{ "Id": 4203, "CatId": 411, "Title": "اگر مرتے ہوئے لب پر نہ تیرا نام آئے گا", "FullTitle": "شاد عظیم آبادی » غزل » اگر مرتے ہوئے لب پر نہ تیرا نام آئے گا", "FullUrl": "/p151/ghazal/sh4203", "RhymeLetters": null, "SourceName": "ویکی ماخذ", "SourceUrlSlug": "wikisource", "SourceUrl": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%85%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%84%D8%A8_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7", "Language": "ur-PK", "PoemSummary": null, "Metre": null, "Sections": [ { "Index": 0, "Number": 1, "SectionType": "WholePoem", "VerseType": "First", "RhymeLetters": null, "PlainText": "اگر مرتے ہوئے لب پر نہ تیرا نام آئے گا\r\nتو میں مرنے سے در گزرا مرے کس کام آئے گا\r\nاسے بھی ٹھان رکھ ساقی یقیں ہوگا نہ رندوں کو\r\nاگر زاہد پہن کر جامۂ احرام آئے گا\r\nشب فرقت میں درد دل سے میں اس واسطے خوش ہوں\r\nزباں پر رات بھر رہ رہ کے تیرا نام آئے گا\r\nلگی ہو کچھ تو قاصد آخر اس کم بخت دل میں بھی\r\nوہاں تیری طرح جو جائے گا ناکام آئے گا\r\nاسی امید میں باندھے ہوئے ہیں ٹکٹکی میکش\r\nکف نازک پہ ساقی رکھ کے اک دن جام آئے گا\r\nیہاں اپنی پڑی ہے تجھ سے اے غم خوار کیا الجھوں\r\nیہ کون آرام ہے مر جاؤں تب آرام آئے گا\r\nزہے عزت جو ہو اس بزم میں مذکور اے واعظ\r\nبلا سے گر گنہ گاروں میں اپنا نام آئے گا\r\nہزار انکار یا قطع تعلق اس سے کر ناصح\r\nمگر ہر پھر کے ہونٹوں پر اسی کا نام آئے گا\r\nعطا کی جب کہ خود پیر مغاں نے پی بھی لے زاہد\r\nیہ کیسا سوچنا ہے تجھ پہ کیوں الزام آئے گا\r\nپڑا ہے سلسلہ تقدیر کا صیاد کے بس میں\r\nچمن میں اے صبا کیونکر اسیر دام آئے گا\r\nکوئی بدمست کو دیتا ہے ساقی بھر کے پیمانہ\r\nترا کیا جائے گا مجھ پر عبث الزام آئے گا\r\nانہیں دیکھے گی تو اے چشم حسرت وصل میں یا میں\r\nترے کام آئے گا رونا کہ میرے کام آئے گا\r\nہمیشہ کیا پیوں گا میں اسی کہنہ سفالی میں\r\nمرے آگے کبھی تو ساغر زرفام آئے گا\r\nکہاں سے لاؤں صبر حضرت ایوب اے ساقی\r\nخم آئے گا صراحی آئے گی تب جام آئے گا\r\nچھری تھی کند تیری یا ترے قاتل کی او بسمل\r\nتڑپ بھی تو تری گردن پہ کیوں الزام آئے گا\r\nیہی کہہ کر اجل کو قرض خواہوں کی طرح ٹالا\r\nکہ لے کر آج قاصد یار کا پیغام آئے گا\r\nہمیشہ کیا یوں ہی قسمت میں ہے گنتی گنا دینا\r\nکوئی نالہ نہ لب پر لائق انجام آئے گا\r\nگلی میں یار کی اے شادؔ سب مشتاق بیٹھے ہیں\r\nخدا جانے وہاں سے حکم کس کے نام آئے گا", "HtmlText": null, "PoemFormat": "Ghazal", "Language": "ur-PK", "CoupletsCount": 18 } ], "Maqta": 17, "Radif": "آئے گا", "Matla": 0, "Verses": [ { "VOrder": 1, "Position": "Right", "Text": "اگر مرتے ہوئے لب پر نہ تیرا نام آئے گا", "CoupletIndex": 0, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 2, "Position": "Left", "Text": "تو میں مرنے سے در گزرا مرے کس کام آئے گا", "CoupletIndex": 0, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 3, "Position": "Right", "Text": "اسے بھی ٹھان رکھ ساقی یقیں ہوگا نہ رندوں کو", "CoupletIndex": 1, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 4, "Position": "Left", "Text": "اگر زاہد پہن کر جامۂ احرام آئے گا", "CoupletIndex": 1, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 5, "Position": "Right", "Text": "شب فرقت میں درد دل سے میں اس واسطے خوش ہوں", "CoupletIndex": 2, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 6, "Position": "Left", "Text": "زباں پر رات بھر رہ رہ کے تیرا نام آئے گا", "CoupletIndex": 2, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 7, "Position": "Right", "Text": "لگی ہو کچھ تو قاصد آخر اس کم بخت دل میں بھی", "CoupletIndex": 3, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 8, "Position": "Left", "Text": "وہاں تیری طرح جو جائے گا ناکام آئے گا", "CoupletIndex": 3, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 9, "Position": "Right", "Text": "اسی امید میں باندھے ہوئے ہیں ٹکٹکی میکش", "CoupletIndex": 4, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 10, "Position": "Left", "Text": "کف نازک پہ ساقی رکھ کے اک دن جام آئے گا", "CoupletIndex": 4, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 11, "Position": "Right", "Text": "یہاں اپنی پڑی ہے تجھ سے اے غم خوار کیا الجھوں", "CoupletIndex": 5, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 12, "Position": "Left", "Text": "یہ کون آرام ہے مر جاؤں تب آرام آئے گا", "CoupletIndex": 5, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 13, "Position": "Right", "Text": "زہے عزت جو ہو اس بزم میں مذکور اے واعظ", "CoupletIndex": 6, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 14, "Position": "Left", "Text": "بلا سے گر گنہ گاروں میں اپنا نام آئے گا", "CoupletIndex": 6, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 15, "Position": "Right", "Text": "ہزار انکار یا قطع تعلق اس سے کر ناصح", "CoupletIndex": 7, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 16, "Position": "Left", "Text": "مگر ہر پھر کے ہونٹوں پر اسی کا نام آئے گا", "CoupletIndex": 7, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 17, "Position": "Right", "Text": "عطا کی جب کہ خود پیر مغاں نے پی بھی لے زاہد", "CoupletIndex": 8, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 18, "Position": "Left", "Text": "یہ کیسا سوچنا ہے تجھ پہ کیوں الزام آئے گا", "CoupletIndex": 8, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 19, "Position": "Right", "Text": "پڑا ہے سلسلہ تقدیر کا صیاد کے بس میں", "CoupletIndex": 9, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 20, "Position": "Left", "Text": "چمن میں اے صبا کیونکر اسیر دام آئے گا", "CoupletIndex": 9, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 21, "Position": "Right", "Text": "کوئی بدمست کو دیتا ہے ساقی بھر کے پیمانہ", "CoupletIndex": 10, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 22, "Position": "Left", "Text": "ترا کیا جائے گا مجھ پر عبث الزام آئے گا", "CoupletIndex": 10, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 23, "Position": "Right", "Text": "انہیں دیکھے گی تو اے چشم حسرت وصل میں یا میں", "CoupletIndex": 11, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 24, "Position": "Left", "Text": "ترے کام آئے گا رونا کہ میرے کام آئے گا", "CoupletIndex": 11, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 25, "Position": "Right", "Text": "ہمیشہ کیا پیوں گا میں اسی کہنہ سفالی میں", "CoupletIndex": 12, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 26, "Position": "Left", "Text": "مرے آگے کبھی تو ساغر زرفام آئے گا", "CoupletIndex": 12, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 27, "Position": "Right", "Text": "کہاں سے لاؤں صبر حضرت ایوب اے ساقی", "CoupletIndex": 13, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 28, "Position": "Left", "Text": "خم آئے گا صراحی آئے گی تب جام آئے گا", "CoupletIndex": 13, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 29, "Position": "Right", "Text": "چھری تھی کند تیری یا ترے قاتل کی او بسمل", "CoupletIndex": 14, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 30, "Position": "Left", "Text": "تڑپ بھی تو تری گردن پہ کیوں الزام آئے گا", "CoupletIndex": 14, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 31, "Position": "Right", "Text": "یہی کہہ کر اجل کو قرض خواہوں کی طرح ٹالا", "CoupletIndex": 15, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 32, "Position": "Left", "Text": "کہ لے کر آج قاصد یار کا پیغام آئے گا", "CoupletIndex": 15, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 33, "Position": "Right", "Text": "ہمیشہ کیا یوں ہی قسمت میں ہے گنتی گنا دینا", "CoupletIndex": 16, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 34, "Position": "Left", "Text": "کوئی نالہ نہ لب پر لائق انجام آئے گا", "CoupletIndex": 16, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 35, "Position": "Right", "Text": "گلی میں یار کی اے شادؔ سب مشتاق بیٹھے ہیں", "CoupletIndex": 17, "SectionIndex1": 0 }, { "VOrder": 36, "Position": "Left", "Text": "خدا جانے وہاں سے حکم کس کے نام آئے گا", "CoupletIndex": 17, "SectionIndex1": 0 } ] }