divan-data/poets/p136/c355/sh3763.json
Anas Rashid eb4e74f0a1 Rename export_ganjoor.py -> export_divan.py, ganjoor_ids -> divan_ids; Language ur-PK
Co-Authored-By: Claude Opus 5.5 <noreply@anthropic.com>
2026-10-04 23:51:03 +02:00

710 lines
58 KiB
JSON
Raw Permalink Blame History

This file contains ambiguous Unicode characters

This file contains Unicode characters that might be confused with other characters. If you think that this is intentional, you can safely ignore this warning. Use the Escape button to reveal them.

{
"Id": 3763,
"CatId": 355,
"Title": "آتش پارے ۔ جی آیا صاحب",
"FullTitle": "سعادت حسن منٹو » آتش پارے » آتش پارے ۔ جی آیا صاحب",
"FullUrl": "/p136/c355/sh3763",
"RhymeLetters": null,
"SourceName": "ویکی ماخذ",
"SourceUrlSlug": "wikisource",
"SourceUrl": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%DB%92/_%D8%AC%DB%8C_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8",
"Language": "ur-PK",
"PoemSummary": null,
"Metre": null,
"Sections": [
{
"Index": 0,
"Number": 1,
"SectionType": "WholePoem",
"VerseType": "First",
"RhymeLetters": null,
"PlainText": "باورچی خانے کی دھندلی فضا میں بجلی کا ایک اندھا قمقمہ چراغِ گور کی مانند اپنی سرخ روشنی پھیلا رہا تھا۔ دھوئیں سے اٹی ہوئی دیواریں ہیبتناک دیووں کی طرح انگڑائیاں لیتی ہوئی معلوم ہو رہی تھیں۔ چبوترے پر بنی ہوئی انگیٹھیوں میں آگ کی آخری چنگاریاں ابھر ابھر کر اپنی موت کا ماتم کر رہی تھیں۔ ایک برقی چولھے پر رکھی ہوئی کیتلی کا پانی نہ معلوم کس چیز پر خاموش ہنسی ہنس رہا تھا۔ دور کونے میں، پانی کے نل کے پاس ایک چھوٹی عمر کا لڑکا بیٹھا برتن صاف کرنے میں مشغول تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ انسپکٹر صاحب کا نوکر تھا۔\r\nبرتن صاف کرتے وقت یہ لڑکا کچھ گنگنا رہا تھا، یہ الفاظ ایسے تھے جو اسکی زباں سے بغیر کوشش کے نکل رہے تھے۔\r\n\"جی آیا صاحب، جی آیا صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس ابھی صاف ہو جاتے ہیں صاحب۔\"\r\nابھی برتنوں کو راکھ سے صاف کرنے کے بعد انہیں پانی سے دھو کر قرینے سے رکھنا بھی تھا، اور یہ کام جلدی سے نہ ہو سکتا تھا۔ لڑکے کی آنکھیں نیند سے بند ہوئی جا رہی تھیں۔ سر سخت بھاری ہو رہا تھا مگر کام کئے بغیر آرام، یہ کیونکر ممکن تھا۔\r\nبرقی چولھا بدستور ایک شور کے ساتھ نیلے شعلوں کو اپنے حلق سے اگل رہا تھا۔ کیتلی کا پانی اسی انداز میں کھل کھلا کر ہنس رہا تھا۔\r\nدفعتاً لڑکے نے نیند کے ناقابلِ مغلوب حملے کو محسوس کرتے ہوئے اپنے جسم کو ایک جنبش دی اور \"جی آیا صاحب، جی آیا صاحب\" گنگناتا ہوا پھر کام میں مشغول ہو گیا۔\r\nدیوار گیروں پر چنے ہوئے برتن اس لڑکے کو ایک غیر مختتم ٹکٹکی لگائے دیکھ رہے تھے۔ پانی کے نل سے روزانہ ایک ہی واقعہ دیکھ قطروں کی صورت میں آنسو ٹپ ٹپ گر رہے تھے۔ بجلی کا قمقمہ حیرت سے اس لڑکے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ کمرے کی فضا سسکیاں بھرتی ہوئی معلوم ہو رہی تھی۔\r\n\"قاسم ۔۔۔۔۔۔۔ قاسم\"\r\n\"جی آیا صاحب\" لڑکا جو انہی الفاظ کی گردان کر رہا تھا۔ بھاگا ہوا اپنے آقا کے پاس گیا۔\r\nانسپکٹر صاحب نے کمبل سے منہ نکالا، اور لڑکے پر خفا ہوتے ہوئے کہا۔ \"بیوقوف کے بچے، آج پھر یہاں صراحی اور گلاس رکھنا بھول گیا ہے۔\"\r\n\"ابھی لایا صاحب ۔۔۔۔۔۔ ابھی لایا صاحب۔\"\r\nکمرے میں صراحی اور گلاس رکھنے کے بعد وہ ابھی برتن صاف کرنے کے لیے بیٹھا ہی تھا کہ پھر اسے کمرے سے آواز آئی۔\r\n\"قاسم ۔۔۔۔۔۔۔ قاسم\"\r\n\"جی آیا صاحب\" قاسم بھاگتا ہوا اپنے آقا کے پاس گیا۔\r\n\"بمبئی کا پانی کس قدر خراب ہے۔ جاؤ پارسی کے ہوٹل سے سوڈا لیکر آؤ۔ بس بھاگے ہوئے جاؤ، سخت پیاس لگ رہی ہے۔\"\r\nقاسم بھاگا ہوا گیا اور پارسی کے ہوٹل سے جو گھر سے قریباً نصف میل کے فاصلے پر واقع تھا، سوڈے کی بوتل لے آیا اور اپنے آقا کو گلاس میں ڈال کر دی۔\r\n\"اب تم جاؤ، مگر اس وقت تک کیا کر رہے ہو، برتن صاف نہیں ہوئے کیا؟\"\r\n\"ابھی صاف ہو جاتے ہیں صاحب۔\"\r\n\"اور ہاں، برتن صاف کرنے کے بعد میرے سیاہ بوٹ کو پالش کر دینا مگر دیکھنا احتیاط رہے، چمڑے پر کوئی خراش نہ آئے، ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔\"\r\nقاسم کو \"ورنہ\" کے بعد کا جملہ بخوبی معلوم تھا۔ \"بہت اچھا صاحب\" کہتے ہوئے وہ باورچی خانہ میں واپس چلا گیا، اور برتن صاف کرنا شروع کر دیے۔\r\nاب نیند اسکی آنکھوں میں سمٹی چلی آ رہی تھی۔ پلکیں آپس میں ملی جا رہی تھیں، سر میں سیسہ اتر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ صاحب کے بوٹ ابھی پالش کرنے ہیں۔ قاسم نے اپنے سر کو زور سے جنبش دی، اور وہی راگ الاپنا شروع کر دیا۔\r\n\"جی آیا صاحب، جی آیا صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بوٹ ابھی صاف ہو جاتے ہیں صاحب۔\"\r\nمگر نیند کا طوفان ہزار بند باندھنے پر بھی نہ رکا۔ اب اسے محسوس ہونے لگا کہ نیند ضرور غلبہ پا کر رہے گی۔ لیکن ابھی برتنوں کو دھو کر انہیں اپنی اپنی جگہ پر رکھنا باقی تھا۔ اس وقت ایک عجیب خیال اسکے دماغ میں آیا۔ \"بھاڑ میں جائیں برتن، اور چولھے میں جائیں بوٹ۔۔۔۔کیوں نہ تھوڑی دیر اسی جگہ پر سو جاؤں، اور پھر چند لمحات آرام کرنے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\"\r\nاس خیال کو باغیانہ تصور کرتے ہوئے قاسم نے ترک کر دیا اور برتنوں پر جلدی جلدی راکھ ملنا شروع کر دی۔\r\nتھوڑی دیر کے بعد جب نیند پھر غالب آئی تو اسکے جی میں آیا کہ ابلتا ہوا پانی اپنے سر پر انڈیل لے اور اسطرح اس غیر مرئی طاقت سے جو اسکے کام میں حارج ہو رہی تھی، نجات پائے، مگر اتنا حوصلہ نہ پڑا۔\r\nبصد مشکل منہ پر پانی کے چھینٹے مار مار کر اس نے برتنوں کو بالآخر صاف کر ہی لیا۔ یہ کام کرنے کے بعد اس نے اطمینان کا سانس لیا۔ اب وہ آرام سے سو سکتا تھا۔ اور نیند۔۔۔۔۔۔۔۔وہ نیند، جس کے لیے اسکی آنکھیں اور دماغ شدت سے انتظار کر رہے تھے، اب بالکل نزدیک تھی۔\r\nباورچی خانے کی روشنی گل کرنے کے بعد قاسم نے باہر برآمدے میں اپنا بستر بچھایا اور لیٹ گیا۔ اور اس سے پہلے کہ نیند اسے اپنے آرام دہ بازوؤں میں تھام لے، اسکے کان \"بوٹ، بوٹ\" کی آوازوں سے گونج اٹھے۔\r\n\"بہت اچھا صاحب، ابھی پالش کرتا ہوں\" بڑبڑاتا ہوا قاسم بستر سے اٹھا۔ جیسے اسکے آقا نے ابھی بوٹ روغن کرنے کے لیے حکم دیا ہے۔\r\nابھی قاسم بوٹ کا ایک پیر بھی اچھی طرح پالش کرنے نہ پایا تھا کہ نیند کے غلبے نے اسے وہیں پر سلا دیا۔\r\nسورج کی خونیں کرنیں اس مکان کے شیشوں سے نمودار ہوئیں۔۔۔۔۔۔۔۔قاسم کی کتابِ حیات میں ایک اور پُر از مشقت باب کا اضافہ ہو گیا۔\r\nصبح جب انسپکٹر صاحب نے اپنا نوکر باہر برآمدے میں بوٹوں کے پاس سویا ہوا دیکھا تو اسے ٹھوکر مار کر جگاتے ہوئے کہا۔ \"یہ سور کی طرح یہاں بیہوش پڑا ہے اور مجھے خیال تھا کہ اس نے بوٹ صاف کر لئے ہونگے۔۔۔۔۔۔۔نمک حرام۔۔۔۔۔۔۔ابے قاسم۔\"\r\n\"جی آیا صاحب۔\"\r\nقاسم کے منہ سے اتنا ہی نکلا تھا کہ اس نے اپنے ہاتھ میں بوٹ صاف کرنے کا برش دیکھا۔ فوراً ہی اس معاملے کو سمجھتے ہوئے اس نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔\r\n\"میں سو گیا تھا صاحب، مگر۔۔۔۔۔مگر بوٹ ابھی پالش ہو جاتے ہیں صاحب۔۔۔۔۔۔۔\"\r\nیہ کہتے ہوئے اس نے جلدی جلدی بوٹ کو برش سے رگڑنا شروع کر دیا۔\r\nبوٹ پالش کرنے کے بعد اس نے اپنا بستر تہہ کیا اور اسے اوپر کے کمرے میں رکھنے چلا گیا۔\r\n\"قاسم\"\r\n\"جی آیا صاحب\"\r\nقاسم بھاگا ہوا نیچے آیا اور اپنے آقا کے پاس کھڑا ہو گیا۔\r\n\"دیکھو، آج ہمارے یہاں مہمان آئینگے۔ اس لئے باورچی خانے کے تمام برتن اچھی طرح صاف کر رکھنا۔۔۔۔۔۔فرش بھی دھلا ہوا ہونا چاہیئے، اسکے علاوہ تمھیں ملاقاتی کمرے کی تصویروں، میزوں اور کرسیوں کو بھی صاف کرنا ہو گا۔۔۔۔۔۔۔سمجھے، مگر خیال رہے میری میز پر ایک تیز دھار چاقو پڑا ہوا ہے، اسے مت چھیڑنا۔ میں اب دفتر جا رہا ہوں مگر یہ کام دو گھنٹے سے پہلے ہو جانا چاہیئے۔\"\r\n\"بہت بہتر صاحب\"\r\nانسپکٹر صاحب دفتر چلے گئے۔ قاسم باورچی خانہ صاف کرنے میں مشغول ہو گیا۔\r\nڈیڑھ گھنٹے کی انتھک محنت کے بعد اس نے باورچی خانے کے تمام کام کو ختم کر دیا۔ اور ہاتھ پاؤں صاف کرنے کے بعد جھاڑن لیکر ملاقاتی کمرے میں چلا گیا۔\r\nوہ ابھی کرسیوں کو جھاڑن سے صاف کر رہا تھا کہ اسکے تھکے ہوئے دماغ میں ایک تصویر سی کھچ گئی۔ کیا دیکھتا ہے کہ اسکے گرد و پیش برتن ہی برتن پڑے ہیں اور پاس ہی راکھ کا ایک ڈھیر لگ رہا ہے۔ ہوا زوروں پر چل رہی ہے جس سے وہ راکھ اڑ اڑ کر فضا کو خاکستری بنا رہی ہے۔ یکا یک اس ظلمت میں ایک سرخ آفتاب نمودار ہوا جس کی کرنیں خون آشام برچھیوں کی طرح ہر برتن کے سینے میں گھس گئیں۔ زمین خون سے شرابور ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔فضا خوشی کے قہقہوں سے معمور ہو گئی۔\r\nقاسم یہ منظر دیکھ کر گھبرا گیا اور اس وحشت ناک خواب سے بیدار ہو کر \"جی آیا صاحب، جی آیا صاحب\" کہتا ہوا پھر اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔\r\nتھوڑی دیر کے بعد اسکی آنکھوں کے سامنے ایک اور منظر رقص کرنے لگا۔ اب اسکے سامنے چھوٹے چھوٹے لڑکے آپس میں کوئی کھیل کھیل رہے تھے۔ دفعتاً آندھی چلنا شروع ہوئی، جسکے ساتھ ہی ایک بدنما اور بھیانک دیو نمودار ہوا، جو ان سب لڑکوں کو نگل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔قاسم نے خیال کیا کہ وہ دیو اسکے آقا کے ہم شکل تھا۔ گو قد و قامت کے لحاظ سے وہ اس سے کہیں بڑا تھا۔ اب اس دیو نے زور زور سے ڈکارنا شروع کیا۔۔۔۔۔قاسم سر سے پیر تک لرز گیا۔\r\nابھی تمام کمرہ صاف کرنا تھا اور وقت بہت کم رہ گیا تھا۔ چنانچہ قاسم نے جلدی جلدی کرسیوں پر جھاڑن مارنا شروع کر دیا۔ ابھی وہ کرسیوں کا کام ختم کرنے کے بعد میز صاف کرنے جا رہا تھا کہ اسے یکا یک خیال آیا۔ \"آج مہمان آ رہے ہیں۔ خدا معلوم کتنے برتن صاف کرنے پڑیں گے اور یہ نیند کمبخت ستا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے تو کچھ بھی نہ ہو سکے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\"\r\nیہ سوچتے وقت وہ میز پر رکھی ہوئی چیزوں کو پونچھ رہا تھا کہ اچانک اسے قلمدان کے پاس ایک کھلا ہوا چاقو نظر آیا۔۔۔۔۔وہی چاقو جسکے متعلق اسکے آقا نے کہا تھا کہ بہت تیز ہے۔\r\nچاقو کا دیکھنا تھا کہ اسکی زبان پر یہ لفظ خود بخود جاری ہو گئے۔ \"چاقو۔۔۔۔۔۔تیز دھار چاقو۔۔۔۔۔۔یہی تمھاری مصیبت کو ختم کر سکتا ہے۔\"\r\nکچھ اور سوچے بغیر قاسم نے تیز دھار چاقو اٹھا اپنی انگلی پر پھیر لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب وہ شام کے وقت برتن صاف کرنے کی زحمت سے بہت دور تھا۔ اور نیند۔۔۔۔۔۔۔پیاری، پیاری نیند اب اسے بآسانی نصیب ہو سکتی تھی۔\r\nانگلی سے خون کی سرخ دھار بہہ رہی تھی۔۔۔۔۔سامنے والی دوات کی سرخ روشنائی سے کہیں چمکیلی۔ قاسم اس خون کی دھار کو مسرت بھری آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اور منہ میں یہ گنگنا رہا تھا۔ \"نیند، نیند۔۔۔۔۔۔پیاری نیند۔\"\r\nتھوڑی دیر کے بعد وہ بھاگا ہوا اپنے آقا کی بیوی کے پاس گیا جو زنان خانے میں بیٹھی سلائی کر رہی تھی۔ اور اپنی زخمی انگلی دکھا کر کہنے لگا۔ \"دیکھئے بی بی جی۔۔۔۔۔۔\"\r\n\"ارے قاسم یہ تو نے کیا کیا؟۔۔۔۔۔۔۔کمبخت صاحب کے چاقو کو چھیڑا ہو گا تو نے۔\"\r\n\"بی بی جی۔۔۔۔۔بس میز صاف کر رہا تھا اور اس نے کاٹ کھایا۔\" قاسم ہنس پڑا۔\r\n\"ابے سور اب ہنستا ہے، ادھر آ، میں اس پر کپڑا باندھ دوں۔ مگر اب بتا تو سہی، آج یہ برتن تیرا باپ صاف کرے گا؟\"\r\nقاسم اپنی فتح پر زیرِ لب مسکرا رہا تھا۔\r\nانگلی پر پٹی بندھوا کر قاسم پھر کمرے میں آ گیا اور میز پر پڑے ہوئے خون کے دھبے صاف کرنے کے بعد خوشی خوشی اپنا کام ختم کر دیا۔\r\n\"اب اس نمک حرام باورچی کو برتن صاف کرنے ہونگے۔۔۔۔۔۔ضرور صاف کرنے ہونگے۔۔۔۔۔کیوں میاں مٹھو۔\" قاسم نے انتہائی مسرت میں کھڑکی میں لٹکے ہوئے طوطے سے دریافت کیا۔\r\nشام کے وقت مہمان آئے اور چلے گئے۔ باورچی خانے میں صاف کرنے والے برتنوں کا ایک طومار سا لگ گیا۔ انسپکٹر صاحب قاسم کی زخمی انگلی دیکھ کر بہت برسے۔ اور جی کھول کر گالیاں دیں، مگر اسے مجبور نہ کر سکے، شاید اس لیئے کہ ایک بار انکی اپنی انگلی میں قلم تراش کی نوک چبھ جانے سے بہت درد محسوس ہوا تھا۔\r\nآقا کی خفگی آنے والی مسرت نے بھلا دی اور قاسم کودتا پھاندتا ہوا اپنے بستر میں جا لیٹا۔ تین چار روز تک وہ برتن صاف کرنے کی زحمت سے بچا رہا، مگر اسکے بعد انگلی کا زخم بھر آیا۔۔۔۔۔۔اب پھر وہی مصیبت نمودار ہو گئی۔\r\n\"قاسم، صاحب کی جرابیں اور قمیص دھو ڈالو۔\"\r\n\"بہت اچھا بی بی جی۔\"\r\n\"قاسم اس کمرے کا فرش کتنا بدنما ہو رہا ہے۔ پانی لا کر ابھی صاف کرو، دیکھنا کوئی داغ دھبہ باقی نہ رہے۔\"\r\n\"بہت اچھا صاحب\"\r\n\"قاسم شیشے کے گلاس کتنے چکنے ہو رہے ہیں۔ انہیں نمک سے صاف کر دو۔\"\r\n\"جی اچھا صاحب\"\r\n\"قاسم طوطے کا پنجرہ کس قدر غلیظ ہو رہا ہے، اسے صاف کیوں نہیں کرتے۔\"\r\n\"ابھی کرتا ہوں بی بی جی\"\r\n\"قاسم ابھی خاکروب آتا ہے، تم پانی ڈالتے جانا، وہ سیڑھیوں کو دھو ڈالے گا۔\"\r\n\"بہت اچھا صاحب\"\r\n\"قاسم ذرا بھاگ کر ایک آنے کا دہی تو لے آنا۔\"\r\n\"ابھی چلا بی بی جی۔\"\r\nپانچ چھ روز اسی قسم کے احکام سننے میں گزر گئے۔ قاسم کام کی زیادتی اور آرام کے قحط سے تنگ آگیا۔ ہر روز اسے نصف شب تک کام کرنا پڑتا اور پھر علی الصباح چار بجے کے قریب بیدار ہو کر ناشتے کے لیے چائے تیار کرنی پڑتی۔ یہ کام قاسم کی عمر کے لڑکے کے لیے بہت زیادہ تھا۔\r\nایک روز انسپکٹر صاحب کی میز صاف کرتے وقت اسکے ہاتھ خود بخود چاقو کی طرف بڑھے، اور ایک لمحے کے بعد اسکی انگلی سے خون بہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔انسپکٹر صاحب اور انکی بیوی قاسم کی یہ حرکت دیکھ کر بہت خفا ہوئے۔ چنانچہ سزا کی صورت میں اسے شام کا کھانا نہ دیا گیا، مگر وہ اپنی ایجاد کردہ ترکیب کی خوشی میں مگن تھا۔۔۔۔۔۔۔ایک وقت روٹی نہ ملی۔ انگلی پر معمولی سا زخم آگیا مگر برتنوں کا انبار صاف کرنے سے نجات مل گئی۔۔۔۔۔۔یہ سودا کچھ برا نہ تھا۔\r\nچند دنوں کے بعد اسکی انگلی کا زخم ٹھیک ہو گیا، اب پھر کام کی وہی بھر مار شروع تھی۔ پندرہ بیس روز گدھوں کی سی مشقت میں گزر گئے۔ اس عرصے میں قاسم نے بارہا ارادہ کیا کہ چاقو سے پھر اپنی انگلی زخمی کر لے۔ مگر اب میز پر سے وہ چاقو اٹھا لیا گیا اور باورچی خانے والی چھری کند تھی۔\r\nایک روز باورچی بیمار پڑ گیا اب اسے ہر وقت باورچی خانے میں موجود رہنا پڑتا، کبھی مرچیں پیستا، کبھی آٹا گوندھتا، کبھی کوئلوں کو جلا دیتا۔ غرض صبح سے لیکر آدھی رات تک اسکے کانوں میں \"ابے قاسم یہ کر، ابے قاسم وہ کر\" کی صدا گونجتی رہتی۔\r\nباورچی دو روز تک نہ آیا۔۔۔۔۔۔قاسم کی ننھی جان اور ہمت جواب دے گئی، مگر سوائے کام کے اور چارہ ہی کیا تھا۔\r\nایک روز اسکے آقا نے اسے الماری صاف کرنے کو کہا۔ جس میں ادویات کی شیشیاں اور مختلف چیزیں پڑی ہوئی تھیں۔ الماری صاف کرتے وقت اسے ڈاڑھی مونڈنے کا ایک بلیڈ نظر آیا۔ بلیڈ کو پکڑتے ہی اس نے اپنی انگلی پر پھیر لیا۔ دھار تھی بہت تیز اور باریک، انگلی میں دور تک چلی گئی، جس سے بہت بڑا زخم بن گیا۔\r\nقاسم نے بہت کوشش کی کہ خون نکلنا بند ہو جائے مگر زخم کا منہ بڑا تھا، وہ نہ تھما۔۔۔۔۔۔۔سیروں خون پانی کی طرح بہہ گیا۔ یہ دیکھ کر قاسم کا رنگ کاغذ کی مانند سپید ہو گیا۔ بھاگا ہوا اپنے آقا کی بیوی کے پاس گیا۔\r\n\"بی بی جی میری انگلی میں صاحب کا استرا لگ گیا ہے۔\"\r\nجب انسپکٹر صاحب کی بیوی نے قاسم کی انگلی کو تیسری مرتبہ زخمی دیکھا، فوراً معاملے کو سمجھ گئی۔ چپ چاپ اٹھی اور کپڑا نکال کر اسکی انگلی پر باندھ دیا اور کہا۔ \"قاسم، اب تم ہمارے گھر میں نہیں رہ سکتے۔\"\r\n\"وہ کیوں بی بی جی\"\r\n\"یہ صاحب سے دریافت کرنا\"\r\nصاحب کا نام سنتے ہی قاسم کا رنگ اور بھی سپید ہو گیا۔\r\nچار بجے کے قریب انسپکٹر صاحب دفتر سے گھر آئے اور اپنی بیوی سے قاسم کی نئی حرکت سن کر اسے فوراً اپنے پاس بلایا۔\r\n\"کیوں میاں، یہ انگلی کو ہر روز زخمی کرنے کے کیا معنی ہیں؟\"\r\nقاسم خاموش کھڑا رہا۔\r\n\"تم نوکر یہ سمجھتے ہو کہ ہم لوگ اندھے ہیں اور ہمیں بار بار دھوکہ دیا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اپنا بستر بوریا دبا کر ناک کی سیدھ میں یہاں سے بھاگ جاؤ، ہمیں تمھارے جیسے نوکروں کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔۔سمجھے۔\"\r\n\"مگر۔۔۔۔۔۔۔مگر صاحب\"\r\n\"صاحب کا بچہ۔۔۔۔۔۔۔۔بھاگ جا یہاں سے، تیری بقایا تنخواہ کا ایک پیسہ بھی نہیں دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔اب میں اور کچھ نہیں سننا چاہتا۔\"\r\nقاسم روتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا۔ طوطے کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا۔ طوطے نے بھی خاموشی میں اس سے کچھ کہا اور اپنا بستر لیکر وہ سیڑھیوں سے نیچے اتر گیا۔ مگر دفعتاً کچھ خیال آیا اور بھاگا ہوا اپنے آقا کی بیوی کے پاس گیا اور درد انگیز آواز میں اتنا کہہ کر \"سلام بی بی جی۔۔۔۔۔۔میں ہمیشہ کے لیے آپ سے رخصت ہو رہا ہوں\" وہاں سے رخصت ہو گیا۔\r\nخیراتی ہسپتال میں ایک نوخیز لڑکا درد کی شدت سے لوہے کے پلنگ پر کروٹیں بدل رہا ہے۔ پاس ہی دو ڈاکٹر بیٹھے ہیں۔\r\nان میں سے ایک ڈاکٹر اپنے ساتھی سے مخاطب ہوا۔ \"زخم خطرناک صورت اختیار کر گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاتھ کاٹنا پڑے گا۔\"\r\n\"بہت بہتر۔\"\r\nیہ کہتے ہوئے دوسرے ڈاکٹر نے اپنی نوٹ بُک میں اس مریض کا نام درج کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ایک چوبی تختے پر جو چارپائی کے سرہانے لٹکا ہوا تھا، مندرجہ ذیل الفاظ لکھے تھے۔\r\nنام: محمد قاسم ولد عبدالرحمٰن (مرحوم)\r\nعمر: دس سال",
"HtmlText": null,
"PoemFormat": null,
"Language": "ur-PK",
"CoupletsCount": 97
}
],
"Verses": [
{
"VOrder": 1,
"Position": "Paragraph",
"Text": "باورچی خانے کی دھندلی فضا میں بجلی کا ایک اندھا قمقمہ چراغِ گور کی مانند اپنی سرخ روشنی پھیلا رہا تھا۔ دھوئیں سے اٹی ہوئی دیواریں ہیبتناک دیووں کی طرح انگڑائیاں لیتی ہوئی معلوم ہو رہی تھیں۔ چبوترے پر بنی ہوئی انگیٹھیوں میں آگ کی آخری چنگاریاں ابھر ابھر کر اپنی موت کا ماتم کر رہی تھیں۔ ایک برقی چولھے پر رکھی ہوئی کیتلی کا پانی نہ معلوم کس چیز پر خاموش ہنسی ہنس رہا تھا۔ دور کونے میں، پانی کے نل کے پاس ایک چھوٹی عمر کا لڑکا بیٹھا برتن صاف کرنے میں مشغول تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ انسپکٹر صاحب کا نوکر تھا۔",
"CoupletIndex": 0,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 2,
"Position": "Paragraph",
"Text": "برتن صاف کرتے وقت یہ لڑکا کچھ گنگنا رہا تھا، یہ الفاظ ایسے تھے جو اسکی زباں سے بغیر کوشش کے نکل رہے تھے۔",
"CoupletIndex": 1,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 3,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"جی آیا صاحب، جی آیا صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس ابھی صاف ہو جاتے ہیں صاحب۔\"",
"CoupletIndex": 2,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 4,
"Position": "Paragraph",
"Text": "ابھی برتنوں کو راکھ سے صاف کرنے کے بعد انہیں پانی سے دھو کر قرینے سے رکھنا بھی تھا، اور یہ کام جلدی سے نہ ہو سکتا تھا۔ لڑکے کی آنکھیں نیند سے بند ہوئی جا رہی تھیں۔ سر سخت بھاری ہو رہا تھا مگر کام کئے بغیر آرام، یہ کیونکر ممکن تھا۔",
"CoupletIndex": 3,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 5,
"Position": "Paragraph",
"Text": "برقی چولھا بدستور ایک شور کے ساتھ نیلے شعلوں کو اپنے حلق سے اگل رہا تھا۔ کیتلی کا پانی اسی انداز میں کھل کھلا کر ہنس رہا تھا۔",
"CoupletIndex": 4,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 6,
"Position": "Paragraph",
"Text": "دفعتاً لڑکے نے نیند کے ناقابلِ مغلوب حملے کو محسوس کرتے ہوئے اپنے جسم کو ایک جنبش دی اور \"جی آیا صاحب، جی آیا صاحب\" گنگناتا ہوا پھر کام میں مشغول ہو گیا۔",
"CoupletIndex": 5,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 7,
"Position": "Paragraph",
"Text": "دیوار گیروں پر چنے ہوئے برتن اس لڑکے کو ایک غیر مختتم ٹکٹکی لگائے دیکھ رہے تھے۔ پانی کے نل سے روزانہ ایک ہی واقعہ دیکھ قطروں کی صورت میں آنسو ٹپ ٹپ گر رہے تھے۔ بجلی کا قمقمہ حیرت سے اس لڑکے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ کمرے کی فضا سسکیاں بھرتی ہوئی معلوم ہو رہی تھی۔",
"CoupletIndex": 6,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 8,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"قاسم ۔۔۔۔۔۔۔ قاسم\"",
"CoupletIndex": 7,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 9,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"جی آیا صاحب\" لڑکا جو انہی الفاظ کی گردان کر رہا تھا۔ بھاگا ہوا اپنے آقا کے پاس گیا۔",
"CoupletIndex": 8,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 10,
"Position": "Paragraph",
"Text": "انسپکٹر صاحب نے کمبل سے منہ نکالا، اور لڑکے پر خفا ہوتے ہوئے کہا۔ \"بیوقوف کے بچے، آج پھر یہاں صراحی اور گلاس رکھنا بھول گیا ہے۔\"",
"CoupletIndex": 9,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 11,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"ابھی لایا صاحب ۔۔۔۔۔۔ ابھی لایا صاحب۔\"",
"CoupletIndex": 10,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 12,
"Position": "Paragraph",
"Text": "کمرے میں صراحی اور گلاس رکھنے کے بعد وہ ابھی برتن صاف کرنے کے لیے بیٹھا ہی تھا کہ پھر اسے کمرے سے آواز آئی۔",
"CoupletIndex": 11,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 13,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"قاسم ۔۔۔۔۔۔۔ قاسم\"",
"CoupletIndex": 12,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 14,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"جی آیا صاحب\" قاسم بھاگتا ہوا اپنے آقا کے پاس گیا۔",
"CoupletIndex": 13,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 15,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"بمبئی کا پانی کس قدر خراب ہے۔ جاؤ پارسی کے ہوٹل سے سوڈا لیکر آؤ۔ بس بھاگے ہوئے جاؤ، سخت پیاس لگ رہی ہے۔\"",
"CoupletIndex": 14,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 16,
"Position": "Paragraph",
"Text": "قاسم بھاگا ہوا گیا اور پارسی کے ہوٹل سے جو گھر سے قریباً نصف میل کے فاصلے پر واقع تھا، سوڈے کی بوتل لے آیا اور اپنے آقا کو گلاس میں ڈال کر دی۔",
"CoupletIndex": 15,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 17,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"اب تم جاؤ، مگر اس وقت تک کیا کر رہے ہو، برتن صاف نہیں ہوئے کیا؟\"",
"CoupletIndex": 16,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 18,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"ابھی صاف ہو جاتے ہیں صاحب۔\"",
"CoupletIndex": 17,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 19,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"اور ہاں، برتن صاف کرنے کے بعد میرے سیاہ بوٹ کو پالش کر دینا مگر دیکھنا احتیاط رہے، چمڑے پر کوئی خراش نہ آئے، ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔\"",
"CoupletIndex": 18,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 20,
"Position": "Paragraph",
"Text": "قاسم کو \"ورنہ\" کے بعد کا جملہ بخوبی معلوم تھا۔ \"بہت اچھا صاحب\" کہتے ہوئے وہ باورچی خانہ میں واپس چلا گیا، اور برتن صاف کرنا شروع کر دیے۔",
"CoupletIndex": 19,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 21,
"Position": "Paragraph",
"Text": "اب نیند اسکی آنکھوں میں سمٹی چلی آ رہی تھی۔ پلکیں آپس میں ملی جا رہی تھیں، سر میں سیسہ اتر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ صاحب کے بوٹ ابھی پالش کرنے ہیں۔ قاسم نے اپنے سر کو زور سے جنبش دی، اور وہی راگ الاپنا شروع کر دیا۔",
"CoupletIndex": 20,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 22,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"جی آیا صاحب، جی آیا صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بوٹ ابھی صاف ہو جاتے ہیں صاحب۔\"",
"CoupletIndex": 21,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 23,
"Position": "Paragraph",
"Text": "مگر نیند کا طوفان ہزار بند باندھنے پر بھی نہ رکا۔ اب اسے محسوس ہونے لگا کہ نیند ضرور غلبہ پا کر رہے گی۔ لیکن ابھی برتنوں کو دھو کر انہیں اپنی اپنی جگہ پر رکھنا باقی تھا۔ اس وقت ایک عجیب خیال اسکے دماغ میں آیا۔ \"بھاڑ میں جائیں برتن، اور چولھے میں جائیں بوٹ۔۔۔۔کیوں نہ تھوڑی دیر اسی جگہ پر سو جاؤں، اور پھر چند لمحات آرام کرنے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\"",
"CoupletIndex": 22,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 24,
"Position": "Paragraph",
"Text": "اس خیال کو باغیانہ تصور کرتے ہوئے قاسم نے ترک کر دیا اور برتنوں پر جلدی جلدی راکھ ملنا شروع کر دی۔",
"CoupletIndex": 23,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 25,
"Position": "Paragraph",
"Text": "تھوڑی دیر کے بعد جب نیند پھر غالب آئی تو اسکے جی میں آیا کہ ابلتا ہوا پانی اپنے سر پر انڈیل لے اور اسطرح اس غیر مرئی طاقت سے جو اسکے کام میں حارج ہو رہی تھی، نجات پائے، مگر اتنا حوصلہ نہ پڑا۔",
"CoupletIndex": 24,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 26,
"Position": "Paragraph",
"Text": "بصد مشکل منہ پر پانی کے چھینٹے مار مار کر اس نے برتنوں کو بالآخر صاف کر ہی لیا۔ یہ کام کرنے کے بعد اس نے اطمینان کا سانس لیا۔ اب وہ آرام سے سو سکتا تھا۔ اور نیند۔۔۔۔۔۔۔۔وہ نیند، جس کے لیے اسکی آنکھیں اور دماغ شدت سے انتظار کر رہے تھے، اب بالکل نزدیک تھی۔",
"CoupletIndex": 25,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 27,
"Position": "Paragraph",
"Text": "باورچی خانے کی روشنی گل کرنے کے بعد قاسم نے باہر برآمدے میں اپنا بستر بچھایا اور لیٹ گیا۔ اور اس سے پہلے کہ نیند اسے اپنے آرام دہ بازوؤں میں تھام لے، اسکے کان \"بوٹ، بوٹ\" کی آوازوں سے گونج اٹھے۔",
"CoupletIndex": 26,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 28,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"بہت اچھا صاحب، ابھی پالش کرتا ہوں\" بڑبڑاتا ہوا قاسم بستر سے اٹھا۔ جیسے اسکے آقا نے ابھی بوٹ روغن کرنے کے لیے حکم دیا ہے۔",
"CoupletIndex": 27,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 29,
"Position": "Paragraph",
"Text": "ابھی قاسم بوٹ کا ایک پیر بھی اچھی طرح پالش کرنے نہ پایا تھا کہ نیند کے غلبے نے اسے وہیں پر سلا دیا۔",
"CoupletIndex": 28,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 30,
"Position": "Paragraph",
"Text": "سورج کی خونیں کرنیں اس مکان کے شیشوں سے نمودار ہوئیں۔۔۔۔۔۔۔۔قاسم کی کتابِ حیات میں ایک اور پُر از مشقت باب کا اضافہ ہو گیا۔",
"CoupletIndex": 29,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 31,
"Position": "Paragraph",
"Text": "صبح جب انسپکٹر صاحب نے اپنا نوکر باہر برآمدے میں بوٹوں کے پاس سویا ہوا دیکھا تو اسے ٹھوکر مار کر جگاتے ہوئے کہا۔ \"یہ سور کی طرح یہاں بیہوش پڑا ہے اور مجھے خیال تھا کہ اس نے بوٹ صاف کر لئے ہونگے۔۔۔۔۔۔۔نمک حرام۔۔۔۔۔۔۔ابے قاسم۔\"",
"CoupletIndex": 30,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 32,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"جی آیا صاحب۔\"",
"CoupletIndex": 31,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 33,
"Position": "Paragraph",
"Text": "قاسم کے منہ سے اتنا ہی نکلا تھا کہ اس نے اپنے ہاتھ میں بوٹ صاف کرنے کا برش دیکھا۔ فوراً ہی اس معاملے کو سمجھتے ہوئے اس نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔",
"CoupletIndex": 32,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 34,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"میں سو گیا تھا صاحب، مگر۔۔۔۔۔مگر بوٹ ابھی پالش ہو جاتے ہیں صاحب۔۔۔۔۔۔۔\"",
"CoupletIndex": 33,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 35,
"Position": "Paragraph",
"Text": "یہ کہتے ہوئے اس نے جلدی جلدی بوٹ کو برش سے رگڑنا شروع کر دیا۔",
"CoupletIndex": 34,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 36,
"Position": "Paragraph",
"Text": "بوٹ پالش کرنے کے بعد اس نے اپنا بستر تہہ کیا اور اسے اوپر کے کمرے میں رکھنے چلا گیا۔",
"CoupletIndex": 35,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 37,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"قاسم\"",
"CoupletIndex": 36,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 38,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"جی آیا صاحب\"",
"CoupletIndex": 37,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 39,
"Position": "Paragraph",
"Text": "قاسم بھاگا ہوا نیچے آیا اور اپنے آقا کے پاس کھڑا ہو گیا۔",
"CoupletIndex": 38,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 40,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"دیکھو، آج ہمارے یہاں مہمان آئینگے۔ اس لئے باورچی خانے کے تمام برتن اچھی طرح صاف کر رکھنا۔۔۔۔۔۔فرش بھی دھلا ہوا ہونا چاہیئے، اسکے علاوہ تمھیں ملاقاتی کمرے کی تصویروں، میزوں اور کرسیوں کو بھی صاف کرنا ہو گا۔۔۔۔۔۔۔سمجھے، مگر خیال رہے میری میز پر ایک تیز دھار چاقو پڑا ہوا ہے، اسے مت چھیڑنا۔ میں اب دفتر جا رہا ہوں مگر یہ کام دو گھنٹے سے پہلے ہو جانا چاہیئے۔\"",
"CoupletIndex": 39,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 41,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"بہت بہتر صاحب\"",
"CoupletIndex": 40,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 42,
"Position": "Paragraph",
"Text": "انسپکٹر صاحب دفتر چلے گئے۔ قاسم باورچی خانہ صاف کرنے میں مشغول ہو گیا۔",
"CoupletIndex": 41,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 43,
"Position": "Paragraph",
"Text": "ڈیڑھ گھنٹے کی انتھک محنت کے بعد اس نے باورچی خانے کے تمام کام کو ختم کر دیا۔ اور ہاتھ پاؤں صاف کرنے کے بعد جھاڑن لیکر ملاقاتی کمرے میں چلا گیا۔",
"CoupletIndex": 42,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 44,
"Position": "Paragraph",
"Text": "وہ ابھی کرسیوں کو جھاڑن سے صاف کر رہا تھا کہ اسکے تھکے ہوئے دماغ میں ایک تصویر سی کھچ گئی۔ کیا دیکھتا ہے کہ اسکے گرد و پیش برتن ہی برتن پڑے ہیں اور پاس ہی راکھ کا ایک ڈھیر لگ رہا ہے۔ ہوا زوروں پر چل رہی ہے جس سے وہ راکھ اڑ اڑ کر فضا کو خاکستری بنا رہی ہے۔ یکا یک اس ظلمت میں ایک سرخ آفتاب نمودار ہوا جس کی کرنیں خون آشام برچھیوں کی طرح ہر برتن کے سینے میں گھس گئیں۔ زمین خون سے شرابور ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔فضا خوشی کے قہقہوں سے معمور ہو گئی۔",
"CoupletIndex": 43,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 45,
"Position": "Paragraph",
"Text": "قاسم یہ منظر دیکھ کر گھبرا گیا اور اس وحشت ناک خواب سے بیدار ہو کر \"جی آیا صاحب، جی آیا صاحب\" کہتا ہوا پھر اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔",
"CoupletIndex": 44,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 46,
"Position": "Paragraph",
"Text": "تھوڑی دیر کے بعد اسکی آنکھوں کے سامنے ایک اور منظر رقص کرنے لگا۔ اب اسکے سامنے چھوٹے چھوٹے لڑکے آپس میں کوئی کھیل کھیل رہے تھے۔ دفعتاً آندھی چلنا شروع ہوئی، جسکے ساتھ ہی ایک بدنما اور بھیانک دیو نمودار ہوا، جو ان سب لڑکوں کو نگل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔قاسم نے خیال کیا کہ وہ دیو اسکے آقا کے ہم شکل تھا۔ گو قد و قامت کے لحاظ سے وہ اس سے کہیں بڑا تھا۔ اب اس دیو نے زور زور سے ڈکارنا شروع کیا۔۔۔۔۔قاسم سر سے پیر تک لرز گیا۔",
"CoupletIndex": 45,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 47,
"Position": "Paragraph",
"Text": "ابھی تمام کمرہ صاف کرنا تھا اور وقت بہت کم رہ گیا تھا۔ چنانچہ قاسم نے جلدی جلدی کرسیوں پر جھاڑن مارنا شروع کر دیا۔ ابھی وہ کرسیوں کا کام ختم کرنے کے بعد میز صاف کرنے جا رہا تھا کہ اسے یکا یک خیال آیا۔ \"آج مہمان آ رہے ہیں۔ خدا معلوم کتنے برتن صاف کرنے پڑیں گے اور یہ نیند کمبخت ستا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے تو کچھ بھی نہ ہو سکے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\"",
"CoupletIndex": 46,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 48,
"Position": "Paragraph",
"Text": "یہ سوچتے وقت وہ میز پر رکھی ہوئی چیزوں کو پونچھ رہا تھا کہ اچانک اسے قلمدان کے پاس ایک کھلا ہوا چاقو نظر آیا۔۔۔۔۔وہی چاقو جسکے متعلق اسکے آقا نے کہا تھا کہ بہت تیز ہے۔",
"CoupletIndex": 47,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 49,
"Position": "Paragraph",
"Text": "چاقو کا دیکھنا تھا کہ اسکی زبان پر یہ لفظ خود بخود جاری ہو گئے۔ \"چاقو۔۔۔۔۔۔تیز دھار چاقو۔۔۔۔۔۔یہی تمھاری مصیبت کو ختم کر سکتا ہے۔\"",
"CoupletIndex": 48,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 50,
"Position": "Paragraph",
"Text": "کچھ اور سوچے بغیر قاسم نے تیز دھار چاقو اٹھا اپنی انگلی پر پھیر لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب وہ شام کے وقت برتن صاف کرنے کی زحمت سے بہت دور تھا۔ اور نیند۔۔۔۔۔۔۔پیاری، پیاری نیند اب اسے بآسانی نصیب ہو سکتی تھی۔",
"CoupletIndex": 49,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 51,
"Position": "Paragraph",
"Text": "انگلی سے خون کی سرخ دھار بہہ رہی تھی۔۔۔۔۔سامنے والی دوات کی سرخ روشنائی سے کہیں چمکیلی۔ قاسم اس خون کی دھار کو مسرت بھری آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اور منہ میں یہ گنگنا رہا تھا۔ \"نیند، نیند۔۔۔۔۔۔پیاری نیند۔\"",
"CoupletIndex": 50,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 52,
"Position": "Paragraph",
"Text": "تھوڑی دیر کے بعد وہ بھاگا ہوا اپنے آقا کی بیوی کے پاس گیا جو زنان خانے میں بیٹھی سلائی کر رہی تھی۔ اور اپنی زخمی انگلی دکھا کر کہنے لگا۔ \"دیکھئے بی بی جی۔۔۔۔۔۔\"",
"CoupletIndex": 51,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 53,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"ارے قاسم یہ تو نے کیا کیا؟۔۔۔۔۔۔۔کمبخت صاحب کے چاقو کو چھیڑا ہو گا تو نے۔\"",
"CoupletIndex": 52,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 54,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"بی بی جی۔۔۔۔۔بس میز صاف کر رہا تھا اور اس نے کاٹ کھایا۔\" قاسم ہنس پڑا۔",
"CoupletIndex": 53,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 55,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"ابے سور اب ہنستا ہے، ادھر آ، میں اس پر کپڑا باندھ دوں۔ مگر اب بتا تو سہی، آج یہ برتن تیرا باپ صاف کرے گا؟\"",
"CoupletIndex": 54,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 56,
"Position": "Paragraph",
"Text": "قاسم اپنی فتح پر زیرِ لب مسکرا رہا تھا۔",
"CoupletIndex": 55,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 57,
"Position": "Paragraph",
"Text": "انگلی پر پٹی بندھوا کر قاسم پھر کمرے میں آ گیا اور میز پر پڑے ہوئے خون کے دھبے صاف کرنے کے بعد خوشی خوشی اپنا کام ختم کر دیا۔",
"CoupletIndex": 56,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 58,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"اب اس نمک حرام باورچی کو برتن صاف کرنے ہونگے۔۔۔۔۔۔ضرور صاف کرنے ہونگے۔۔۔۔۔کیوں میاں مٹھو۔\" قاسم نے انتہائی مسرت میں کھڑکی میں لٹکے ہوئے طوطے سے دریافت کیا۔",
"CoupletIndex": 57,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 59,
"Position": "Paragraph",
"Text": "شام کے وقت مہمان آئے اور چلے گئے۔ باورچی خانے میں صاف کرنے والے برتنوں کا ایک طومار سا لگ گیا۔ انسپکٹر صاحب قاسم کی زخمی انگلی دیکھ کر بہت برسے۔ اور جی کھول کر گالیاں دیں، مگر اسے مجبور نہ کر سکے، شاید اس لیئے کہ ایک بار انکی اپنی انگلی میں قلم تراش کی نوک چبھ جانے سے بہت درد محسوس ہوا تھا۔",
"CoupletIndex": 58,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 60,
"Position": "Paragraph",
"Text": "آقا کی خفگی آنے والی مسرت نے بھلا دی اور قاسم کودتا پھاندتا ہوا اپنے بستر میں جا لیٹا۔ تین چار روز تک وہ برتن صاف کرنے کی زحمت سے بچا رہا، مگر اسکے بعد انگلی کا زخم بھر آیا۔۔۔۔۔۔اب پھر وہی مصیبت نمودار ہو گئی۔",
"CoupletIndex": 59,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 61,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"قاسم، صاحب کی جرابیں اور قمیص دھو ڈالو۔\"",
"CoupletIndex": 60,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 62,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"بہت اچھا بی بی جی۔\"",
"CoupletIndex": 61,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 63,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"قاسم اس کمرے کا فرش کتنا بدنما ہو رہا ہے۔ پانی لا کر ابھی صاف کرو، دیکھنا کوئی داغ دھبہ باقی نہ رہے۔\"",
"CoupletIndex": 62,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 64,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"بہت اچھا صاحب\"",
"CoupletIndex": 63,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 65,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"قاسم شیشے کے گلاس کتنے چکنے ہو رہے ہیں۔ انہیں نمک سے صاف کر دو۔\"",
"CoupletIndex": 64,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 66,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"جی اچھا صاحب\"",
"CoupletIndex": 65,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 67,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"قاسم طوطے کا پنجرہ کس قدر غلیظ ہو رہا ہے، اسے صاف کیوں نہیں کرتے۔\"",
"CoupletIndex": 66,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 68,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"ابھی کرتا ہوں بی بی جی\"",
"CoupletIndex": 67,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 69,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"قاسم ابھی خاکروب آتا ہے، تم پانی ڈالتے جانا، وہ سیڑھیوں کو دھو ڈالے گا۔\"",
"CoupletIndex": 68,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 70,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"بہت اچھا صاحب\"",
"CoupletIndex": 69,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 71,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"قاسم ذرا بھاگ کر ایک آنے کا دہی تو لے آنا۔\"",
"CoupletIndex": 70,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 72,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"ابھی چلا بی بی جی۔\"",
"CoupletIndex": 71,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 73,
"Position": "Paragraph",
"Text": "پانچ چھ روز اسی قسم کے احکام سننے میں گزر گئے۔ قاسم کام کی زیادتی اور آرام کے قحط سے تنگ آگیا۔ ہر روز اسے نصف شب تک کام کرنا پڑتا اور پھر علی الصباح چار بجے کے قریب بیدار ہو کر ناشتے کے لیے چائے تیار کرنی پڑتی۔ یہ کام قاسم کی عمر کے لڑکے کے لیے بہت زیادہ تھا۔",
"CoupletIndex": 72,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 74,
"Position": "Paragraph",
"Text": "ایک روز انسپکٹر صاحب کی میز صاف کرتے وقت اسکے ہاتھ خود بخود چاقو کی طرف بڑھے، اور ایک لمحے کے بعد اسکی انگلی سے خون بہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔انسپکٹر صاحب اور انکی بیوی قاسم کی یہ حرکت دیکھ کر بہت خفا ہوئے۔ چنانچہ سزا کی صورت میں اسے شام کا کھانا نہ دیا گیا، مگر وہ اپنی ایجاد کردہ ترکیب کی خوشی میں مگن تھا۔۔۔۔۔۔۔ایک وقت روٹی نہ ملی۔ انگلی پر معمولی سا زخم آگیا مگر برتنوں کا انبار صاف کرنے سے نجات مل گئی۔۔۔۔۔۔یہ سودا کچھ برا نہ تھا۔",
"CoupletIndex": 73,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 75,
"Position": "Paragraph",
"Text": "چند دنوں کے بعد اسکی انگلی کا زخم ٹھیک ہو گیا، اب پھر کام کی وہی بھر مار شروع تھی۔ پندرہ بیس روز گدھوں کی سی مشقت میں گزر گئے۔ اس عرصے میں قاسم نے بارہا ارادہ کیا کہ چاقو سے پھر اپنی انگلی زخمی کر لے۔ مگر اب میز پر سے وہ چاقو اٹھا لیا گیا اور باورچی خانے والی چھری کند تھی۔",
"CoupletIndex": 74,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 76,
"Position": "Paragraph",
"Text": "ایک روز باورچی بیمار پڑ گیا اب اسے ہر وقت باورچی خانے میں موجود رہنا پڑتا، کبھی مرچیں پیستا، کبھی آٹا گوندھتا، کبھی کوئلوں کو جلا دیتا۔ غرض صبح سے لیکر آدھی رات تک اسکے کانوں میں \"ابے قاسم یہ کر، ابے قاسم وہ کر\" کی صدا گونجتی رہتی۔",
"CoupletIndex": 75,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 77,
"Position": "Paragraph",
"Text": "باورچی دو روز تک نہ آیا۔۔۔۔۔۔قاسم کی ننھی جان اور ہمت جواب دے گئی، مگر سوائے کام کے اور چارہ ہی کیا تھا۔",
"CoupletIndex": 76,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 78,
"Position": "Paragraph",
"Text": "ایک روز اسکے آقا نے اسے الماری صاف کرنے کو کہا۔ جس میں ادویات کی شیشیاں اور مختلف چیزیں پڑی ہوئی تھیں۔ الماری صاف کرتے وقت اسے ڈاڑھی مونڈنے کا ایک بلیڈ نظر آیا۔ بلیڈ کو پکڑتے ہی اس نے اپنی انگلی پر پھیر لیا۔ دھار تھی بہت تیز اور باریک، انگلی میں دور تک چلی گئی، جس سے بہت بڑا زخم بن گیا۔",
"CoupletIndex": 77,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 79,
"Position": "Paragraph",
"Text": "قاسم نے بہت کوشش کی کہ خون نکلنا بند ہو جائے مگر زخم کا منہ بڑا تھا، وہ نہ تھما۔۔۔۔۔۔۔سیروں خون پانی کی طرح بہہ گیا۔ یہ دیکھ کر قاسم کا رنگ کاغذ کی مانند سپید ہو گیا۔ بھاگا ہوا اپنے آقا کی بیوی کے پاس گیا۔",
"CoupletIndex": 78,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 80,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"بی بی جی میری انگلی میں صاحب کا استرا لگ گیا ہے۔\"",
"CoupletIndex": 79,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 81,
"Position": "Paragraph",
"Text": "جب انسپکٹر صاحب کی بیوی نے قاسم کی انگلی کو تیسری مرتبہ زخمی دیکھا، فوراً معاملے کو سمجھ گئی۔ چپ چاپ اٹھی اور کپڑا نکال کر اسکی انگلی پر باندھ دیا اور کہا۔ \"قاسم، اب تم ہمارے گھر میں نہیں رہ سکتے۔\"",
"CoupletIndex": 80,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 82,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"وہ کیوں بی بی جی\"",
"CoupletIndex": 81,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 83,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"یہ صاحب سے دریافت کرنا\"",
"CoupletIndex": 82,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 84,
"Position": "Paragraph",
"Text": "صاحب کا نام سنتے ہی قاسم کا رنگ اور بھی سپید ہو گیا۔",
"CoupletIndex": 83,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 85,
"Position": "Paragraph",
"Text": "چار بجے کے قریب انسپکٹر صاحب دفتر سے گھر آئے اور اپنی بیوی سے قاسم کی نئی حرکت سن کر اسے فوراً اپنے پاس بلایا۔",
"CoupletIndex": 84,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 86,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"کیوں میاں، یہ انگلی کو ہر روز زخمی کرنے کے کیا معنی ہیں؟\"",
"CoupletIndex": 85,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 87,
"Position": "Paragraph",
"Text": "قاسم خاموش کھڑا رہا۔",
"CoupletIndex": 86,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 88,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"تم نوکر یہ سمجھتے ہو کہ ہم لوگ اندھے ہیں اور ہمیں بار بار دھوکہ دیا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اپنا بستر بوریا دبا کر ناک کی سیدھ میں یہاں سے بھاگ جاؤ، ہمیں تمھارے جیسے نوکروں کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔۔سمجھے۔\"",
"CoupletIndex": 87,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 89,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"مگر۔۔۔۔۔۔۔مگر صاحب\"",
"CoupletIndex": 88,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 90,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"صاحب کا بچہ۔۔۔۔۔۔۔۔بھاگ جا یہاں سے، تیری بقایا تنخواہ کا ایک پیسہ بھی نہیں دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔اب میں اور کچھ نہیں سننا چاہتا۔\"",
"CoupletIndex": 89,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 91,
"Position": "Paragraph",
"Text": "قاسم روتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا۔ طوطے کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا۔ طوطے نے بھی خاموشی میں اس سے کچھ کہا اور اپنا بستر لیکر وہ سیڑھیوں سے نیچے اتر گیا۔ مگر دفعتاً کچھ خیال آیا اور بھاگا ہوا اپنے آقا کی بیوی کے پاس گیا اور درد انگیز آواز میں اتنا کہہ کر \"سلام بی بی جی۔۔۔۔۔۔میں ہمیشہ کے لیے آپ سے رخصت ہو رہا ہوں\" وہاں سے رخصت ہو گیا۔",
"CoupletIndex": 90,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 92,
"Position": "Paragraph",
"Text": "خیراتی ہسپتال میں ایک نوخیز لڑکا درد کی شدت سے لوہے کے پلنگ پر کروٹیں بدل رہا ہے۔ پاس ہی دو ڈاکٹر بیٹھے ہیں۔",
"CoupletIndex": 91,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 93,
"Position": "Paragraph",
"Text": "ان میں سے ایک ڈاکٹر اپنے ساتھی سے مخاطب ہوا۔ \"زخم خطرناک صورت اختیار کر گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاتھ کاٹنا پڑے گا۔\"",
"CoupletIndex": 92,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 94,
"Position": "Paragraph",
"Text": "\"بہت بہتر۔\"",
"CoupletIndex": 93,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 95,
"Position": "Paragraph",
"Text": "یہ کہتے ہوئے دوسرے ڈاکٹر نے اپنی نوٹ بُک میں اس مریض کا نام درج کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ایک چوبی تختے پر جو چارپائی کے سرہانے لٹکا ہوا تھا، مندرجہ ذیل الفاظ لکھے تھے۔",
"CoupletIndex": 94,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 96,
"Position": "Paragraph",
"Text": "نام: محمد قاسم ولد عبدالرحمٰن (مرحوم)",
"CoupletIndex": 95,
"SectionIndex1": 0
},
{
"VOrder": 97,
"Position": "Paragraph",
"Text": "عمر: دس سال",
"CoupletIndex": 96,
"SectionIndex1": 0
}
]
}