\nوہ چلا گیا۔\r\nرات کے دس بج چکے تھے۔\r\nہیرا منڈی کے ایک کوٹھے سے ’’پیابن ناہیں آوت چین‘‘ کے بول باہر اڑ اڑ کے آرہے تھے\r\nنعیم اس کوٹھے پر چلا گیا۔\r\nاندر مجرا سننے والے تین چار مردوں کی طرف دیکھا۔۔۔ اور طوائف سے کہا، ’’ان اصحاب کو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا؟ ‘‘\r\nطوائف مسکرائی، ’’انہیں کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔۔۔؟ ادھر مسند پر بیٹھیے گاؤ تکیہ لے لیجیے!‘‘\r\nنعیم بیٹھ گیا۔۔۔ اس نے کمرے کا جائزہ لیا اور اس طوائف سے کہا، ’’یہ کتنی اچھی جگہ ہے!‘‘\r\nطوائف سنجیدہ ہوگئ، ’’آپ کیا میرا مذاق اڑانے آئے ہیں۔۔۔ یہ اچھی جگہ ہے۔۔۔ جسے تمام شرفا حد سے زیادہ گندی جگہ سمجھتے ہیں۔۔۔‘‘\r\nنعیم نے اس سے کہا، ’’یہ اچھی جگہ اس لیے ہے کہ یہاں ’’بغیر اجازت کے آنا منع ہے‘‘ کا بورڈ آویزاں نہیں ہے۔۔۔‘‘\r\nیہ سن کر طوائف اور اس کا مجرا سننے والے تماش بین ہنسنے لگے۔ نعیم نے ایسا محسوس کیا کہ دنیا ایک اس قسم کی طوائف ہے جس کا مجرا سننے کے لیے اس قسم کے چغد آتے ہیں۔",
|
||
"HtmlText": null,
|
||
"PoemFormat": null,
|
||
"Language": "ur-PK",
|
||
"CoupletsCount": 58
|
||
}
|
||
],
|
||
"Verses": [
|
||
{
|
||
"VOrder": 1,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نعیم ٹہلتا ٹہلتا ایک باغ کے اندر چلا گیا۔۔۔ اس کو وہاں کی فضا بہت پسند آئی۔۔۔ گھاس کے ایک تختے پر لیٹ کر اس نے خود کلامی شروع کر دی۔",
|
||
"CoupletIndex": 0,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 2,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "’’کیسی پر فضا جگہ ہے۔۔۔ حیرت ہے کہ آج تک میری نظروں سے اوجھل رہی۔۔۔ نظریں۔۔۔ اوجھل۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 1,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 3,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "اتنا کہہ کر وہ مسکرایا۔",
|
||
"CoupletIndex": 2,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 4,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "’’نظر ہو تو چیزیں نظر بھی نہیں آتیں۔۔۔ آہ کہ نظر کی بے نظری!‘‘ دیر تک وہ گھاس کے اس تختے پر لیٹا اور ٹھنڈک محسوس کرتا رہا۔ لیکن اس کی خود کلامی جاری تھی۔",
|
||
"CoupletIndex": 3,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 5,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "’’ یہ نرم نرم گھاس کتنی فرحت ناک ہے!آنکھیں پاؤں کے تلووں میں چلی آئیں۔۔۔ اور یہ پھول۔۔۔ یہ پھول اتنے خوبصورت نہیں جتنی ان کی ہرجائی خوشبو ہے۔۔۔ ہر شے جوہر جائی ہو۔۔۔خوبصورت ہوتی ہے۔۔۔ ہر جائی عورت۔۔۔ ہر جائی مرد۔۔۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔۔۔ یہ خوبصورت چیزیں پہلے پیدا ہوئی تھیں۔۔۔ یا خوبصورت خیال۔۔۔ ہر خیال خوبصورت ہوتا ہے۔۔۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ ہر پھول خوبصورت نہیں ہوتا۔۔۔ مثال کے طور پر یہ پھول۔۔۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 4,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 6,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "اس نے اٹھ کر ایک پھول کی طرف دیکھا اور اپنی خود کلامی جاری رکھی، ’’یہ اس ٹہنی پر اکڑوں بیٹھا ہے ۔۔۔ کتنا سفلہ دکھائی دیتا ہے بہر حال، یہ جگہ خوب ہے۔۔۔ ایک بہت بڑا دماغ معلوم ہوتی ہے۔۔۔ روشنی بھی ہے۔۔۔ سائے بھی ہیں۔۔۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت میں نہیں بلکہ یہ جگہ سوچ رہی ہے ۔یہ پرفضا جگہ جو اتنی دیر میری نظروں سے اوجھل رہی۔‘‘ اس کے بعد نعیم فرطِ مسرت میں کوئی غزل گانا شروع کر دیتا ہے۔۔۔ کہ اچانک موٹر کے ہارن کی کرخت آواز اس کے سازِ دل کے سارے تار جھنجھوڑ دیتی ہے۔",
|
||
"CoupletIndex": 5,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 7,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "وہ چونک کر اٹھتا ہے۔۔۔ دیکھتا ہے کہ ایک موٹر پاس کی روش پر کھڑ ی ہے اور ایک لمبی لمبی مونچھوں والا آدمی اس کی طرف قہرآلود نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔۔۔ اس مونچھوں والے آدمی نے گرج کر کہا:",
|
||
"CoupletIndex": 6,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 8,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "’’اے تم کون ہو؟‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 7,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 9,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نعیم جو اپنے ہی نشے میں سر شار تھا، چونکا، ’’یہ موٹر اس باغ میں کہاں سے آگئی؟‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 8,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 10,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "مونچھوں والا جو اس باغ کا مالک تھا، بڑ بڑایا۔",
|
||
"CoupletIndex": 9,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 11,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "’’وضع قطع سے تو آدمی شریف معلوم ہوتا ہے مگر یہاں کیسے گھس آیا۔۔۔ کس اطمینان سے لیٹا تھا جیسے اس کے باوا کا باغ ہے۔‘‘ پھر اس نے بلند آواز میں للکار کے نعیم سے کہا :",
|
||
"CoupletIndex": 10,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 12,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "’’اماں۔۔۔ کچھ سنتے ہو؟‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 11,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 13,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نعیم نے جواب دیا، ’’حضور سن رہا ہوں۔۔۔ تشریف لے آئیے۔۔۔ یہاں بہت پر فضا جگہ ہے۔۔۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 12,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 14,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "باغ کا مالک بھنّا گیا، ’’تشریف کا بچہ۔۔۔ اِدھر آؤ۔۔۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 13,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 15,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نعیم لیٹ گیا۔",
|
||
"CoupletIndex": 14,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 16,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "’’بھئی مجھ سے نہ آیا جائے گا ،تم خود ہی چلے آؤ۔۔۔ واللہ ! بڑی دل فریب جگہ ہے تمہاری سب کوفت دور ہو جائے گی۔۔۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 15,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 17,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "باغ کا مالک موٹر سے نکلا۔۔۔ اور غصے میں بھرا ہوا نعیم کے پاس آیا:",
|
||
"CoupletIndex": 16,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 18,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "’’اُٹھو یہاں سے!‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 17,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 19,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نعیم کے کانوں میں اس کی تیکھی آواز بہت ناگوار گزری، ’’اتنے اونچے نہ بولو۔۔۔ آؤ، میرے پاس لیٹ جاؤ۔۔۔ بالکل خاموش جس طرح کہ میں لیٹا ہوا ہوں۔۔۔ آنکھیں بند کر لو۔۔۔ اپنا سارا جسم ڈھیلا چھوڑ دو۔۔۔ دماغ کی ساری بتیاں گل کر دو۔۔۔ پھر جب تم اس اندھیرے میں چلو گے تو ٹٹولتی ہوئی تمہاری انگلیاں غیر ارادی طور پر ایسے قمقمے روشن کریں گی جن کے وجود سے تم بالکل غافل تھے۔ آؤ میرے ساتھ لیٹ جاؤ۔۔۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 18,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 20,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "باغ کے مالک نے ایک لحظہ سوچا۔۔۔ نعیم سے کہا، ’’دیوانے معلوم ہوتے ہو۔۔۔‘‘ نعیم مسکرایا، ’’نہیں۔۔۔ تم نے کبھی دیوانے دیکھے ہی نہیں۔۔۔ میری جگہ یہاں اگر کوئی دیوانہ ہوتا تو وہ ان بکھری ہوئی جھاڑیوں اور ٹہنیوں پر بچوں کے گالوں کے مانند لٹکے ہوئے پھولوں سے کبھی مطمئن نہ ہوتا۔۔۔ دیوانگی اطمینان کا نام نہیں میرے دوست۔۔۔ لیکن آؤ! دیوانگی کی باتیں کریں۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 19,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 21,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "’’بکواس بند کرو۔۔۔ نکل جاؤ یہاں سے۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 20,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 22,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "باغ کے مالک کو طیش آگیا۔۔۔ اس نے اپنے ڈرائیورکو بلایا اور کہا کہ نعیم کو دھکے مار کر باہر نکال دے۔",
|
||
"CoupletIndex": 21,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 23,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "’’ارے تم کون ہو ؟ بڑے بد تمیز معلوم ہوتے ہو۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 22,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 24,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "جب نعیم باہر جارہا تھا تو اس نے گیٹ پر ایک بورڈ دیکھا جس پر یہ لکھا تھا، ’’بغیر اجازت اندر آنا منع ہے۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 23,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 25,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "وہ مسکرایا۔",
|
||
"CoupletIndex": 24,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 26,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "حیرت ہے کہ یہ میری نظروں سے اوجھل رہا۔۔۔ نظر ہو تو بعض چیزیں نظر نہیں بھی آتیں۔۔۔ آہ نظر کی یہ بے نظری۔",
|
||
"CoupletIndex": 25,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 27,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "یہاں سے نکل کر وہ ایک آرٹ کی نمائش میں چلا گیا تاکہ اپنا ذہنی تکدر دور کرسکے۔ہال میں داخل ہوتے ہی اس کو عورتوں اور مردوں کا جھرمٹ نظر آیا جو دیواروں پر لگی پینٹنگز دیکھ رہا تھا۔",
|
||
"CoupletIndex": 26,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 28,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "ایک مرد کسی پارسی عورت سے کہہ رہا تھا، ’’مسز فوجدار۔۔۔ یہ پینٹنگ دیکھی آپ نے؟‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 27,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 29,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "مسز فوجدار نے تصویر کو ایک نظر دیکھنے کے بعد ایک عورت شیریں کی طرف بڑے غور سے دیکھا اور اس مرد سے جو غالباً اس کا ہونے والا شوہر تھا کہا، ’’تم نے دیکھا ، شیریں کتنی سج بن کر آئی ہے!‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 28,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 30,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "ایک نوجوان عورت ایک نو عمر لڑکی سے کہہ رہی تھی،’’ثریا ! ادھر آ کے تصویریں دیکھ۔۔۔ تو وہاں کھڑی کیا کر رہی ہے؟‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 29,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 31,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "ثریا کو تصویروں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، اصل میں اس کو ایک بوائے فرینڈ سے ملنا تھا۔",
|
||
"CoupletIndex": 30,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 32,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "ایک ادھیڑ عمر کا مرد جسے پینٹنگ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، اپنے ادھیڑ عمر کے دوست سے کہہ رہا تھا، ’’بلی زکام کی وجہ سے نڈھال ہے، ورنہ ضرور آتی۔۔۔ آپ جانتے ہی ہیں پینٹنگز سے اسے کتنی دلچسپی ہے، اب تو وہ بہت اچھی تصویریں بنا لیتی ہے، پرسوں اس نے پنسل کاغذ لے کر اپنے چھوٹے بھائی کی سائیکل کی تصویراتاری۔۔۔ میں تو دنگ رہ گیا۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 31,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 33,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نعیم پاس کھڑا تھا۔۔۔ اس نے ہلکے سے طنز کے ساتھ کہا، ’’ہو بہو سائیکل معلوم ہوتی ہوگی!‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 32,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 34,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "دونوں دوست بھونچکے سے ہو کر رہ گئے کہ یہ کون بد تمیز ہے۔ چنانچہ ان میں سے ایک نے نعیم سے پوچھا، ’’آپ کون۔۔۔؟‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 33,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 35,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نعیم بوکھلا گیا۔",
|
||
"CoupletIndex": 34,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 36,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "’’ میں۔۔۔ میں۔۔۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 35,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 37,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "’’میں میں کیا کرتے ہو۔۔۔ بتاؤ تم کون ہو؟‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 36,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 38,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نعیم نے سنبھل کر کہا، ’’آپ ذرا آرام سے پوچھیے۔۔۔ میں آپ کو بتا سکتا ہوں۔۔۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 37,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 39,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "’’تم یہاں آئے کیسے؟‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 38,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 40,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نعیم کا جواب بڑا مختصر تھا، ’’جی پیدل۔۔۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 39,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 41,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "عورتوں اور مردوں نے جو آس پاس کھڑے تصویریں دیکھنے کی بجائے خدا معلوم کن کن چیزوں پر تبصرہ کر رہے تھے، ہنسنا شروع کر دیا۔۔۔ اتنے میں اس نمائش کا ناظم آیا۔ اس کو نعیم کی گستاخی کے متعلق بتایا گیا تو اس نے بڑے کڑے انداز میں اس سے پوچھا، ’’تمہارے پاس کارڈ ہے؟‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 40,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 42,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "’’بغیر اجازت تم اندر چلے آئے۔ جاؤ بھاگ جاؤ یہاں سے۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 41,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 43,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نعیم ایک تصویر کو دیر تک دیکھنا چاہتا تھا مگر اسے بادل ناخواستہ وہاں سے نکلنا پڑا۔۔۔ سیدھا اپنے گھر گیا، دروازے پر دستک دی۔ اس کا نوکر فضلو باہر نکلا ۔نعیم نے اس سے درخواست کی، ’’کیا میں اندر آسکتا ہوں؟‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 42,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 44,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "فضلو بوکھلا گیا، ’’حضور۔۔۔ حضور۔۔۔ یہ آپ کا اپنا گھر ہے۔ اجازت کیسی؟‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 43,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 45,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نعیم نے کہا، ’’نہیں فضلو۔۔۔ یہ میرا گھر نہیں۔۔۔ یہ گھر جو مجھے راحت بخشتا ہے، کیسے میرا ہوسکتا ہے۔۔۔ مجھے اب ایک نئی بات معلوم ہوئی ہے۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 44,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 46,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "فضلو نے بڑے ادب سے پوچھا، ’’کیا سرکار؟‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 45,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 47,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نعیم نے کہا، ’’یہی کہ یہ میرا گھر نہیں۔۔۔ البتہ اس کا گرد و غبار۔۔۔ اس کی تمام غلاظتیں میری ہیں۔۔۔ وہ تمام چیزیں جن سے مجھے کوفت ہوتی ہے، میری ہیں، لیکن وہ تمام چیزیں جن سے مجھے راحت پہنچتی ہے کسی اور کی ۔۔۔ خدا جانے کس کی۔۔۔ میں اب ڈرتا ہوں۔۔۔ کسی اچھی چیز کو اپنانے سے خوف لگتا ہے ۔ یہ پانی میرا نہیں۔۔۔ یہ ہوا میری نہیں۔۔۔ یہ آسمان میرا نہیں۔۔۔ وہ لحاف جو میں سردیوں میں اوڑھتا ہوں، میرا نہیں۔۔۔ اس لیے کہ میں اس سے راحت طلب کرتا تھا۔۔۔ فضلو جاؤ۔۔۔ تم بھی میرے نہیں۔۔۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 46,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 48,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نعیم نے فضلو کو کوئی بات کرنے نہ دی۔",
|
||
"CoupletIndex": 47,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 49,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "وہ چلا گیا۔",
|
||
"CoupletIndex": 48,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 50,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "رات کے دس بج چکے تھے۔",
|
||
"CoupletIndex": 49,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 51,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "ہیرا منڈی کے ایک کوٹھے سے ’’پیابن ناہیں آوت چین‘‘ کے بول باہر اڑ اڑ کے آرہے تھے",
|
||
"CoupletIndex": 50,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 52,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نعیم اس کوٹھے پر چلا گیا۔",
|
||
"CoupletIndex": 51,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 53,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "اندر مجرا سننے والے تین چار مردوں کی طرف دیکھا۔۔۔ اور طوائف سے کہا، ’’ان اصحاب کو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا؟ ‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 52,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 54,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "طوائف مسکرائی، ’’انہیں کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔۔۔؟ ادھر مسند پر بیٹھیے گاؤ تکیہ لے لیجیے!‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 53,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 55,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نعیم بیٹھ گیا۔۔۔ اس نے کمرے کا جائزہ لیا اور اس طوائف سے کہا، ’’یہ کتنی اچھی جگہ ہے!‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 54,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 56,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "طوائف سنجیدہ ہوگئ، ’’آپ کیا میرا مذاق اڑانے آئے ہیں۔۔۔ یہ اچھی جگہ ہے۔۔۔ جسے تمام شرفا حد سے زیادہ گندی جگہ سمجھتے ہیں۔۔۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 55,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 57,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "نعیم نے اس سے کہا، ’’یہ اچھی جگہ اس لیے ہے کہ یہاں ’’بغیر اجازت کے آنا منع ہے‘‘ کا بورڈ آویزاں نہیں ہے۔۔۔‘‘",
|
||
"CoupletIndex": 56,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
},
|
||
{
|
||
"VOrder": 58,
|
||
"Position": "Paragraph",
|
||
"Text": "یہ سن کر طوائف اور اس کا مجرا سننے والے تماش بین ہنسنے لگے۔ نعیم نے ایسا محسوس کیا کہ دنیا ایک اس قسم کی طوائف ہے جس کا مجرا سننے کے لیے اس قسم کے چغد آتے ہیں۔",
|
||
"CoupletIndex": 57,
|
||
"SectionIndex1": 0
|
||
}
|
||
]
|
||
}
|